حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

Musnad Imam Ahmad · Chapter 586 · 226 hadiths · Page 10 of 12

17922Musnad Imam Ahmad

حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَن سُفْيَانَ عَن أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ مَا رَأَيْتُ مِنْ ذِي لِمَّةٍ أَحْسَنَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ شَعْرٌ يَضْرِبُ مَنْكِبَيْهِ بَعِيدُ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ لَيْسَ بِالطَّوِيلِ وَلَا بِالْقَصِيرِ

حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے سرخ جوڑا زیب تن فرما رکھا تھا میں نے اس جوڑے میں ساری مخلوق میں ان سے زیادہ حسین کوئی نہیں دیکھا، ﷺ اور ان کے بال کندھوں تک آتے تھے۔

17923Musnad Imam Ahmad

حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَابْنُ جَعْفَرٍ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَن سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَن عُبَيْدِ بْنِ فَيْرُوزَ مَوْلَى بَنِي شَيْبَانَ فِي حَدِيثِهِ قَالَ سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ مَا كَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْأَضَاحِيِّ أَوْ مَا نَهَى عَنْه مِنْ الْأَضَاحِيِّ فَقَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَيَدُهُ أَطْوَلُ مِنْ يَدِي أَوْ قَالَ يَدِي أَقْصَرُ مِنْ يَدِهِ قَالَ أَرْبَعٌ لَا تَجُوزُ فِي الضَّحَايَا الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ عَرَجُهَا وَالْكَسِيرُ الَّتِي لَا تُنْقِي فَقُلْتُ لِلْبَرَاءِ فَإِنَّا نَكْرَهُ أَنْ يَكُونَ فِي الْأُذُنِ نَقْصٌ أَوْ فِي الْعَيْنِ نَقْصٌ أَوْ فِي السِّنِّ نَقْصٌ قَالَ فَمَا كَرِهْتَهُ فَدَعْهُ وَلَا تُحَرِّمْهُ عَلَى أَحَدٍ

عبید بن فیروز (رح) نے حضرت براء ؓ سے پوچھا کہ نبی کریم ﷺ نے کس قسم کے جانور کی قربانی سے منع کیا ہے اور کسے مکروہ سمجھا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ جناب رسول ﷺ نے فرمایا چار جانور قربانی میں کافی نہیں ہوسکتے وہ کانا جانور جس کا کانا ہونا واضح ہو وہ بیمار جانور جس کی بیماری واضح ہو وہ لنگڑا جانور جس کی لنگراہٹ واضح ہو اور وہ جانور جس کی ہڈی ٹوٹ کر اس کا گودا نکل گیا ہو عبید نے کہا کہ میں اس جانور کو مکروہ سمجھتا ہوں جس کے سینگ کان یا دانت میں کوئی نقص ہو، انہوں نے فرمایا کہ تم جسے مکروہ سمجھتے ہو اسے چھوڑ دو لیکن کسی دوسرے پر اسے حرام قرار نہ دو۔

17924Musnad Imam Ahmad

حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَن أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَوْبٍ حَرِيرٍ فَجَعَلَ أَصْحَابُهُ يَتَعَجَّبُونَ مِنْ لِينِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ أَلْيَنُ مِنْ هَذَا

حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک ریشمی کپڑا پیش کیا گیا لوگ اس کی خوبصورتی اور نرمی پر تعجب کرنے لگے نبی کریم ﷺ نے فرمایا جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے کہیں زیادہ نرم۔

17925Musnad Imam Ahmad

حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَن أَبِيهِ عَن أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ غَزَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسَ عَشْرَةَ غَزْوَةً

حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا پندرہ غزوات میں شرکت فرمائی ہے۔

17926Musnad Imam Ahmad

حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَن إِسْرَائِيلَ عَن أَبِي إِسْحَاقَ عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ مَرَّ بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ وَقَدْ طَبَخْنَا الْقُدُورَ فَقَالَ مَا هَذِهِ قُلْنَا حُمُرًا أَصَبْنَاهَا قَالَ وَحْشِيَّةٌ أَمْ أَهْلِيَّةٌ قُلْنَا أَهْلِيَّةٌ قَالَ أَكْفِئُوهَا

حضرت براء بن عازب ؓ سے مروی ہے کہ غزوہ خیبر کے موقع پر نبی کریم ﷺ ہمارے پاس سے گذرے اس وقت ہم کھانا پکار ہے تھے نبی کریم ﷺ نے پوچھا ان ہانڈیوں میں کیا ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ گدھے ہیں جو ہمارے ہاتھ لگے تھے نبی کریم ﷺ نے پوچھا جنگلی یا پالتو؟ ہم نے عرض کیا پالتو۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہانڈیاں الٹادو۔

