حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا بَصَقَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَبْصُقْ عَنْ يَمِينِهِ وَلَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ اکرم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو اپنے دائیں جانب نہ تھوکے بلکہ بائیں جانب یا پاؤں کے نیچے تھوکے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثِرُوا مِنْ هَذِهِ النِّعَالِ فَإِنَّهُ لَا يَزَالُ أَحَدُكُمْ رَاكِبًا إِذَا انْتَعَلَ وَفِي مَوْضِعٍ آخَرَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا اسْتَكْثِرُوا مِنْ النِّعَالِ فَإِنَّ الرَّجُلَ لَا يَزَالُ رَاكِبًا مَا انْتَعَلَ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جوتی کثرت سے پہنا کرو کیونکہ جب تک آدمی جوتی پہنے رہتا ہے گویا سواری پر سوار رہتا ہے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَارِبُوا وَسَدِّدُوا فَإِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْكُمْ يُنَجِّيهِ عَمَلُهُ قَالُوا وَلَا إِيَّاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَلَا إِيَّايَ إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ بِرَحْمَتِهِ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا قریب قریب رہا کرو اور صحیح بات کیا کرو کیونکہ تم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں ہے جسے اس کے اعمال بچاسکیں صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ آپ کو بھی نہیں فرمایا مجھے بھی نہیں الاّ یہ کہ اللہ مجھے اپنی رحمت سے ڈھانپ لے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الَّذِي يُقَالُ لَهُ الْعَدَنِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَقَطَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ فَلْيُمِطْ مَا عَلَيْهَا مِنْ أَذًى ثُمَّ لِيَأْكُلْهَا وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ وَلَا يَمْسَحْ أَحَدُكُمْ يَدَهُ بِالْمِنْدِيلِ حَتَّى يَلْعَقَ أَصَابِعَهُ أَوْ يُلْعِقَهَا فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيِّ طَعَامِهِ الْبَرَكَةُ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کسی کا لقمہ گرجائے تو اسے چاہیے کہ اس پر لگنے والی تکلیف دہ چیز کو ہٹا کر اسے کھالے اور اسے شیطان کے لئے نہ چھوڑے اور اپنا ہاتھ تو لیے سے نہ پونچھے اور انگلیاں چاٹ لے کیونکہ اسے معلوم نہیں ہے اس کے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا ابْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَكَرَ السَّاعَةَ احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ وَعَلَا صَوْتُهُ كَأَنَّهُ مُنْذِرُ جَيْشٍ صُبِّحْتُمْ مُسِّيتُمْ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ جوں جوں آپ قیامت کا تذکرہ فرماتے جاتے آپ کی آواز بلند ہوتی جاتی چہرہ مبارک سرخ ہوتا جاتا اور جوش میں اضافہ ہوتا جاتا اور ایسا محسوس ہوتا کہ جیسے آپ کسی لشکر سے ڈرا رہے ہوں
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
قَالَ وَكَانَ يَقُولُ أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَإِلَيَّ وَعَلَيَّ وَأَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ
پھر فرمایا کہ میں مسلمانوں پر ان کی جان سے زیادہ حق رکھتا ہوں جو شخص مال دولت چھوڑ جائے وہ اس کے اہل خانہ کا ہے اور جو شخص قرض یا بچے چھوڑ جائے وہ میرے ذمے ہے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ وَغَيْرُهُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَسْأَلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ عَنْ شَيْءٍ فَإِنَّهُمْ لَنْ يَهْدُوكُمْ وَقَدْ ضَلُّوا فَإِنَّكُمْ إِمَّا أَنْ تُصَدِّقُوا بِبَاطِلٍ أَوْ تُكَذِّبُوا بِحَقٍّ فَإِنَّهُ لَوْ كَانَ مُوسَى حَيًّا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ مَا حَلَّ لَهُ إِلَّا أَنْ يَتَّبِعَنِي
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا اہل کتاب سے کسی چیز کے متعلق مت پوچھا کرو اس لئے کہ وہ تمہیں صحیح راستہ کبھی نہیں دکھائیں گے کیونکہ وہ تو خود گمراہ ہیں اب یا تو تم کسی غلط بات کی تصدیق کر بیٹھو گے یا کسی حق بات کی تکذیب کر جاؤ گے اور یوں بھی اگر تمہارے درمیان حضرت موسیٰ بھی زندہ ہوتے تو میری اتباع کے علاوہ انہیں کوئی چارہ نہ ہوتا۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَسَعَ رَجُلٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ فَاجْتَمَعَ قَوْمُ ذَا وَقَوْمُ ذَا وَقَالَ هَؤُلَاءِ يَا لَلْمُهَاجِرِينَ وَقَالَ هَؤُلَاءِ يَا لَلْأَنْصَارِ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ دَعُوهَا فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ قَالَ ثُمَّ قَالَ أَلَا مَا بَالُ دَعْوَى أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ أَلَا مَا بَالُ دَعْوَى أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ دو غلام آپس میں لڑپرے جن میں سے ایک کسی مہاجر کا اور دوسرا کسی انصاری کا تھا مہاجر نے مہاجرین کو اور انصاری نے انصار کو آوازیں دے کربلانا شروع کردیا نبی ﷺ یہ آوازیں سن کا باہر تشریف لائے اور فرمایا ان بدبودار نعروں کو چھوڑ دو پھر فرمایا یہ جاہلیت کی کیسی آوازیں ہیں یہ زمانہ جاہلیت کی کیسی آوازیں ہیں؟۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا وَلَا عَلَى خَالَتِهَا وَلَا الْمَرْأَةُ عَلَى ابْنَةِ أَخِيهَا وَلَا عَلَى ابْنَةِ أُخْتِهَا
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا پھوپھی یاخالہ کی موجودگی میں کسی عورت سے نکاح نہ کیا جائے اور نہ کسی بھتیجی یا بھانجی کی موجودگی میں کسی عورت سے نکاح کیا جائے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيٌّ وَحَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ قَالَ سَمِعْت سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ يَقُولُ الْحَوَارِيُّ النَّاصِرُ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ ہر نبی ﷺ کا ایک حواری ہوتا تھا اور میرے حواری زبیر ہیں۔ سفیان بن عیینہ کہتے ہیں کہ حواری کا معنی ہے ناصر و مددگار۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ يَقُولُ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے زمین کے کرائے سے منع کیا ہے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً فَهِيَ لَهُ وَمَا أَكَلَتْ الْعَافِيَةُ فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ فَقَالَ رَجُلٌ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ أَبُو الْمُنْذِرِ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ مَا الْعَافِيَةُ قَالَ مَا اعْتَافَهَا مِنْ شَيْءٍ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی ویران بنجر زمین کو آباد کرے اسے اس کا اجر ملے گا اور جتنے جانور اس سے کھائیں گے اسے ان سب پر صدقے کا ثواب ملے گا۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَتَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَأَطْعَمْتُهُمْ رُطَبًا وَأَسْقَيْتُهُمْ مَاءً فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا مِنْ النَّعِيمِ الَّذِي تُسْأَلُونَ عَنْهُ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ حضرات شیخین کے ہمراہ میرے یہاں تشریف لائے میں نے کھانے کے لئے ترکجھوریں اور پینے کے لئے پانی پیش کیا نبی ﷺ نے فرمایا یہ وہ نعمتیں ہیں جن کے متعلق قیامت کے دن تم سے پوچھا جائے گا۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا شَاذَانُ أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُخَلِّفَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لَهُ عَلِيٌّ مَا يَقُولُ النَّاسُ فِيَّ إِذَا خَلَّفْتَنِي قَالَ فَقَالَ مَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَيْسَ بَعْدِي نَبِيٌّ أَوْ لَا يَكُونُ بَعْدِي نَبِيٌّ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ جب نبی ﷺ نے حضرت علی کو اپنے پیچھے چھوڑنے کا ارادہ کیا تو وہ کہنے لگے کہ اگر آپ مجھے چھوڑ کر چلے گئے تو لوگ میرے متعلق کیا کہیں گے نبی ﷺ نے فرمایا کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہو جو حضرت ہارون کو حضرت موسیٰ سے تھی البتہ یہ ضرور ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ضرورت سے زائد پانی کو بیچنے سے منع فرمایا ہے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ وَمُوسَى بْنُ دَاوُدَ قَالَا حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْأَرْضِ الْبَيْضَاءِ سَنَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے دو تین سالوں کے لئے پھلوں کی پیشگی بیع سے منع کیا ہے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ قَالَا حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَحْمَدُ فِي حَدِيثِهِ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي قُحَافَةَ أَوْ جَاءَ عَامَ الْفَتْحِ وَرَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ مِثْلُ الثَّغَامِ أَوْ مِثْلُ الثَّغَامَةِ قَالَ حَسَنٌ فَأَمَرَ بِهِ إِلَى نِسَائِهِ قَالَ غَيِّرُوا هَذَا الشَّيْبَ قَالَ حَسَنٌ قَالَ زُهَيْرٌ قُلْتُ لِأَبِي الزُّبَيْرِ أَقَالَ جَنِّبُوهُ السَّوَادَ قَالَ لَا
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن ابوقحافہ کو نبی ﷺ کی خدمت میں لایا گیا اس وقت ان کے سر کے بال ثغامہ بوٹی کی طرح سفید تھے نبی ﷺ نے فرمایا کہ انہیں ان کی خاندان کی کسی عورت کے پاس لے جاؤ اور ان کے بالوں کا رنگ بدل دو۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُنْطَلِقٌ إِلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى بَعِيرِهِ فَكَلَّمَتْهُ فَقَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا وَأَشَارَ زُهَيْرٌ بِكَفِّهِ ثُمَّ كَلَّمْتُهُ فَقَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا وَأَنَا أَسْمَعُهُ يَقْرَأُ وَيُومِئُ بِرَأْسِهِ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ مَا فَعَلْتَ فِي الَّذِي أَرْسَلْتُكَ لَهُ فَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أُكَلِّمَكَ إِلَّا أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے بنومصطلق کی طرف جاتے ہوئے مجھے کسی کام سے بھیج دیا میں واپس آیا تو نبی ﷺ اپنے اونٹ پر نماز پڑھ رہے تھے میں نے بات کرنا چاہی تو نبی ﷺ نے ہاتھ سے اشارہ کیا دو مرتبہ اس طرح ہوا پھر میں نے نبی ﷺ کو قرأت کرتے ہوئے سنا اور نبی ﷺ اپنے سر سے اشارہ فرما رہے تھے نماز سے فراغت کے بعد نبی ﷺ نے فرمایا میں نے جس کام کے لئے تمہیں بھیجا تھا اس کا کیا بنا میں نے جواب اس لئے نہیں دیا تھا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ أَخْبَرَنَا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ جَابِرٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَانَ لَهُ إِمَامٌ فَقِرَاءَتُهُ لَهُ قِرَاءَةٌ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جس شخص کا امام ہو وہ جان لے کہ امام کی قرأت ہی اس کی قرأت ہے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ضرورت سے زائد پانی بیچنے سے منع فرمایا ہے۔