حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ رُبَيْحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ كُنَّا نَتَنَاوَبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَبِيتُ عِنْدَهُ تَكُونُ لَهُ الْحَاجَةُ أَوْ يَطْرُقُهُ أَمْرٌ مِنْ اللَّيْلِ فَيَبْعَثُنَا فَيَكْثُرُ الْمُحْتَسِبُونَ وَأَهْلُ النُّوَبِ فَكُنَّا نَتَحَدَّثُ فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ اللَّيْلِ فَقَالَ مَا هَذِهِ النَّجْوَى أَلَمْ أَنْهَكُمْ عَنْ النَّجْوَى قَالَ قُلْنَا نَتُوبُ إِلَى اللَّهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّمَا كُنَّا فِي ذِكْرِ الْمَسِيحِ فَرَقًا مِنْهُ فَقَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا هُوَ أَخْوَفُ عَلَيْكُمْ مِنْ الْمَسِيحِ عِنْدِي قَالَ قُلْنَا بَلَى قَالَ الشِّرْكُ الْخَفِيُّ أَنْ يَقُومَ الرَّجُلُ يَعْمَلُ لِمَكَانِ رَجُلٍ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ ہم لوگ باری باری رات کے وقت نبی ﷺ کے پاس رکتے تھے، تاکہ نبی ﷺ کو رات کے وقت کوئی ضرورت یا کام پیش آجائے تو وہ ہمیں بھیج سکیں، بعض اوقات یہ ثواب کمانے والے اور باری والے افراد کافی تعداد میں اکٹھے ہوجاتے تھے، اس صورت میں ہم لوگ آپس میں باتیں کرتے رہتے تھے، ایک مرتبہ رات کے وقت نبی ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا یہ کیسی سرگوشیاں ہیں؟ کیا میں تمہیں سرگوشیاں کرنے سے منع نہیں کرتا؟ ہم نے کہا اے اللہ کے نبی ﷺ! ہم توبہ کرتے ہیں، دراصل ہم لوگ دجال کا تذکرہ کررہے تھے، ہمیں اس سے ڈر لگ رہا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جو میرے نزدیک تمہارے لئے دجال سے بھی زیادہ خطرناک ہے؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں؟ نبی ﷺ نے فرمایا وہ شرک خفی ہے کہ انسان کسی عمل کے لئے کسی دوسرے انسان کی وجہ سے کھڑا ہو
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي الْعُمَرِيَّ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ
حضرت ابوسعید ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا پانچ اونٹوں سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے، پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوٰۃ نہیں ہے اور پانچ وسق سے کم گندم میں بھی زکوٰۃ نہیں ہے
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ خَيْرَ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنْ الْفِتَنِ
حضرت ابوسعید ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا عنقریب ایک مسلم کا سب سے بہترین مال " بکری " ہوگی، جسے لے کر وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش کے قطرات گرنے کی جگہ پر چلاجائے اور فتنوں سے اپنے دین کا بچالے
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ أَنْبَأَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَحْقِرَنَّ أَحَدُكُمْ نَفْسَهُ أَنْ يَرَى أَمْرًا لِلَّهِ عَلَيْهِ فِيهِ مَقَالًا ثُمَّ لَا يَقُولُهُ فَيَقُولُ اللَّهُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَقُولَ فِيهِ فَيَقُولُ رَبِّ خَشِيتُ النَّاسَ فَيَقُولُ وَأَنَا أَحَقُّ أَنْ يُخْشَى
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے آپ کو اتنا حقیر نہ سمجھے کہ اس پر اللہ کی رضاء کے لئے کوئی بات کہنے کا حق ہو لیکن وہ اسے کہہ نہ سکے، کیوں کہ اللہ اس سے پوچھے گا کہ تجھے یہ بات کہنے سے کس چیز نے روکا تھا؟ بندہ کہے گا کہ پروردگار! میں لوگوں سے ڈرتا تھا اللہ فرمائے گا کہ میں اس بات کا زیادہ حقدار ہوں تھا کہ تو مجھ سے ڈرتا
