حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا دَرَّاجٌ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَقْعَدُ الْكَافِرِ فِي النَّارِ مَسِيرَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ وَكُلُّ ضِرْسٍ مِثْلُ أُحُدٍ وَفَخِذُهُ مِثْلُ وَرِقَانَ وَجِلْدُهُ سِوَى لَحْمِهِ وَعِظَامِهِ أَرْبَعُونَ ذِرَاعًا
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جہنم میں کافر کے صرف بیٹھنے کی جگہ تین دن کی مسافت پر پھیلی ہوگی، ہر ڈاڑھ احد پہاڑ کے برابر، رانیں ورقان پہاڑ کے برابر اور گوشت اور ہڈیوں کو نکال کر صرف کھال چالیس گز کی ہوگی
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
وَعَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ أَنَّ مِقْمَعًا مِنْ حَدِيدٍ وُضِعَ فِي الْأَرْضِ فَاجْتَمَعَ لَهُ الثَّقَلَانِ مَا أَقَلُّوهُ مِنْ الْأَرْضِ
اور نبی ﷺ نے فرمایا اگر لوہے کا ایک گرز جہنم سے نکال کر زمین پر رکھ دیا جائے اور سارے انس و جن اکٹھے ہوجائیں تب بھی وہ اسے زمین سے ہلا تک نہیں سکتے
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
وَعَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لِسُرَادِقِ النَّارِ أَرْبَعُ جُدُرٍ كَثُفَ كُلِّ جِدَارٍ مِثْلُ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ سَنَةً
اور نبی ﷺ نے فرمایا جہنم کی قناتیں چار چار دیواروں کے برابر ہوں گی جن میں سے ہر دیوار کی موٹائی چالیس سال کی مسافت کے برابر ہوگی
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشِّيَاعُ حَرَامٌ قَالَ ابْنُ لَهِيعَةَ يَعْنِي بِهِ الَّذِي يَفْتَخِرُ بِالْجِمَاعِ
اور نبی ﷺ نے فرمایا کسی خاتون سے مباشرت کرنے پر فخر کرنا اور اسے لوگوں کے سامنے بیان کرنا حرام ہے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِلْجَنَّةِ مِائَةَ دَرَجَةٍ لَوْ أَنَّ الْعَالَمِينَ اجْتَمَعُوا فِي إِحْدَاهُنَّ لَوَسِعَتْهُمْ
اور نبی ﷺ نے فرمایا جنت کے سو درجے ہیں، اگر سارے جہان والے اس کے ایک درجے میں آجائیں تو وہ بھی ان کے لئے کافی ہوجائے
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الشَّيْطَانَ قَالَ وَعِزَّتِكَ يَا رَبِّ لَا أَبْرَحُ أُغْوِي عِبَادَكَ مَا دَامَتْ أَرْوَاحُهُمْ فِي أَجْسَادِهِمْ قَالَ الرَّبُّ وَعِزَّتِي وَجَلَالِي لَا أَزَالُ أَغْفِرُ لَهُمْ مَا اسْتَغْفَرُونِي
اور نبی ﷺ نے فرمایا شیطان نے کہا تھا کہ پروردگار! مجھے تیری عزت کی قسم! میں تیرے بندوں کو اس وقت تک گمراہ کرتا رہوں گا جب تک ان کے جسم میں روح رہے گی اور پروردگار عالم نے فرمایا تھا مجھے اپنی عزت اور جلال کی قسم! جب تک وہ مجھ سے معافی مانگتے رہیں گے میں ان کو معاف کرتا رہوں گا۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُ لَيَخْتَصِمُ حَتَّى الشَّاتَانِ فِيمَا انْتَطَحَا
اور نبی ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، قیامت کے دن لوگ جھگڑیں گے، حتیٰ کہ دو بکریاں بھی جنہوں نے ایک دوسرے کو سینگ مارے ہوں گے
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
وَعَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَا بَيْنَ مِصْرَاعَيْنِ فِي الْجَنَّةِ كَمَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ سَنَةً
نبی ﷺ نے فرمایا جنت کے دروازے کے دونوں پٹوں (کواڑوں) کے درمیان چالیس سال کی مسافت ہے
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْدَقُ الرُّؤْيَا بِالْأَسْحَارِ
اور نبی ﷺ نے فرمایا سب سے زیادہ سچے خواب وہ ہوتے ہیں جو سحری کے وقت دیکھے جائیں
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي التَّأْذِينِ لَتَضَارَبُوا عَلَيْهِ بِالسُّيُوفِ
اور نبی ﷺ نے فرمایا اگر لوگوں کو اذان دینے کا ثواب معلوم ہوجائے تو اذانیں دینے کے لئے آپس میں تلواروں سے لڑنے لگیں
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ قَزَعَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ لَمَّا بَلَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ مَرَّ الظَّهْرَانِ آذَنَنَا بِلِقَاءِ الْعَدُوِّ فَأَمَرَنَا بِالْفِطْرِ فَأَفْطَرْنَا أَجْمَعُونَ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فتح مکہ کے سال مرالظہران پہنچ کر دشمن سے آمنا سامنا ہونے کی ہمیں اطلاع دی اور ہمیں روزہ ختم کرنے کا حکم دیا، چناچہ ہم سب نے روزہ ختم کرلیا
