حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے رات کی نماز کے متعلق فرمایا تم دو دو رکعت کرکے نماز پڑھا کرو اور جب " صبح " ہوجانے کا اندیشہ ہو تو ان دو کے ساتھ بطور وتر کے ایک رکعت اور ملا لو۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ زِيَادٍ الشَّيْبَانِيُّ حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ صُبَيْحٍ الْحَنَفِيُّ قَالَ كُنْتُ قَائِمًا أُصَلِّي إِلَى الْبَيْتِ وَشَيْخٌ إِلَى جَانِبِي فَأَطَلْتُ الصَّلَاةَ فَوَضَعْتُ يَدَيَّ عَلَى خَصْرِي فَضَرَبَ الشَّيْخُ صَدْرِي بِيَدِهِ ضَرْبَةً لَا يَأْلُو فَقُلْتُ فِي نَفْسِي مَا رَابَهُ مِنِّي فَأَسْرَعْتُ الِانْصِرَافَ فَإِذَا غُلَامٌ خَلْفَهُ قَاعِدٌ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا الشَّيْخُ قَالَ هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَجَلَسْتُ حَتَّى انْصَرَفَ فَقُلْتُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا رَابَكَ مِنِّي قَالَ أَنْتَ هُوَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ ذَاكَ الصَّلْبُ فِي الصَّلَاةِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْهُ
زیاد بن صبیح حنفی (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں بیت اللہ کے سامنے کھڑا نماز پڑھ رہا تھا میرے پہلو میں ایک بزرگ بیٹھے ہوئے تھے میں نے نماز کو لمبا کردیا اور ایک مرحلے پر اپنی کوکھ پر ہاتھ رکھ لیا شیخ مذکور نے یہ دیکھ کر میرے سنیے پر ایسا ہاتھ مارا کہ کسی قسم کی کسر نہ چھوڑی میں نے اپنے دل میں سوچا کہ انہیں مجھ سے کیا پریشانی ہے؟ چناچہ میں نے جلدی سے نماز کو مکمل کیا۔ دیکھا تو ایک غلام ان کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا میں نے پوچھا یہ بزرگ کون ہیں؟ اس نے بتایا کہ یہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ ہیں میں بیٹھ گیا یہاں تک کہ وہ نماز سے فارغ ہوگئے میں نے ان سے عرض کیا کہ اے عبدالرحمن آپ کو مجھ سے کیا پریشانی تھی؟ انہوں نے پوچھا کیا تم وہی ہو؟ میں نے عرض کیا جی ہاں انہوں نے فرمایا نماز میں اتنی سختی؟ نبی کریم ﷺ اس سے منع فرماتے ہیں۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عُمَرَ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَبِيحَةَ عَرَفَةَ مِنَّا الْمُكَبِّرُ وَمِنَّا الْمُهِلُّ أَمَّا نَحْنُ فَنُكَبِّرُ قَالَ قُلْتُ الْعَجَبُ لَكُمْ كَيْفَ لَمْ تَسْأَلُوهُ كَيْفَ صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے ساتھ جب میدان عرفات کی طرف روانہ ہوئے تو ہم سے بعض لوگ تکبیر کہہ رہے تھے اور بعض تلبیہ پڑھ رہے تھے جبکہ ہم تکبیر کہہ رہے تھے راوی نے کہا کہ تعجب ہے تم لوگوں پر کہ تم نے ان سے نہیں پوچھا کہ نبی کریم ﷺ کیا کر رہے تھے (تکبیر یا تلبیہ)
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ عَنْ وَبَرَةَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الذِّئْبِ لِلْمُحْرِمِ يَعْنِي وَالْفَأْرَةَ وَالْغُرَابَ وَالْحِدَأَ فَقِيلَ لَهُ فَالْحَيَّةُ وَالْعَقْرَبُ فَقَالَ قَدْ كَانَ يُقَالُ ذَاكَ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے محرم کو چوہے کوے اور بھیڑیئے، کو ماردینے کا حکم دیا ہے کسی نے حضرت ابن عمر ؓ سے سانپ اور بچھو کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ان کے متعلق بھی کہا جاتا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيِّ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا اشْتَرَى نَخْلًا قَدْ أَبَّرَهَا صَاحِبُهَا فَخَاصَمَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الثَّمَرَةَ لِصَاحِبِهَا الَّذِي أَبَّرَهَا إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُشْتَرِي
