حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَدِّدُوا وَأَبْشِرُوا
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا راہ راست اختیار کرو اور خوشخبری حاصل کرو۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنْ عِشْتُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ زَجَرْتُ أَنْ يُسَمَّى بَرَكَةُ وَيَسَارٌ وَنَافِعٍ قَالَ جَابِرٌ لَا أَدْرِي ذَكَرَ رَافِعًا أَمْ لَا إِنَّهُ يُقَالُ لَهُ هَاهُنَا بَرَكَةٌ فَيُقَالُ لَا وَيُقَالُ هَاهُنَا يَسَارٌ فَيُقَالُ لَا قَالَ فَقُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَزْجُرْ عَنْ ذَلِكَ فَأَرَادَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنْ يَزْجُرَ عَنْهُ ثُمَّ تَرَكَهُ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر میں زندہ رہا تو انشاء اللہ سختی سے لوگوں کو برکت، یسار اور نافع جیسے نام رکھنے سے منع کردوں گا اب مجھے یہ یاد نہیں کہ نبی ﷺ نے رافع کا نام بھی ذکر کیا تھا یا نہیں؟ اور وجہ یہ بیان فرمائی کہ کوئی کسی سے پوچھتا ہے کہ یہاں برکت ہے وہ جواب دیتا ہے نہیں کوئی پوچھتا ہے کہ یہاں کوئی یسار (آسانی) ہے وہ جواب دیتا ہے کہ نہیں لیکن اس سے قبل ہی نبی ﷺ کا وصال ہوگیا پھر حضرت عمر فاروق نے اسے سختی سے روکنے کا ارادہ کیا لیکن پھر اسے ترک کردیا۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ أَخْبَرَنِي جَابِرٌ أَنَّ أَمِيرَ الْبَعْثِ كَانَ غَالِبًا اللَّيْثِيَّ وَقُطْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الَّذِي دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّخْلَ وَهُوَ مُحْرِمٌ ثُمَّ خَرَجَ مِنْ الْبَابِ وَقَدْ تَسَوَّرَ مِنْ قِبَلِ الْجِدَارِ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ الَّذِي سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَقَدْ خَلَتْ اثْنَانِ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْتَمِسْهَا فِي هَذِهِ السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ الَّتِي بَقِينَ مِنْ الشَّهْرِ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ کسی لشکر کے امیر غالب لیثی اور قطبہ بن عامر تھے جو کہ نبی ﷺ کے پاس ایک باغ میں آئے تھے جبکہ وہ محرم تھے نبی ﷺ تھوڑی دیر بعد دروازے سے نکلے تو دیوار کی جانب آڑ لے کر چلنے لگے ان میں ہی عبداللہ بن انیس بھی تھے جنہوں نے ماہ رمضان کی بائیس راتیں گزرنے کے بعد نبی ﷺ سے شب قدر کے متعلق پوچھا تھا نبی ﷺ نے فرمایا کہ مہینے کی اب جو سات راتیں بچ گئیں ہیں ان میں ہی شب قدر تلاش کرو۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا تَغَوَّطَ أَحَدُكُمْ فَلْيَمْسَحْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص بیت الخلاء میں جائے تو تین مرتبہ پتھر استعمال کرے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ السُّجُودِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ أَنْ يُعْتَدَلَ فِي السُّجُودِ وَلَا يَسْجُدَ الرَّجُلُ وَهُوَ بَاسِطٌ ذِرَاعَيْهِ
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر ؓ سے سجدے کی کیفیت کے متعلق سوال پوچھا انہوں نے جواب دیا کہ میں نے نبی ﷺ کو سجدے میں اعتدال کا حکم فرماتے ہوئے سنا ہے اور کوئی شخص باز بچھا کر سجدہ نہ کرے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا سَمِعَ نِدَاءَ الصَّلَاةِ فَرَّ بُعْدَ مَا بَيْنَ الرَّوْحَاءِ وَالْمَدِينَةِ لَهُ ضُرَاطٌ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب مؤذن اذان دیتا ہے تو شیطان اتنی دور بھاگ جاتا ہے جتنا فاصلہ روحاء تک ہے اور وہ پیچھے سے آواز خارج کرتا جاتا ہے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا أَسَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي كَثْرَةِ خُطَا الرَّجُلِ إِلَى الْمَسْجِدِ شَيْئًا فَقَالَ هَمَمْنَا أَنْ نَنْتَقِلَ مِنْ دُورِنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لِقُرْبِ الْمَسْجِدِ فَزَجَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ وَقَالَ لَا تُعْرُوا الْمَدِينَةَ فَإِنَّ لَكُمْ فَضِيلَةً عَلَى مَنْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ بِكُلِّ خُطْوَةٍ دَرَجَةً
