حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

Musnad Imam Ahmad · Chapter 26 · 849 hadiths · Page 26 of 43

3867Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ بَكْرِ بْنِ خُنَيْسٍ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَأَنَّمَا كَانَ جُلُوسُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ عَلَى الرَّضْفِ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ دو رکعتوں میں اس طرح بیٹھتے تھے کہ گویا گرم پتھر پر بیٹھے ہوں۔

3868Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ خُصَيْفٍ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا كُنْتَ فِي الصَّلَاةِ فَشَكَكْتَ فِي ثَلَاثٍ وَأَرْبَعٍ وَأَكْثَرُ ظَنِّكَ عَلَى أَرْبَعٍ تَشَهَّدْتَ ثُمَّ سَجَدْتَ سَجْدَتَيْنِ وَأَنْتَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ تُسَلِّمَ ثُمَّ تَشَهَّدْتَ أَيْضًا ثُمَّ سَلَّمْتَ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر تمہیں نماز پڑھتے ہوئے یہ شک ہوجائے کہ تم نے تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار؟ لیکن تمہارا غالب گمان یہ ہو کہ تم نے چار رکعتیں پڑھی ہیں تو تم تشہد پڑھ لو اور سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کرلو، پھر دوبارہ تشہد پڑھ کر سلام پھیرو۔

3869Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا خُصَيْفٌ حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ إِذَا شَكَكْتَ فِي صَلَاتِكَ وَأَنْتَ جَالِسٌ فَلَمْ تَدْرِ ثَلَاثًا صَلَّيْتَ أَمْ أَرْبَعًا فَإِنْ كَانَ أَكْبَرُ ظَنِّكَ أَنَّكَ صَلَّيْتَ ثَلَاثًا فَقُمْ فَارْكَعْ رَكْعَةً ثُمَّ سَلِّمْ ثُمَّ اسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ تَشَهَّدْ ثُمَّ سَلِّمْ وَإِنْ كَانَ أَكْبَرُ ظَنِّكَ أَنَّكَ صَلَّيْتَ أَرْبَعًا فَسَلِّمْ ثُمَّ اسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ تَشَهَّدْ ثُمَّ سَلِّمْق

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر تمہیں نماز پڑھتے ہوئے یہ شک ہوجائے کہ تم نے تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار؟ تو اگر تمہارا غالب گمان یہ ہو کہ تم نے تین رکعتیں پڑھیں ہیں تو کھڑے ہو کر ایک رکعت پڑھ کر سلام پھیر دو اور سہو کے دو سجدے کرلو اور تشہد پڑھ کر سلام پھیر دو، لیکن تمہارا غالب گمان یہ ہو کہ تم نے چار رکعتیں پڑھی ہیں تو تم تشہد پڑھ لو اور سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کرلو، پھر دوبارہ تشہد پڑھ کر سلام پھیرو۔

3870Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ قَالَ أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ مَوْلًى لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَدَّمَ ثَلَاثَةً لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ كَانُوا لَهُ حِصْنًا حَصِينًا مِنْ النَّارِ فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ قَدَّمْتُ اثْنَيْنِ قَالَ وَاثْنَيْنِ فَقَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ أَبُو الْمُنْذِرِ سَيِّدُ الْقُرَّاءِ قَدَّمْتُ وَاحِدًا قَالَ وَوَاحِدٌ وَلَكِنْ ذَاكَ فِي أَوَّلِ صَدْمَةٍ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلًى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ لَمْ أُقَدِّمْ إِلَّا اثْنَيْنِ وَكَذَا حَدَّثَنَاهُ يَزِيدُ أَيْضًا قَالَ فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ مَضَى لِي اثْنَانِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَيَزِيدُ قَالَا حَدَّثَنَا الْعَوَّامُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ خَالَفَا هُشَيْمًا فَقَالَا أَبُو مُحَمَّدٍ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جن مسلمان میاں بیوی کے تین بچے بلوغت کو پہنچنے سے پہلے ہی فوت ہوجائیں، وہ ان کے لئے جہنم سے حفاظت کا ایک مضبوط قلعہ بن جائیں گے، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ! اگر کسی کے دو بچے فوت ہوئے ہوں؟ نبی ﷺ نے فرمایا پھر بھی یہی حکم ہے، (حضرت ابوذر غفاری ؓ کہنے لگے یا رسول اللہ! ﷺ میں نے تو دو بچے آگے بھیجے ہیں؟ فرمایا پھر بھی یہی حکم ہے) حضرت ابی بن کعب ؓ جو سیدالقراء کے نام سے مشہور ہیں، عرض کرنے لگے کہ میرا صرف ایک بچہ فوت ہوا ہے؟ لوگوں نے نبی ﷺ سے پوچھا یا رسول اللہ! اگر کسی کا ایک بچہ فوت ہوا ہو؟ نبی ﷺ نے فرمایا اس چیز کا تعلق تو صدمہ کے ابتدائی لمحات سے ہے (کہ اس وقت کون صبر کرتا ہے اور کون جزع فزع؟ کیونکہ بعد میں تو سب ہی صبر کرلیتے ہیں) گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