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا رِشْدِينُ قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ الْمَاءُ مِنْ الْمَاءِ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا وجوبِ غسل آبِ حیات کے خروج پر ہوتا ہے
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ إِبْلِيسَ قَالَ لِرَبِّهِ بِعِزَّتِكَ وَجَلَالِكَ لَا أَبْرَحُ أُغْوِي بَنِي آدَمَ مَا دَامَتْ الْأَرْوَاحُ فِيهِمْ فَقَالَ اللَّهُ فَبِعِزَّتِي وَجَلَالِي لَا أَبْرَحُ أَغْفِرُ لَهُمْ مَا اسْتَغْفَرُونِي
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ شیطان نے کہا تھا کہ پروردگار! مجھے تیری عزت کی قسم! میں تیرے بندوں کو اس وقت تک گمراہ کرتا رہوں گا جب تک ان کے جسم میں روح رہے گی اور پروردگار عالم نے فرمایا تھا مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم! جب تک وہ مجھ سے معافی مانگتے رہیں گے، میں انہیں معاف کرتا رہوں گا
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ نَهَارٍ الْعَبْدِيِّ أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَيَسْأَلُ الْعَبْدَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَقُولَ مَا مَنَعَكَ إِذْ رَأَيْتَ الْمُنْكَرَ تُنْكِرُهُ فَإِذَا لَقَّنَ اللَّهُ عَبْدًا حُجَّتَهُ قَالَ يَا رَبِّ وَثِقْتُ بِكَ وَفَرِقْتُ مِنْ النَّاسِ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بندے سے پوچھے گا کہ جب تم نے کوئی گناہ کا کام ہوتے ہوئے دیکھا تھا تو نے اس سے روکا کیوں نہیں تھا؟ پھر جسے اللہ دلیل سمجھا دے گا، وہ کہہ دے گا کہ پروردگار! مجھے آپ سے معافی کی امید تھی لیکن لوگوں سے خوف تھا
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ النُّعْمَانِ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ قَالَ تُوُفِّيَ أَخِي وَأَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فَقُلْتُ يَا أَبَا سَعِيدٍ إِنَّ أَخِي تُوُفِّيَ وَتَرَكَ عِيَالًا وَلِي عِيَالٌ وَلَيْسَ لَنَا مَالٌ وَقَدْ أَرَدْتُ أَنْ أَخْرُجَ بِعِيَالِي وَعِيَالِ أَخِي حَتَّى نَنْزِلَ بَعْضَ هَذِهِ الْأَمْصَارِ فَيَكُونَ أَرْفَقَ عَلَيْنَا فِي مَعِيشَتِنَا قَالَ وَيْحَكَ لَا تَخْرُجْ فَإِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَبَرَ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ
ابوسعید (رح) جو مہری کے آزاد کردہ غلام ہیں کہتے ہیں کہ میرے بھائی کا انتقال ہو تو میں حضرت ابوسعید خدری ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ اے ابوسعید! میرے بھائی کا انتقال ہوگیا ہے، اس نے بچے بھی چھوڑے ہیں۔ خود میرے اپنے بچے بھی ہیں اور روپیہ پیسہ ہمارے پاس نہیں ہے، میں یہ سوچ رہا ہوں کہ اپنے اور بھائی کے بچوں کو لے کر کسی شہر میں منتقل ہوجاؤں تاکہ ہماری معیشت مستحکم ہوجائے؟ انہوں نے فرمایا تمہاری سوچ پر افسوس ہے۔ یہاں سے مت جانا، کیوں کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص مدینہ منورہ کی تکالیف اور پریشانیوں پر صبر کرتا ہے، میں قیامت کے دن اس کے حق میں سفارش کروں گا
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنِي حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَتَى أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فَقَالَ يَا أَبَا سَعِيدٍ أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ بَايَعْتَ أَمِيرَيْنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَجْتَمِعَ النَّاسُ عَلَى أَمِيرٍ وَاحِدٍ قَالَ نَعَمْ بَايَعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ فَجَاءَ أَهْلُ الشَّامِ فَسَاقُونِي إِلَى جَيْشِ بْنِ دَلَحَةَ فَبَايَعْتُهُ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ إِيَّاهَا كُنْتُ أَخَافُ إِيَّاهَا كُنْتُ أَخَافُ وَمَدَّ بِهَا حَمَّادٌ صَوْتَهُ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَوَلَمْ تَسْمَعْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ اسْتَطَاعَ أَنْ لَا يَنَامَ نَوْمًا وَلَا يُصْبِحَ صَبَاحًا وَلَا يُمْسِيَ مَسَاءً إِلَّا وَعَلَيْهِ أَمِيرٌ قَالَ نَعَمْ وَلَكِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أُبَايِعَ أَمِيرَيْنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَجْتَمِعَ النَّاسُ عَلَى أَمِيرٍ وَاحِدٍ
