ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

Musnad Imam Ahmad · Chapter 996 · 2,326 hadiths · Page 99 of 117

24887Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَدْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرْنَاهُ أَفَكَانَ طَلَاقًا

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ہمیں اپنے پاس رہنے یا دنیا لینے کا اختیار دیا، ہم نے نبی ﷺ کو اختیار کرلیا تو نبی ﷺ نے اسے ہم پر کوئی طلاق شمار نہیں کیا۔

24888Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُعَاذٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى مَخِيلَةً يَعْنِي الْغَيْمَ تَلَوَّنَ وَجْهُهُ وَتَغَيَّرَ وَدَخَلَ وَخَرَجَ وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ فَإِذَا مَطَرَتْ سُرِّيَ عَنْهُ قَالَتْ فَذَكَرَتْ لَهُ عَائِشَةُ بَعْضَ مَا رَأَتْ مِنْهُ فَقَالَ وَمَا يُدْرِينِي لَعَلَّهُ كَمَا قَالَ قَوْمُ عَادٍ فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهِ رِيحٌ فِيهَا عَذَابٌ أَلِيمٌ

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ جب بادل یا آندھی آتی تو نبی ﷺ کے روئے مبارک پر تفکرات کے آثار نظر آنے لگتے تھے اور وہ اندر باہر اور آگے پیچھے ہونے لگتے، جب وہ برس جاتے تو نبی ﷺ کی یہ کیفیت ختم ہوجاتی، ایک مرتبہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ لوگ بادل کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور انہیں یہ امید ہوتی ہے کہ اب بارش ہوگی اور میں آپ کو دیکھتی ہوں کہ بادلوں کو دیکھ کر آپ کے چہرے کے تفکرات کے آثار نظر آنے لگتے ہیں؟ نبی ﷺ نے فرمایا عائشہ! مجھے اس چیز سے اطمینان نہیں ہوتا کہ کہیں اس میں عذاب نہ ہو، کیونکہ اس سے پہلے ایک قوم پر آندھی کا عذاب ہوچکا ہے، جب ان لوگوں نے عذاب کو دیکھا تھا تو اسے بادل سمجھ کر یہ کہہ رہے تھے کہ یہ بادل ہم پر بارش برسائے گا لیکن اس میں عذاب تھا۔

24889Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُعَاذٌ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَتْ لَنَا حَصِيرَةٌ نَبْسُطُهَا بِالنَّهَارِ وَنَحْتَجِرُهَا بِاللَّيْلِ فَصَلَّى فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَسَمِعَ الْمُسْلِمُونَ قِرَاءَتَهُ فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهِ فَلَمَّا كَانَتْ اللَّيْلَةُ الثَّانِيَةُ كَثُرُوا فَاطَّلَعَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ اكْلَفُوا مِنْ الْأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا وَكَانَ أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَيْهِ أَدْوَمَهُ وَإِنْ قَلَّ قَالَتْ وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَثْبَتَهَا

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ ہمارے پاس ایک چٹائی تھی جسے دن کو ہم لوگ بچھا لیا کرتے تھے اور رات کے وقت اسی کو اوڑھ لیتے تھے، ایک مرتبہ رات کو نبی ﷺ نماز پڑھ رہے تھے، مسجد والوں کو پتہ چلا تو انہوں نے اگلے دن لوگوں سے اس کا ذکر کردیا، چناچہ اگلی رات کو بہت سے لوگ جمع ہوگئے، نبی ﷺ نے یہ دیکھ کر فرمایا اپنے آپ کو اتنے اعمال کا مکلف بناؤ جتنے کی تم طاقت رکھتے ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ تو نہیں اکتائے گا البتہ تم ضرور اکتا جاؤ گے اور نبی ﷺ کا معمول تھا کہ جب کسی وقت نماز شروع کرتے تو اس پر ثابت قدم رہتے اور نبی ﷺ کے نزدیک سب سے زیادہ عمل وہ ہوتا تھا جو دائمی ہوتا۔

24890Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُعَاذٌ قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ فَقَالَتْ كَانَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا وَلَيْلًا طَوِيلًا قَاعِدًا وَكَانَ إِذَا قَرَأَ قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا وَإِذَا قَرَأَ جَالِسًا رَكَعَ جَالِسًا

عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں میں نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے نبی ﷺ کی نفل نمازوں کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ رات کی نماز میں نبی ﷺ طویل فرماتے اور کافی دیر تک بیٹھتے، نبی ﷺ کھڑے ہو کر تلاوت اور رکوع و سجود فرماتے تھے اور بیٹھ کر بھی تلاوت اور رکوع و سجود فرماتے تھے۔

