حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ الرَّجُلِ يُوتِرُ عِشَاءً ثُمَّ يَرْقُدُ قَالَ جَابِرٌ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ خَافَ مِنْكُمْ أَنْ لَا يَقُومَ مِنْ اللَّيْلِ فَلْيُوتِرْ ثُمَّ لِيَرْقُدْ وَمَنْ طَمِعَ مِنْكُمْ الْقِيَامَ فَلْيُوتِرْ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَإِنَّ قِرَاءَةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَحْضُورَةٌ وَذَلِكَ أَفْضَلُ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں سے جس شخص کا غالب گمان یہ ہو کہ رات کے آخری حصے میں بیدار نہ ہو سکے گا تو اسے رات کے اول حصے میں ہی وتر پڑھ لینے چاہئے اور جسے آخر رات میں جاگنے کا غالب گمان ہو تو اسے آخر میں ہی وتر پڑھنے چاہئے کیونکہ رات کے آخری حصے میں نماز کے وقت فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور یہ افضل طریقہ ہے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ مِنْ اللَّيْلِ سَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ خَيْرًا إِلَّا أَعْطَاهُ وَهِيَ كُلَّ لَيْلَةٍ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا روزانہ رات میں ایک ایسی گھڑی ضرور آتی ہے جو اگر کسی بندہ مسلمان کو مل جائے تو وہ اس میں اللہ سے جو دعاء بھی مانگے گا وہ دعاء ضرور قبول ہوگی اور ایسارات میں ہوتا ہے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ نُعْمَانَ بْنَ قَوْقَلٍ جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِذَا صَلَّيْتُ الْمَكْتُوبَاتِ وَصُمْتُ رَمَضَانَ وَحَرَّمْتُ الْحَرَامَ وَأَحْلَلْتُ الْحَلَالَ وَلَمْ أَزِدْ عَلَى ذَلِكَ شَيْئًا أَفَأَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَالَ نَعَمْ فَقَالَ وَاللَّهِ لَا أَزِيدُ عَلَى ذَلِكَ شَيْئًا
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نعمان بن قوقل نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ اگر میں حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھوں اور فرض نمازیں پڑھ لیا کروں رمضان کے روزے رکھ لیا کروں اس سے زائد کچھ نہ کروں تو کیا میں جنت میں داخل ہوسکتا ہوں نبی ﷺ نے فرمایا کہ ہاں تو انہوں نے کہا کہ واللہ میں اپنی طرف سے اس میں کچھ اضافہ نہ کروں گا۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَشَدَّ النَّاسِ تَخْفِيفًا فِي الصَّلَاةِ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ سب سے ہلکی نماز نبی ﷺ کی ہوتی تھی۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّهُ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا هَلْ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ قَالَ نَعَمْ زَمَانَ غَزْوِنَا بَنِي الْمُصْطَلِقِ
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر ؓ سے پوچھا کیا نبی ﷺ نے نماز مغرب اور عشاء کو جمع کیا تھا؟ انہوں نے فرمایا ہاں جس زمانے میں ہم نے بنو مصطلق سے جہاد کیا تھا۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرًا عَنْ التَّصْفِيقِ وَالتَّسْبِيحِ قَالَ جَابِرٌ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ التَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ فِي الصَّلَاةِ وَالتَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ
ابوالزبیر نے حضرت جابر ؓ سے تسبیح اور تصفیق کا مسئلہ پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نماز میں سبحان اللہ کہنے کا حکم مردوں کے لئے ہے اور ہلکی آواز میں تالی بجانے کا حکم خواتین کے لئے ہے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّ مِرَارٍ قَبْلَ صَلَاةِ الْخَوْفِ وَكَانَتْ صَلَاةُ الْخَوْفِ فِي السَّنَةِ السَّابِعَةِ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے نماز خوف کا حکم نازل ہونے سے قبل چھ مرتبہ جہاد کیا تھا نماز خوف کا حکم ساتویں سال میں نازل ہوا تھا۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ الْغُسْلِ قَالَ جَابِرٌ أَتَتْ ثَقِيفٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ بَارِدَةٌ فَكَيْفَ تَأْمُرُنَا بِالْغُسْلِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا أَنَا فَأَصُبُّ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَلَمْ يَقُلْ غَيْرَ ذَلِكَ
ابوزبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر ؓ سے غسل جنابت کے متعلق سوال پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ قبیلہ ثقیف کے لوگ نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ہمارا علاقہ ٹھنڈا ہے تو آپ ہمیں غسل کے متعلق کیا حکم دیتے ہیں؟ تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ میں تو سر پر تین مرتبہ پانی ڈال لیا کرتا تھا اس کے علاوہ کچھ نہیں فرمایا۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ الرَّجُلِ يُبَاشِرُ الرَّجُلَ فَقَالَ جَابِرٌ زَجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر ؓ سے پوچھا کہ مرد دوسرے مرد کے ساتھ اپنا برہنہ جسم لگاسکتا ہے انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے اس سے سختی سے منع فرمایا ہے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ الْمَرْأَةِ تُبَاشِرُ الْمَرْأَةَ قَالَ زَجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر ؓ سے پوچھا کہ عورت دوسری عورت کے ساتھ اپنا برہنہ جسم لگاسکتی ہے انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے اس سے سختی سے منع فرمایا ہے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ الرَّجُلِ يُرِيدُ الصِّيَامَ وَالْإِنَاءُ عَلَى يَدِهِ لِيَشْرَبَ مِنْهُ فَيَسْمَعُ النِّدَاءَ قَالَ جَابِرٌ كُنَّا نُحَدَّثُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِيَشْرَبْ
ابوزبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر ؓ سے پوچھا کہ ایک آدمی روزہ رکھنا چاہتا ہے ابھی اس کے ہاتھ میں برتن ہے کہ وہ پانی پئے ادھر اذان کی آواز آجاتی ہے انہوں نے فرمایا کہ ہمیں یہ بات بیان کی گئی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اسے پانی پی لینا چاہئے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
وَبِإِسْنَادِهِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ تَطْلُعُ الشَّمْسُ فِي قَرْنِ شَيْطَانٍ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سورج شیطان کے سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ رُكُوبِ الْهَدْيِ قَالَ جَابِرٌ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ارْكَبْهَا بِالْمَعْرُوفِ حَتَّى تَجِدَ ظَهْرًا
حضرت جابر ؓ سے ابوزبیر نے ہدی کے جانور پر سوار ہونے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر تم مجبور ہوجاؤ تو اس پر اچھے طریقے پر سوار ہوسکتے ہو تاآنکہ تمہیں کوئی دوسری سواری مل جائے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ قَالَ أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَوْمِ عَاشُورَاءَ أَنْ نَصُومَهُ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ہمیں یوم عاشورہ کا روزہ رکھنے کا حکم دیا ہے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا مُوسَى وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ النَّحْرِ فَقَالَ جَابِرٌ صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ بِالْمَدِينَةِ فَتَقَدَّمَ رِجَالٌ فَنَحَرُوا وَظَنُّوا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَحَرَ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ نَحَرَ أَنْ يُعِيدَ نَحْرًا آخَرَ وَلَا يَنْحَرُوا حَتَّى يَنْحَرَ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے مدینہ منورہ میں ہمیں دس ذالحجہ کو نماز پڑھائی کچھ لوگوں نے پہلے ہی قربانی کرلی اور وہ یہ سمجھے کہ شاید نبی ﷺ قربانی کرچکے ہیں نبی ﷺ کو معلوم ہوا تو آپ نے حکم دیا کہ جس نے پہلے قربانی کرلی ہے وہ دوبارہ قربانی کرے اور یہ کہ نبی ﷺ کے قربانی کرنے سے پہلے قربانی نہ کیا کریں۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ الرَّجُلِ يُوَالِي مَوَالِيَ الرَّجُلِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ فَقَالَ كَتَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى كُلِّ بَطْنٍ عُقُولَهُمْ ثُمَّ كَتَبَ أَنَّهُ لَا يَحِلُّ أَنْ يُوَالِيَ مَوَالِيَ رَجُلٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِ
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر ؓ سے پوچھا کہ اگر کوئی آدمی اپنے آقا کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے سے عقد موالات کرلے تو کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے قبیلے کی ہر شاخ پر دیت کا حصہ ادا کرنا فرض قرار دیا اور یہ بات بھی تحریر فرما دی کہ کسی شخص کے لئے کسی مسلمان آدمی کے غلام سے عقد موالات کرنا اس کی اجازت کے بغیر حلال نہیں ہے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا مُوسَى وَحَسَنٌ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ السُّنْبُلَةِ تَخِرُّ مَرَّةً وَتَسْتَقِيمُ مَرَّةً وَمَثَلُ الْكَافِرِ مَثَلُ الْأَرْزِ لَا يَزَالُ مُسْتَقِيمًا حَتَّى يَخِرَّ وَلَا يَشْعُرَ قَالَ حَسَنٌ الْأَرْزَةِ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مسلمان کی مثال گندم کے خوشے کی سی ہے جو کبھی گرتا ہے اور کبھی سنبھلتا ہے اور کافر کی مثال چاول کی سی ہے جو ہمیشہ تنا ہی رہتا ہے یہاں تک کہ وہ گرجاتا ہے اور اس پر بال نہیں آتے (یا اسے پتہ بھی نہیں چلتا)
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا مُوسَى أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ خُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ قَالَ جَابِرٌ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ إِذَا خُسِفَا أَوْ أَحَدُهُمَا فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَصَلُّوا حَتَّى يَنْجَلِيَ خُسُوفُ أَيِّهِمَا خُسِفَ
ابوزبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر ؓ سے سورج گرہن کے متعلق پوچھا انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ چاند اور سورج گرہن کو گہن لگ جاتا ہے جب تم ایسی چیز دیکھا کرو تو اس وقت تک نماز پڑھتے رہا کرو جب تک گہن ختم نہ ہوجائے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا مُوسَى أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ الْقَتِيلِ الَّذِي قُتِلَ فَأَذَّنَ فِيهِ سُحَيْمٌ فَقَالَ جَابِرٌ أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُحَيْمًا أَنْ يُؤَذِّنَ فِي النَّاسِ أَلَا لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ قَالَ جَابِرٌ وَلَا أَعْلَمُهُ قُتِلَ أَحَدٌ
ابوزبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر ؓ سے اس مقتول کے متعلق پوچھا جس کے قتل ہونے کے بعد سحیم نے منادی کی تھی انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے سحیم کو حکم دیا ہے کہ لوگوں میں منادی کردیں کہ جنت میں صرف وہی شخص داخل ہوگا جو مؤمن ہو۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ الْقَتِيلِ الَّذِي قُتِلَ فَأَذَّنَ فِيهِ سُحَيْمٌ قَالَ كُنَّا بِحُنَيْنٍ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُحَيْمًا أَنْ يُؤَذِّنَ فِي النَّاسِ أَنْ لَا يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ قَالَ وَلَا أَعْلَمُهُ قُتِلَ أَحَدٌ قَالَ مُوسَى بْنُ دَاوُدَ قَتَلَ أَحَدًا
ابوزبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر ؓ سے اس مقتول کے متعلق پوچھا جس کے قتل ہونے کے بعد سحیم نے منادی کی تھی انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے سحیم کو حکم دیا ہے کہ لوگوں میں منادی کردیں کہ جنت میں صرف وہی شخص داخل ہوگا جو مؤمن ہو۔