حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات

Musnad Imam Ahmad · Chapter 29 · 945 hadiths · Page 12 of 48

7042Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَرْفَعُهُ إِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَجْمِرْ وِتْرًا فَإِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ

حضرت ابوہریرہ ؓ سے مرفوعاً مروی ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص پتھروں سے استنجاء کرے تو طاق عدد میں پتھر استعمال کرے کیونکہ اللہ طاق ہے اور طاق کو پسند کرتا ہے۔

7043Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَعَلَّهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ غَسَلَاتٍ

حضرت ابوہریرہ ؓ سے مرفوعاً مروی ہے کہ جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ ماردے تو اسے چاہئے کہ اس برتن کو سات مرتبہ دھوئے۔

7044Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ يَعْنِي عَنْ ظَهْرِ غِنًى وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ

حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا سب سے افضل صدقہ تو دل کے غناء کے ساتھ ہوتا ہے اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے اور تم صدقات و خیرات میں ان لوگوں سے ابتدا کرو جو تمہاری ذمہ داری میں آتے ہیں۔

7045Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ إِذَا انْتَعَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأْ بِالْيَمِينِ وَخَلْعِ الْيُسْرَى وَإِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ أَحَدِكُمْ فَلَا يَمْشِ فِي نَعْلٍ وَاحِدٍ لِيُحْفِهِمَا جَمِيعًا أَوْ لِيُنْعِلْهُمَا جَمِيعًا

حضرت ابوہریرہ ؓ سے موقوفاً مروی ہے کہ تم میں سے کوئی شخص جوتی پہنے تو دائیں پاؤں سے ابتداء کرے اور جب اتارے تو پہلے بائیں پاوں کی اتارے نیز یہ کہ اگر تم میں سے کسی کی جوتی کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ صرف ایک جوتی پہن کر نہ پھرے بلکہ دونوں اتار دے یا دونوں پہن لے۔

7046Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِيهِ أَوْ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْصَرَ رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً فَقَالَ ارْكَبْهَا قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ قَالَ ارْكَبْهَا قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ قَالَ ارْكَبْهَا وَلَمْ يَشُكَّ فِيهِ مَرَّةً فَقَالَ عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ

حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ایک اونٹ کو ہانک کر لئے جا رہا ہے نبی کریم ﷺ نے اس سے فرمایا کہ اس پر سوار ہوجاؤ اس نے عرض کیا کہ یہ قربانی کا جانور ہے نبی کریم ﷺ نے پھر فرمایا کہ اس پر سوار ہوجاؤ اس نے دوبارہ عرض کیا کہ یہ قربانی کا جانور ہے اور نبی کریم ﷺ نے اسے پھر سوار ہونے کا حکم دیا۔

7047Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ بَيْنَا رَجُلٌ يَسُوقُ بَقَرَةً إِذْ رَكِبَهَا فَضَرَبَهَا قَالَتْ إِنَّا لَمْ نُخْلَقْ لِهَذَا إِنَّمَا خُلِقْنَا لِلْحِرَاثَةِ فَقَالَ النَّاسُ سُبْحَانَ اللَّهِ بَقَرَةٌ تَتَكَلَّمُ فَقَالَ فَإِنِّي أُومِنُ بِهَذَا أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ غَدًا غَدًا وَعُمَرُ وَمَا هُمَا ثَمَّ وَبَيْنَا رَجُلٌ فِي غَنَمِهِ إِذْ عَدَا عَلَيْهَا الذِّئْبُ فَأَخَذَ شَاةً مِنْهَا فَطَلَبَهُ فَأَدْرَكَهُ فَاسْتَنْقَذَهَا مِنْهُ فَقَالَ يَا هَذَا اسْتَنْقَذْتَهَا مِنِّي فَمَنْ لَهَا يَوْمَ السَّبُعِ يَوْمَ لَا رَاعِيَ لَهَا غَيْرِي قَالَ النَّاسُ سُبْحَانَ اللَّهِ ذِئْبٌ يَتَكَلَّمُ فَقَالَ إِنِّي أُومِنُ بِذَلِكَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَمَا هُمَا ثَمَّ

حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی اور نماز کے بعد ہماری طرف رخ کرکے بیٹھ گئے اور فرمایا کہ ایک آدمی ایک بیل کو ہانک کر لئے جا رہا تھا راستے میں وہ اس پر سوار ہوگیا اور اسے مارنے لگا وہ بیل قدرت الٰہی سے گویا ہوا اور کہنے لگا ہمیں اس مقصد کے لئے پیدا نہیں کیا گیا ہمیں تو ہل جوتنے کے لئے پیدا کیا گیا ہے لوگ کہنے لگے سبحان اللہ! کبھی بیل بھی بولتے ہیں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا لیکن میں ابوبکر اور عمر تو اس پر ایمان رکھتے ہیں جبکہ وہ دونوں اس مجلس میں موجود نہ تھے۔ پھر فرمایا کہ ایک آدمی اپنی بکریوں کے ریوڑ میں تھا کہ ایک بھیڑیے نے ریوڑ پر حملہ کردیا اور ایک بکری اچک کرلے گیا وہ آدمی بھیڑئیے کے پیچھے بھاگا اور کچھ دور جا کر اسے جا لیا اور اپنی بکری کو چھڑا لیا یہ دیکھ کر وہ بھیڑیا قدرت الٰہی سے گویا ہوا اور کہنے لگا کہ اے فلاں! آج تو تو نے مجھ سے اس بکری کو چھڑا لیا اس دن اسے کون چھڑائے گا جب میرے علاوہ اس کا کوئی چرواہانہ ہوگا؟ لوگ کہنے لگے سبحان اللہ کیا بھیڑیا بھی بولتا ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا لیکن میں ابوبکر اور عمر تو اس پر ایمان رکھتے ہیں حالانکہ وہ دونوں اس مجلس میں موجود نہ تھے۔

7048Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ خَيَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا وَامْرَأَةً وَابْنًا لَهُمَا فَخَيَّرَ الْغُلَامَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا غُلَامُ هَذَا أَبُوكَ وَهَذِهِ أُمُّكَ اخْتَرْ

حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے ایک آدمی اور عورت اور ان دونوں کے بیٹے کو اختیار دیا اور لڑکے کو اختیار دیتے ہوئے فرمایا اے لڑکے یہ تیرا باپ ہے اور یہ تیری ماں ہے ان میں سے جس کے ساتھ جانے کا ارادہ ہو اسے اختیار کرلے۔

7049Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ أَنَا سَأَلْتُهُ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ وَمَنْ اتَّبَعَهَا حَتَّى يُفْرَغَ مِنْ شَأْنِهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ أَصْغَرُهُمَا أَوْ أَحَدُهُمَا مِثْلُ أُحُدٍ

حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی کی نماز جنازہ پڑھے اسے ایک قیراط کے برابر ثواب ملے گا اور جو شخص دفن سے فراغت ہونے تک انتظار کرتا رہے اسے دو قیراط کے برابر ثواب ملے گا جن میں سے چھوٹا یا ایک قیراط احد پہاڑ کے برابر ہوگا۔

7050Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنِي سُمَيٌّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ وَالْعُمْرَتَانِ أَوْ الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ يُكَفَّرُ مَا بَيْنَهُمَا

حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا حج مبرور کی جزاء جنت کے علاوہ کچھ نہیں اور دو عمرے اپنے درمیان کے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں۔

7051Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَعِيذُ مِنْ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثِ دَرَكِ الشَّقَاءِ وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ وَسُوءِ الْقَضَاءِ أَوْ جَهْدِ الْقَضَاءِ قَالَ سُفْيَانُ زِدْتُ أَنَا وَاحِدَةً لَا أَدْرِي أَيَّتُهُنَّ هِيَ

حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ ان تین چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگا کرتے تھے بدنصیبی ملنے سے دشمنوں کے ہنسی اڑانے سے برے فیصلے سے اور مصیبتوں کی مشقت سے راوی حدیث سفیان کہتے ہیں کہ ان میں ایک چیز کا اضافہ مجھ سے ہوگیا ہے معلوم نہیں کہ وہ کون سی چیز ہے۔