بشر بن حرب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ، حضرت ابوسعید خدری ؓ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ نے ایک امیر پر اتفاق رائے ہونے سے قبل ہی دو امیروں کی بیعت کرلی ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! میں نے حضرت ابن زبیر ؓ کی بیعت کی تھی، پھر اہل شام آکر مجھے ابن دلحہ کے لشکر کے پاس کھینچ کرلے گئے چناچہ میں نے مجبوراً اس سے بھی بیعت کرلی۔ حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا مجھے بھی اسی کا خطرہ ہے (دو مرتبہ فرمایا) پھر حضرت ابوسعید ؓ نے فرمایا اے عبدالرحمن! کیا آپ نے نبی ﷺ کا یہ فرمان نہیں سنا کہ جو شخص اس بات کی استطاعت رکھتا ہو کہ کوئی نیند ایسی نہ سوئے، کوئی صبح اور شام ایسی نہ کرے جس میں اس پر کوئی حکمران نہ ہو تو وہ ایسا ہی کرے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! سنا تو ہے لیکن میں اس چیز کو ناپسند سمجھتا ہوں کہ کسی ایک امیر پر لوگوں کے اتفاق رائے ہونے سے قبل ہی دو امیروں کی بیعت کرلوں
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَجَدَّ ثَوْبًا سَمَّاهُ بِاسْمِهِ قَمِيصٌ أَوْ عِمَامَةٌ ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ كَسَوْتَنِيهِ أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِهِ وَخَيْرِ مَا صُنِعَ لَهُ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَهُ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب کوئی نیا کپڑا پہنتے تو پہلے اس کا نام رکھتے مثلاً قمیص یا عمامہ، پھر یہ دعاء پڑھتے کہ اے اللہ! تیرا شکر ہے کہ تو نے مجھے یہ لباس پہنایا، میں تجھ سے اس کی خیر اور جس مقصد کے لئے اسے بنایا گیا ہے، اس کی خیر مانگتا ہوں اور اس کے شر اور جس مقصد کے لئے اسے بنایا گیا ہے اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ بْنِ عُقْبَةَ حَدَّثَنَا بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ السَّاعِدِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّنِي جِبْرِيلُ فِي الصَّلَاةِ فَصَلَّى الظُّهْرَ حِينَ زَالَتْ الشَّمْسُ وَصَلَّى الْعَصْرَ حِينَ كَانَ الْفَيْءُ قَامَةً وَصَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتْ الشَّمْسُ وَصَلَّى الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ وَصَلَّى الْفَجْرَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ ثُمَّ جَاءَهُ الْغَدُ فَصَلَّى الظُّهْرَ وَفَيْءُ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلُهُ وَصَلَّى الْعَصْرَ وَالظِّلُّ قَامَتَانِ وَصَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتْ الشَّمْسُ وَصَلَّى الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ وَصَلَّى الصُّبْحَ حِينَ كَادَتْ الشَّمْسُ تَطْلُعُ ثُمَّ قَالَ الصَّلَاةُ فِيمَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ایک مرتبہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے نماز میں میری امامت کی، چناچہ انہوں نے ظہر کی نماز زوال آفتاب کے وقت پڑھائی، عصر کی نماز اس قات پڑھائی جب سایہ ایک مثل کے برابر تھا، مغرب کی نماز غروب آفتاب کے وقت پڑھائی، نمازِ عشاء غروب شفق کے بعد پڑھائی اور فجر طلوع فجر کے بعد پڑھائی، پھر اگلے دن دوبارہ آئے اور ظہر کی نماز اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ ایک مثل ہوچکا تھا، عصر کی نماز دو مثل میں پڑھائی، مغرب کی نماز غروب آفتاب کے وقت اور عشاء کی نماز رات کی پہلی تہائی میں پڑھائی اور فجر کی نماز اس وقت پڑھائی جب سورج نکلنے کے قریب ہوگیا تھا اور فرمایا کہ نماز کا وقت ان دونوں وقتوں کے درمیان ہے
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ بُكَيْرٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ وَالسِّوَاكُ وَإِنَّمَا يَمَسُّ مِنْ الطِّيبِ مَا يَقْدِرُ عَلَيْهِ وَلَوْ مِنْ طِيبِ أَهْلِهِ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جمعہ کے دن ہر بالغ آدمی پر غسل کرنا، مسواک کرنا اور اپنی گنجائش کے مطابق خوشبو لگانا خواہ اپنے گھر کی ہو، واجب ہے
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْوِصَالِ قَالَ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا لَكَ أَنْ تَفْعَلَهُ قَالَ إِنِّي لَسْتُ كَأَحَدِكُمْ إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَى
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک سحری سے مسلسل کئی روزے رکھنے سے منع فرمایا ہے، صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! آپ تو اس طرح تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے ہیں؟ نبی ﷺ نے فرمایا اس معاملے میں میں تمہاری طرح نہیں ہوں، میں تو اس حال میں رات گذارتا ہوں کہ میرا رب خود ہی مجھے کھلاتا پلا دیتا ہے