17927Musnad Imam Ahmad

حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَن أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ وَالْحُدَيْبِيَةُ بِئْرٌ قَالَ وَنَحْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً قَالَ فَإِذَا فِي الْمَاءِ قِلَّةٌ قَالَ فَنَزَعَ دَلْوًا ثُمَّ مَضْمَضَ ثُمَّ مَجَّ وَدَعَا قَالَ فَرَوِينَا وَأَرْوَيْنَا

حضرت براء بن عازب ؓ سے مروی ہے کہ ہم لوگ حدیبیہ پہنچے جو ایک کنواں تھا اور اس کا پانی بہت کم ہوچکا تھا، ہم چودہ سو افراد تھے اس میں سے ایک ڈول نکالا گیا نبی کریم ﷺ نے اپنے دست مبارک سے پانی لے کر کلی کی اور کلی کا پانی کنوئیں میں ہی ڈال دیا اور دعاء فرمادی اور ہم اس پانی سے خوب سیراب ہوگئے۔

17928Musnad Imam Ahmad

حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَن إِسْرَائِيلَ عَن أَبِي إِسْحَاقَ عَن عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ عَن الْبَرَاءِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى تَحْتَ خَدِّهِ وَقَالَ اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ أَوْ تَجْمَعُ عِبَادَكَ

حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب سونے کا ارادہ فرماتے تو دائیں ہاتھ کا تکیہ بناتے اور یہ دعاء پڑھتے اے اللہ! جس دن تو اپنے بندوں کو جمع فرمائے گا مجھے اپنے عذاب سے محفوظ رکھنا۔

17929Musnad Imam Ahmad

حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ يَعْنِي ابْنَ مَرْزُوقٍ عَن شَقِيقِ بْنِ عُقْبَةَ عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ نَزَلَتْ حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ فَقَرَأْنَاهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ نَقْرَأَهَا لَمْ يَنْسَخْهَا اللَّهُ فَأَنْزَلَ حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ كَانَ مَعَ شَقِيقٍ يُقَالُ لَهُ أَزْهَرُ وَهِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ قَالَ قَدْ أَخْبَرْتُكَ كَيْفَ نَزَلَتْ وَكَيْفَ نَسَخَهَا اللَّهُ تَعَالَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ

حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ ابتداء ًیہ آیت نازل ہوئی کہ " نمازوں کی پابندی کروخاص طور پر نماز عصر کی اور ہم اسے نبی کریم ﷺ کے دور باسعادت میں اس وقت تک پڑھتے رہے جب تک اللہ کو منظور ہوا اور اللہ نے اسے منسوخ نہ کیا بعد میں نماز عصر کے بجائے " درمیانی نماز " کا لفظ نازل ہوگیا ایک آدمی نے حضرت براء ؓ سے پوچھا اس کا مطلب یہ ہے کہ درمیانی نماز سے مراد نماز عصر ہے؟ انہوں نے فرمایا میں نے تمہیں بتادیا کہ وہ کس طرح نازل ہوئی اور کیسے منسوخ ہوئی اب اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔

17930Musnad Imam Ahmad

حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى تَكُونَ إِبْهَامَاهُ حِذَاءَ أُذُنَيْهِ

حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کو افتتاح نماز کے موقع پر رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا ہے اس وقت نبی کریم ﷺ کے انگوٹھے کانوں کی لوتک برابر ہوتے تھے۔

17931Musnad Imam Ahmad

حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَنَسٍ عَن عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَن عُبَيْدِ بْنِ فَيْرُوزَ عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ مَاذَا يُتَّقَى مِنْ الضَّحَايَا فَقَالَ أَرْبَعٌ وَقَالَ الْبَرَاءُ وَيَدِي أَقْصَرُ مِنْ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ ظَلْعُهَا وَالْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا وَالْعَجْفَاءُ الَّتِي لَا تُنْقِي

حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا کہ قربانی میں کس جانور سے بچاجائے؟ میرا ہاتھ نبی کریم ﷺ کے ہاتھ سے چھوٹا ہے جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا چار جانور قربانی میں کافی نہیں ہوسکتے وہ کانا جانور جس کا کانا ہونا واضح ہو وہ بیمار جانور جس کی بیماری واضح ہو وہ لنگڑا جانور کی لنگراہٹ واضح ہو اور وہ جانور جس کی ہڈی ٹوٹ کر اس کا گودا نکل گیا۔