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کھجور کا پیوند کاری شدہ درخت خریدا ان دونوں کا جھگڑا ہوگیا نبی کریم ﷺ کی خدمت میں یہ جھگڑا پیش ہوا تو نبی کریم ﷺ نے یہ فیصلہ کیا کہ پھل درخت کے مالک کا ہے جس نے اس کی پیوند کاری کی ہے الاّ یہ کہ مشتری (خریدنے والا) نے پھل سمیت درخت خریدنے کی شرط لگائی ہو۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْخِرِّيتِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ هَادِيَةَ قَالَ لَقِيتُ ابْنَ عُمَرَ قَالَ إِسْحَاقُ فَقَالَ لِي مِمَّنْ أَنْتَ قُلْتُ مِنْ أَهْلِ عُمَانَ قَالَ مِنْ أَهْلِ عُمَانَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ أَفَلَا أُحَدِّثُكَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ بَلَى فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنِّي لَأَعْلَمُ أَرْضًا يُقَالُ لَهَا عُمَانُ يَنْضَحُ بِجَانِبِهَا وَقَالَ إِسْحَاقُ بِنَاحِيَتِهَا الْبَحْرُ الْحَجَّةُ مِنْهَا أَفْضَلُ مِنْ حَجَّتَيْنِ مِنْ غَيْرِهَا
حسن بن ہادیہ (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عمر ؓ سے میری ملاقات ہوئی انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کا تعلق کس علاقے سے ہے؟ میں نے بتایا کہ میں اہل عمان میں سے ہوں انہوں نے فرمایا کہ واقعی؟ میں نے عرض کیا جی ہاں فرمایا پھر کیا میں تمہیں وہ حدیث نہ سناؤں جو میں نے نبی کریم ﷺ سے سنی ہے؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں فرمایا میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں ایک ایسا علاقہ جانتا ہوں جسے " عمان " کہا جاتا ہے اس کے ایک جانب سمندر بہتا ہے وہاں سے آ کر ایک حج کرنا دوسرے علاقے سے دو حج کرنے سے زیادہ افضل ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَفَعَ خَيْبَرَ إِلَى أَهْلِهَا بِالشَّطْرِ فَلَمْ تَزَلْ مَعَهُمْ حَيَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّهَا وَحَيَاةَ أَبِي بَكْرٍ وَحَيَاةَ عُمَرَ حَتَّى بَعَثَنِي عُمَرُ لِأُقَاسِمَهُمْ فَسَحَرُونِي فَتَكَوَّعَتْ يَدِي فَانْتَزَعَهَا عُمَرُ مِنْهُمْ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے خیبر کا علاقہ وہاں کے رہنے والوں ہی کے پاس نصف پیداوار کے عوض رہنے دیا اور نبی کریم ﷺ کی پوری حیات طیبہ میں ان کے ساتھ یہی معاملہ رہا حضرت صدیق اکبر ؓ کی زندگی میں بھی اسی طرح رہا حضرت عمر ؓ کی زندگی میں بھی اسی طرح رہا ایک مرتبہ حضرت عمر ؓ نے مجھے خیبر بھیجی تاکہ ان کے حصے تقسیم کردو تو وہاں کے یہودیوں نے مجھ پر جادو کردیا اور میرے ہاتھ کی ہڈی کا جوڑ ہل گیا اس کے بعد حضرت عمر ؓ نے خبیر کو ان سے چھین لیا۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَزِيدُ عَنْ هَمَّامٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عَائِشَةَ أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ فَأَبَى أَهْلُهَا أَنْ يَبِيعُوهَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ لَهُمْ وَلَاؤُهَا فَذَكَرَتْ ذَلِكَ عَائِشَةُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْطَى الثَّمَنَ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے بریرہ ؓ کو خریدنا چاہا لیکن بریرہ ؓ کے مالک نے انہیں بیچنے سے انکار کردیا اور کہا کہ اگر ولاء ہمیں ملے تو ہم بیچ دیں گے حضرت عائشہ ؓ نے یہ بات نبی کریم ﷺ سے ذکر کی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم اسے خرید کر آزاد کردو ولاء اسی کا حق ہے جو قیمت ادا کرتا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ حَدَّثَنَا نَافِعٌ قَالَ وَجَدَ ابْنُ عُمَرَ الْقُرَّ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَقَالَ أَلْقِ عَلَيَّ ثَوْبًا فَأَلْقَيْتُ عَلَيْهِ بُرْنُسًا فَأَخَّرَهُ وَقَالَ تُلْقِي عَلَيَّ ثَوْبًا قَدْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَلْبَسَهُ الْمُحْرِمُ