7052Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ مَوْلَى ابْنِ أَبِي رُهْمٍ سَمِعَهُ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَقْبَلَ أَبُو هُرَيْرَةَ امْرَأَةً مُتَطَيِّبَةً فَقَالَ أَيْنَ تُرِيدِينَ يَا أَمَةَ الْجَبَّارِ فَقَالَتْ الْمَسْجِدَ فَقَالَ وَلَهُ تَطَيَّبْتِ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِنَّهُ قَالَ أَيُّمَا امْرَأَةٍ خَرَجَتْ مِنْ بَيْتِهَا مُتَطَيِّبَةً تُرِيدُ الْمَسْجِدَ لَمْ يَقْبَلْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهَا صَلَاةً حَتَّى تَرْجِعَ فَتَغْتَسِلَ مِنْهُ غُسْلَهَا مِنْ الْجَنَابَةِ

ابورہم کے آزاد کردہ غلام سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ ؓ کا سامنا ایک ایسی خاتون سے ہوگیا جس نے خوشبولگا رکھی تھی انہوں نے اس سے پوچھا کہ اے امۃ الجبار کہاں کا ارادہ ہے؟ اس نے کہا مسجد کا انہوں نے پوچھا کیا تم نے اسی وجہ سے خوشبولگا رکھی ہے؟ اس نے کہا جی ہاں۔ فرمایا کہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے جو عورت اپنے گھر سے خوشبو لگا کر مسجد کے ارادے سے نکلے اللہ اس کی نماز کو قبول نہیں کرتا یہاں تک کہ وہ اپنے گھر واپس جا کر اسے اس طرح دھوئے جیسے ناپاکی کی حالت میں غسل کیا جاتا ہے۔

7053Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ جَاءَ نِسْوَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا نَقْدِرُ عَلَيْكَ فِي مَجْلِسِكَ مِنْ الرِّجَالِ فَوَاعِدْنَا مِنْكَ يَوْمًا نَأْتِيكَ فِيهِ قَالَ مَوْعِدُكُنَّ بَيْتُ فُلَانٍ وَأَتَاهُنَّ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ وَلِذَلِكَ الْمَوْعِدِ قَالَ فَكَانَ مِمَّا قَالَ لَهُنَّ يَعْنِي مَا مِنْ امْرَأَةٍ تُقَدِّمُ ثَلَاثًا مِنْ الْوَلَدِ تَحْتَسِبُهُنَّ إِلَّا دَخَلَتْ الْجَنَّةَ فَقَالَتْ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ أَوْ اثْنَانِ قَالَ أَوْ اثْنَانِ

حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ عورتیں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہنے لگیں یا رسول اللہ ﷺ مردوں کی موجودگی میں ہم آپ کے پاس بیٹھنے سے محروم رہتی ہیں آپ ایک دن ہمارے لئے مقرر فرما دیجئے جس میں ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر (دین سیکھ) سکیں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم فلاں شخص کے گھر میں اکٹھی ہوجانا اور اس دن اس جگہ پر نبی کریم ﷺ تشریف لے گئے منجملہ ان باتوں کے جو نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمائیں ایک بات یہ بھی تھی کہ تم میں سے جو عورت اپنے تین بچے آگے بھیجے (فوت ہوجائیں) اور وہ ان پر صبر کرے وہ جنت میں داخل ہوگی کسی عورت نے پوچھا اگر دو ہوں تو کیا حکم ہے؟ فرمایا دو ہوں تب بھی یہی حکم ہے۔

7054Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْ قَبْرِي وَثَنًا لَعَنَ اللَّهُ قَوْمًا اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ

حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ یہ دعا فرماتے تھے کہ اے اللہ میری قبر کو بت نہ بنائیے گا (جس کی پوجا شروع کردیں) ان لوگوں پر اللہ کی لعنت ہو جو اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیتے ہیں۔

7055Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ الْعَجْلَانِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْمِسْهُ فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ شِفَاءً وَالْآخَرِ دَاءً

حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کے برتن میں مکھی گرجائے تو وہ یاد رکھے کہ مکھی کے ایک پر میں شفا اور دوسرے میں بیماری ہوتی ہے اس لئے اسے چاہئے کہ اس مکھی کو اس میں مکمل ڈبو دے (پھر اسے استعمال کرنا اس کی مرضی پر موقوف ہے)

