کن باتوں کی وجہ سے مسلمان کا خون حلال ہوجاتا ہے؟
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ غَالِبٍ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا رَجُلٌ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانِهِ، أَوْ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ، أَوِ النَّفْسُ بِالنَّفْسِ. وَقَّفَهُ زُهَيْرٌ.
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی مسلمان شخص کا خون حلال نہیں سوائے اس شخص کے جس نے شادی کے بعد زنا کیا یا اسلام لانے کے بعد کفر کیا یا جان کے بدلے جان لینا ہو ۔ اسے زہیر نے موقوفاً روایت کیا ہے (ان کی روایت آگے آرہی ہے) ۔
It was narrated that Amr bin Ghalib said: "Aishah (RA) said: Do you not know that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: It is not permissible to shed the blood of a Muslim, except a man who committed adultery after being married, or one who reverted to Kufr after becoming Muslim, or a life for a life.