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر ؓ سے پوچھا کہ کیا انہوں نے نبی ﷺ کو مسجد کی طرف بکثرت چل کر جانے کے متعلق کچھ فرماتے ہوئے سنا ہے انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ ہمارا ارادہ ہوا کہ مسجد کے قریب منتقل ہوجائیں نبی ﷺ کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو آپ نے ہمیں سختی سے روکتے ہوئے فرمایا مدینہ خالی نہ کرو کیونکہ مسجد کے قریب والوں پر تمہیں ہر قدم کے بدلے ایک درجہ فضیلت ملتی ہے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ خَيْرُ مَا رُكِبَتْ إِلَيْهِ الرَّوَاحِلُ مَسْجِدُ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام وَمَسْجِدِي
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے وہ بہترین جگہ جہاں سواریاں سفر کر کے آئیں حضرت ابراہیم کی مسجد (مسجدحرام) ہے اور میری مسجد ہے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُسْتَنْجَى بِبَعْرَةٍ أَوْ بِعَظْمٍ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مینگنی یا ہڈی سے استنجاء کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ زَمَانَ الْفَتْحِ أَنْ يَأْتِيَ الْبَيْتَ وَهُوَ بِالْبَطْحَاءِ فَيَمْحُوَ كُلَّ صُورَةٍ فِيهِ وَلَمْ يَدْخُلْهُ حَتَّى مُحِيَتْ كُلُّ صُورَةٍ فِيهِ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے گھر میں تصویریں رکھنے سے منع فرمایا ہے اور فتح مکہ کے زمانے میں جب نبی ﷺ مقام بطحا میں تھے تو حضرت عمر فاروق کو حکم دیا کہ خانہ کعبہ پہنچ کر اس میں موجود تمام تصویریں مٹا ڈالیں اور اس وقت تک آپ خانہ کعبہ میں داخل نہیں ہوئے جب تک اس میں موجود تمام تصویروں کو مٹا نہیں دیا گیا۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ الْمُهَلِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مُهَلُّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَمُهَلُّ أَهْلِ الطَّرِيقِ الْأُخْرَى مِنْ الْجُحْفَةِ وَمُهَلُّ أَهْلِ الْعِرَاقِ مِنْ ذَاتِ عِرْقٍ وَمُهَلُّ أَهْلِ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ وَمُهَلُّ أَهْلِ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اہل مدینہ کی میقات ذوالحلیفہ ہے اور دوسرا راستہ حجفہ ہے جبکہ اہل عراق کی میقات ذات عرق ہے اہل نجد کی میقات قرن ہے اور اہل یمن کی میقات یلملم ہے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ مَا بَيْنَ حَرَّتَيْ الْمَدِينَةِ لَا يُقْطَعُ مِنْهَا شَجَرَةٌ إِلَّا أَنْ يَعْلِفَ الرَّجُلُ بَعِيرَهُ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مدینہ منورہ کے دونوں کونوں کا درمیانی حصہ حرم قرار دیا ہے جس کا کوئی درخت نہیں کاٹا جاسکتا الاّ یہ کہ کوئی شخص اپنے اونٹ کو چارہ کھلائے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَبِّرُوا عَلَى مَوْتَاكُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا اپنے مردوں پر " خواہ دن ہو یا رات " چارتکبیرات پڑھا کرو۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ قَالَ رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَمْرَةَ عَلَى بَعِيرِهِ بِحَصَى الْخَذْفِ وَهُوَ يَقُولُ لِتَأْخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي لَا أَحُجُّ بَعْدَ حَجَّتِي هَذِهِ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ روانہ تو سکون کے ساتھ ہوئے لیکن وادی محسر میں اپنی سواری کی رفتار کو تیز کردیا اور انہیں ٹھیکری جیسی کنکریاں دکھا کر سکون وقار سے چلنے کا حکم دیا اور میری امت کو مناسک حج سیکھ لینے چاہئیں کیونکہ ہوسکتا ہے میں آئندہ سال ان سے نہ مل سکوں۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَالَ حِينَ يُنَادِي الْمُنَادِي اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَارْضَ عَنْهُ رِضًا لَا تَسْخَطُ بَعْدَهُ اسْتَجَابَ اللَّهُ لَهُ دَعْوَتَهُ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص مؤذن کے اذان دینے کے بعد یہ دعاء کرے کہ اے اللہ اے اس کامل دعوت اور نافع نماز کے رب محمد پر درود نازل فرما ان سے اس طرح راضی ہوجا کہ اس کے بعد ناراضگی کا شائبہ بھی نہ رہے اللہ اس کی دعاء ضرور قبول کرے گا۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَاهِبًا أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُبَّةَ سُنْدُسٍ فَلَبِسَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَتَى الْبَيْتَ فَوَضَعَهَا وَأَحَسَّ بِوَفْدٍ أَتَوْهُ فَأَمَرَهُ عُمَرُ أَنْ يَلْبَسَ الْجُبَّةَ لِقُدُومِ الْوَفْدِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَصْلُحُ لِبَاسُهَا لَنَا فِي الدُّنْيَا وَيَصْلُحُ لَنَا فِي الْآخِرَةِ وَلَكِنْ خُذْهَا يَا عُمَرُ فَقَالَ يَكْرَهُهَا وَآخَذُهَا فَقَالَ إِنِّي لَا آمُرُكَ أَنْ تَلْبَسَهَا وَلَكِنْ أَرْسِلْ بِهَا إِلَى أَرْضِ فَارِسَ فَتُصِيبَ بِهَا مَالًا فَأَرْسَلَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّجَاشِيِّ وَكَانَ قَدْ أَحْسَنَ إِلَى مَنْ فَرَّ إِلَيْهِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ ایک راہب نے نبی ﷺ کی خدمت میں ایک ریشمی جبہ ہدیہ کے طور پر بھیجا نبی ﷺ نے اس وقت تو اسے پہن لیا لیکن گھر آکر اتار دیا پھر کسی وفد کی آمد کا علم ہوا تو حضرت عمر نے درخواست کی کہ وہ جبہ زیب تن فرما لیں نبی ﷺ نے فرمایا کہ دنیا میں ہمارے لئے ریشمی لباس مناسب نہیں ہے یہ آخرت میں ہمارے لئے مناسب ہوگا البتہ عمر تم اسے لے لو حضرت عمر کہنے لگے کہ آپ تو اسے ناپسند کریں اور میں اسے لے لوں نبی ﷺ نے فرمایا میں تمہیں اسے پہننے کا حکم نہیں دے رہا بلکہ اس لئے دے رہاہوں کہ تم اسے سر زمین ایران کی طرف بھیج دو اور اس کے ذریعے مال حاصل کرلو پھر نبی ﷺ نے خود ہی وہ جبہ شاہ حبشہ نجاشی کو بھجوادیا جس نے نبی ﷺ کے مہاجر صحابہ کو پناہ دے رکھی تھی۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَطْعِمُهُ فَأَطْعَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسْقَ شَعِيرٍ فَمَا زَالَ الرَّجُلُ يَأْكُلُ مِنْهُ هُوَ وَامْرَأَتُهُ وَوَصِيفٌ لَهُمْ حَتَّى كَالُوهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ لَمْ تَكِيلُوهُ لَأَكَلْتُمْ مِنْهُ وَلَقَامَ لَكُمْ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نبی ﷺ کی خدمت میں غلہ طلب کرنے کے لئے حاضر ہوا نبی ﷺ نے اسے ایک وسق عطا فرمادیا اس کے بعد وہ آدمی اس کی بیوی اور ان کا ایک بچہ اس میں سے مستقل کھاتے رہے حتی کہ ایک دن انہوں نے اسے ناپ لیا نبی ﷺ نے فرمایا کہ اگر تم اسے نہ ماپتے تو تم اس میں سے نکال نکال کر کھاتے رہتے اور یہ تمہارے ساتھ رہتا۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا أَبْصَرْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى رَاكِبًا فَقَالَ نَعَمْ ثُمَّ أَتَاهُ رَجُلٌ قَدْ اشْتَرَى نَاقَةً لِيَدْعُوَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهَا فَكَلَّمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَلَّمَ ثُمَّ دَعَا لَهُ
ابوزبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر ؓ سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی ﷺ کو سوار ہو کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے انہوں نے جواب دیا ہاں اس کے بعد نبی ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا جس نے ایک اونٹنی خریدی تھی اور وہ نبی ﷺ سے اس سلسلے میں دعا کروانا چاہتا تھا اس نے نبی ﷺ سے بات کرنا چاہی لیکن نبی ﷺ خاموش رہے حتی کہ جب سلام پھیر دیا تو اس کے لئے دعا کردی۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَشَدَّ النَّاسِ تَخْفِيفًا فِي الصَّلَاةِ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ کہ سب سے ہلکی نماز نبی ﷺ کی ہوتی تھی۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ خَافَ مِنْكُمْ أَلَّا يَقُومَ بِاللَّيْلِ فَلْيُوتِرْ ثُمَّ يَنَامُ وَمَنْ طَمِعَ مِنْكُمْ بِقِيَامٍ فَلْيُوتِرْ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَإِنَّ قِرَاءَةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَحْضُورَةٌ وَذَلِكَ أَفْضَلُ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں سے جس شخص کا غالب گمان یہ ہو کر وہ رات کے آخری حصے میں بیدار نہ ہوسکے گا تو اسے رات کے اول حصے میں ہی وتر پڑھ لینے چاہیں اور جسے آخر رات میں جاگنے کا غالب گمان ہو تو اسے آخر میں ہی وتر پڑھنے چاہیں کیونکہ رات کے آخری حصے میں نماز کے وقت فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور یہ افضل طریقہ ہے۔