حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت علی ؓ سے فرمایا کہ تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہے جو حضرت ہارون (علیہ السلام) کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے تھی، البتہ فرق یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُحْرِمِ يَقْتُلُ الْحَيَّةَ فَقَالَ لَا بَأْسَ بِهِ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی ﷺ سے یہ مسئلہ پوچھا کہ محرم سانپ کو مار سکتا ہے؟ نبی ﷺ نے فرمایا کوئی حرج نہیں۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَرَظَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ اشْتَرَيْتُ كَبْشًا أُضَحِّي بِهِ فَعَدَا الذِّئْبُ فَأَخَذَ الْأَلْيَةَ قَالَ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ضَحِّ بِهِ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے قربانی کے لئے ایک مینڈھا خریدا، اتفاق سے ایک بھیڑیا آیا اور اس کے سرین کا حصہ نوچ کر کھا گیا، میں نے نبی ﷺ سے پوچھا (کہ اس کی قربانی ہوسکتی ہے یا نہیں؟ ) نبی ﷺ نے فرمایا تم اسی کی قربانی کرلو۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمْرُقُ مَارِقَةٌ عِنْدَ فِرْقَةٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ يَقْتُلُهَا أَوْلَى الطَّائِفَتَيْنِ بِالْحَقِّ
حضرت ابوسعید ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا (میری امت دو فرقوں میں بٹ جائے گی اور) ان دونوں کے درمیان ایک گروہ نکلے گا جسے ان دو فرقوں میں سے حق کے زیادہ قریب فرقہ قتل کرے گا۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ الرُّمَّانِيُّ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رِيَاحِ بْنِ عَبِيدَةَ عَنْ أَبِيهِ أَوْ عَنْ غَيْرِهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهِ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب کھانا کھا کر فارغ ہوتے تو یہ دعاء پڑھتے کہ اس اللہ کا شکر جس نے ہمیں کھلایا پلایا اور مسلمان بنایا۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِرَجُلٍ قَالَ مِسْعَرٌ أَظُنُّهُ فِي شَرَابٍ فَضَرَبَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَعْلَيْنِ أَرْبَعِينَ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے پاس شراب کے نشے میں مدہوش ایک آدمی کو لایا گیا، نبی ﷺ نے اسے چالیس جوتے مارے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي عِيسَى الْأُسْوَارِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ زَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَشْرَبَ الرَّجُلُ قَائِمًا
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے کھڑے ہو کر پانی پینے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ حَبِيبٍ مَوْلَى بَنِي زُهْرَةَ عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى الْجُهَنِيِّ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ فَدَخَلَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ أَسَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ فَقَالَ نَعَمْ قَالَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ فَإِنِّي لَا أُرْوَى بِنَفَسٍ وَاحِدٍ قَالَ أَبِنْهُ عَنْ فِيكَ ثُمَّ تَنَفَّسْ قَالَ فَإِنْ رَأَيْتُ قَذَاءً قَالَ فَأَهْرِقْهُ
ابوالمثنیٰ (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مروان کے پاس بیٹھا تھا کہ حضرت ابوسعید خدری ؓ بھی تشریف لے آئے، مروان نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی ﷺ کو مشروبات میں سانس لینے سے منع فرماتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! ایک آدمی کہنے لگا میں ایک ہی سانس میں سیراب نہیں ہوسکتا، میں کیا کروں؟ انہوں نے فرمایا برتن کو اپنے منہ سے جدا کر کے پھر سانس لے لیا کرو، اس نے کہا کہ اگر مجھے اس میں کوئی تنکا وغیرہ نظر آئے تب بھی پھونک نہ ماروں؟ فرمایا اسے بہا دیا کرو۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا الْمُطَّلِبُ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ لَمْ يَشْكُرْ النَّاسَ لَمْ يَشْكُرْ اللَّهَ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا، وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا الْمُطَّلِبُ عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السُّحُورِ بَرَكَةً
