Musnad Imam Ahmad 4602

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات

4602Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُعَاذٌ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُسْلِمٍ مَوْلًى لِعَبْدِ الْقَيْسِ قَالَ مُعَاذٌ كَانَ شُعْبَةُ يَقُولُ الْقُرِّيِّ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عُمَرَ أَرَأَيْتَ الْوِتْرَ أَسُنَّةٌ هُوَ قَالَ مَا سُنَّةٌ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَوْتَرَ الْمُسْلِمُونَ قَالَ لَا أَسُنَّةٌ هُوَ قَالَ مَهْ أَوَتَعْقِلُ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَوْتَرَ الْمُسْلِمُونَ

ایک مرتبہ ایک شخص نے حضرت ابن عمر ؓ سے پوچھا کہ آپ کی رائے میں وتر سنت ہیں؟ انہوں نے فرمایا سنت کا کیا مطلب؟ نبی کریم ﷺ نے اور تمام مسلمانوں نے وتر پڑھے ہیں اس نے کہا میں آپ سے یہ نہیں پوچھ رہا میں تو یہ پوچھ رہاہوں کہ کیا وتر سنت ہیں؟ حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا رکو کیا تمہاری عقل کام کرتی ہے؟ میں کہہ تو رہا ہوں کہ نبی کریم ﷺ نے بھی پڑھے ہیں اور مسلمانوں نے بھی۔