حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
قَالَ قُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ سَمِعْتُ ابْنَ عَجْلَانَ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَجْلَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا سَالَمْنَاهُنَّ مُنْذُ حَارَبْنَاهُنَّ يَعْنِي الْحَيَّاتِ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سانپوں کے متعلق فرمایا ہم نے جب سے ان کے ساتھ جنگ شروع کی ہے کبھی صلح نہیں کی۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ مَا نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا وَمَا أَمَرْتُكُمْ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں جب تک کسی مسئلے کو بیان کرنے میں تمہیں چھوڑے رکھوں اس وقت تک تم بھی مجھے چھوڑے رکھو اس لئے کہ تم سے پہلی امتیں بکثرت سوال کرنے اور اپنے انبیاء (علیہم السلام) سے اختلاف کرنے کی وجہ سے ہی ہلاک ہوئی تھیں میں تمہیں جس چیز سے روکوں اس سے رک جاؤ اور جس چیز کا حکم دوں اسے اپنی طاقت کے مطابق پورا کرو۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَنَا لَكُمْ مِثْلُ الْوَالِدِ إِذَا أَتَيْتُمْ الْغَائِطَ فَلَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا وَنَهَى عَنْ الرَّوْثِ وَالرِّمَّةِ وَلَا يَسْتَطِيبُ الرَّجُلُ بِيَمِينِهِ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں تمہارے لئے باپ کی طرح ہوں (اس لئے تمہیں سمجھانا میری ذمہ داری ہے) جب بیت الخلاء جایا کرو تو قبلہ کی جانب منہ کر کے یا پشت کر کے مت بیٹھا کرو نیز نبی کریم ﷺ نے لید اور بوسیدہ ہڈی سے استنجاء کرنا ممنوع قرار دیا ہے اور فرمایا کہ کوئی شخص دائیں ہاتھ سے استنجاء نہ کرے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
قَالَ قُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا قَامَ مِنْ اللَّيْلِ قَالَ سُفْيَانُ لَا تَرُشُّ فِي وَجْهِهِ تَمْسَحُهُ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جو راتوں کو اٹھ اٹھ کر نماز پڑھتا ہے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَحْيَى عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرْتُ بِقَرْيَةٍ تَأْكُلُ الْقُرَى يَقُولُونَ يَثْرِبُ وَهِيَ الْمَدِينَةُ تَنْفِي النَّاسَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مجھے ایسی بستی میں جانے کا حکم ملا جو دوسری تمام بستیوں کو کھاجائے گی۔ لوگ اسے یثرب کہتے ہیں حالانکہ اس کا صحیح نام مدینہ ہے اور مدینہ لوگوں کے گناہوں کو ایسے دور کردیتا ہے جیسے لوہار کی بھٹی لوہے کے میل کچیل کو دور کردیتی ہے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الْمَخْزُومِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ وَاقْرَأْ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سورت انشقاق اور سورت علق میں آیت سجدہ پر سجدہ تلاوت کیا ہے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ وَجَدَ مَالَهُ عِنْدَ رَجُلٍ مُفْلِسٍ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جس آدمی کو مفلس قرار دے دیا گیا ہو اور کسی شخص کو اس کے پاس بعینہ اپنا مال مل جائے تو دوسروں کی نسبت وہ اس مال کا زیادہ حقدار ہے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أُحَدِّثُكُمْ بِأَشْيَاءَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِصَارٍ لَا يَشْرَبْ الرَّجُلُ مِنْ فَمِ السِّقَاءِ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ میں تمہارے سامنے نبی کریم ﷺ کے حوالے سے مختصر احادیث بیان کرتا ہوں مثلا یہ کہ نبی کریم ﷺ نے مشکیزے کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینے سے منع فرمایا ہے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَهُمَا بَعْدَ التَّسْلِيمِ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سہو کے دو سجدے سلام پھیرنے کے بعد کئے تھے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ اخْتَصَمَ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ أَيُّهُمْ فِي الْجَنَّةِ أَكْثَرُ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِثْلُ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ عَلَى أَضْوَإِ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ لِكُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ زَوْجَتَانِ اثْنَتَانِ يُرَى مُخُّ سَاقِهِمَا مِنْ وَرَاءِ اللَّحْمِ وَمَا فِي الْجَنَّةِ أَعْزَبُ
