ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ كِلَابٍ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَنْبِذُوا فِي الدُّبَّاءِ وَلَا فِي الْحَنْتَمِ وَلَا فِي النَّقِيرِ وَلَا فِي الْمُزَفَّتِ وَلَا تَنْبِذُوا الزَّبِيبَ وَالتَّمْرَ جَمِيعًا وَلَا تَنْبِذُوا الْبُسْرَ وَالرُّطَبَ جَمِيعًا
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: وباء، حنتم، نقیر اور مزفت میں نبیذ نہ بنایا کرو، کشمش اور کجھور کو ملا کر یا کچی اور پکی کجھور کو ملا کر نبیذ نہ بنایا کرو۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي زِيَادٌ أَنَّ أَبَا نَهِيكٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ كَانَ يَخْطُبُ النَّاسَ أَنْ لَا وَتْرَ لِمَنْ أَدْرَكَ الصُّبْحَ فَانْطَلَقَ رِجَالٌ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ إِلَى عَائِشَةَ فَأَخْبَرُوهَا فَقَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ فَيُوتِرُ
حضرت ابو درداء ؓ لوگوں سے تقریر کے دوران فرمایا کرتے تھے کہ جس شخص کو صبح کا وقت ہوجائے اور اس نے وتر نہ پڑھے ہوں تو اب اس کے وتر نہیں ہوں گے، کچھ لوگوں نے یہ بات جا کر حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کو بتائی تو انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ تو بعض اوقات صبح ہونے پر بھی وتر پڑھ لیا کرتے تھے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُعَاذٌ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْلُتُ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِهِ بِعِرْقِ الْإِذْخِرِ ثُمَّ يُصَلِّي فِيهِ وَيَحُتُّهُ مِنْ ثَوْبِهِ يَابِسًا ثُمَّ يُصَلِّي فِيهِ
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ بعض اوقات اپنے کپڑوں سے مادہ منویہ کو " اذخر " گھاس کے عرق سے دھو لیا کرتے تھے اور پھر انہی کپڑوں میں نماز پڑھ لیتے تھے اور اگر وہ مادہ خشک ہوگیا ہوتا تو نبی ﷺ اسے کھرچ دیتے تھے اور پھر انہی کپڑوں میں نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنِ ابْنِ حَزْمٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَتْ عَلَيَّ امْرَأَةٌ مَعَهَا ابْنَتَانِ لَهَا فَأَطْعَمْتُهَا تَمْرَةً فَشَقَّتْهَا بَيْنَهُمَا وَلَمْ تَأْكُلْ مِنْهَا شَيْئًا فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ لَهُ ذَلِكَ فَقَالَ مَنْ ابْتُلِيَ مِنْ الْبَنَاتِ بِشَيْءٍ فَأَحْسَنَ صُحْبَتَهُنَّ كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنْ النَّارِ
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک عورت ان کے پاس آئی، اس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں بھی تھیں، انہوں نے اس عورت کو ایک کجھور دی، اس نے کجھور کے دو ٹکڑے کر کے ان دونوں بچیوں میں اسے تقسیم کردیا (اور خود کچھ نہ کھایا) حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے نبی ﷺ سے اس واقعے کا تذکرہ کیا تو نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص کی ان بچیوں سے آزمائش کی جائے اور وہ ان کے ساتھ حسن سلوک کرے تو یہ اس کے لئے جہنم سے آڑ بن جائیں گی۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ خَيْثَمَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ إِنِّي لَأَعْلَمُ كَيْفَ كَانَتْ تَلْبِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ سَمِعْتُهَا لَبَّتْ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں سب سے زیادہ جانتی ہوں کہ نبی ﷺ کس طرح تلبیہ کہتے تھے، پھر انہوں نے تلبیہ کے یہ الفاظ دہرائے " لَبَّتْ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ "
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ خَيْثَمَةَ عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ إِنِّي لَأَعْلَمُ كَيْفَ كَانَتْ تَلْبِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثُمَّ سَمِعْتُهَا تُلَبِّي بَعْدَ ذَلِكَ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ قَالَ أَبِي أَبُو عَطِيَّةَ اسْمُهُ مَالِكُ بْنُ حَمْزَةَ
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں سب سے زیادہ جانتی ہوں کہ نبی ﷺ کس طرح تلبیہ کہتے تھے، پھر انہوں نے تلبیہ کے یہ الفاظ دہرائے " لَبَّتْ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ "
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ وَكَانَ يَتِيمًا فِي حِجْرِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْرَدَ الْحَجَّ
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے صرف حج کا احرام باندھا تھا۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْرَدَ الْحَجَّ
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے صرف حج کا احرام باندھا تھا۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ أَنَّ عُرْوَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَسَاقَ مَعَهُ الْهَدْيَ وَأَهَلَّ نَاسٌ مَعَهُ بِالْعُمْرَةِ وَسَاقُوا الْهَدْيَ وَأَهَلَّ نَاسٌ بِالْعُمْرَةِ وَلَمْ يَسُوقُوا هَدْيًا قَالَتْ عَائِشَةُ فَكُنْتُ مِمَّنْ أَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ وَلَمْ أَسُقْ هَدْيًا فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ أَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ فَسَاقَ مَعَهُ الْهَدْيَ فَلْيَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلَا يَحِلُّ مِنْهُ شَيْءٌ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَجَّهُ وَيَنْحَرَ هَدْيَهُ يَوْمَ النَّحْرِ وَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ أَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ وَلَمْ يَسُقْ مَعَهُ هَدْيًا فَلْيَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ لِيُفِضْ وَلْيَحِلَّ ثُمَّ لِيُهِلَّ بِالْحَجِّ وَلْيُهْدِ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجَّ الَّذِي خَافَ فَوْتَهُ وَأَخَّرَ الْعُمْرَةَ
ام المو منین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ حجتہ الوداع کے موقع پر نبی ﷺ نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا تھا اور اپنے ساتھ ہدی کا جانور لے گئے تھے، جبکہ کچھ لوگوں نے عمرے کا احرام باندھا اور ہدی ساتھ لے گئے اور کچھ لوگوں نے عمرہ کا احرام باندھا لیکن ہدی ساتھ نہیں لے کر گئے، میں اس آخری قسم کے لوگوں میں شامل تھی، مکہ مکرمہ پہنچ کر نبی ﷺ نے فرمایا تم میں سے جو شخص عمرے کا احرام باندھ کر ہدی ساتھ لایا ہے، اسے چاہیے کہ بیت اللہ کا طواف اور صفاء مروہ کی سعی کرلے اور دس ذی الحجہ کو قربانی کرنے اور حج مکمل ہونے تک اپنے اوپر کوئی چیز محرمات میں سے حلال نہ سمجھے اور جو ہدی نہیں لایا وہ طواف اور سعی کر کے حلال ہوجائے، بعد میں حج کا احرام باندھ کر ہدی لے جائے، جس شخص کو قربانی کا جانور نہ ملے، وہ حج کے ایام میں تین اور گھر واپس آنے کے بعد سات روزے رکھ لے اور نبی ﷺ نے اپنے حج کو " جس کے فوت ہونے کا اندیشہ تھا " مقدم کر کے عمرے کو مؤخر کردیا۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ لِتِسْعٍ وَعِشْرِينَ فَقُلْتُ إِنِّي مَا خَفِيَتْ عَلَيَّ مِنْهُنَّ لَيْلَةٌ إِنَّمَا مَضَتْ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ إِنَّ الشَّهْرَ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے قسم کھالی کہ ایک ماہ تک اپنی ازواج مطہرات کے پاس نہیں جائیں گے، ٢٩ دن گذرنے کے بعد سب سے پہلے نبی ﷺ میرے پاس تشریف لائے تو میں نے عرض کیا کہ میری شمار کے مطابق تو آج ٢٩ دن ہوئے ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا مہینہ بعض اوقات ٩ ٢ کا بھی ہوتا ہے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ لَا نُكَذِّبُهُ قَالَ أَخْبَرْتُ عَائِشَةَ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ فَأَنْكَرَتْ ذَلِكَ عَائِشَةُ وَقَالَتْ يَغْفِرُ اللَّهُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَيْسَ كَذَلِكَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنَّهُ قَالَ الشَّهْرُ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کو پتہ چلا کہ حضرت ابن عمر ؓ نبی ﷺ کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں کہ مہینہ ٢٩ کا ہوتا ہے، انہوں نے اس پر نکیر کرتے ہوئے فرمایا کہ عبدالرحمن کی اللہ بخشش فرمائے، نبی ﷺ نے یہ نہیں فرمایا تھا، انہوں نے تو یہ فرمایا تھا کہ مہینہ بعض اوقات ٢٩ کا ہوتا ہے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانُوا يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ قَبْلَ أَنْ يُفْرَضَ رَمَضَانُ وَكَانَ يَوْمٌ فِيهِ تُسْتَرُ الْكَعْبَةُ فَلَمَّا فَرَضَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رَمَضَانَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ شَاءَ أَنْ يَصُومَهُ فَلْيَصُمْهُ وَمَنْ شَاءَ أَنْ يَتْرُكَهُ فَلْيَتْرُكْهُ
