حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَهْجَعُ هَجْعَةً بِالْبَطْحَاءِ وَذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ ذَلِكَ
بکربن عبداللہ (رح) کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر ؓ " بطحائ " میں رات گذارتے تھے اور ذکر کرتے تھے کہ نبی کریم ﷺ نے بھی یوں ہی کیا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ادَّهَنَ بِزَيْتٍ غَيْرِ مُقَتَّتٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ احرام باندھتے وقت زیتون کا وہ تیل استعمال فرماتے تھے جس میں پھول ڈال کر انہیں جوش نہ دیا گیا ہوتا۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ وَكُلُّ خَمْرٍ حَرَامٌ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر شراب حرام ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر شراب حرام ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُعَاذٌ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَزَالُ هَذَا الْأَمْرُ فِي قُرَيْشٍ مَا بَقِيَ مِنْ النَّاسِ اثْنَانِ قَالَ وَحَرَّكَ إِصْبَعَيْهِ يَلْوِيهِمَا هَكَذَا
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا خلافت اس وقت تک قریش میں رہے گی جب تک دو آدمی (متفق ومتحد) رہیں گے اور نبی کریم ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے اپنی دو انگلیوں کو حرکت دی۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُعَاذٌ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُطَارِدٍ أَبِي الْبَزَرِى قَالَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ كُنَّا نَشْرَبُ وَنَحْنُ قِيَامٌ وَنَأْكُلُ وَنَحْنُ نَسْعَى عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے دور با سعادت میں کھڑے ہو کر پانی پی لیتے تھے اور چلتے چلتے کھانا کھالیتے تھے (کیونکہ جہاد کی مصروفیت میں کھانے پینے کے لئے وقت کہاں؟ )
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُعَاذٌ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُسْلِمٍ مَوْلًى لِعَبْدِ الْقَيْسِ قَالَ مُعَاذٌ كَانَ شُعْبَةُ يَقُولُ الْقُرِّيِّ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عُمَرَ أَرَأَيْتَ الْوِتْرَ أَسُنَّةٌ هُوَ قَالَ مَا سُنَّةٌ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَوْتَرَ الْمُسْلِمُونَ قَالَ لَا أَسُنَّةٌ هُوَ قَالَ مَهْ أَوَتَعْقِلُ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَوْتَرَ الْمُسْلِمُونَ
ایک مرتبہ ایک شخص نے حضرت ابن عمر ؓ سے پوچھا کہ آپ کی رائے میں وتر سنت ہیں؟ انہوں نے فرمایا سنت کا کیا مطلب؟ نبی کریم ﷺ نے اور تمام مسلمانوں نے وتر پڑھے ہیں اس نے کہا میں آپ سے یہ نہیں پوچھ رہا میں تو یہ پوچھ رہاہوں کہ کیا وتر سنت ہیں؟ حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا رکو کیا تمہاری عقل کام کرتی ہے؟ میں کہہ تو رہا ہوں کہ نبی کریم ﷺ نے بھی پڑھے ہیں اور مسلمانوں نے بھی۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُعَاذٌ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ نَادَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاذَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ مِنْ الثِّيَابِ فَقَالَ لَا تَلْبَسُوا الْقَمِيصَ وَلَا الْعِمَامَةَ وَلَا الْبَرَانِسَ وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ وَلَا الْخِفَافَ إِلَّا أَنْ لَا تَكُونَ نِعَالٌ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ نِعَالٌ فَخُفَّيْنِ دُونَ الْكَعْبَيْنِ وَلَا ثَوْبًا مَسَّهُ وَرْسٌ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ إِمَّا قَالَ مَصْبُوغٌ وَإِمَّا قَالَ مَسَّهُ وَرْسٌ وَزَعْفَرَانٌ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ وَفِي كِتَابِ نَافِعٍ مَسَّهُ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا یا رسول اللہ! محرم کون سالباس پہن سکتا ہے؟ یا یہ پوچھا کہ محرم کون سا لباس ترک کر دے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا قمیض شلوار عمامہ اور موزے نہیں پہن سکتا الاّ یہ کہ اسے جوتے نہ ملیں جس شخص کو جوتے نہ ملیں اسے چاہئے کہ وہ موزوں کو ٹخنوں سے نیچے کاٹ کر پہن لے اسی طرح ٹوپی یا ایسا کپڑا جس پر ورس نام گھاس یا زعفران لگی ہوئی ہو وہ بھی محرم نہیں پہن سکتا۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ وَذَكَرْتُ لِابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي سَالِمٌ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَدْ كَانَ يَصْنَعُ ذَاكَ ثُمَّ حَدَّثَتْهُ صَفِيَّةُ بِنْتُ أَبِي عُبَيْدٍ أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُرَخِّصُ لِلنِّسَاءِ فِي الْخُفَّيْنِ