17932Musnad Imam Ahmad

حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُنَاسٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فِي مَجَالِسِهِمْ فَقَالَ إِنْ كُنْتُمْ لَا بُدَّ فَاعِلِينَ فَاهْدُوا السَّبِيلَ وَرُدُّوا السَّلَامَ وَأَعِينُوا الْمَظْلُومَ و قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَن شُعْبَةَ قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ وَلَمْ يَسْمَعْهُ أَبُو إِسْحَاقَ مِنْ الْبَرَاءِ

حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کچھ انصاری حضرات کے پاس سے گذرے اور فرمایا کہ اگر تمہارے راستے میں بیٹھے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے تو سلام پھیلایا کرو، مظلوم کی مدد کیا کرو اور راستہ بتایا کرو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

17933Musnad Imam Ahmad

حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ عَن أَبِي إِسْحَاقَ عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْكَلَالَةِ فَقَالَ تَكْفِيكَ آيَةُ الصَّيْفِ

حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور " کلالہ " کے متعلق سوال پوچھا نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس سلسلے میں تمہارے لئے موسم گرما میں نازل ہونے والی آیت ہی کافی ہے (سورۃ النساء کی آخری آیت کی طرف اشارہ ہے)

17934Musnad Imam Ahmad

حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَن أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا حَسَّانُ اهْجُ الْمُشْرِكِينَ فَإِنَّ جِبْرِيلَ مَعَكَ أَوْ إِنَّ رُوحَ الْقُدُسِ مَعَكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت حسان بن ثابت ؓ سے فرمایا کہ مشرکین کی ہجو بیان کرو جبرائیل تمہارے ساتھ ہیں۔

17935Musnad Imam Ahmad

حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ادْعُوا إِلَيَّ زَيْدًا يَجِيءُ أَوْ يَأْتِي بِالْكَتِفِ وَالدَّوَاةِ أَوْ اللَّوْحِ وَالدَّوَاةِ كَتَبَ لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ هَكَذَا نَزَلَتْ قَالَ فَقَالَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ وَهُوَ خَلْفَ ظَهْرِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ بِعَيْنَيَّ ضَرَرًا قَالَ فَنَزَلَتْ قَبْلَ أَنْ يَبْرَحَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ

حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ ابتداء قرآن کریم کی یہ آیت ہوئی کہ " مسلمانوں میں سے جو لوگ جہاد کے انتظار میں بیٹھے ہیں وہ اور اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے بھی برابر نہیں ہوسکتے " نبی کریم ﷺ نے حضرت زید ؓ کو بلا کر حکم دیا " وہ شانے کی ایک ہڈی لے آئے اور اس پر یہ آیت لکھ دی، اس پر حضرت ابن ام مکتوم ؓ نے اپنے نابینا ہونے کی شکایت کی تو اس آیت میں " غیراولی الضرر " کا لفظ مزیدنازل ہوا

17936Musnad Imam Ahmad

حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَن أَبِي إِسْحَاقَ عَن الْبَرَاءِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ فَقُلْ اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا إِلَّا إِلَيْكَ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ فَإِنْ مِتَّ مِنْ لَيْلَتِكَ مِتَّ وَأَنْتَ عَلَى الْفِطْرَةِ وَإِنْ أَصْبَحْتَ أَصَبْتَ خَيْرًا

حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک انصاری کو حکم دیا کہ جب وہ اپنے بستر پر آیا کرے تو یوں کہہ لیا کرے اے اللہ میں نے اپنے آپ کو تیرے حوالے کردیا اپنے چہرے کو تیری طرف متوجہ کرلیا اپنے معاملات کو تیرے سپرد کردیا اور اپنی پشت کا تجھ ہی کو سہارابنا لیا تیری ہی رغبت ہے تجھ ہی سے ڈر ہے تیرے علاوہ کوئی ٹھکانہ اور پناہ گاہ نہیں میں تیری اس کتاب پر ایمان لے آیا جو تو نے نازل کی اور اس نبی پر جسے تو نے بھیج دیا اگر یہ کلمات کہنے والا اسی رات میں مرجائے تو وہ فطرت پر مرے گا۔ اگر صبح پالی تو خیر کثیر کے ساتھ صبح کروگے۔

