جابر نے جو خبر اور حدیث عمریٰ کے میں نقل کی اور ناقلین نے اس میں اختلاف کیا
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ وَلَمْ يَسْمَعْهُ مِنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا عُمْرَى وَلَا رُقْبَى، فَمَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا أَوْ أُرْقِبَهُ فَهُوَ لَهُ حَيَاتَهُ وَمَمَاتَهُ، قَالَ عَطَاءٌ: هُوَ لِلْآخَرِ.
حبیب بن ابی ثابت ابن عمر سے روایت کرتے ہیں، (اور امام نسائی کہتے ہیں انہوں نے ان سے سنا نہیں ہے) ١ ؎ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نہ عمریٰ (مناسب) ہے اور نہ رقبیٰ لیکن اگر کسی کو کوئی چیز بطور عمریٰ یا رقبیٰ دے ہی دی گئی تو وہ چیز اسی کی ہوگی زندگی میں بھی اور اس کے مرنے پر بھی ، عطاء کہتے ہیں: (دونوں دینے اور پانے والوں میں سے) آخر والے کو ملے گا۔
Ibn Juraij said: Ata informed me, from Habib bin Abi Thabit, from Ibn Umar -and he did not hear it from him- he said: Allahs Messenger صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ said: "There is no Umra and no Ruqba. Whoever is given something on the basis of Umra or Ruqba, it belongs to him for the rest of his life and after he dies." Ata said: "It belongs to the other.