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِزْرَةُ الْمُؤْمَنِ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ فَمَا كَانَ إِلَى الْكَعْبِ فَلَا بَأْسَ وَمَا كَانَ تَحْتَ الْكَعْبِ فَفِي النَّارِ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا مسلمان کی تہبند نصف پنڈلی تک ہونی چاہئے، پنڈلی اور ٹخنوں کے درمیان ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن تہبند کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہوگا وہ جہنم میں ہوگا
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَقَالَ أَبُو أُسَامَةَ مَرَّةً عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَتَوَضَّأُ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَةَ وَهِيَ بِئْرٌ يُلْقَى فِيهَا الْحِيَضُ وَالنَّتْنُ وَلُحُومُ الْكِلَابِ قَالَ الْمَاءُ طَهُورٌ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ﷺ! کیا ہم بیر بضاعہ کے پانی سے وضو کرسکتے ہیں؟ دراصل کنویں میں عورتوں کے گندے کپڑے، دوسری بدبودار چیزیں اور کتوں کا گوشت پھینکا جاتا تھا، نبی ﷺ نے فرمایا پانی پاک ہوتا ہے، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرسکتی
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَ حَدَّثَنِي فِطْرٌ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ فِيكُمْ مَنْ يُقَاتِلُ عَلَى تَأْوِيلِ الْقُرْآنِ كَمَا قَاتَلَ عَلَى تَنْزِيلِهِ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ ہم لوگ ایک مرتبہ نبی ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ نبی ﷺ نے فرمایا تم میں سے بعض لوگ قرآن کی تفسیر و تاویل پر اس طرح قتال کریں گے جیسے میں اس کی تنزیل پر قتال کرتا ہوں
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلَكَ الْمُثْرُونَ قَالُوا إِلَّا مَنْ قَالَ هَلَكَ الْمُثْرُونَ قَالُوا إِلَّا مَنْ قَالَ هَلَكَ الْمُثْرُونَ قَالُوا إِلَّا مَنْ قَالَ حَتَّى خِفْنَا أَنْ يَكُونَ قَدْ وَجَبَتْ فَقَالَ إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا وَقَلِيلٌ مَا هُمْ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا تین مال و دولت کی ریل پیل والے لوگ ہلاک ہوگئے ہم ڈر گئے، پھر نبی ﷺ نے فرمایا سوائے ان لوگوں کے جو اپنے ہاتھوں سے بھربھر کر دائیں بائیں اور آگے تقسیم کریں گے لیکن ایسے لوگ بہت تھوڑے ہیں
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْجَنِينِ يَكُونُ فِي بَطْنِ النَّاقَةِ أَوْ الْبَقَرَةِ أَوْ الشَّاةِ فَقَالَ كُلُوهُ إِنْ شِئْتُمْ فَإِنَّ ذَكَاتَهُ ذَكَاةُ أُمِّهِ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر کسی اونٹنی، گائے یا بکری کا بچہ اس کے پیٹ میں ہی مرجائے تو کیا حکم ہے؟ نبی ﷺ نے فرمایا اگر تمہاری طبیعت چاہے تو اسے کھاسکتے ہو کیوں کہ اس کی ماں کا ذبح ہونا دراصل اس کا ذبح ہونا ہی ہے
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أُخْتِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا صِغَارَ الْأَعْيُنِ عِرَاضَ الْوُجُوهِ كَأَنَّ أَعْيُنَهُمْ حَدَقُ الْجَرَادِ كَأَنَّ وُجُوهَهُمْ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ يَنْتَعِلُونَ الشَّعَرَ وَيَتَّخِذُونَ الدَّرَقَ حَتَّى يَرْبُطُوا خُيُولَهُمْ بِالنَّخْلِ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تم ایسی قوم سے قتال نہ کرلو جن کی آنکھیں چھوٹی اور چہرے چپٹے ہوں گے، ان کی آنکھیں ٹڈیوں کے حلقہ چشم کی طرح ہوں گی اور چہرے چپٹی کمانوں کی طرح ہوں گے، وہ لوگ بالوں کی جوتیاں پہنتے ہوں گے اور چمڑے کی ڈھالیں استعمال کرتے ہوں گے اور اپنے گھوڑے درختوں کے ساتھ باندھتے ہوں گے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنِ ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَكْظِمْ مَا اسْتَطَاعَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ فِي فِيهِ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کو جمائی آجائے، تو وہ حسب طاقت اپنا منہ بند رکھے ورنہ شیطان اس کے منہ میں داخل ہوجائے گا۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ قَائِمًا عَلَى رِجْلَيْهِ
