حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُمْنَعْ فَضْلُ الْمَاءِ لِيُمْنَعَ بِهِ الْكَلَأُ قَالَ سُفْيَانُ يَكُونُ حَوْلَ بِئْرِكَ الْكَلَأُ فَتَمْنَعُهُمْ فَضْلَ مَائِكَ فَلَا يَعُودُونَ أَنْ يَدَعُوا
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مرفوعاً مروی ہے کہ زائد پانی روک کر نہ رکھا جائے کہ اس سے گھاس روکی جاسکے۔ راوی حدیث سفیان اس کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ آپ کے کنوئیں کے پاس گھاس ہو اور آپ لوگوں کو زائد از ضرورت پانی لینے سے روکیں تو وہ لوگ اپنے جانور چرانے کے لئے وہاں دوبارہ نہیں آئیں گے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَطْفَالِ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم ﷺ سے مشرکین کے نابالغ فوت ہوجانے والے بچوں کا حکم دریافت کیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ اس بات کو زیادہ بہتر جانتا ہے کہ وہ بڑے ہو کر کیا اعمال سر انجام دیتے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَضْحَكُ مِنْ الرَّجُلَيْنِ قَتَلَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ يَدْخُلَانِ الْجَنَّةَ جَمِيعًا يَقُولُ كَانَ كَافِرًا قَتَلَ مُسْلِمًا ثُمَّ إِنَّ الْكَافِرَ أَسْلَمَ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ فَأَدْخَلَهُمَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْجَنَّةَ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مرفوعاً مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ان دو آدمیوں پر ہنسی آتی ہے جن میں سے ایک نے دوسرے کو شہید کردیا ہو لیکن پھر دونوں ہی جنت میں داخل ہوجائیں اس کی وضاحت یہ ہے کہ ایک آدمی کافر تھا اس نے کسی مسلمان کو شہید کردیا پھر اپنی موت سے پہلے اس کافر نے بھی اسلام قبول کرلیا اور اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو جنت میں داخلہ نصیب فرما دیا۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَمْرٌو عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ إِنَّ نَارَكُمْ هَذِهِ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ وَضُرِبَتْ بِالْبَحْرِ مَرَّتَيْنِ وَلَوْلَا ذَلِكَ مَا جَعَلَ اللَّهُ فِيهَا مَنْفَعَةً لِأَحَدٍ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تمہاری یہ دنیا کی آگ جہنم کی آگ کا سترواں جزء ہے اور دو مرتبہ اس پر سمندر کا پانی لگایا گیا ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو اس میں اللہ بندوں کا کوئی فائدہ نہ رکھتا۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا فَيُقِيمَ الصَّلَاةَ ثُمَّ آمُرَ فِتْيَانِي وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً فِتْيَانًا فَيُخَالِفُونَ إِلَى قَوْمٍ لَا يَأْتُونَهَا فَيُحَرِّقُونَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ بِحُزَمِ الْحَطَبِ وَلَوْ عَلِمَ أَحَدُكُمْ أَنَّهُ يَجِدُ عَظْمًا سَمِينًا أَوْ مِرْمَاتَيْنِ حَسَنَتَيْنِ إِذًا لَشَهِدَ الصَّلَوَاتِ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً الْعِشَاءَ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میرادل چاہتا ہے کہ ایک آدمی کو حکم دوں اور وہ نماز کھڑی کردے پھر اپنے نوجوانوں کو حکم دوں اور وہ ان لوگوں کے پاس جائیں جو نماز باجماعت میں شرکت نہیں کرتے اور لکڑیوں کے گٹھوں سے ان کے گھروں میں آگ لگا دیں اگر تم میں سے کسی کو یقین ہو کہ اسے خوب موٹی تازی ہڈی یا دو عمدہ گھر ملیں گے تو وہ ضرور نماز میں (دوسری روایت کے مطابق نماز عشاء میں بھی) شرکت کرے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْنَعُ اسْمٍ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ تَسَمَّى بِمَلِكِ الْأَمْلَاكِ سَأَلْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ عَنْ أَخْنَعِ اسْمٍ عِنْدَ اللَّهِ فَقَالَ أَوْضَعُ اسْمٍ عِنْدَ اللَّهِ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن بارگاہ الٰہی میں سب سے حقیر نام اس شخص کا ہوگا جو اپنے آپ کو شہنشاہ کہلواتا ہے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ تُوَاصِلُ قَالَ إِنِّي لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے رکھنے سے اپنے آپ کو بچاؤ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ تو اس طرح تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے ہیں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس معاملے میں تم میری طرح نہیں ہو میں تو اس حال میں رات گذارتا ہوں کہ میرا رب خود ہی مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔ اس لئے تم اپنے اوپر عمل کا اتنا بوجھ ڈالو جسے برداشت کرنے کی تم میں طاقت موجود ہو۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا تَعْجَبُونَ كَيْفَ يُصْرَفُ عَنِّي شَتْمُ قُرَيْشٍ كَيْفَ يَلْعَنُونَ مُذَمَّمًا وَيَشْتُمُونَ مُذَمَّمًا وَأَنَا مُحَمَّدٌ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا تمہیں اس بات پر تعجب نہیں ہوتا کہ کس عجیب طریقے سے قریش کی دشنام طرازیوں کو مجھ سے دور کردیا جاتا ہے؟ وہ کس طرح مذمم پر لعنت اور سب و شتم کرتے ہیں جبکہ میرا نام تو محمد ہے (مذمم نہیں )
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
قَالَ قُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ سَمِعْتُ أَبَا الزِّنَادِ يُحَدِّثُ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ أَنْصِتْ فَقَدْ لَغَيْتَ قَالَ سُفْيَانُ قَالَ أَبُو الزِّنَادِ هِيَ لُغَةُ أَبِي هُرَيْرَةَ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا امام جس وقت جمعہ کا خطبہ دے رہا ہو اور تم اپنے ساتھی کو صرف یہ کہو کہ خاموش رہو تو تم نے لغو کام کیا۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
قَالَ قُرئَ عَلَى سُفْيَانَ أَبُو الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَأَرَى خُشُوعَكُمْ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں تمہارا خشوع و خضوع دیکھتا ہوں۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
قَالَ قُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ سَمِعْتُ أَبَا الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُ سُفْيَانَ يَقُولُ مَنْ أَطَاعَ أَمِيرِي فَقَدْ أَطَاعَنِي وَمَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص میرے امیر کی اطاعت کرتا ہے وہ میری اطاعت کرتا ہے اور جو میری اطاعت کرتا ہے گویا وہ اللہ کی اطاعت کرتا ہے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
قَالَ أَبِي و قَالَ سُفْيَانُ فِي حَدِيثِ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ جُرَيْجٍ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَغَتْ الدِّرْعُ أَوْ مَرَّتْ تُجِنُّ بَنَانَهُ وَتَعْفُو أَثَرَهُ يُوَسِّعُهَا قَالَ أَبُو الزِّنَادِ يُوَسِّعُهَا وَلَا تَتَّسِعُ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ وَلَا يَتَوَسَّعُ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا قمیص بعض اوقات کشادہ ہوتی ہے اور بعض اوقات تنگ (مراد آدمی کی سخاوت اور کنجوسی ہے) وہ اس کی انگلیوں کو ڈھانپ لیتی ہے اور اس کے نشانات کو مٹادیتی ہے اور کنجوس آدمی کشادگی حاصل کرنا چاہتا ہے لیکن اسے کشادگی حاصل نہیں ہوتی۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قِيلَ لِسُفْيَانَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ الْمَطْلُ ظُلْمُ الْغَنِيِّ وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَتْبَعْ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا قرض کی ادائیگی میں مالدار آدمی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور جب تم میں سے کسی کو کسی مالدار کے حوالے کردیا جائے تو اسے اس ہی کا پیچھا کرنا چاہیے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