ایک مرتبہ حضرت ابن عمر ؓ نے مکہ مکرمہ کے راستے میں کوئی باندی خریدی اسے اپنے ساتھ حج پر لے گئے وہاں جوتی تلاش کی لیکن مل نہ سکی انہوں نے موزے نیچے سے کاٹ کر ہی اسے پہنا دیئے) ابن اسحاق کہتے ہیں کہ میں نے امام زہری (رح) سے یہ بات ذکر کی تو انہوں نے فرمایا کہ پہلے حضرت ابن عمر ؓ اسی طرح کرتے تھے پھر صفیہ بنت ابی عبید نے انہیں حضرت عائشہ ؓ کی یہ حدیث سنائی کہ نبی کریم ﷺ خواتین کو موزے پہننے کی رخصت دے دیا کرتے تھے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي التَّيْمِيَّ عَنْ طَاوُسٍ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ أَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ قَالَ نَعَمْ قَالَ وَقَالَ طَاوُسٌ وَاللَّهِ إِنِّي سَمِعْتُهُ مِنْهُ
طاؤس کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر ؓ سے پوچھا کیا نبی کریم ﷺ نے مٹکے کی نبیذ سے منع فرمایا ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں طاؤس کہتے ہیں بخدا! یہ بات میں نے خود سنی ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنْ الْمَسَاجِدِ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ فَهُوَ أَفْضَلُ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مسجد حرام کو چھوڑ کر میری اس مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری مساجد کی نسبت ایک ہزار نمازوں سے افضل ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَمَعَ اللَّهُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ رُفِعَ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ فَقِيلَ هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اولین و آخرین کو جمع کرے گا تو ہر دھوکے باز کے لئے ایک جھنڈا بلند کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کا دھوکہ ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ لَا يَتَحَيَّنَنَّ أَحَدُكُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلَا غُرُوبَهَا فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْهَى عَنْ ذَلِكَ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ طلوع آفتاب یا غروب آفتاب کے وقت نماز پڑھنے کا ارادہ نہ کیا کرو کیونکہ نبی کریم ﷺ اس سے منع فرماتے تھے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَحَتَّهَا ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلَا يَتَنَخَّمْ قِبَلَ وَجْهِهِ فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قِبَلَ وَجْهِ أَحَدِكُمْ إِذَا كَانَ فِي الصَّلَاةِ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے مسجد میں قبلہ کی جانب بلغم لگا ہوا دیکھا نبی کریم ﷺ نے کھڑے ہو کر اسے صاف کردیا پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر ان سے ناراض ہو کر فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں ہوتا ہے تو اللہ اس کے چہرے کے سامنے ہوتا ہے اس لئے تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز میں اپنے چہرے کے سامنے ناک صاف نہ کرے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَدْخَلَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ وَاسْتَوَتْ بِهِ نَاقَتُهُ قَائِمَةً أَهَلَّ مِنْ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب اپنے پاؤں رکاب میں ڈال لیتے اور اونٹنی انہیں لے کر سیدھی کھڑی ہوجاتی تو نبی کریم ﷺ ذوالحلیفہ کی مسجد سے احرام باندھتے تھے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْرُجُ مِنْ طَرِيقِ الشَّجَرَةِ وَكَانَ يَدْخُلُ مَكَّةَ مِنْ الثَّنِيَّةِ الْعُلْيَا وَيَخْرُجُ مِنْ الثَّنِيَّةِ السُّفْلَى
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ طریق شجرہ سے نکلتے تھے اور جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے تو ثنیہ علیا " سے داخل ہوتے اور جب باہر جاتے تو ثنیہ سفلی " سے باہر جاتے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ الطَّوَافَ الْأَوَّلَ خَبَّ ثَلَاثَةً وَمَشَى أَرْبَعَةً
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل اور باقی چار چکروں میں عام رفتار سے چلتے تھے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا مَثَلُ الْقُرْآنِ مَثَلُ الْإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ إِنْ تَعَاهَدَهَا صَاحِبُهَا بِعُقُلِهَا أَمْسَكَهَا عَلَيْهِ وَإِنْ أَطْلَقَ عُقُلَهَا ذَهَبَتْ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا حامل قرآن کی مثال بندھے ہوئے اونٹ کے مالک کی طرح ہے جسے اس کا مالک باندھ کر رکھے تو وہ اس کے قابو میں رہتا ہے اور اگر کھلاچھوڑ دے تو وہ نکل جاتا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي قُبَاءً رَاكِبًا وَمَاشِيًا
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ مسجدقباء پیدل بھی آتے تھے اور سوار ہو کر بھی۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صَلَاةُ الْمَغْرِبِ وِتْرُ النَّهَارِ فَأَوْتِرُوا صَلَاةَ اللَّيْلِ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مغرب کی نماز دن کا وتر ہیں سو تم رات کا وتر بھی ادا کیا کرو۔