محمد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ لوگوں نے اس بات پر آپس میں جھگڑا کیا کہ جنت میں مردوں کی تعدادزیادہ ہوگی یا عورتوں کی؟ تو حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہنے لگے کہ ابوالقاسم ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں جو گروہ سب سے پہلے داخل ہوگا وہ چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکتے ہوئے چہروں والا ہوگا اس کے بعد داخل ہونے وال اگر وہ آسمان کے سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح ہوگا ان میں سے ہر ایک کی دو دو بیویاں ہوں گی جن کی پنڈلیوں کا گوداگوشت کے باہر سے نظر آجائے گا اور جنت میں کوئی شخص کنوارہ نہیں ہوگا۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ سَمِعَ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ سِيرِينَ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ صَلَّى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلَاتَيْ الْعَشِيِّ إِمَّا الظُّهْرُ وَأَكْثَرُ ظَنِّي أَنَّهَا الْعَصْرُ فَسَلَّمَ فِي اثْنَتَيْنِ ثُمَّ أَتَى جِذْعًا كَانَ يُصَلِّي إِلَيْهِ فَجَلَسَ إِلَيْهِ مُغْضَبًا وَقَالَ سُفْيَانُ ثُمَّ أَتَى جِذْعًا فِي الْقِبْلَةِ كَانَ يُسْنِدُ إِلَيْهِ ظَهْرَهُ فَأَسْنَدَ إِلَيْهِ ظَهْرَهُ قَالَ ثُمَّ خَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ فَقَالُوا قُصِرَتْ الصَّلَاةُ وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ قَالَ مَا قُصِرَتْ وَمَا نَسِيتُ قَالَ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ إِلَّا رَكْعَتَيْنِ قَالَ فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا نَعَمْ فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ كَسَجْدَتِهِ أَوْ أَطْوَلَ ثُمَّ رَفَعَ وَكَبَّرَ ثُمَّ سَجَدَ وَكَبَّرَ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے دوپہر کی دو میں سے کوئی ایک نماز ظہر یا عصر، غالب گمان کے مطابق پڑھائی اور دو رکعتیں پڑھا کر ہی سلام پھیر دیا اور مسجد میں موجود اس تنے کے پاس تشریف لائے جو چوڑائی میں تھا اور اپنے ہاتھ سے ایسا اشارہ کیا گویا کہ آپ ﷺ غصے میں ہوں جلد باز قسم کے لوگ مسجد سے نکلنے اور کہنے لگے کہ نماز کی رکعتیں کم ہوگئیں اس وقت لوگوں میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور حضرت عمر فاروق ؓ بھی تھے لیکن اس معاملے میں نبی کریم ﷺ سے گفتگو کرنے میں انہیں ہیبت محسوس ہوئی اس پر ذوالیدین نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ بھول گئے یا نماز کی رکعتیں کم ہوگئی ہیں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں بھولا ہوں اور نہ ہی نماز کی رکعتیں کم ہوئی ہیں ذو الیدین نے کہا آپ نے تو دو رکعتیں پڑھی ہیں نبی ﷺ نے صحابہ ؓ کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا کیا ایسا ہی ہے جیسے ذوالیدین کہہ رہے ہیں صحابہ کرام ؓ نے ان کی تائید کی اس پر نبی کریم ﷺ نے کھڑے ہو کردو رکعتیں پڑھیں اور سلام پھیر کر اللہ اکبر کہا اور نماز کے سجدہ کی طرح یا اس سے کچھ طویل سجدہ کیا، پھر سر اٹھا کر تکبیر کہی اور بیٹھ گئے، پھر دوبارہ تکبیر کہہ کر دوسرا سجدہ کیا۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
