حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَن عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ أَبِي مُوسَى يُحَدِّثُ عَنِ الْبَرَاءِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اسْتَيْقَظَ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا مِنْ بَعْدِ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ قَالَ شُعْبَةُ هَذَا أَوْ نَحْوَ هَذَا الْمَعْنَى وَإِذَا نَامَ قَالَ اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَحْيَا وَبِاسْمِكَ أَمُوتُ
حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب بیدار ہوتے تو یوں کہتے " اس اللہ کا شکر جس نے ہمیں موت دینے کے بعد زندگی دی اور اسی کے پاس جمع ہونا ہے اور جب سوتے تو یوں کہتے اے اللہ! میں تیرے ہی نام سے جیتا ہوں اور تیرے ہی نام پر مرتا ہوں۔
حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَبَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَن عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي ابْنِهِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّ لَهُ مُرْضِعًا فِي الْجَنَّةِ
حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ابراہیم ؓ کے لئے جنت میں دودھ پلانے والی عورت کا انتظام کیا گیا ہے۔
حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَبَهْزٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَن عَدِيٍّ قَالَ بَهْزٌ حَدَّثَنَا عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ وَقَالَ بَهْزٌ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَصَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ فَقَرَأَ بِإِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ بِالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ
حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک سفر میں تھے آپ ﷺ نے نماز عشاء کی ایک رکعت میں سورت والتین کی تلاوت فرمائی۔
حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَبَهْزٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَن عَدِيٍّ قَالَ بَهْزٌ قَالَ أَخْبَرَنَا عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ هَاجِهِمْ أَوْ اهْجُهُمْ وَجِبْرِيلُ مَعَكَ قَالَ بَهْزٌ اهْجُهُمْ وَهَاجِهِمْ أَوْ قَالَ اهْجُهُمْ أَوْ هَاجِهِمْ
حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت حسان بن ثابت ؓ سے فرمایا کہ مشرکین کی ہجو بیان کرو جبرائیل تمہارے ساتھ ہیں۔
حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنَا عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِحَسَّانَ اهْجُهُمْ أَوْ هَاجِهِمْ وَجِبْرِيلُ مَعَكَ
حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت حسان بن ثابت ؓ سے فرمایا کہ مشرکین کی ہجو بیان کرو جبرائیل تمہارے ساتھ ہیں۔
حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَن سَلَمَةِ بْنِ كُهَيْلٍ عَن أَبِي حُجَيْفَةَ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ ذَبَحَ أَبُو بُرْدَةَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْدِلْهَا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيْسَ عِنْدِي إِلَّا جَذَعَةٌ وَأَظُنُّهُ قَدْ قَالَ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اجْعَلْهَا مَكَانَهَا وَلَنْ تُجْزِئَ أَوْ تُوَفِّيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ
حضرت ابوبردہ بن نیار ؓ نے نماز عید سے پہلے ہی اپنا جانور ذبح کرلیا تھا وہ کہنے لگے یا رسول اللہ! میں نے تو اپنا جانور پہلے ہی ذبح کرلیا نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا کہ اس کے بدلے کوئی اور جانور قربان کرلو وہ کہنے لگے یا رسول اللہ! اب تو میرے پاس چھ ماہ کا ایک بچہ ہے جو سال بھر کے جانور سے بھی بہتر ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا اسی کو اس کی جگہ ذبح کرلو لیکن تمہارے علاوہ کسی کو اس کی اجازت نہیں۔
حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَن يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ يُحَدِّثُ قَوْمًا فِيهِمْ كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ
حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کو افتتاح نماز کے موقع پر رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا ہے
حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَن زُبَيْدٍ الْإِيَامِيِّ عَن الشَّعْبِيِّ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهِ فِي يَوْمِنَا هَذَا نُصَلِّي ثُمَّ نَرْجِعُ فَنَنْحَرُ فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا وَمَنْ ذَبَحَ فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ قَدَّمَهُ لِأَهْلِهِ لَيْسَ مِنْ النُّسُكِ فِي شَيْءٍ قَالَ وَكَانَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ قَدْ ذَبَحَ فَقَالَ إِنَّ عِنْدِي جَذَعَةً خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ فَقَالَ اذْبَحْهَا وَلَنْ تُجْزِئَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ
حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ (بقرعید کے دن) نبی کریم ﷺ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ آج کے دن کا آغاز ہم نماز پڑھ کر کریں گے پھر واپس گھر پہنچ کر قربانی کریں گے جو شخص اسی طرح کرے تو وہ ہمارے طریقے تک پہنچ گیا اور جو نماز عید سے پہلے قربانی کرے تو وہ محض گوشت ہے جو اس نے اپنے اہل خانہ کو پہلے دے دیا، اس کا قربانی سے کوئی تعلق نہیں میرے ماموں حضرت ابوبردہ بن نیار ؓ نے نماز عید سے پہلے ہی اپنا جانور ذبح کرلیا تھا وہ کہنے لگے یا رسول اللہ! میں نے تو اپنا جانور پہلے ہی ذبح کرلیا البتہ اب میرے پاس چھ ماہ کا ایک بچہ ہے جو سال بھرکے جانور سے بھی بہتر ہے نبی کریم ﷺ نے اسی کو اس کی جگہ ذبح کرلو لیکن تمہارے علاوہ کسی کو اس کی اجازت نہیں۔
حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَن مَيْمُونٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَفْرِ الْخَنْدَقِ قَالَ وَعَرَضَ لَنَا صَخْرَةٌ فِي مَكَانٍ مِنْ الخَنْدَقِ لَا تَأْخُذُ فِيهَا الْمَعَاوِلُ قَالَ فَشَكَوْهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَوْفٌ وَأَحْسِبُهُ قَالَ وَضَعَ ثَوْبَهُ ثُمَّ هَبَطَ إِلَى الصَّخْرَةِ فَأَخَذَ الْمِعْوَلَ فَقَالَ بِسْمِ اللَّهِ فَضَرَبَ ضَرْبَةً فَكَسَرَ ثُلُثَ الْحَجَرِ وَقَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ الشَّامِ وَاللَّهِ إِنِّي لَأُبْصِرُ قُصُورَهَا الْحُمْرَ مِنْ مَكَانِي هَذَا ثُمَّ قَالَ بِسْمِ اللَّهِ وَضَرَبَ أُخْرَى فَكَسَرَ ثُلُثَ الْحَجَرِ فَقَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ فَارِسَ وَاللَّهِ إِنِّي لَأُبْصِرُ الْمَدَائِنَ وَأُبْصِرُ قَصْرَهَا الْأَبْيَضَ مِنْ مَكَانِي هَذَا ثُمَّ قَالَ بِسْمِ اللَّهِ وَضَرَبَ ضَرْبَةً أُخْرَى فَقَلَعَ بَقِيَّةَ الْحَجَرِ فَقَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ الْيَمَنِ وَاللَّهِ إِنِّي لَأُبْصِرُ أَبْوَابَ صَنْعَاءَ مِنْ مَكَانِي هَذَا حَدَّثَنَا هَوْذَةُ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَن مَيْمُونٍ قَالَ أَخْبَرَنِي الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ الْأَنْصَارِيُّ فَذَكَرَهُ
حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ ہمیں (غزوہ احزاب کے موقع پر) خندق کھودنے کا حکم دیاخندق کھودتے ہوئے ایک جگہ پہنچ کر ایک ایسی چٹان آگئی کہ جس پر کدال اثر ہی نہیں کرتی تھی صحابہ کرام ؓ نے نبی کریم ﷺ سے اس کی شکایت کی نبی کریم ﷺ خود تشریف لائے اور چٹان پر چڑھ کر کدال ہاتھ میں پکڑی اور بسم اللہ کہہ کر ایک ضرب لگائی جس سے اس کا ایک تہائی حصہ ٹوٹ گیا نبی کریم ﷺ نے اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر فرمایا مجھے شام کی کنجیاں دے دی گئیں بخدا! میں اپنی اس جگہ سے اس کے سرخ محلات دیکھ رہا ہوں پھر بسم اللہ کہہ کر ایک اور ضرب لگائی جس سے ایک تہائی حصہ مزید ٹوٹ گیا اور نبی کریم ﷺ نے اللہ اکبر کہہ کر فرمایا مجھے فارس کی کنجیاں دے دی گئیں بخدا! میں شہر مدائن اور اس کے سفید محلات اپنی اس جگہ سے دیکھ رہاہوں پھر بسم اللہ کہہ کر ایک اور ضرب لگائی اور اس کا بقیہ حصہ بھی جھڑ گیا اور نبی کریم ﷺ نے اللہ اکبر کہہ کر فرمایا مجھے یمن کی کنجیاں دے دی گئیں بخدا! میں صنعاء کے دروازے اپنی اس جگہ سے دیکھ رہاہوں۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَن أَبِي إِسْحَاقَ عَن الْبَرَاءِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَضَعُ يَدَهُ الْيُمْنَى تَحْتَ خَدِّهِ عِنْدَ مَنَامِهِ وَيَقُولُ اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ
حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب سونے کا ارادہ فرماتے تو دائیں ہاتھ کا تکیہ بناتے اور یہ دعاء پڑھتے اے اللہ! جس دن تو اپنے بندوں کو جمع فرمائے گا مجھے اپنے عذاب سے محفوظ رکھنا۔
حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ عَن عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ اهْجُ الْمُشْرِكِينَ فَإِنَّ جِبْرِيلَ مَعَكَ
حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت حسان بن ثابت ؓ سے فرمایا کہ مشرکین کی ہجو بیان کرو جبرائیل تمہارے ساتھ ہیں۔
حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَى عَن عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ يَزِيدُ إِنَّ عَدِيَّ بْنَ ثَابِتٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ صَلَّى وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ الْآخِرَةَ وَقَرَأَ فِيهَا بِالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ
حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک سفر میں تھے آپ ﷺ نے نماز عشاء کی ایک رکعت میں سورت والتین کی تلاوت فرمائی۔
حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ أَخْبَرَنَا الْأَجْلَحُ عَن أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَلْتَقِيَانِ فَيَتَصَافَحَانِ إِلَّا غُفِرَ لَهُمَا قَبْلَ أَنْ يَتَفَرَّقَا
حضرت براء سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب دو مسلمان آپس میں ملتے ہیں اور ایک دوسرے سے مصافحہ کرتے ہیں تو ان کے جدا ہونے سے پہلے ان کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔
حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا الْأَجْلَحُ عَن أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ مَا رَأَيْتُ رَجُلًا قَطُّ أَحْسَنَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ
حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے سرخ جوڑا زیب تن فرما رکھا تھا میں نے اس جوڑے میں ساری مخلوق میں ان سے زیادہ حسین کوئی نہیں دیکھا، ﷺ
حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَن أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّهُ وَصَفَ السُّجُودَ قَالَ فَبَسَطَ كَفَّيْهِ وَرَفَعَ عَجِيزَتَهُ وَخَوَّى وَقَالَ هَكَذَا سَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت براء ؓ کے حوالے سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے سجدہ کرنے کا طریقہ سجدہ کر کے دکھایا انہوں نے اپنے ہاتھوں کو کشادہ رکھا اور اپنی سرین کو اونچا رکھا اور پیٹ کو زمین سے الگ رکھا پھر فرمایا کہ نبی کریم ﷺ بھی اسی طرح سجدہ کرتے تھے۔
حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَبَّرَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى نَرَى إِبْهَامَيْهِ قَرِيبًا مِنْ أُذُنَيْهِ
حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کو افتتاح نماز کے موقع پر رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا ہے اس وقت نبی کریم ﷺ کے انگوٹھے کانوں کی لو تک برابر ہوتے تھے۔
حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَن الْأَعْمَشِ عَن عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ أَنُصَلِّي فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ قَالَ لَا قَالَ أَنُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ قَالَ نَعَمْ قَالَ أَنَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ قَالَ نَعَمْ قَالَ أَنَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ قَالَ لَا قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ رَازِيُّ وَكَانَ قَاضِيَ الرَّيِّ وَكَانَتْ جَدَّتُهُ مَوْلَاةً لِعَلِيٍّ أَوْ جَارِيَةً وَرَوَاهُ عَنْهُ آدَمُ وَسَعِيدُ بْنُ مَسْرُوقٍ وَكَانَ ثِقَةً
حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی کریم ﷺ سے اونٹ کا گوشت کھا کر وضو کرنے کے متعلق پوچھا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا وضو کرلیا کرو پھر اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھنے کا سوال پوچھا گیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا ان میں نماز نہ پڑھا کرو پھر بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھنے کا سوال پوچھا گیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا ان میں نماز پڑھ لیا کرو پھر یہ سوال ہوا کہ بکری کا گوشت کھاکر ہم وضو کیا کریں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا نہیں۔
حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ مُصَرِّفٍ عَن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ طَلْحَةَ الْيَامِيَّ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْسَجَةَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ مَنَحَ مَنِيحَةَ وَرِقٍ أَوْ هَدَى زُقَاقًا أَوْ سَقَى لَبَنًا كَانَ لَهُ عَدْلُ رَقَبَةٍ أَوْ نَسَمَةٍ وَمَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ عَشَرَ مِرَارٍ كَانَ لَهُ عَدْلُ رَقَبَةٍ أَوْ نَسَمَةٍ وَكَانَ يَأْتِينَا إِذَا قُمْنَا إِلَى الصَّلَاةِ فَيَمْسَحُ صُدُورَنَا أَوْ عَوَاتِقَنَا يَقُولُ لَا تَخْتَلِفْ صُفُوفُكُمْ فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ وَكَانَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ أَوْ الصُّفُوفِ الْأُوَلِ وَقَالَ زَيِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ كُنْتُ نُسِّيتُهَا فَذَكَّرَنِيهَا الضَّحَّاكُ بْنُ مُزَاحِمٍ
حضرت براء بن عازب ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی کو کوئی ہدیہ مثلاً چاندی سونا دے یا کسی کو دودھ پلادے یا کسی کو مشکیزہ دے دے تو یہ ایسے ہے جیسے ایک غلام کو آزاد کرنا۔ اور جو شخص یہ کلمات کہہ لے لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شیء قدیر۔ تو یہ ایک غلام آزاد کرنے کی طرح ہے۔ اور نبی کریم ﷺ صف کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک نمازیوں کے سینے اور کندھے درست کرتے ہوئے آتے تھے اور فرماتے تھے کہ آگے پیچھے مت ہوا کرو ورنہ تمہارے دلوں میں اختلاف پیدا ہوجائے گا اور فرماتے تھے کہ پہلی صفوں والوں پر اللہ تعالیٰ نزول رحمت اور فرشتے دعاء رحمت کرتے رہتے ہیں۔ اور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قرآن کریم کو اپنے آواز سے مزین کیا کرو۔
حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ عَن مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ ابْنٌ لَهُ ابْنَ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا وَهُوَ رَضِيعٌ قَالَ يَحْيَى أُرَاهُ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لَهُ مُرْضِعًا يُتِمُّ رَضَاعَهُ فِي الْجَنَّةِ
حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے صاحبزادے حضرت ابراہیم ؓ کی نماز جنازہ پڑھائی جن کا انتقال صرف سولہ مہینے کی عمر میں ہوگیا تھا اور فرمایا جنت میں ان کے لئے دائی مقرر کی گئی ہے جوان کی مدت رضاعت کی تکمیل کرے گی۔
حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ قَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا أَبَا عُمَارَةَ أَوَلَّيْتُمْ يَوْمَ حُنَيْنٍ قَالَ لَا وَاللَّهِ مَا وَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنْ وَلَّى سَرَعَانُ النَّاسِ تَلَقَّتْهُمْ هَوَازِنُ بِالنَّبْلِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَةٍ بَيْضَاءَ وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ آخِذٌ بِلِجَامِهَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ
حضرت براء ؓ سے قبیلہ قیس کے ایک آدمی نے پوچھا کہ کیا آپ لوگ غزوہ حنین کے موقع پر نبی کریم ﷺ کو چھوڑ کر بھاگ اٹھے تھے؟ حضرت براء ؓ نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ تو نہیں بھاگے تھے دراصل بنو ہوازن کے لوگ بڑے ماہر تیر انداز تھے جب ہم ان پر غالب آگئے اور مال غنیمت جمع کرنے لگے تو اچانک انہوں نے ہم پر تیروں کی بوچھاڑ کردی میں نے اس وقت نبی کریم ﷺ کو ایک سفید خچر پر سوار دیکھا جس کی لگام حضرت ابوسفیان بن حارث ؓ نے تھام رکھی تھی اور نبی کریم ﷺ کہتے جارہے تھے کہ میں سچا نبی ہوں، اس میں کوئی جھوٹ نہیں میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