24891Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ دَاوُدَ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ عَائِشَةَ قَالَ قُلْتُ أَلَيْسَ اللَّهُ يَقُولُ وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى قَالَتْ أَنَا أَوَّلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُمَا فَقَالَ إِنَّمَا ذَاكِ جِبْرِيلُ لَمْ يَرَهُ فِي صُورَتِهِ الَّتِي خُلِقَ عَلَيْهَا إِلَّا مَرَّتَيْنِ رَآهُ مُنْهَبِطًا مِنْ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ سَادًّا عِظَمُ خَلْقِهِ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ

مسروق کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے یہاں ٹیک لگا کر بیٹھا ہوا تھا، میں نے ان سے پوچھا کہ کیا اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرماتا " تحقیق پیغمبر نے اسے آسمان کے کنارے پر واضح طور پر دیکھا ہے " اور یہ کہ " پیغمبر نے اسے ایک اور مرتبہ اترتے ہوئے بھی دیکھا ہے؟ " انہوں نے فرمایا اس کے متعلق سب سے پہلے میں نے ہی نبی ﷺ سے پوچھا تھا اور انہوں نے فرمایا تھا کہ اس سے مراد حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہیں، جنہیں میں نے ان کی اصلی صورت میں صرف دو مرتبہ دیکھا ہے، میں نے ایک مرتبہ انہیں آسمان سے اترتے ہوئے دیکھا تو ان کی عظیم جسمانی ہیئت نے آسمان و زمین کے درمیان کی فضاء کو پر کیا ہوا تھا۔

24892Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ دَاوُدَ عَنْ عَامِرٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ لَوْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَاتِمًا شَيْئًا مِمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ لَكَتَمَ هَذِهِ الْآيَاتِ عَلَى نَفْسِهِ وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ تَخْشَاهُ إِلَى قَوْلِهِ وَكَانَ أَمْرُ اللَّهِ مَفْعُولًا

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے اپنے اوپر نازل ہونے والی وحی میں سے کوئی آیت چھپانا ہوتی تو یہ آیت " جو ان کی اپنی ذات سے متعلق تھی " چھپاتے " اس وقت کو یاد کیجئے جب آپ اس شخص سے فرما رہے تھے جس پر اللہ نے بھی احسان کیا تھا اور آپ نے بھی احسان کیا تھا کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھو اور اللہ سے ڈرو، جبکہ آپ اپنے ذہن میں ایسے وسوسے پوشیدہ رکھے ہوئے تھے جن کا حکم بعد میں اللہ تعالیٰ ظاہر کرنے والا تھا اور آپ لوگوں کے طعنوں کا خوف کر رہے تھے۔ حالانکہ اللہ اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ اس سے ڈرا جائے اور اللہ کا حکم پورا ہو کر رہتا ہے "۔

24893Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ دَاوُدَ عَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ قَدْ فُرِضَتْ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ بِمَكَّةَ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ زَادَ مَعَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ إِلَّا الْمَغْرِبَ فَإِنَّهَا وِتْرُ النَّهَارِ وَصَلَاةَ الْفَجْرِ لِطُولِ قِرَاءَتِهِمَا قَالَ وَكَانَ إِذَا سَافَرَ صَلَّى الصَّلَاةَ الْأُولَى

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ مکہ مکرمہ میں نماز کی ابتدائی فرضیت دو دو رکعتوں کی صورت میں ہوئی تھی، لیکن جب نبی ﷺ مدینہ منورہ پہنچے تو حکم الٰہی کے مطابق ہر دو رکعتوں کے ساتھ دو رکعتوں کا اضافہ کردیا، سوائے نماز مغرب کے کہ وہ دن کے وتر ہیں اور نماز فجر کے کہ اس میں قرأت لمبی ہوجاتی ہے، البتہ جب نبی ﷺ سفر پر جاتے تو ابتدائی طریقے کے مطابق دو دو رکعتیں ہی پڑھتے تھے۔

24894Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ دَاوُدَ عَنْ عَزْرَةَ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ كَانَ لَنَا سِتْرٌ فِيهِ تَمَاثِيلُ طَيْرٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ حَوِّلِيهِ فَإِنِّي إِذَا رَأَيْتُهُ ذَكَرْتُ الدُّنْيَا وَكَانَتْ لَنَا قَطِيفَةٌ يَلْبَسُهَا تَقُولُ عَلَمُهَا حَرِيرٌ

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ ہمارے پاس ایک پردہ تھا جس پر کسی پرندے کی تصویر بنی ہوئی تھی، نبی ﷺ نے مجھ سے فرمایا عائشہ! اس پردے کو بدل دو، میں جب بھی گھر میں آتا ہوں اور اس پر میری نظر پڑتی ہے تو مجھے دنیا یاد آجاتی ہے، اسی طرح کی ہمارے پاس ایک چادر تھی جس کے متعلق ہم یہ کہتے تھے کہ اس کے نقش و نگار ریشم کے ہیں۔

24895Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ قَالَ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي الصِّدِّيقَةُ بِنْتُ الصِّدِّيقِ حَبِيبَةُ حَبِيبِ اللَّهِ الْمُبَرَّأَةُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ فَلَمْ أُكَذِّبْهَا

مسروق کہتے ہیں کہ مجھ سے صدیقہ بنت صدیق، حبیب اللہ (علیہ السلام) کی چہیتی اور ہر تہمت سے مبرا ہستی نے بیان کیا ہے کہ نبی ﷺ عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے، اس لئے میں ان کی تکذیب نہیں کرسکتا۔

24896Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ قَالَ أَخْبَرَنَا الدَّسْتُوَائِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ روزے کی حالت میں بوسہ دے دیا کرتے تھے۔

24897Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ الْحَدَّادُ عَنْ كَهْمَسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ أَيُّ النَّاسِ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ عَائِشَةُ قُلْتُ فَمِنْ الرِّجَالِ قَالَتْ أَبُوهَا

عبداللہ بن شقیق (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے پوچھا کہ نبی ﷺ کو سب سے زیادہ کس سے محبت تھی؟ انہوں نے بتایا عائشہ سے کہتے ہیں میں نے پوچھا کہ مردوں میں سے؟ انہوں نے فرمایا عائشہ کے والد سے۔

24898Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ دَاوُدَ عَنْ عَامِرٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَدْخُلُ الدَّجَّالُ مَكَّةَ وَلَا الْمَدِينَةَ

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا دجال مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں داخل نہیں ہو سگے گا۔

24899Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدَةُ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ رَجُلٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فِي بَيْتِهِ قَالَتْ كَانَ يُرَقِّعُ الثَّوْبَ وَيَخْصِفُ النَّعْلَ أَوْ نَحْوَ هَذَا

عروہ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے پوچھا کہ نبی ﷺ اپنے گھر میں کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا جیسے تم میں سے ہر کوئی کرتا ہے، نبی ﷺ اپنی جوتی خود سی لیتے تھے اور کپڑوں پر خود پیوند لگا لیتے تھے۔

24900Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدَةُ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا عَلِمْنَا أَيْنَ يُدْفَنُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَمِعْنَا صَوْتَ الْمَسَاحِي مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ لَيْلَةِ الْأَرْبِعَاءِ قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ وَالْمَسَاحِي الْمُرُورُ

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ ہم عورتوں کو کچھ معلوم نہیں تھا کہ نبی ﷺ کی تدفین کسی جگہ عمل میں آئے گی، یہاں تک کہ ہم نے منگل کی رات شروع ہونے کے بعد رات کے آخری پہر میں لوگوں کے گزرنے کی آوازیں سنیں۔

24901Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا أَيْمَنُ بْنُ نَابِلٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي لَيْثٍ عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَقْرَبٍ قَالَتْ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَيْكُمْ بِالتَّلْبِينِ الْبَغِيضِ النَّافِعِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُ يَغْسِلُ بَطْنَ أَحَدِكُمْ كَمَا يَغْسِلُ أَحَدُكُمْ وَجْهَهُ بِالْمَاءِ مِنْ الْوَسَخِ وَقَالَتْ كَانَ إِذَا اشْتَكَى مِنْ أَهْلِهِ إِنْسَانٌ لَا تَزَالُ الْبُرْمَةُ عَلَى النَّارِ حَتَّى يَأْتِيَ عَلَيْهِ أَحَدُ طَرَفَيْهِ وَقَالَ يَعْنِي رَوْحٌ بِبَغْدَادَ كَانَ إِذَا اشْتَكَى أَحَدٌ مِنْ أَهْلِهِ شَيْئًا لَا تَزَالُ

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ جب نبی ﷺ سے کہا جاتا کہ فلاں شخص بیمار ہے اور کچھ نہیں کھا رہا تو نبی ﷺ فرماتے کہ دلیا اختیار کرو جو اگرچہ طبیعت کو اچھا نہیں لگتا لیکن نفع بہت دیتا ہے اور وہ اسے کھلاؤ، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، یہ تمہارے پیٹ کو اس طرح دھو دیتا ہے جیسے تم میں سے کوئی شخص اپنے چہرہ کو پانی سے دھو کر میل کچیل سے صاف کرلیتا ہے نیز اگر نبی ﷺ کے اہل خانہ کے کوئی بیمار ہوجاتا تو آگ پر ہنڈیا مسلسل چڑھی رہتی، یہاں تک کہ دو میں سے کوئی ایک کام (موت یا صحت مند) ہوجاتا۔