قَالَ قُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ سَمِعْتُ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَفِظْتُ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ يَحْيَى أَخْبَرَهُ عَنْ ضَمْضَمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ الْعَقْرَبِ وَالْحَيَّةِ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حکم دے رکھا ہے کہ دوران نماز بھی دو کالی چیزوں کو مارا جاسکتا ہے یعنی سانپ اور بچھو۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ قِيلَ لِسُفْيَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ نَعَمْ قِيلَ لَهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ مَنْ ابْتَاعَ مُحَفَّلَةً أَوْ مُصَرَّاةً فَهُوَ بِالْخِيَارِ فَإِنْ شَاءَ أَنْ يَرُدَّهَا فَلْيَرُدَّهَا وَإِنْ شَاءَ يُمْسِكُهَا أَمْسَكَهَا
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مرفوعاً مروی ہے کہ جو شخص (دھوکے کا شکار ہو کر) ایسی اونٹنی یا بکری خرید لے تو اسے دو میں سے ایک بات کا اختیار ہے جو اس کے حق میں بہتر ہو یا تو اس جانور کو اپنے پاس ہی رکھے (اور معاملہ رفع دفع کردے) یا پھر اس جانور کو مالک کے حوالے کردے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَمَّ هَذَا الْبَيْتَ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اس طرح حج کرے کہ اس میں اپنی عورتوں سے بےحجاب بھی نہ ہو اور کوئی گناہ کا کام بھی نہ کرے وہ اس دن کی کیفیت لے کر اپنے گھر لوٹے گا جس دن اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنِ الْأَغَرِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سُفْيَانُ أَوَّلَ مَرَّةٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَعَادَهُ فَقَالَ الْأَغَرِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْكِبْرِيَاءُ رِدَائِي وَالْعِزَّةُ إِزَارِي فَمَنْ نَازَعَنِي وَاحِدًا مِنْهُمَا أُلْقِيهِ فِي النَّارِ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ کبریائی میری اوپر کی چادر ہے اور عزت میری نیچے کی چادر ہے جو دونوں میں سے کسی ایک کے بارے مجھ سے جھگڑا کرے گا میں اسے جہنم میں ڈال دوں گا۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْدَقُ بَيْتٍ قَالَهُ الشَّاعِرُ أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلُ وَكَادَ ابْنُ أَبِي الصَّلْتِ يُسْلِمُ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کسی شاعر نے جو سب سے زیادہ سچاشعر کہا ہے وہ یہ کہ یاد رکھو اللہ کے علاوہ ہر چیز باطل (فانی) ہے اور قریب تھا کہ امیہ بن ابی الصلت اسلام قبول کرلیتا۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أَبِي الْأَوْبَرِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَائِمًا وَقَاعِدًا وَحَافِيًا وَمُنْتَعِلًا حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَزَادَ فِيهِ وَيَنْفَتِلُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کھڑے ہو کر بھی نماز پڑھتے تھے اور بیٹھ کر بھی جوتی اتار کر بھی اور جوتی پہن کر بھی۔ گذشتہ حدیث میں اس دوسری سند سے یہ اضافہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ دائیں جانب سے بھی واپس چلے جاتے تھے اور بائیں جانب سے بھی۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنِي ابْنُ مُحَيْصِنٍ شَيْخٌ مِنْ قُرَيْشٍ سَهْمِيٌّ سَمِعَهُ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ شَقَّتْ عَلَى الْمُسْلِمِينَ وَبَلَغَتْ مِنْهُمْ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَبْلُغَ فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَارِبُوا وَسَدِّدُوا فَكُلُّ مَا يُصَابُ بِهِ الْمُسْلِمُ كَفَّارَةٌ حَتَّى النَّكْبَةِ يُنْكَبُهَا
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ جو شخص برائی کرے گا اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا۔۔ تو یہ بات مسلمانوں پر بہت شاق گذری اور ان کے دلوں میں مختلف قسم کے وسوسے پیدا ہونے لگے انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اس کی شکایت کی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا عمل کے قریب رہو اور سیدھی راہ اور بات پر رہو کیونکہ مسلمان کو جو بھی مصیبت پیش آتی ہے وہ اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے حتیٰ کہ جو زخم اسے لگتا ہے یا جو کانٹا اسے چبھتا ہے (وہ بھی اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے)۔