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا سحری کھایا کرو، کیوں کہ سحری میں برکت ہوتی ہے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَافِعٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الرَّجُلُ أَحَقُّ بِصَدْرِ دَابَّتِهِ وَأَحَقُّ بِمَجْلِسِهِ إِذَا رَجَعَ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا آدمی اپنی سواری پر آگے بیٹھنے کا خود زیادہ حقدار ہوتا ہے اور مجلس سے جا کر واپس آنے پر اپنی نشست کا بھی وہی زیادہ حقدار ہوتا ہے
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُدْعَى نُوحٌ عَلَيْهِ السَّلَام يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ لَهُ هَلْ بَلَّغْتَ فَيَقُولُ نَعَمْ فَيُدْعَى قَوْمُهُ فَيُقَالُ لَهُمْ هَلْ بَلَّغَكُمْ فَيَقُولُونَ مَا أَتَانَا مِنْ نَذِيرٍ أَوْ مَا أَتَانَا مِنْ أَحَدٍ قَالَ فَيُقَالُ لِنُوحٍ مَنْ يَشْهَدُ لَكَ فَيَقُولُ مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُهُ قَالَ فَذَلِكَ قَوْلُهُ وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا قَالَ الْوَسَطُ الْعَدْلُ قَالَ فَيُدْعَوْنَ فَيَشْهَدُونَ لَهُ بِالْبَلَاغِ قَالَ ثُمَّ أَشْهَدُ عَلَيْكُمْ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن حضرت نوح (علیہ السلام) کو بلایا جائے گا اور ان سے پوچھا جائے گا کہ آپ نے پیغام توحید پہنچا دیا گیا تھا؟ وہ جواب دیں گے جی ہاں! پھر ان کی قوم کو بلا کر ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا انہوں نے تمہیں پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ جواب دیں گے کہ ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا اور ہمارے پاس کوئی نہیں آیا، حضرت نوح (علیہ السلام) سے کہا جائے گا کہ آپ کے حق میں کون گواہی دے گا؟ وہ جواب دیں گے کہ محمد ﷺ اور ان کی امت، یہی مطلب ہے اس آیت کا " کذلک جعلناکم امۃ وسطاً " کہ اس میں وسط سے مراد معتدل ہے، چناچہ اس امت کو بلایا جائے گا اور وہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے حق میں پیغامِ توحید پہنچانے کی گواہی دے گی، پھر تم پر میں گواہ بن کر گواہی دوں گا۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَا آدَمُ قُمْ فَابْعَثْ بَعْثَ النَّارِ فَيَقُولُ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ يَا رَبِّ وَمَا بَعْثُ النَّارِ قَالَ مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَ مِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ قَالَ فَحِينَئِذٍ يَشِيبُ الْمَوْلُودُ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ قَالَ فَيَقُولُونَ فَأَيُّنَا ذَلِكَ الْوَاحِدُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَ مِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ مِنْ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ وَمِنْكُمْ وَاحِدٌ قَالَ فَقَالَ النَّاسُ اللَّهُ أَكْبَرُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ قَالَ فَكَبَّرَ النَّاسُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ فِي النَّاسِ إِلَّا كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ أَوْ كَالشَّعْرَةِ السَّوْدَاءِ فِي الثَّوْرِ الْأَبْيَضِ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اے آدم! کھڑے ہوجاؤ اور جہنم کی فوج نکالو وہ لبیک کہہ کر عرض کریں گے کہ پروردگار! جہنم کی فوج سے کیا مراد ہے؟ ارشاد ہوگا کہ ہر ہزار میں سے نو سو نناوے جہنم کے لئے نکال لو، یہ وہ وقت ہوگا جب نو مولود بچے بوڑھے ہوجائیں گے اور ہر حاملہ عورت کا وضع حمل ہوجائے گا اور تم دیکھو گے کہ لوگ مدہوش ہو رہے ہیں، حالانکہ وہ مدہوش نہیں ہوں گے لیکن اللہ کا عذاب بہت سخت ہے۔ صحابہ کرام نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ! وہ ایک خوش نصیب ہم میں سے کون ہوگا؟ نبی ﷺ نے فرمایا نو سونناوے آدمی یاجوج ماجوج میں سے ہوں گے اور ایک تم میں سے ہوگا، یہ سن کر صحابہ نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا، پھر نبی ﷺ نے فرمایا کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تم تمام اہل جنت کا ایک چوتھائی حصہ ہوجاؤ، بخدا! مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا ایک چوتھائی حصہ ہو، مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا ایک تہائی حصہ ہوگے، بخدا! مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا نصف حصہ ہوگے، اس پر صحابہ نے پھر اللہ اکبر کا نعرہ لگایا، پھر نبی ﷺ نے فرمایا تم لوگ اس دن کالے بیل میں سفید بال کی طرح یا سفید بیل میں کالے بال کی طرح ہو گے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ شُمَيْخٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا حَلَفَ وَاجْتَهَدَ فِي الْيَمِينِ قَالَ لَا وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي الْقَاسِمِ بِيَدِهِ لَيَخْرُجَنَّ قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِي تُحَقِّرُونَ أَعْمَالَكُمْ مَعَ أَعْمَالِهِمْ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ قَالُوا فَهَلْ مِنْ عَلَامَةٍ يُعْرَفُونَ بِهَا قَالَ فِيهِمْ رَجُلٌ ذُو يُدَيَّةٍ أَوْ ثُدَيَّةٍ مُحَلِّقِي رُءُوسِهِمْ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَحَدَّثَنِي عِشْرُونَ أَوْ بِضْعٌ وَعِشْرُونَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ وَلِيَ قَتْلَهُمْ قَالَ فَرَأَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ بَعْدَمَا كَبِرَ وَيَدَاهُ تَرْتَعِشُ يَقُولُ قِتَالُهُمْ أَحَلُّ عِنْدِي مِنْ قِتَالِ عِدَّتِهِمْ مِنْ التُّرْكِ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب کسی بات پر بڑی پختہ قسم کھاتے تو یوں کہتے " لا والذی نفس ابی القاسم بیدہ " ایک مرتبہ یہی قسم کھا کر فرمایا میری امت میں ایک ایسی قوم ضرور ظاہر ہوگی جن کے اعمال کے سامنے تم اپنے اعمال کو حقیر سمجھو گے، وہ لوگ قرآن تو پڑھتے ہوں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ لوگ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، صحابہ پوچھا کہ ان کی کوئی علامت بھی ہے جس سے انہیں پہچانا جاسکے؟ نبی ﷺ نے فرمایا ان میں ایک آدمی ہوگا جس کے ہاتھ پر عورت کی چھاتی کا نشان ہوگا اور ان لوگوں کے سر منڈے ہوئے ہوں گے۔ حضرت ابوسعید ؓ فرماتے ہیں کہ مجھے اس سے بھی زیادہ صحابہ نے بتایا ہے کہ ان لوگوں کو حضرت علی ؓ نے تہہ تیغ کیا تھا، راوی کہتے ہیں کہ میں نے بڑھاپے میں حضرت ابوسعید خدری ؓ کو اس وقت دیکھا تھا جب ان کے ہاتھوں پر بھی رعشہ طاری تھا، وہ فرما رہے تھے کہ میرے نزدیک اتنی تعداد میں ترکوں کو قتل کرنے سے ان لوگوں کو قتل کرنا زیادہ حلال تھا۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُخَيِّرُوا بَيْنَ الْأَنْبِيَاءِ وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَفِيقُ فَأَجِدُ مُوسَى مُتَعَلِّقًا بِقَائِمَةٍ مِنْ قَوَائِمِ الْعَرْشِ فَلَا أَدْرِي أَجُزِيَ بِصَعْقَةِ الطُّورِ أَوْ أَفَاقَ قَبْلِي
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا انبیاء کرام (علیہم السلام) کو ایک دوسرے پر ترجیح نہ دیا کرو، قیامت کے دن سب سے پہلے میری قبر کھلے گی اور مجھے افاقہ ہوگا، تو میں دیکھوں گا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) عرشِ الہٰی کے پائے پکڑے کھڑے ہیں، اب مجھے معلوم نہیں کہ طور پر پہاڑ کی بےہوشی کو ان کا بدلہ قرار دیا دے دیا گیا یا انہیں مجھ سے پہلے ہوش آگیا ہوگا
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ قَالَ أَشْهَدُ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ وَأَنَا أَشْهَدُ عَلَيْهِمَا مَا قَعَدَ قَوْمٌ يَذْكُرُونَ اللَّهَ تَعَالَى إِلَّا حَفَّتْ بِهِمْ الْمَلَائِكَةُ وَتَنَزَّلَتْ عَلَيْهِمْ السَّكِينَةُ وَتَغَشَّتْهُمْ الرَّحْمَةُ وَذَكَرَهُمْ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ
حضرت ابوہریرہ ؓ اور ابوسعید خدری ؓ سے شہادۃً مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا لوگوں کی جو جماعت بھی اللہ کا ذکر کرنے کے لئے بیٹھتی ہے، فرشتے اسے گھیر لیتے ہیں، ان پر سکینہ نازل ہوتا ہے، رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے اور اللہ ان کا تذکرہ ملاء الاعلی میں کرتا ہے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ أَبِي مُطِيعِ بْنِ رِفَاعَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَتْ الْيَهُودُ الْعَزْلُ الْمَوْءُودَةُ الصُّغْرَى قَالَ أَبِي وَكَانَ فِي كِتَابِنَا أَبُو رِفَاعَةَ بْنُ مُطِيعٍ فَغَيَّرَهُ وَكِيعٌ وَقَالَ عَنْ أَبِي مُطِيعِ بْنِ رِفَاعَةَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَبَتْ يَهُودُ إِنَّ اللَّهَ لَوْ أَرَادَ أَنْ يَخْلُقَ شَيْئًا لَمْ يَسْتَطِعْ أَحَدٌ أَنْ يَصْرِفَهُ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ یہودی کہا کرتے تھے عزل زندہ درگور کرنے کی ایک چھوٹی سی صورت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا کہ یہودی غلط کہتے ہیں، اگر اللہ کسی چیز کو پیدا کرنے کا ارادہ کرلے تو کسی میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ وہ اس میں رکاوٹ بن سکے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا فِطْرٌ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْكُمْ مَنْ يُقَاتِلُ عَلَى تَأْوِيلِهِ كَمَا قَاتَلْتُ عَلَى تَنْزِيلِهِ قَالَ فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَقَالَ لَا وَلَكِنْ خَاصِفُ النَّعْلِ وَعَلِيٌّ يَخْصِفُ نَعْلَهُ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا تم میں سے بعض لوگ قرآن کی تفسیر و تاویل پر اس طرح قتال کریں گے جیسے میں اس کی تنزیل پر قتال کرتا ہوں، اس پر حضراتِ ابوبکر و عمر ؓ کھڑے ہوئے تو نبی ﷺ نے فرمایا نہیں، اس سے مراد جوتی گانٹھنے والا ہے اور اس وقت حضرت علی ؓ اپنی جوتی گانٹھ رہے تھے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ مُعَيْقِيبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَقَالَ غَيْرُ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَبْدٍ الْعُتْوَارِيِّ وَهُوَ أَبُو الْهَيْثَمِ وَكَانَ فِي حِجْرِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَعَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَتَّخِذُ عِنْدَكَ عَهْدًا لَا تُخْلِفْنِيهِ فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ آذَيْتُهُ أَوْ شَتَمْتُهُ أَوْ قَالَ لَعَنْتُهُ أَوْ جَلَدْتُهُ فَاجْعَلْهَا لَهُ صَلَاةً وَزَكَاةً وَقُرْبَةً تُقَرِّبُهُ بِهَا إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
حضرت ابوسعید ؓ ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اے اللہ! میں تجھ سے ایک عہد لیتا ہوں جس کی تو مجھ سے کبھی خلاف ورزی نہیں کرے گا، میں بھی ایک انسان ہوں، اے اللہ! میں نے جس شخص کو بھی (نادانستگی میں) کوئی ایذاء پہنچائی ہو یا کوڑا مارا ہو یا گالی اور لعنت ملامت کی ہو، اسے اس شخص کے لئے باعثِ تزکیہ و رحمت بنادے اور قیامت کے دن اپنی قربت کا سبب بنادے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ فَقَالَ هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ فِي الْحَرُورِيَّةِ شَيْئًا قَالَ سَمِعْتُهُ يَذْكُرُ قَوْمًا يَتَعَمَّقُونَ فِي الدِّينِ يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ عِنْدَ صَلَاتِهِمْ وَصَوْمَهُ عِنْدَ صَوْمِهِمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ أَخَذَ سَهْمَهُ فَنَظَرَ فِي نَصْلِهِ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا ثُمَّ نَظَرَ فِي رُصَافِهِ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا ثُمَّ نَظَرَ فِي قِدْحَتِهِ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا ثُمَّ نَظَرَ فِي الْقُذَذِ فَتَمَارَى هَلْ يَرَى شَيْئًا أَمْ لَا
ابوسلمہ (رح) کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابوسعید خدری ؓ کے پاس آیا اور کہنے لگا کیا آپ نے نبی ﷺ کو فرقہ حروریہ کا بھی کوئی تذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو ایک ایسی قوم کا تذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے جو دین میں تعمق کی راہ اختیار کرلیں گے، ان کی نمازوں کے آگے تم اپنی نمازوں کو، ان کے روزوں کے سامنے تم اپنے روزوں کو حقیر سمجھو گے، لیکن یہ لوگ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے اور آدمی اپنا تیر پکڑ کر اس کے پھل کو دیکھتا ہے تو کچھ نظر نہیں آتا، پھر اس کے پٹھے کو دیکھتا ہے تو وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا، پھر اس کی لکڑی کو دیکھتا ہے تو وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا، پھر اس کے پر کو دیکھتا ہے تو وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا۔