قَالَ قرئَ عَلَى سُفْيَانَ سَمِعْتُ أَبَا الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُ سُفْيَانَ يَقُولُ إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّهُ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا بدگمانی کرنے سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ یہ سب سے زیادہ جھوٹی بات ہوتی ہے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
سَمِعْت سُفْيَانَ يَقُولُ إِذَا كَفَى الْخَادِمُ أَحَدَكُمْ طَعَامَهُ فَلْيُجْلِسْهُ فَلْيَأْكُلْ مَعَهُ فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ فَلْيَأْخُذْ لُقْمَةً فَلْيُرَوِّغْهَا فِيهِ فَيُنَاوِلْهُ وَقُرِئَ عَلَيْهِ إِسْنَادُهُ سَمِعْتُ أَبَا الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کا خادم کھانا پکانے میں اس کی کفایت کرے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے بھی اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلائے اگر ایسا نہیں کرسکتا تو ایک لقمہ لے کر اسے سالن میں اچھی طرح تر بتر کر کے ہی اسے دے دے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَتَأْخِيرِ الْعِشَاءِ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مرفوعامروی ہے کہ اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے اور نماز عشاء کو تاخیر سے ادا کرنے کا حکم دیتا۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رِوَايَةً قَالَ مَرَّةً يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَصْبَحَ أَحَدُكُمْ صَائِمًا فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَجْهَلْ فَإِنْ امْرُؤٌ شَاتَمَهُ أَوْ قَاتَلَهُ فَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص روزہ دار ہونے کی حالت میں صبح کرے تو اسے کوئی بیہودگی یا جہالت کی بات نہیں کرنی چاہئے بلکہ اگر کوئی آدمی اس سے لڑنا یا گالی گلوچ کرنا چاہے تو اسے یوں کہہ دینا چاہیے کہ میں روزے سے ہوں۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَجِدُونَ مِنْ شَرِّ النَّاسِ ذَا الْوَجْهَيْنِ الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم لوگوں میں سب سے بدترین شخص اس آدمی کو پاؤگے جو دوغلا ہو ان لوگوں کے پاس ایک رخ لے کر آتا ہو اور ان لوگوں کے پاس دوسرا رخ لے کر آتا ہو۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِتَأْخِيرِ الْعِشَاءِ وَالسِّوَاكِ مَعَ الصَّلَاةِ وَلَا تَصُومُ امْرَأَةٌ وَزَوْجُهَا شَاهِدٌ يَوْمًا غَيْرَ رَمَضَانَ إِلَّا بِإِذْنِهِ وَقُرِئَ عَلَيْهِ هَذَا الْحَدِيثُ سَمِعْتُ أَبَا الزِّنَادِ عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مرفوعاً مروی ہے کہ اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے اور نماز عشاء کو تاخیر سے ادا کرنے کا حکم دیتا۔ اور کوئی عورت جبکہ اس کا خاوند گھر میں موجود ہو ماہ رمضان کے علاوہ کوئی نفلی روزہ اس کی اجازت کے بغیر نہ رکھے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي الْمُؤْمِنِينَ مَا تَخَلَّفْتُ عَنْ سَرِيَّةٍ لَيْسَ عِنْدِي مَا أَحْمِلُهُمْ عَلَيْهِ وَلَا يَتَخَلَّفُونَ عَنِّي
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر میں سمجھتا کہ مسلمان مشقت میں نہیں پڑیں گے تو میں اللہ کے راستہ میں نکلنے والے کسی سریہ سے کبھی پیچھے نہ رہتا لیکن میں اتنی وسعت نہیں پاتا کہ میں ان سب کو سواریاں مہیا کرسکوں اور کہیں وہ میرے بعد جہاد میں شرکت کرنے سے پیچھے نہ ہٹنے لگیں۔