3871Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ شَهِدَ جِنَازَةَ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ قَالَ فَأَظْهَرُوا الِاسْتِغْفَارَ فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ أَنَسٌ قَالَ هُشَيْمٌ قَالَ خَالِدٌ فِي حَدِيثِهِ وَأَدْخَلُوهُ مِنْ قِبَلِ رِجْلِ الْقَبْرِ وَقَالَ هُشَيْمٌ مَرَّةً إِنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ مَاتَ بِالْبَصْرَةِ فَشَهِدَهُ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ فَأَظْهَرُوا لَهُ الِاسْتِغْفَارَ

ابن سیرین (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت انس ؓ کسی انصاری کے جنازے میں شریک ہوئے، لوگوں نے وہاں بلند آواز سے استغفار کرنا شروع کردیا لیکن حضرت انس ؓ نے اس پر کوئی نکیر نہیں فرمائی، دوسرے راوی کے مطابق لوگوں نے اسے قبر کی پائنتی کی جانب سے داخل کیا۔

3872Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ كُنْتُ مَعَ أَنَسٍ فِي جِنَازَةٍ فَأَمَرَ بِالْمَيِّتِ فَسُلَّ مِنْ قِبَلِ رِجْلَيْهِ

ابن سیرین (رح) کہتے ہیں کہ ایک میں اور حضرت انس ؓ کسی انصاری کے جنازے میں شریک ہوئے، ان کے حکم پر میت کو لوگوں نے قبر کی پائنتی کی جانب سے داخل کیا۔

3873Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ كَانَ أَنَسٌ أَحْسَنَ النَّاسِ صَلَاةً فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ

ابن سیرین (رح) کہتے ہیں کہ سفر اور حضر میں سب سے بہترین نماز پڑھنے والے حضرت انس ؓ تھے۔

3874Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَسْتَشْرِفُ لِشَيْءٍ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ يَنْظُرُ إِلَيْهِ

انس بن سیرین (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس ؓ کو دوران نماز کسی چیز کو جھانک کر دیکھتے ہوئے پایا ہے۔

3875Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ الْأَعْمَشِ حَدَّثَنِي عُمَارَةُ حَدَّثَنِي الْأَسْوَدُ بْنُ يَزِيدَ قَالَ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عُمَارَةَ وَابْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ عُمَارَةَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْمَعْنَى قَالَ لَا يَجْعَلْ أَحَدُكُمْ لِلشَّيْطَانِ مِنْ نَفْسِهِ جُزْءًا لَا يَرَى إِلَّا أَنَّ حَتْمًا عَلَيْهِ أَنْ يَنْصَرِفَ عَنْ يَمِينِهِ فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرُ انْصِرَافِهِ عَنْ يَسَارِهِ

حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں تم میں سے کوئی شخص شیطان کو اپنی ذات پر ایک حصہ کے برابر بھی قدرت نہ دے اور یہ نہ سمجھے کہ اس کے ذمے دائیں طرف سے ہی واپس جانا ضروری ہے، میں نے نبی ﷺ کو دیکھا ہے کہ آپ ﷺ کی واپسی اکثر بائیں جانب سے ہوتی تھی۔

3876Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ وَشُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ بِئْسَمَا لِأَحَدِكُمْ أَنْ يَقُولَ نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ بَلْ هُوَ نُسِّيَ

حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے یہ بہت بری بات ہے کہ تم میں سے کوئی شخص یہ کہے کہ میں فلاں آیت بھول گیا بلکہ یوں کہے کہ وہ اسے بھلا دی گئی ہے۔