نافع (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حالت احرام میں حضرت ابن عمر ؓ کو ٹھنڈ " لگ گئی وہ مجھ سے کہنے لگے کہ مجھ پر کوئی کپڑا ڈال دو میں نے ان پر ٹوپی ڈال دی انہوں نے اسے پیچھے کردیا اور کہنے لگے کہ تم مجھ پر ایسا کپڑا ڈال رہے جسے محرم کے پہننے پر نبی کریم ﷺ نے ممانعت فرمائی ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُعَاذٌ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ قَالَ كَتَبْتُ إِلَى نَافِعٍ أَسْأَلُهُ هَلْ كَانَتْ الدَّعْوَةُ قَبْلَ الْقِتَالِ قَالَ فَكَتَبَ إِلَيَّ إِنَّ ذَاكَ كَانَ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَغَارَ عَلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَهُمْ غَارُّونَ وَأَنْعَامُهُمْ تُسْقَى عَلَى الْمَاءِ فَقَتَلَ مُقَاتِلَتَهُمْ وَسَبَى سَبْيَهُمْ وَأَصَابَ يَوْمَئِذٍ جُوَيْرِيَةَ ابْنَةَ الْحَارِثِ وَحَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَكَانَ فِي ذَلِكَ الْجَيْشِ
ابن عون (رح) کہتے کہ میں نے نافع (رح) کے پاس ایک خط لکھا جس میں ان سے دریافت کیا کہ کیا قتال سے پہلے مشرکین کو دعوت دی جاتی تھی؟ انہوں نے مجھے جواب میں لکھ بھیجا کہ ایسا ابتداء اسلام میں ہوتا تھا اور نبی کریم ﷺ نے بنومصطلق پر جس وقت حملہ کیا تھا وہ لوگ غافل تھے اور ان کے جانور پانی پی رہے تھے نبی کریم ﷺ نے ان کے لڑاکا لوگوں کو قتل کردیا بقیہ افراد کو قید کرلیا اور اسی دن حضرت جویرہ بنت حارث ؓ ان کے حصے میں آئیں مجھ سے یہ حدیث حضرت ابن عمر ؓ نے بیان کی ہے جو لشکر میں شریک تھے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خُبَيْبٍ عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ سِتَّ سِنِينَ بِمِنًى فَصَلَّوْا صَلَاةَ الْمُسَافِرِ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ حضرات شیخین ؓ کے ساتھ اور چھ سال حضرت عثمان ؓ کے ساتھ بھی منٰی میں نماز پڑھی ہے یہ سب حضرات مسافروں والی نماز پڑھتے تھے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ مَثَلَ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ شَجَرَةٍ لَا يَسْقُطُ وَرَقُهَا فَمَا هِيَ قَالَ فَقَالُوا وَقَالُوا فَلَمْ يُصِيبُوا وَأَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ هِيَ النَّخْلَةُ فَاسْتَحْيَيْتُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هِيَ النَّخْلَةُ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا درختوں میں سے ایک درخت ایسا ہے جو مسلمان کی طرح ہے (بتاؤ وہ کون سادرخت ہے؟ ) لوگوں نے اپنی اپنی رائے پیش کی میں نے کہنا چاہا کہ وہ کھجور کا درخت ہے لیکن پھر خود نبی کریم ﷺ نے ہی فرمایا کہ وہ کھجور کا درخت ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي اللَّيْلَ مَثْنَى مَثْنَى ثُمَّ يُوتِرُ بِرَكْعَةٍ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ ثُمَّ يَقُومُ كَأَنَّ الْأَذَانَ وَالْإِقَامَةَ فِي أُذُنَيْهِ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ دو دو رکعتیں کر کے نماز پڑھتے تھے پھر رات کے آخری حصے میں ان کے ساتھ ایک رکعت ملا کر (تین) وتر پڑھ لیتے تھے پھر اس وقت کھڑے ہوتے جب اذان یا اقامت کی آواز کانوں میں پہنچتی۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ أَبِي حَنْظَلَةَ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ فَقَالَ الصَّلَاةُ فِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ فَقَالَ إِنَّا آمِنُونَ لَا نَخَافُ أَحَدًا قَالَ سُنَّةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابوحنظلہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر ؓ سے سفر کی نماز کے متعلق دریافت کیا انہوں نے فرمایا کہ سفر میں نماز کی دو رکعتیں ہیں ہم نے کہا کہ اب تو ہر طرف امن وامان ہے اور ہمیں کسی کا خوف بھی نہیں ہے؟ فرمایا یہ نبی کریم ﷺ کی سنت ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ لِعَظَمَةِ الرَّحْمَنِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى إِنَّ الْعَرَقَ لَيُلْجِمُ الرِّجَالَ إِلَى أَنْصَافِ آذَانِهِمْ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس آیت " جب لوگ رب العلمین کے سامنے کھڑے ہوں گے " کی تفسیر میں فرمایا کہ اس وقت لوگ اپنے پسینے میں نصف کان تک ڈوبے ہوئے کھڑے ہوں گے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقَلِيبِ يَوْمَ بَدْرٍ فَقَالَ يَا فُلَانُ يَا فُلَانُ هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا أَمَا وَاللَّهِ إِنَّهُمْ الْآنَ لَيَسْمَعُونَ كَلَامِي قَالَ يَحْيَى فَقَالَتْ عَائِشَةُ غَفَرَ اللَّهُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّهُ وَهِلَ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ إِنَّهُمْ لَيَعْلَمُونَ الْآنَ أَنَّ الَّذِي كُنْتُ أَقُولُ لَهُمْ حَقًّا وَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى وَمَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِي الْقُبُورِ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ غزوہ بدر کے دن اس کنوئیں کے پاس آ کر کھڑے ہوئے جس میں صنادید قریش کی لاشیں پڑی تھیں اور ایک ایک کا نام لے لے کر فرمانے لگے کیا تم نے اپنے رب کے وعدے کو سچاپایا؟ بخدا! اس وقت یہ لوگ میری بات سن رہے ہیں یحییٰ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ ؓ کو جب یہ حدیث معلوم ہوئی تو وہ کہنے لگیں اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمن کی بخشش فرمائے انہیں وہم ہوگیا ہے نبی کریم ﷺ نے یہ فرمایا تھا کہ اب یقین ہوگیا ہے کہ میں ان سے جو کہتا تھا وہ سچ تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں " آپ مردوں کو سنا نہیں سکتے " نیز یہ کہ " آپ ان لوگوں کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں ہیں "
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرٍ فَقَالَ إِنَّ هَذَا لَيُعَذَّبُ الْآنَ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ غَفَرَ اللَّهُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّهُ وَهِلَ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ هَذَا لَيُعَذَّبُ الْآنَ وَأَهْلُهُ يَبْكُونَ عَلَيْهِ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کسی قبر کے پاس سے گذرے تو فرمایا کہ اس وقت اسے اس کے اہل خانہ کے رونے کی وجہ سے عذاب ہو رہا ہے حضرت عائشہ ؓ فرمانے لگیں کہ اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمن (ابن عمر ؓ کی بخشش فرمائے انہیں وہم ہوگیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کوئی شخص کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا نبی کریم ﷺ نے تو یہ فرمایا تھا کہ اس وقت اسے عذاب ہو رہا ہے اور اس کے اہل خانہ اس پر رو رہے ہیں۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ وَصَفَّقَ بِيَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ صَفَّقَ الثَّالِثَةَ وَقَبَضَ إِبْهَامَهُ فَقَالَتْ عَائِشَةُ غَفَرَ اللَّهُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّهُ وَهِلَ إِنَّمَا هَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ شَهْرًا فَنَزَلَ لِتِسْعٍ وَعِشْرِينَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ نَزَلَتْ لِتِسْعٍ وَعِشْرِينَ فَقَالَ إِنَّ الشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا مہینہ ٢٩ دن کا ہوتا ہے نبی کریم ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے دس دس کا اشارہ کیا اور تیسری مرتبہ اشارہ کرتے وقت انگوٹھابند کرلیا حضرت عائشہ ؓ نے یہ حدیث معلوم ہونے پر فرمایا اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمن کی بخشش فرمائے انہیں وہم ہوگیا ہے دراصل نبی کریم ﷺ نے ایک مہینے کے لئے ازاواج مطہرات کو چھوڑ دیا تھا ٢٩ دن ہونے پر نبی کریم ﷺ اپنے بالاخانے سے نیچے آگئے لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ تو ٢٩ ویں دن ہی نیچے آگئے نبی کریم ﷺ نے فرمایا بعض اوقات مہینہ ٢٩ دن کا بھی ہوتا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ سَالِمٍ الْبَرَّادِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ فَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا الْقِيرَاطُ قَالَ مِثْلُ أُحُدٍ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص جنازے کے ساتھ جائے اور نماز جنازہ پڑھے اسے ایک قیراط کے برابر ثواب ملے گا کسی شخص نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا کہ قیراط کیا ہوتا ہے؟ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا احد پہاڑ کے برابر ہوتا ہے۔