24902Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ وَالضَّحَّاكُ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ يَقُولُ أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّهَا قَالَتْ لِلَعَّابِينَ وَدِدْتُ أَنِّي أَرَاهُمْ قَالَتْ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْبَابِ وَقُمْتُ وَرَاءَهُ أَنْظُرُ فِيمَا بَيْنَ أُذُنَيْهِ وَعَاتِقِهِ وَهُمْ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ قَالَ عَطَاءٌ فُرْسٌ أَوْ حَبَشٌ و قَالَ ابْنُ عُمَيْرٍ هُمْ حَبَشٌ

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عید کے دن نبی ﷺ کے سامنے کچھ حبشی کرتب دکھا رہے تھے، میں نبی ﷺ کے کندھے پر سر رکھ کر انہیں جھانک کر دیکھنے لگی تو نبی ﷺ نے اپنے کندھے میرے لئے جھکا دیئے، میں انہیں دیکھتی رہی اور جب دل بھر گیا تو واپس آگئی۔

24903Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ بُنَانَةَ مَوْلَاةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَيَّانَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ بَيْنَا هِيَ عِنْدَهَا إِذْ دُخِلَ عَلَيْهَا بِجَارِيَةٍ عَلَيْهَا جَلَاجِلُ يُصَوِّتْنَ فَقَالَتْ لَا تُدْخِلُوهَا عَلَيَّ إِلَّا أَنْ تَقْطَعُوا جَلَاجِلَهَا فَسَأَلَتْهَا بُنَانَةُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ جَرَسٌ وَلَا تَصْحَبُ رُفْقَةً فِيهَا جَرَسٌ

بنانہ کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ وہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی خدمت میں حاضر تھیں کہ ان کے یہاں ایک بچی آئی جس کے پاؤں میں گھونگھرو تھے اور ان کی بجنے کی آواز آرہی تھی، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا میرے پاس اس بچی کو نہ لاؤ، الاّ یہ کہ اس کے گھنگھرو اتار دو، چناچہ ایسا ہی کیا گیا، بنانہ نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے اس کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے جس میں گھنٹیاں ہوں اور ایسے قافلے کے ساتھ بھی فرشتے نہیں جاتے جس میں گھنٹیاں ہوں۔

24904Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَكْمَلَ صِيَامَ شَهْرٍ قَطُّ إِلَّا رَمَضَانَ وَمَا رَأَيْتُهُ فِي شَهْرٍ قَطُّ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی ﷺ اتنے روزے رکھتے تھے کہ ہم کہتے تھے اب نبی ﷺ روزے ہی رکھتے رہیں گے اور بعض اوقات اتنے ناغے کرتے کہ ہم کہتے تھے اب نبی ﷺ ناغے ہی کرتے رہیں گے اور میں نے جس کثرت کے ساتھ نبی ﷺ کو شعبان میں روزے رکھتے ہوئے دیکھا ہے، کسی مہینے میں نہیں دیکھا، نبی ﷺ اس کے صرف چند دن کو چھوڑ کر تقریباً پورا مہینہ ہی روزہ رکھتے تھے۔

24905Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بَكْرٍ عَاصِمٍ مَوْلًى لِقُرَيْبَةَ بِنْتِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ قُرَيْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْوِصَالِ فِي الصَّوْمِ فَقُلْتُ لَهُ إِنَّكَ تُوَاصِلُ قَالَ أَنَا لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ إِنِّي أَبِيتُ أُطْعَمُ وَأُسْقَى حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَاصِمٍ مَوْلَى قُرَيْبَةَ عَنْ قُرَيْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے صوم وصال سے منع فرمایا ہے، میں نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ آپ تو اسی طرح روزے رکھتے ہیں؟ نبی ﷺ نے فرمایا تم میں سے کسی کی طرح نہیں ہوں، میں تو اس حال میں رات گذارتا ہوں کہ مجھے کھلا پلا دیا جاتا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

24906Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا عَوْفٌ حَدَّثَنَا أَوْفَى بْنُ دَلْهَمٍ الْعَدَوِيُّ عَنْ مُعَاذَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنَالُ شَيْئًا مِنْ وُجُوهِنَا وَهُوَ صَائِمٌ

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ روزے کی حالت میں ہمیں بوسہ دے دیا کرتے تھے۔