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ دور جاہلیت میں قریش کے لوگ دس محرم کا روزہ رکھتے تھے، نبی ﷺ بھی یہ روزہ رکھتے تھے، مدینہ منورہ تشریف آوری کے بعد بھی نبی ﷺ یہ روزہ رکھتے رہے اور صحابہ ؓ کو یہ روزہ رکھنے کا حکم دیتے رہے، پھر جب ماہ رمضان کے روزے فرض ہوگئے تو نبی ﷺ ماہ رمضان ہی کے روزے رکھنے لگے اور عاشورہ کا روزہ چھوڑ دیا، اب جو چاہے وہ روزہ رکھ لے اور جو چاہے نہ رکھے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ عَنْ أَبِي صَالِحٍ الزَّيَّاتِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ فَلَا يَرْفُثْ يَوْمَئِذٍ وَلَا يَصْخَبْ فَإِنْ سَابَّهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ أَحَدٌ فَلْيَقُلْ إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص روزے سے ہو تو اس دن بیہودہ گوئی اور شورو غل نہ کرے، اگر کوئی شخص اسے گالی دینا یا لڑنا چاہے تو اس سے کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ مُطَرِّفَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی رکوع و سجود میں یہ پڑھتے تھے " سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ "
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی رکوع و سجود میں یہ پڑھتے تھے " سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ "
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ عُرْفُطَةَ قَالَ أَبِي وَإِنَّمَا هُوَ خَالِدُ بْنُ عَلْقَمَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ خَيْرٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ قَالَ أَبِي إِنَّمَا هُوَ خَالِدُ بْنُ عَلْقَمَةَ الْهَمْدَانِيُّ وَهِمَ شُعْبَةُ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے وباء حنتم اور مزفت نامی برتنوں کو استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنِ شُمَيْسَةَ أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ عَائِشَةَ فَقَامَ إِلَيْهَا إِنْسَانٌ فَقَالَ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ مَا تَقُولِينَ فِي نَبِيذِ الْجَرِّ فَقَالَتْ نَهَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مٹکے کی نیند سے منع فرمایا ہے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ شُمَيْسَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مٹکے سے منع فرمایا ہے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَعَوَّذُ فِي صَلَاتِهِ مِنْ الْمَغْرَمِ وَالْمَأْثَمِ فَقَالَ قَائِلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَكْثَرَ مَا تَعَوَّذُ مِنْ الْمَغْرَمِ فَقَالَ إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَرِمَ حَدَّثَ فَكَذَبَ وَوَعَدَ فَأَخْلَفَ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نماز میں یہ دعا مانگتے تھے، اے اللہ! میں گناہوں اور تاوان سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں، ایک مرتبہ کسی نے پوچھا یا رسول اللہ! ﷺ آپ اتنی کثرت سے تاوان سے پناہ کیوں مانگتے ہیں؟ نبی ﷺ نے فرمایا انسان پر جب تاوان آتا ہے (اور وہ مقروض ہوتا ہے) تو بات کرتے ہوئے جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کر کے اس کی خلاف ورزی کرتا ہے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خُذُوا مِنْ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا وَكَانَ أَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا دَاوَمَ عَلَيْهَا وَإِنْ قَلَّتْ وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً دَاوَمَ عَلَيْهَا
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ سال کے کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ روزے نہیں رکھتے تھے، کہ وہ تقریباً شعبان کا پورا مہینہ ہی روزہ رکھتے تھے اور فرماتے تھے کہ اتنا عمل کیا کرو جتنے کی تم میں طاقت ہو، کیونکہ اللہ تو نہیں اکتائے گا، البتہ تم ضرور اکتا جاؤگے اور نبی ﷺ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ نماز وہ ہوتی تھی جس پر دوام ہوسکے اگرچہ اس کی مقدار تھوڑی ہی ہو اور خود نبی ﷺ جب کوئی نماز پڑھتے تو اسے ہمیشہ پڑھتے تھے۔