3877Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ وَسُلَيْمَانُ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنُؤَاخَذُ بِمَا عَمِلْنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَالَ إِنْ أَحْسَنْتَ لَمْ تُؤَاخَذْ وَإِنْ أَسَأْتَ فِي الْإِسْلَامِ أُخِذْتَ بِالْأَوَّلِ وَالْآخِرِ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! اگر میں اسلام قبول کر کے اچھے اعمال اختیار کرلوں تو کیا زمانہ جاہلیت کے اعمال پر میرا مؤاخذہ ہوگا؟ نبی ﷺ نے فرمایا جب تم اسلام قبول کر کے اچھے اعمال اختیار کرلو تو زمانہ جاہلیت کے اعمال پر تمہارا کوئی مؤاخذہ نہ ہوگا لیکن اگر اسلام کی حالت میں برے اعمال کرتے رہے تو پہلے اور پچھلے سب کا مؤاخذہ ہوگا۔

3878Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ وَسُلَيْمَانُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ يَهُودِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّمَوَاتِ عَلَى إِصْبَعٍ وَالْأَرَضِينَ عَلَى إِصْبَعٍ وَالْجِبَالَ عَلَى إِصْبَعٍ وَالْخَلَائِقَ عَلَى إِصْبَعٍ وَالشَّجَرَ عَلَى إِصْبَعٍ ثُمَّ يَقُولُ أَنَا الْمَلِكُ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ وَقَالَ وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ قَالَ يَحْيَى وَقَالَ فُضَيْلٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ تَعَجُّبًا وَتَصْدِيقًا لَهُ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ اہل کتاب میں سے ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اے ابو القاسم ﷺ! کیا آپ کو یہ بات معلوم ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات کو ایک انگلی پر، تمام آسمانوں کو ایک انگلی پر، تمام زمینوں کو ایک انگلی پر، تمام درختوں کو ایک انگلی پر اور ساری نمناک مٹی کو ایک انگلی پر اٹھالے گا؟ نبی ﷺ اس کی بات سن کر اتنا ہنسے کہ آپ ﷺ کے دندان مبارک ظاہر ہوگئے اور اسی پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ " انہوں نے اللہ کی اس طرح قدر نہ کی جس طرح اس کی قدر کرنے کا حق تھا "

3879Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِكُلِّ نَبِيٍّ وُلَاةٌ مِنْ النَّبِيِّينَ وَإِنَّ وَلِيِّي مِنْهُمْ أَبِي وَخَلِيلُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ قَرَأَ إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَذَا النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمَنُوا

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر نبی کا دوسرے انبیاء میں سے کوئی نہ کوئی ولی ہوا ہے اور میرے ولی میرے والد (جد امجد) اور میرے رب کے خلیل حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں، پھر نبی ﷺ نے یہ آیت مکمل تلاوت فرمائی " ان اولی الناس بابراہیم للذین اتبعوہ وہذا النبی والذین آمنوا "

3880Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ الْمَسْعُودِيِّ حَدَّثَنِي جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ قَالَ رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ اسْتَبْطَنَ الْوَادِيَ فَجَعَلَ الْجَمْرَةَ عَنْ حَاجِبِهِ الْأَيْمَنِ وَاسْتَقْبَلَ الْبَيْتَ ثُمَّ رَمَاهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ دُبُرَ كُلِّ حَصَاةٍ ثُمَّ قَالَ هَذَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ

عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ حج کے موقع پر حضرت ابن مسعود ؓ نے بطن وادی سے جمرہ عقبہ کو سواری ہی کی حالت میں سات کنکریاں ماریں اور ہر کنکری پر تکبیر کہتے رہے، اس وقت انہوں نے جمرہ عقبہ کو دائیں جانب اور بیت اللہ کی طرف اپنا رخ کر رکھا تھا، پھر فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ ذات بھی یہیں کھڑی ہوئی تھی جس پر سورت بقرہ نازل ہوئی تھی۔

3881Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَوَكِيعٌ قَالَا حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ الْمَعْنَى عَنْ الْأَعْمَشِ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُرَّةَ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ آكِلُ الرِّبَا وَمُوكِلُهُ وَشَاهِدَاهُ وَكَاتِبُهُ إِذَا عَلِمُوا بِهِ وَالْوَاشِمَةُ وَالْمُسْتَوْشِمَةُ لِلْحُسْنِ وَلَاوِي الصَّدَقَةِ وَالْمُرْتَدُّ أَعْرَابِيًّا بَعْدَ هِجْرَتِهِ مَلْعُونُونَ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ سود کھانے والا اور کھلانے والا، اسے تحریر کرنے والا اور اس کے گواہ جب کہ وہ جانتے بھی ہوں اور حسن کے لئے جسم گودنے اور گدوانے والی عورتیں، زکوٰۃ چھپانے والا اور ہجرت کے بعد مرتد ہوجانے والے دیہاتی نبی ﷺ کی زبانی قیامت کے دن تک کے لئے ملعون قرار دئیے گئے ہیں۔

