Sunan An Nasai 2222

روزوں سے متعلقہ احادیث

2222Sunan An Nasai

حضرت ابوامامہ کی حدیث حضرت محمد بن ابی یعقوب پر اختلاف

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي رَجَاءُ بْنُ حَيْوَةَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: مُرْنِي بِأَمْرٍ آخُذُهُ عَنْكَ قَالَ: عَلَيْكَ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَا مِثْلَ لَهُ.

ابو امامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، اور آپ سے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسا حکم دیجئیے جسے میں آپ سے براہ راست اخذ کروں، آپ ﷺ نے فرمایا: اپنے اوپر روزہ لازم کرلو کیونکہ اس کے برابر کوئی (عبادت) نہیں ہے ١ ؎۔

Muhammad bin ‘Abdullah bin Abi Ya’qub said: “Raja’ bin Haiwah narrated that Abu Umamah said: ‘I came to the Messenger of Allah ﷺ and said: Tell me of Something that I may take (learn) from you. He said: “Take to fasting, for there is nothing like it.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2220
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی شہوت کے توڑنے اور نفس امارہ اور شیطان کے دفع کرنے کے سلسلہ میں روزے کے برابر کوئی عبادت نہیں، یا کثرت ثواب میں اس کے برابر کوئی عبادت نہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٤٨٦١)، مسند احمد ٥/٢٤٨، ٢٤٩، ٢٥٥، ٢٥٧، ٢٥٨، ٢٦٤، وانظر الأرقام التالیة (صحیح )