حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ طَاوُسًا سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَام فَقَالَ مُوسَى يَا آدَمُ أَنْتَ أَبُونَا خَيَّبْتَنَا وَأَخْرَجْتَنَا مِنْ الْجَنَّةِ فَقَالَ لَهُ آدَمُ يَا مُوسَى أَنْتَ اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِكَلَامِهِ وَقَالَ مَرَّةً بِرِسَالَتِهِ وَخَطَّ لَكَ بِيَدِهِ أَتَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قَدَّرَهُ اللَّهُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي بِأَرْبَعِينَ سَنَةً قَالَ حَجَّ آدَمُ مُوسَى حَجَّ آدَمُ مُوسَى
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایک مرتبہ عالم ارواح میں حضرت آدم اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) میں مباحثہ ہوا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کہنے لگے کہ اے آدم! آپ ہمارے باوا ہیں آپ نے ہمیں شرمندہ کیا اور جنت سے نکلوادیا؟ حضرت آدم (علیہ السلام) نے فرمایا اے موسیٰ اللہ نے تمہیں اپنے سے ہم کلام ہونے کے لئے منتخب کیا اور تمہیں اپنے ہاتھ سے تورات لکھ کردی کیا تم مجھے اس بات پر ملامت کرتے ہو جس کا فیصلہ اللہ نے میرے متعلق میری پیدائش سے چالیس برس پہلے کرلیا تھا؟ اس طرح حضرت آدم (علیہ السلام) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر غالب آگئے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو الْقَارِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ لَا وَرَبِّ هَذَا الْبَيْتِ مَا أَنَا قُلْتُ مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا فَلَا يَصُومُ مُحَمَّدٌ وَرَبِّ الْبَيْتِ قَالَهُ مَا أَنَا نَهَيْتُ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ مُحَمَّدٌ نَهَى عَنْهُ وَرَبِّ الْبَيْتِ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ اس بیت اللہ کے رب کی قسم یہ بات میں نے نہیں کہی کہ جو آدمی حالت جنابت میں صبح کرے وہ روزہ نہ رکھے بلکہ بیت اللہ کے رب کی قسم یہ بات محمد ﷺ نے فرمائی ہے اور جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے میں نے منع نہیں کیا بلکہ بیت اللہ کے رب کی قسم محمد ﷺ نے اس سے منع کیا ہے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنِ ابْنِ مُنَبِّهٍ يَعْنِي وَهْبًا عَنْ أَخِيهِ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ لَيْسَ أَحَدٌ أَكْثَرَ حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي إِلَّا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو فَإِنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ وَكُنْتُ لَا أَكْتُبُ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی احادیث مجھ سے زیادہ بکثرت جاننے والا کوئی نہیں سوائے عبداللہ بن عمر ؓ کے کیونکہ وہ لکھ لیتے تھے اور میں لکھتا نہیں تھا۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ هِشَامِ بْنِ يَحْيَى عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَيَحْيَى عَنْ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ وَجَدَ مَالَهُ عِنْدَ رَجُلٍ مُفْلِسٍ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس آدمی کو مفلس قرار دے دیا گیا ہو اور کسی شخص کو اس کے پاس بعینہ اپنا مال مل جائے تو دوسروں کی نسبت وہ اس مال کا زیادہ حقدار ہے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ سَمِعَهُ مِنْ شَيْخٍ فَقَالَ مَرَّةً سَمِعْتُهُ مِنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ أَعْرَابِيٍّ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَرَأَ وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا فَبَلَغَ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ فَلْيَقُلْ آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَنْ قَرَأَ وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ فَلْيَقُلْ بَلَى وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنْ الشَّاهِدِينَ وَمَنْ قَرَأَ أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتَى فَلْيَقُلْ بَلَى قَالَ إِسْمَاعِيلُ فَذَهَبْتُ أَنْظُرُ هَلْ حَفِظَ وَكَانَ أَعْرَابِيًّا فَقَالَ يَا ابْنَ أَخِي أَظَنَنْتَ أَنِّي لَمْ أَحْفَظْهُ لَقَدْ حَجَجْتُ سِتِّينَ حَجَّةً مَا مِنْهَا سَنَةٌ إِلَّا أَعْرِفُ الْبَعِيرَ الَّذِي حَجَجْتُ عَلَيْهِ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص سورت مرسلات کی آخری آیت فبأی حدیث بعدہ یؤمنون کی تلاوت کرے اسے یوں کہنا چاہئے آمنا باللہ (ہم اللہ پر ایمان لائے) اور جو شخص سورت قیامۃ کی آخری آیت " الیس ذلک بقادر علی ان یحییٰ الموتی " کی تلاوت کرے اسے یوں کہنا چاہئے بلی (کیوں نہیں) راوی حدیث اسماعیل کہتے ہیں کہ میں نے جس سے یہ حدیث سنی چونکہ وہ ایک دیہاتی آدمی تھا اس لئے میں نے اس کے حافظے کا امتحان لینا چاہا کہ وہ صحیح طرح یاد بھی رکھ سکا ہے یا نہیں؟ وہ کہنے لگا کہ اے بھتیجے کیا تم یہ سمجھ رہے ہو کہ میں اس حدیث کو یاد نہیں رکھ سکا میں نے ساٹھ مرتبہ حج کیا ہے اور جس سال میں نے جس اونٹ پر حج کیا ہے مجھے اس تک کی شناخت یاد ہے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ أَبِي مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ الْعُذْرِيِّ قَالَ مَرَّةً عَنْ أَبِي عَمْرِو بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حُرَيْثٍ عَنْ جَدِّهِ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَجْعَلْ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ شَيْئًا فَإِنْ لَمْ يَجِدْ شَيْئًا فَلْيَنْصِبْ عَصًا فَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ عَصًا فَلْيَخُطَّ خَطًّا وَلَا يَضُرُّهُ مَا مَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ أَبِي عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَرْفَعُهُ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ و قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ وَالثَّوْرِيُّ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ أَبِي عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَرْفَعُهُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ ابوالقاسم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھنے کا ارادہ کرے تو اپنے سامنے کوئی چیز (بطور سترہ کے) رکھ لے اگر کوئی چیز نہ ملے تو لاٹھی ہی کھڑی کرلے اور اگر لاٹھی بھی نہ ہو تو ایک لکیر ہی کھینچ لے اس کے بعد اس کے سامنے سے کچھ بھی گذرے اسے کوئی حرج نہیں۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا زَنَتْ أَمَةُ أَحَدِكُمْ فَتَبَيَّنَ زِنَاهَا فَلْيَجْلِدْهَا الْحَدَّ وَلَا يُثَرِّبْ قَالَ سُفْيَانُ لَا يُثَرِّبْ عَلَيْهَا أَيْ لَا يُعَيِّرْهَا عَلَيْهَا فِي الثَّالِثَةِ أَوْ الرَّابِعَةِ فَلْيَبِعْهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کی باندی زنا کرے اور اس کا جرم ثابت ہوجائے تو اسے کوڑوں کی سزادے لیکن اسے عار نہ دلائے پھر تیسری یا چوتھی مرتبہ یہی گناہ سرزد ہونے پر فرمایا کہ اسے بیچ دے خواہ اس کی قیمت صرف بالوں سے گندھی ہوئی ایک رسی ہی ملے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ سَجَدْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ وَاقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سورت انشقاق اور سورت علق میں آیت سجدہ پر سجدہ تلاوت کیا ہے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي عَبْدِهِ وَلَا فَرَسِهِ صَدَقَةٌ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مسلمان پر اس کے گھوڑے اور غلام کی زکوٰۃ نہیں ہے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِحَسَنٍ اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت امام حسن ؓ کے متعلق فرمایا اے اللہ میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت فرما اور اس سے محبت کرنے والوں سے بھی محبت فرما۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبُو الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْنُ الْآخِرُونَ وَنَحْنُ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بَيْدَ أَنَّ كُلَّ أُمَّةٍ أُوتِيَتْ الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ ثُمَّ هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي كَتَبَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِمْ فَاخْتَلَفُوا فِيهِ فَهَدَانَا اللَّهُ لَهُ فَالنَّاسُ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ فَلِلْيَهُودِ غَدًا وَلِلنَّصَارَى بَعْدَ غَدٍ قَالَ أَحَدُهُمَا بَيْدَ أَنَّ وَقَالَ الْآخَرُ بَايْدَ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہم یوں تو سب سے آخر میں آئے ہیں لیکن قیامت کے دن سب پر سبقت لے جائیں گے فرق صرف اتنا ہے کہ ہر امت کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی جب کہ ہمیں بعد میں کتاب ملی پھر یہ جمعہ کا دن اللہ نے ان پر مقرر فرمایا تھا لیکن وہ اس میں اختلافات کا شکار ہوگئے چناچہ اللہ نے ہماری اس کی طرف رہنمائی فرما دی اب اس میں لوگ ہمارے تابع ہیں اور یہودیوں کا اگلا دن (ہفتہ) ہے اور عیسائیوں کا پرسوں کا دن (اتوار) ہے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ قَالَ سَمِعْتُ سُهَيْلَ بْنَ أَبِي صَالِحٍ يَذْكُرُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّيْتُمْ بَعْدَ الْجُمُعَةِ فَصَلُّوا أَرْبَعًا فَإِنْ عَجِلَ بِكَ شَيْءٌ فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ فِي الْمَسْجِدِ وَرَكْعَتَيْنِ إِذَا رَجَعْتَ قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ لَا أَدْرِي هَذَا الْحَدِيثُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْ لَا
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تم جمعہ کے بعد نوافل پڑھنا چاہو تو پہلے چار رکعتیں پڑھو۔ اگر تمہیں کسی وجہ سے جلدی ہو تو دو رکعتیں مسجد میں پڑھ لو اور دو رکعتیں واپس آ کر پڑھ لینا۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ قَالَ سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ وَهُوَ الْيَوْمُ الَّذِي أُمِرُوا بِهِ فَاخْتَلَفُوا فِيهِ فَجَعَلَهُ اللَّهُ لَنَا عِيدًا فَالْيَوْمَ لَنَا وَغَدًا لِلْيَهُودِ وَبَعْدَ غَدٍ لِلنَّصَارَى
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہم یوں تو سب سے آخر میں آئے ہیں لیکن قیامت کے دن سب پر سبقت لے جائیں گے فرق صرف اتنا ہے کہ ہر امت کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی جب کہ ہمیں بعد میں کتاب ملی پھر یہ جمعہ کا دن اللہ نے ان پر مقرر فرمایا تھا لیکن وہ اس میں اختلافات کا شکار ہوگئے چناچہ اللہ نے ہمارے لئے عید بنادیا اب یہ ہمارا دن ہے اور یہودیوں کا اگلا دن (ہفتہ) ہے اور عیسائیوں کا پرسوں کا دن (اتوار) ہے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا وَخِيَارُهُمْ خِيَارُهُمْ لِنِسَائِهِمْ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تمام مسلمانوں میں سب سے زیادہ کامل ایمان والے وہ لوگ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہوں اور ان میں سب سے بہترین وہ ہیں جو اپنی عورتوں کے حق میں اچھے ہوں۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُوتِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مجھے جوامع الکلم دئیے گئے ہیں اور میرے لئے روئے زمین کو مسجد اور پاکیزگی بخش قرار دے دیا گیا ہے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الثَّيِّبُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا وَالْبِكْرُ تُسْتَأْذَنُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ إِذْنُهَا قَالَ أَنْ تَسْكُتَ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کنواری لڑکی سے نکاح کی اجازت لی جائے اور شوہر دیدہ عورت سے مشورہ کیا جائے کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ (کنواری لڑکی شرماتی ہے) تو اس سے اجازت کیسے حاصل کی جائے؟ نبی کریم ﷺ اس کی خاموشی ہی اس کی رضا مندی کی علامت ہے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مِهْرَانَ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَأَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ مَا بَالُ أَحَدِكُمْ يَقُومُ مُسْتَقْبِلَ رَبِّهِ فَيَتَنَخَّعُ أَمَامَهُ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يُسْتَقْبَلَ فَيُتَنَخَّعَ فِي وَجْهِهِ إِذَا تَنَخَّعَ أَحَدُكُمْ فَلْيَتَنَخَّعْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيَتْفُلْ هَكَذَا فِي ثَوْبِهِ فَوَصَفَ الْقَاسِمُ فَتَفَلَ فِي ثَوْبِهِ ثُمَّ مَسْحَ بَعْضَهُ بِبَعْضٍ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مسجد میں قبلہ کی جانب بلغم لگا ہوا دیکھا تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا تم میں سے کسی کا کیا معاملہ ہے کہ اپنے رب کی طرف منہ کر کے کھڑا ہوتا ہے اور پھر تھوک بھی پھینکتا ہے؟ کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات کو پسند کرے گا کہ کوئی آدمی اس کے سامنے رخ کر کے کھڑا ہوجائے اور اس کے چہرے پر تھوک دے؟ جب تم میں سے کوئی شخص تھوک پھینکنا چاہے تو اسے بائیں جانب یا پاؤں کی طرف تھوکنا چاہئے اور اگر اس کا موقع نہ ہو تو اس طرح اپنے کپڑے میں تھوک لے راوی حدیث قاسم نے کپڑے میں تھوک کر اسے کپڑے سے مل کر دکھایا۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ أَنَّ أَبَا السَّائِبِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْكِتَابِ فَهِيَ خِدَاجٌ غَيْرُ تَمَامٍ قُلْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ إِنِّي أَكُونُ أَحْيَانًا وَرَاءَ الْإِمَامِ فَغَمَزَ ذِرَاعِي وَقَالَ يَا فَارِسِيُّ اقْرَأْهَا فِي نَفْسِكَ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس نے نماز میں سورت فاتحہ نہ پڑھی جائے وہ نامکمل ہے نامکمل ہے میں نے ان سے عرض کیا کہ اے ابوہریرہ! اگر کبھی میں امام کے پیچھے ہوں؟ انہوں نے میرے بازو میں چٹکی بھر کر فرمایا اے فارسی! اسے اپنے دل میں پڑھ لیا کرو۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ قَالَ لَتُنَبَّأَنَّ أَنْ تَتَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ تَأْمُلُ الْبَقَاءَ وَتَخَافُ الْفَقْرَ وَلَا تَمَهَّلْ حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ الْحُلْقُومَ قُلْتَ لِفُلَانٍ كَذَا وَلِفُلَانٍ كَذَا أَلَا وَقَدْ كَانَ لِفُلَانٍ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا کہ کس موقع کے صدقہ کا ثواب سب سے زیادہ ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تجھے اس کا جواب ضرور ملے گا سب سے افضل صدقہ یہ ہے کہ تم تندرستی کی حالت میں صدقہ کرو جبکہ مال کی حرص تمہارے اندر موجود ہو تمہیں فقر و فاقہ کا اندیشہ ہو اور تمہیں اپنی زندگی باقی رہنے کی امید ہو اس وقت سے زیادہ صدقہ خیرات میں تاخیر نہ کرو کہ جب روح حلق میں پہنچ جائے تو تم یہ کہنے لگو کہ فلاں کو اتنا دے دیا جائے اور فلاں کو اتنا دے دیا جائے حالانکہ وہ توفلاں (ورثاء) کا ہوچکا۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنِي سَلْمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُ الشِّكَالَ مِنْ الْخَيْلِ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ ایسے گھوڑے کو ناپسند فرماتے تھے جس کی تین ٹانگوں کا رنگ سفید ہو اور چوتھی کا رنگ باقی جسم کے رنگ کے مطابق ہو۔