حضرت ابوسعید ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ نَامَ عَنْ الْوَتْرِ أَوْ نَسِيَهُ فَلْيُوتِرْ إِذَا ذَكَرَهُ أَوْ اسْتَيْقَظَ
حضرت ابوسعید ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص وتر پڑھے بغیر سو گیا یا بھول گیا، اسے چاہئے کہ جب یاد آجائے یا بیدار ہوجائے، تب پڑھ لے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُخَيِّرُوا بَيْنَ الْأَنْبِيَاءِ
حضرت ابوسعید ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا انبیاء کرام (علیہم السلام) کے درمیان کسی ایک کو دوسرے پر ترجیح اور فوقیت نہ دیا کرو۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا قَالَ طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا
حضرت ابوسعید ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا " یوم یأتی بعض آیت ربک " سے مراد سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ہے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ كَانَ الْمُؤَلَّفَةُ قُلُوبُهُمْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَةً عَلْقَمَةَ بْنَ عُلَاثَةَ الْجَعْفَرِيَّ وَالْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ الْحَنْظَلِيَّ وَزَيْدَ الْخَيْلِ الطَّائِيَّ وَعُيَيْنَةَ بْنَ بَدْرٍ الْفَزَارِيَّ قَالَ فَقَدِمَ عَلِيٌّ بِذَهَبَةٍ مِنْ الْيَمَنِ بِتُرْبَتِهَا فَقَسَمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ
حضرت ابوسعید ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے دور باسعادت میں مؤلفۃ القلوب چار آدمی تھے، علقمہ بن علاثہ عامری، اقرع بن حابس، زیدالخیل اور عیینہ بن بدر، ایک مرتبہ حضرت علی ؓ یمن سے سونے کا ایک ٹکڑا دباغت دی ہوئی کھال میں لپیٹ کر " جس کی مٹی خراب نہ ہوئی تھی " نبی ﷺ کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئے، نبی ﷺ نے مذکورہ چاروں آدمیوں میں تقسیم کردیا۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ إِلَّا لِثَلَاثَةٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَرَجُلٍ كَانَ لَهُ جَارٌ فَتَصَدَّقَ عَلَيْهِ فَأَهْدَى لَهُ
حضرت ابوسعید ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کسی مالدار کے لئے صدقہ زکوٰۃ حلال نہیں، سوائے تین مواقع کے، جہاد فی سبیل اللہ میں، حالت سفر میں اور ایک اس صورت میں کہ اس کے پڑوسی کو کسی صدقہ کی کوئی چیز بھیجی اور وہ اسے مالدار کے پاس ہدیہ بھیج دے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا خُلَيْدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ ذُكِرَ الْمِسْكُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هُوَ أَطْيَبُ الطِّيبِ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کے سامنے " مشک " کا تذکرہ ہوا تو نبی ﷺ نے فرمایا وہ سب سے عمدہ خوشبو ہے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي عِيسَى الْأُسْوَارِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُودُوا الْمَرِيضَ وَاتَّبِعُوا الْجَنَازَةَ تُذَكِّرُكُمْ الْآخِرَةَ
حضرت ابوسعید ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا مریض کی عیادت کیا کرو اور جنازے کے ساتھ جایا کرو، اس سے تمہیں آخرت کی یاد آئے گی۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَسَطُ الْعَدْلُ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا
حضرت ابوسعید ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے " امۃ وسطاً " کی تفسیر امت معتدلہ سے فرمائی ہے۔