7056Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ وَقُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ كَانَ يَقُولُ فَقَالَ سُفْيَانُ هُوَ هَكَذَا يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وَضَعَ جَنْبَهُ يَقُولُ بِاسْمِكَ رَبِّي وَضَعْتُ جَنْبِي فَإِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَارْحَمْهَا وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ

حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب بستر پر اپنا پہلو رکھتے تو یوں فرماتے کہ پروردگار میں نے آپ کے نام کی برکت سے اپنا پہلو زمین پر رکھ دیا اگر میری روح کو اپنے پاس روک لیں تو اس پر رحم فرمائیے اور اگر واپس بھیج دیں تو اس کی اسی طرح حفاظت فرمائیے جیسے آپ اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتے ہیں۔

7057Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ وَقُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ قَالَ سُفْيَانُ الَّذِي سَمِعْنَاهُ مِنْهُ عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ لَا أَدْرِي عَمَّنْ سُئِلَ سُفْيَانُ عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ أُثَالٍ فَقَالَ كَانَ الْمُسْلِمُونَ أَسَرُوهُ أَخَذُوهُ فَكَانَ إِذَا مَرَّ بِهِ قَالَ مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ قَالَ إِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ وَإِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ وَإِنْ تُرِدْ مَالًا تُعْطَ مَالًا قَالَ فَكَانَ إِذَا مَرَّ بِهِ قَالَ مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ قَالَ إِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ وَإِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ وَإِنْ تُرِدْ الْمَالَ تُعْطَ الْمَالَ قَالَ فَبَدَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَطْلَقَهُ وَقَذَفَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي قَلْبِهِ قَالَ فَذَهَبُوا بِهِ إِلَى بِئْرِ الْأَنْصَارِ فَغَسَلُوهُ فَأَسْلَمَ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ أَمْسَيْتَ وَإِنَّ وَجْهَكَ كَانَ أَبْغَضَ الْوُجُوهِ إِلَيَّ وَدِينَكَ أَبْغَضَ الدِّينِ إِلَيَّ وَبَلَدَكَ أَبْغَضَ الْبُلْدَانِ إِلَيَّ فَأَصْبَحْتَ وَإِنَّ دِينَكَ أَحَبُّ الْأَدْيَانِ إِلَيَّ وَوَجْهَكَ أَحَبُّ الْوُجُوهِ إِلَيَّ لَا يَأْتِي قُرَشِيًّا حَبَّةٌ مِنْ الْيَمَامَةِ حَتَّى قَالَ عُمَرُ لَقَدْ كَانَ وَاللَّهِ فِي عَيْنِي أَصْغَرَ مِنْ الْخِنْزِيرِ وَإِنَّهُ فِي عَيْنِي أَعْظَمُ مِنْ الْجَبَلِ خَلَّى عَنْهُ فَأَتَى الْيَمَامَةَ حَبَسَ عَنْهُمْ فَضَجُّوا وَضَجِرُوا فَكَتَبُوا تَأْمُرُ بِالصِّلَةِ قَالَ وَكَتَبَ إِلَيْهِ وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ عَنْ سُفْيَانَ سَمِعْتُ ابْنَ عَجْلَانَ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ ثُمَامَةَ بْنَ أُثَالٍ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مسلمانوں نے ثمامہ بن اثال نامی ایک شخص کو (جو اپنے قبیلے میں بڑا معزز اور مالدار آدمی تھا) گرفتار کر کے قید کرلیا جب وہ نبی کریم ﷺ کے پاس سے گذرا تو نبی کریم ﷺ نے اس سے پوچھا کہ ثمامہ کا کیا ارادہ ہے؟ اس نے کہا کہ اگر آپ مجھے قتل کردیں گے تو ایک ایسے شخص کو قتل کریں گے جس کا خون قیمتی ہے اگر آپ مجھ پر احسان کریں گے تو ایک شکر گذار پر احسان کریں گے اور اگر آپ کو مال و دولت درکار ہو تو آپ کو وہ مل جائے گا نبی کریم ﷺ کا جب بھی اس کے پاس سے گذر ہوتا تو نبی کریم ﷺ اس سے مذکورہ بالا سوال کرتے اور وہ حسب سابق وہی جواب دے دیتا۔ ایک دن اللہ نے نبی کریم ﷺ کے دل میں یہ بات ڈالی اور آپ ﷺ کی رائے یہ ہوئی کہ اسے چھوڑ دیا جائے چناچہ نبی کریم ﷺ نے اسے آزاد کردیا لوگ اس کی درخواست پر اسے انصار کے ایک کنوئیں کے پاس لے گئے اور اسے غسل دلوایا اور پھر اس نے اسلام قبول کرلیا اور کہنے لگا کہ اے محمد ﷺ کل شام تک میری نگاہوں میں آپ کے چہرے سے زیادہ کوئی چہرہ ناپسندیدہ اور آپ کے دین سے زیادہ کوئی دین اور آپ کے شہر سے زیادہ کوئی شہر ناپسندیدہ نہ تھا اور اب آپ کا دین میری نگاہوں میں تمام ادیان سے زیادہ اور آپ کا مبارک چہرہ تمام چہروں سے زیادہ محبوب ہوگیا ہے آج کے بعد یمامہ سے غلہ کا ایک دانہ بھی قریش کے پاس نہیں پہنچے گا۔ یہاں تک کہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا واللہ یہ میری نگاہوں میں خنزیر سے بھی زیادہ حقیر تھا اور اب پہاڑ سے بھی زیادہ عظیم ہے اور اس کا راستہ چھوڑ دیا چناچہ ثمامہ نے یمامہ پہنچ کر قریش کا غلہ روک لیا جس سے قریش کی چیخیں نکل گئیں اور وہ سخت پریشان ہوگئے مجبور ہو کر انہوں نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں یہ عریضہ لکھا کہ ثمامہ کو مہربانی اور نرمی کرنے کا حکم دیں چناچہ نبی کریم ﷺ نے ثمامہ کو اس نوعیت کا ایک خط لکھ دیا۔

