Musnad Imam Ahmad 3877

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

3877Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ وَسُلَيْمَانُ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنُؤَاخَذُ بِمَا عَمِلْنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَالَ إِنْ أَحْسَنْتَ لَمْ تُؤَاخَذْ وَإِنْ أَسَأْتَ فِي الْإِسْلَامِ أُخِذْتَ بِالْأَوَّلِ وَالْآخِرِ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! اگر میں اسلام قبول کر کے اچھے اعمال اختیار کرلوں تو کیا زمانہ جاہلیت کے اعمال پر میرا مؤاخذہ ہوگا؟ نبی ﷺ نے فرمایا جب تم اسلام قبول کر کے اچھے اعمال اختیار کرلو تو زمانہ جاہلیت کے اعمال پر تمہارا کوئی مؤاخذہ نہ ہوگا لیکن اگر اسلام کی حالت میں برے اعمال کرتے رہے تو پہلے اور پچھلے سب کا مؤاخذہ ہوگا۔