حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَن أَبِي إِسْحَاقَ عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ اهْجُ الْمُشْرِكِينَ فَإِنَّ رُوحَ الْقُدُسِ مَعَكَ
حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت حسان بن ثابت ؓ سے فرمایا کہ مشرکین کی ہجو بیان کرو جبرائیل تمہارے ساتھ ہیں۔
حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ عَن أَبِي إِسْحَاقَ عَن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ يَشْهَدُ بِهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصُّفُوفِ الْأُوَلِ
حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا صف اول کے لوگوں پر اللہ تعالیٰ نزول رحمت اور فرشتے دعاء رحمت کرتے رہتے ہیں۔
حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَن أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ عَن مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ أَمَرَنَا بِعِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَإِجَابَةِ الدَّاعِي وَإِفْشَاءِ السَّلَامِ وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ وَإِبْرَارِ الْقَسَمِ وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ وَنَهَانَا عَنْ خَوَاتِيمِ الذَّهَبِ وَآنِيَةِ الْفِضَّةِ وَالْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ وَالْإِسْتَبْرَقِ وَالْمَيَاثِرِ الْحُمْرِ وَالْقَسِّيِّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ عَن سُفْيَانَ مِثْلَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ إِفْشَاءَ السَّلَامِ وَقَالَ نَهَانَا عَنْ آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ
حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا ہے اور سات چیزوں سے منع کیا ہے پھر انہوں نے حکم والی چیزوں کا ذکر کرتے ہوئے مریض کی بیمار پرسی کا تذکرہ کیا نیز یہ کہ جنازے کے ساتھ جاناچھینکنے والے کو جواب دینا سلام کا جواب دینا قسم کھانے والے کو سچا کرنا، دعوت کو قبول کرنا مظلوم کی مدد کرنا اور نبی کریم ﷺ نے ہمیں چاندی کے برتن سونے کی انگوٹھی، استبرق، حریر، دیباج (تینوں ریشم کے نام ہیں) سرخ خوان پوش سے اور ریشمی کتان سے منع فرمایا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے
حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ وَعَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ عَن أَبِي إِسْحَاقَ عَن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصُّفُوفِ الْأُوَلِ
حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا صف اول کے لوگوں پر اللہ تعالیٰ نزول رحمت اور فرشتے دعاء رحمت کرتے رہتے ہیں۔
حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ وَأَبُو أَحْمَدَ قَالَا حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَجَلِيُّ مِنْ بَنِي بَجْلَةَ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ عَن طَلْحَةَ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ مُصَرِّفٍ عَن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي عَمَلًا يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ فَقَالَ لَئِنْ كُنْتَ أَقْصَرْتَ الْخُطْبَةَ لَقَدْ أَعْرَضْتَ الْمَسْأَلَةَ أَعْتِقْ النَّسَمَةَ وَفُكَّ الرَّقَبَةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَلَيْسَتَا بِوَاحِدَةٍ قَالَ لَا إِنَّ عِتْقَ النَّسَمَةِ أَنْ تَفَرَّدَ بِعِتْقِهَا وَفَكَّ الرَّقَبَةِ أَنْ تُعِينَ فِي عِتْقِهَا وَالْمِنْحَةُ الْوَكُوفُ وَالْفَيْءُ عَلَى ذِي الرَّحِمِ الظَّالِمِ فَإِنْ لَمْ تُطِقْ ذَلِكَ فَأَطْعِمْ الْجَائِعَ وَاسْقِ الظَّمْآنَ وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنْ الْمُنْكَرِ فَإِنْ لَمْ تُطِقْ ذَلِكَ فَكُفَّ لِسَانَكَ إِلَّا مِنْ الْخَيْرِ
حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسا عمل بتادیجئے جو مجھے جنت میں داخل کرادے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا بات تو تم نے مختصر کہی ہے لیکن سوال بڑا لمبا چوڑا پوچھا ہے عتق نسمہ اور فک رقبہ کیا کرو اس نے کہا یا رسول اللہ! کیا یہ دونوں چیزیں ایک ہی نہیں ہیں؟ (کیونکہ دونوں کا معنی غلام آزاد کرنا ہے ) نبی کریم ﷺ نے فرمایا نہیں عتق نسمہ سے مراد یہ ہے کہ تم اکیلے پورا غلام آزاد کردو اور فک رقبہ سے مراد یہ ہے کہ غلام کی آزادی میں تم اس کی مدد کرو اس طرح قریبی رشتہ دار پر جو ظالم ہو، احسان اور مہربانی کرو، اگر تم میں اس کی طاقت نہ ہو تو بھوکے کو کھانا کھلادو پیاسے کو پانی پلادو، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرو، اگر یہ بھی نہ کرسکو تو اپنی زبان کو خیر کے علاوہ بند کرکے رکھو۔
حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَن أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ يَقُولُ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَفَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ أَجْرًا عَظِيمًا أَتَاهُ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَأْمُرُنِي إِنِّي ضَرِيرُ الْبَصَرِ قَالَ فَنَزَلَتْ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ائْتُونِي بِالْكَتِفِ وَالدَّوَاةِ أَوْ اللَّوْحِ وَالدَّوَاةِ
حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ ابتداء قرآن کریم کی یہ آیت ہوئی کہ " مسلمانوں میں سے جو لوگ جہاد کے انتظار میں بیٹھے ہیں وہ اور اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے بھی برابر نہیں ہوسکتے " نبی کریم ﷺ نے حضرت زید ؓ کو بلا کر حکم دیا " وہ شانے کی ایک ہڈی لے آئے اور اس پر یہ آیت لکھ دی، اس پر حضرت ابن ام مکتوم ؓ نے اپنے نابینا ہونے کی شکایت کی تو اس آیت میں " غیراولی الضرر " کا لفظ مزید نازل ہوا اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا میرے پاس شانے کی ہڈی یا تختی اور دوات لے کر آؤ۔
حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَن أَبِيهِ وَعَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ عَن أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ عَن مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ قَالَ أَبِي وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَن أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ سُوَيْدٍ عَن الْبَرَاءِ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ أَمَرَنَا بِعِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ وَرَدِّ السَّلَامِ وَإِجَابَةِ الدَّاعِي وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ وَإِبْرَارِ الْمُقْسِمِ وَنَهَانَا عَنْ آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالتَّخَتُّمِ بِالذَّهَبِ وَلُبْسِ الْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ وَالْقَسِّيِّ وَالْمَيَاثِرِ الْحُمْرِ وَالْإِسْتَبْرَقِ وَلَمْ يَذْكُرْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ آنِيَةَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ
حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا ہے اور سات چیزوں سے منع کیا ہے پھر انہوں نے حکم والی چیزوں کا ذکر کرتے ہوئے مریض کی بیمار پرسی کا تذکرہ کیا نیز یہ کہ جنازے کے ساتھ جانا چھینکنے والے کو جواب دینا سلام کا جواب دینا قسم کھانے والے کو سچا کرنا، دعوت کو قبول کرنا مظلوم کی مدد کرنا اور نبی کریم ﷺ نے ہمیں چاندی کے برتن سونے کی انگوٹھی، استبرق، حریر، دیباج (تینوں ریشم کے نام ہیں) سرخ خوان پوش سے اور ریشمی کتان سے منع فرمایا ہے۔
حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنِ الْبَرَاءِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِحَسَّانَ هَاجِهِمْ أَوْ اهْجُهُمْ فَإِنَّ جِبْرِيلَ مَعَكَ
حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت حسان بن ثابت ؓ سے فرمایا کہ مشرکین کی ہجو بیان کرو جبرائیل تمہارے ساتھ ہیں۔
حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَن سُفْيَانَ عَن أَبِي إِسْحَاقَ عَن الْبَرَاءِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ فَقُلْ اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا إِلَّا إِلَيْكَ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ فَإِنْ مُتَّ مُتَّ عَلَى الْفِطْرَةِ وَإِنْ أَصْبَحْتَ أَصْبَحْتَ وَقَدْ أَصَبْتَ خَيْرًا
حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک انصاری کو حکم دیا کہ جب وہ اپنے بستر پر آیا کرے تو یوں کہہ لیا کرے اے اللہ میں نے اپنے آپ کو تیرے حوالے کردیا اپنے چہرے کو تیری طرف متوجہ کرلیا اپنے معاملات کو تیرے سپرد کردیا اور اپنی پشت کا تجھ ہی کو سہارا بنا لیا تیری ہی رغبت ہے تجھ ہی سے ڈر ہے تیرے علاوہ کوئی ٹھکانہ اور پناہ گاہ نہیں میں تیری اس کتاب پر ایمان لے آیا جو تو نے نازل کی اور اس نبی پر جسے تو نے بھیج دیا اگر یہ کلمات کہنے والا اسی رات میں مرجائے تو وہ فطرت پر مروگے۔ اگر صبح پالی تو خیر کثیر کے ساتھ صبح کروگے۔
حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مُرَّةَ أَوْ قَالَ حَدَّثَنَا عَن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنِ الْبَرَاءِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْنُتْ فِي الصُّبْحِ وَالْمَغْرِبِ قَالَ شُعْبَةُ مِثْلَهُ
حضرت براء بن عازب ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نماز فجر اور نماز مغرب میں قنوت نازل پڑھتے تھے۔
حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَن شُعْبَةَ عَن أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ وَحَدَّثَنَا ابْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَن أَبِي إِسْحَاقَ أَنَّهُ سَمِعَ الْبَرَاءَ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدًا فَجَاءَ بِكَتِفٍ وَكَتَبَهَا فَشَكَا ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ ضَرَارَتَهُ فَنَزَلَتْ لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ
حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ ابتداء قرآن کریم کی یہ آیت ہوئی کہ " مسلمانوں میں سے جو لوگ جہاد کے انتظار میں بیٹھے ہیں وہ اور اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے بھی برابر نہیں ہوسکتے " نبی کریم ﷺ نے حضرت زید ؓ کو بلا کر حکم دیا " وہ شانے کی ایک ہڈی لے آئے اور اس پر یہ آیت لکھ دی، اس پر حضرت ابن ام مکتوم ؓ نے اپنے نابینا ہونے کی شکایت کی تو اس آیت میں " غیراولی الضرر " کا لفظ مزیدنازل ہوا
حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَابْنُ جَعْفَرٍ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَن أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ يَقُولُ أَوْصَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ أَنْ يَقُولَ اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ فَإِنْ مَاتَ مَاتَ عَلَى الْفِطْرَةِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَابْنُ جَعْفَرٍ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنِ الْبَرَاءِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ قَالَ شُعْبَةُ وَأَخْبَرَنِي عَنِ الْحَسَنِ عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ بِمِثْلِ ذَلِكَ
حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک انصاری کو حکم دیا کہ جب وہ اپنے بستر پر آیا کرے تو یوں کہہ لیا کرے اے اللہ میں نے اپنے آپ کو تیرے حوالے کردیا اپنے چہرے کو تیری طرف متوجہ کرلیا اپنے معاملات کو تیرے سپرد کردیا اور اپنی پشت کا تجھ ہی کو سہارا بنا لیا تیری ہی رغبت ہے تجھ ہی سے ڈر ہے تیرے علاوہ کوئی ٹھکانہ اور پناہ گاہ نہیں میں تیری اس کتاب پر ایمان لے آیا جو تو نے نازل کی اور اس نبی پر جسے تو نے بھیج دیا اگر یہ کلمات کہنے والا اسی رات میں مرجائے تو وہ فطرت پر مرے گا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَن سُفْيَانَ عَن أَبِي إِسْحَاقَ عَن عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ وَهُوَ غَيْرُ كَذُوبٍ قَالَ كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ لَمْ يَحْنِ رَجُلٌ مِنَّا ظَهْرَهُ حَتَّى يَسْجُدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنُسْجَدَ
حضرت براء بن عازب ؓ سے مروی ہے کہ ہم لوگ جب نبی کریم ﷺ کے پیچھے نماز پڑھتے تھے تو ہم لوگ صفوں میں کھڑے رہتے تھے جب آپ ﷺ سجدے میں چلے جاتے تب ہم آپ کی پیروی کرتے تھے۔
حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات
قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَن أَبِي إِسْحَاقَ عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَقْبَلَ مِنْ سَفَرٍ قَالَ آيِبُونَ تَائِبُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو عَن شُعْبَةَ عَن أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ الْبَرَاءِ عَن أَبِيهِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ مِثْلَ ذَلِكَ
حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب کبھی سفر سے واپس آتے تو یہ دعاء پڑھتے کہ ہم توبہ کرتے ہوئے لوٹ رہے ہیں اور ہم اپنے رب کے عبادت گذار اور اس کے ثناء خواں ہیں۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے
حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ عَن أَبِي إِسْحَاقَ عَن عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا نَامَ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى تَحْتَ خَدِّهِ وَقَالَ اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ
حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب سونے کا ارادہ فرماتے تو دائیں ہاتھ کا تکیہ بناتے اور یہ دعاء پڑھتے اے اللہ! جس دن تو اپنے بندوں کو جمع فرمائے گا مجھے اپنے عذاب سے محفوظ رکھنا۔
حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَسُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنِ ابْنِ عَازِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ فِي الْفَجْرِ
حضرت براء بن عازب ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نماز فجر اور نماز مغرب میں قنوت نازلہ پڑھتے تھے۔
حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَن أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ يَنْقُلُ التُّرَابَ وَقَدْ وَارَى التُّرَابُ شَعَرَ صَدْرِهِ
حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کو خندق کی کھدائی کے موقع پر دیکھا کہ آپ ﷺ کو خندق کی کھدائی کے موقع پر دیکھا کہ آپ ﷺ لوگوں کے ساتھ مٹی اٹھاتے جارہے ہیں۔
حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَمَ يَهُودِيًّا وَقَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أُشْهِدُكَ أَنِّي أَوَّلُ مَنْ أَحْيَا سُنَّةً قَدْ أَمَاتُوهَا
حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک یہودی کو رجم کیا اور فرمایا اے اللہ! میں سب سے پہلا آدمی ہوں جو تیرے حکم کو زندہ کررہا ہوں جبکہ انہوں نے اسے مردہ کردیا تھا
حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَن عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ لَمَّا مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لَهُ مُرْضِعًا فِي الْجَنَّةِ
حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ابراہیم ؓ کے لئے جنت میں دودھ پلانے والی عورت کا انتظام کیا گیا ہے۔
حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَن طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ عَن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَنَحَ مَنِيحَةَ وَرِقٍ أَوْ مَنِيحَةَ لَبَنٍ أَوْ هَدَى زُقَاقًا كَانَ لَهُ كَعَدْلِ رَقَبَةٍ وَقَالَ مَرَّةً كَعِتْقِ رَقَبَةٍ
حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی کوئی ہدیہ مثلاً چاندی سونا دے یا کسی کو دودھ پلادے یا کسی کو مشکیزہ دے دے تو یہ ایسے ہے جیسے ایک غلام کو آزاد کرنا۔