17937Musnad Imam Ahmad

حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو أَحْمَدَ وحَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَن عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَن الْبَرَاءِ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْعِشَاءِ بِالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ فَمَا سَمِعْتُ أَحَدًا أَحْسَنَ صَوْتًا مِنْهُ إِذَا قَرَأَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت براء بن عازب ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو نماز عشاء کی ایک رکعت میں سورت والتین کی تلاوت فرماتے ہوئے سنا میں نے ان سے اچھی قرأت کسی کی نہیں سنی۔

17938Musnad Imam Ahmad

حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ عَن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى تَكُونَ إِبْهَامَاهُ حِذَاءَ أُذُنَيْهِ

حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کو افتتاح نماز کے موقع پر رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا ہے اس وقت نبی کریم ﷺ کے انگوٹھے کانوں کی لو کے برابر ہوتے تھے۔

17939Musnad Imam Ahmad

حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَن أَبِي إِسْحَاقَ عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ وَادَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ عَلَى ثَلَاثٍ مَنْ أَتَاهُمْ مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَنْ يَرُدُّوهُ وَمَنْ أَتَى إِلَيْنَا مِنْهُمْ رَدُّوهُ إِلَيْهِمْ وَعَلَى أَنْ يَجِيءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْعَامِ الْمُقْبِلِ وَأَصْحَابُهُ فَيَدْخُلُونَ مَكَّةَ مُعْتَمِرِينَ فَلَا يُقِيمُونَ إِلَّا ثَلَاثًا وَلَا يُدْخِلُونَ إِلَّا جَلَبَ السِّلَاحِ السَّيْفِ وَالْقَوْسِ وَنَحْوِهِ

حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ ذیقعدہ کے مہینے میں نبی کریم ﷺ عمرے کے لئے روانہ ہوئے تو اہل مکہ نے انہیں مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے روک دیا تاآنکہ نبی کریم ﷺ نے ان سے اس شرط پر مصالحت کرلی کہ وہ آئندہ سال آکر صرف تین دن مکہ مکرمہ میں قیام کریں گے وہ مکہ مکرمہ میں سوائے نیام میں پڑی ہوئی تلوار کے کوئی اسلحہ نہ لائیں گے مکہ مکرمہ سے کسی کو نکال کر نہیں لے جائیں گے الاّ یہ کہ کوئی خود ہی ان کے ساتھ جانا چاہے اور اپنے ساتھیوں میں سے کسی کو مکہ مکرمہ میں قیام کرنے سے نہیں روکیں گے "

17940Musnad Imam Ahmad

حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَن أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْقُلُ مِنْ تُرَابِ الْخَنْدَقِ حَتَّى وَارَى التُّرَابُ جِلْدَ بَطْنِهِ وَهُوَ يَرْتَجِزُ بِكَلِمَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ اللَّهُمَّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتْ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا إِنَّ الْأُلَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا وَإِنْ أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا

حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو خندق کی کھدائی کے موقع پر دیکھا کہ آپ ﷺ لوگوں کے ساتھ مٹی اٹھاتے جارہے ہیں حتیٰ کہ مٹی نے پیٹ کی جلد کو چھپالیا اور ( عبداللہ بن رواحہ ؓ کے) یہ اشعار پڑھتے جارہے ہیں اے اللہ اگر تو نہ ہوتا تو ہم ہدایت پاسکتے صدقہ کرتے اور نہ ہی نماز پڑھ سکتے لہٰذا تو ہم پر سکینہ نازل فرما اور دشمن سے آمنا سامنا ہونے پر ہمیں ثابت قدمی عطا فرما ان لوگوں نے ہم پر سرکشی کی ہے اور وہ جب کسی فتنے کا ارادہ کرتے ہیں تو ہم انکار کردیتے ہیں اس آخری جملے پر نبی کریم ﷺ اپنی آوازبلند فرمالیتے ہیں۔

17941Musnad Imam Ahmad

حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَن أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ يَقُولُ أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةٌ حَرِيرٌ فَجَعَلَ أَصْحَابُهُ يَمَسُّونَهَا وَيَعْجَبُونَ مِنْ لِينِهَا فَقَالَ تَعْجَبُونَ مِنْ لِينِ هَذِهِ لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنْهَا أَوْ أَلْيَنُ

حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک ریشمی کپڑا پیش کیا گیا لوگ اس کی خوبصورتی اور نرمی پر تعجب کرنے لگے نبی کریم ﷺ نے فرمایا جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے کہیں زیادہ نرم بہتر ہیں۔