3882Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ الْأَعْمَشِ وَوَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ قَالَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ قَالَ إِنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ خَلْقُهُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ فِي أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ قَالَ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً قَالَ وَكِيعٌ لَيْلَةً ثُمَّ يَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ الْمَلَكَ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ عَمَلُهُ وَأَجَلُهُ وَرِزْقُهُ وَشَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ الرُّوحُ فَوَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فَيَكُونُ مِنْ أَهْلِهَا وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَكُونُ مِنْ أَهْلِهَا

حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ جو کہ صادق و مصدوق ہیں نے ہمیں یہ حدیث سنائی ہے کہ تمہاری خلقت کو شکم مادر میں چالیس دن تک جمع رکھا جاتا ہے پھر اتنے ہی دن وہ جما ہوا خون ہوتا ہے، پھر اتنے ہی دن وہ گوشت کا لوتھڑا ہوتا ہے، پھر اس کے پاس ایک فرشتے کو بھیجا جاتا ہے اور وہ اس میں روح پھونک دیتا ہے، پھر چار چیزوں کا حکم دیا جاتا ہے، اس کے رزق کا، اس کی موت کا، اس کے اعمال کا اور یہ کہ یہ بدنصیب ہوگا یا خوش نصیب؟ اس ذات کی قسم! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، تم میں سے ایک شخص اہل جنت کی طرح اعمال کرتا رہتا ہے، جب اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو تقدیر غالب آجاتی ہے اور وہ اہل جہنم والے اعمال کر کے جہنم میں داخل ہوجاتا ہے اور ایک شخص جہنمیوں والے اعمال کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جہنم کے درمیان صرف ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے کہ اس پر تقدیر غالب آجاتی ہے اور اس کا خاتمہ جنتیوں والے اعمال پر ہوجاتا ہے اور وہ جنت میں داخل ہوجاتا ہے۔

3883Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُقْتَلُ نَفْسٌ ظُلْمًا إِلَّا كَانَ عَلَى ابْنِ آدَمَ كِفْلٌ مِنْ دَمِهَا ذَاكَ أَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ

حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا دنیا میں جو بھی ناحق قتل ہوتا ہے، اس کا گناہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے پہلے بیٹے (قابیل) کو بھی ہوتا ہے کیونکہ قتل کا رواج اسی نے ڈالا تھا۔

3884Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً فَلَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا فَإِنَّ ذَلِكَ يَحْزُنُهُ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم تین آدمی ہو تو تیسرے کو چھوڑ کردو آدمی سرگوشی نہ کرنے لگا کرو کیونکہ اس سے تیسرے کو غم ہوگا۔

3885Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَجُلًا أَصَابَ مِنْ امْرَأَةٍ قُبْلَةً فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ عَنْ كَفَّارَتِهَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَقِمْ الصَّلَاةَ طَرَفَيْ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنْ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلِي هَذِهِ قَالَ لِمَنْ عَمِلَ مِنْ أُمَّتِي

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے کسی اجنبی عورت کو بوسہ دے دیا، پھر نادم ہو کر نبی ﷺ سے اس کا کفارہ دریافت کرنے کے لئے آیا، اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرما دی کہ " دن کے دونوں حصوں اور رات کے کچھ حصے میں نماز قائم کرو، بیشک نیکیاں گناہوں کو ختم کردیتی ہیں ہیں " اس نے پوچھا یا رسول اللہ! ﷺ کیا یہ حکم میرے ساتھ خاص ہے؟ فرمایا نہیں، بلکہ میری امت کے ہر اس شخص کے لئے یہی حکم ہے جس سے ایسا عمل سرزد ہوجائے۔

3886Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ إِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا أَنَّ الرَّجُلَ يَكْذِبُ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ كَذَّابًا وَأَنَّ الرَّجُلَ لَيَصْدُقُ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ صِدِّيقًا

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا انسان مسلسل سچ بولتا اور اس کی تلاش میں رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے یہاں اسے صدیق لکھ دیا جاتا ہے اور انسان مسلسل جھوٹ بولتا اور اسی میں غور و فکر کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے یہاں اسے کذاب لکھ دیا جاتا ہے۔