7058Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رِوَايَةً خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ أَوَّلُهَا وَشَرُّهَا آخِرُهَا وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ آخِرُهَا وَشَرُّ صُفُوفِ النِّسَاءِ أَوَّلُهَا

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایۃ منقول ہے کہ مردوں کی صف سب سے بہترین اور آخری صف سب سے زیادہ شر کے قریب ہوتی ہے اور عورتوں کی صفوں میں آخری صف سب سے بہترین اور پہلی صف سب سے زیادہ شر کے قریب ہوتی ہے۔

7059Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ الدَّوْسِيِّ قَالَ فَأَهْدَى لَهُ نَاقَةً يَعْنِي قَوْلَهُ قَالَ لَا أَتَّهِبُ إِلَّا مِنْ قُرَشِيٍّ أَوْ دَوْسِيٍّ أَوْ ثَقَفِيٍّ

حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک اونٹنی بطور ہدیہ کے پیش کی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا آئندہ میں صرف کسی قریشی یا دوسی یا ثقفی ہی کا ہدیہ قبول کروں گا۔

7060Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَجْلَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْمَمْلُوكِ طَعَامُهُ وَكِسْوَتُهُ وَلَا تُكَلِّفُونَهُ مِنْ الْعَمَلِ مَا لَا يُطِيقُ

حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا غلام کا حق ہے کہ اسے کھانا اور لباس مہیا کیا جائے اور تم انہیں کسی ایسے کام کا مکلف مت بناؤ جس کی وہ طاقت نہیں رکھتے ہوں۔

7061Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا هَارُونُ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ حَدَّثَنَا عَمْرٌو أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ عَنْ الْعَجْلَانِ مَوْلَى فَاطِمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْمَمْلُوكِ طَعَامُهُ وَكِسْوَتُهُ وَلَا يُكَلَّفُ مِنْ الْعَمَلِ مَا لَا يُطِيقُ

حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا غلام کا حق ہے کہ اسے کھانا اور لباس مہیا کیا جائے اور تم انہیں کسی ایسے کام کا مکلف مت بناؤ جس کی وہ طاقت نہیں رکھتے ہوں۔