ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

Musnad Imam Ahmad · Chapter 996 · 2,326 hadiths · Page 72 of 117

24347Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ غَالِبٍ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لِلْأَشْتَرِ أَنْتَ الَّذِي أَرَدْتَ قَتْلَ ابْنِ أُخْتِي قَالَ قَدْ حَرَصْتُ عَلَى قَتْلِهِ وَحَرَصَ عَلَى قَتْلِي قَالَتْ أَوَمَا عَلِمْتَ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَحِلُّ دَمُ رَجُلٍ إِلَّا رَجُلٌ ارْتَدَّ أَوْ تَرَكَ الْإِسْلَامَ أَوْ زَنَى بَعْدَمَا أُحْصِنَ أَوْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ

عمرو بن غالب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ ؓ نے اشتر سے فرمایا تم وہی ہو جس نے میرے بھانجے کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی، اشتر نے کہا جی ہاں! میں نے ہی اس کا ارادہ کر رکھا تھا، انہوں نے فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ کسی مسلمان کا خون بہانا جائز نہیں ہے، الاّ یہ کہ تین میں سے کوئی ایک وجہ ہو، شادی شدہ ہونے کے باوجود بدکاری کرنا، اسلام قبول کرنے کے بعد کافر ہوجانا، یا کسی شخص کو قتل کرنا جس کے بدلے میں اسے قتل کردیا جائے۔

24348Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ وَرْدَانَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ مَوْلًى لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَّ مِنْ عَذْقِ نَخْلَةٍ فَمَاتَ فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هَلْ لَهُ مِنْ نَسَبٍ أَوْ رَحِمٍ قَالُوا لَا قَالَ أَعْطُوا مِيرَاثَهُ بَعْضَ أَهْلِ قَرْيَتِهِ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنِ ابْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ وَرْدَانَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ فَدَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِيرَاثَهُ إِلَى أَهْلِ قَرْيَتِهِ

حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کا ایک آزاد کردہ غلام کھجور کے ایک درخت سے گر کر مرگیا، اس نے کچھ ترکہ چھوڑا لیکن کوئی اولاد یا دوست نہ چھوڑا، نبی ﷺ نے فرمایا اس کی وراثت اس کی بستی کے کسی آدمی کو دے دو۔

24349Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ وَابْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ خَيْثَمَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ إِنِّي لَأَعْلَمُ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ ثُمَّ سَمِعْتُهَا بَعْدُ لَبَّتْ

حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں سب سے زیادہ جانتی ہوں کہ نبی ﷺ کس طرح تلبیہ کہتے تھے، پھر انہوں نے تلبیہ کے یہ الفاظ دہرائے لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ .

24350Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا رَأَيْتُ إِنْسَانًا قَطُّ أَشَدَّ عَلَيْهِ الْوَجَعُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ سے زیادہ کسی انسان پر بیماری کی شدت کا اثر نہیں دیکھا۔

24351Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ الْأَمْرِ فَرَغِبَ عَنْهُ رِجَالٌ فَقَالَ مَا بَالُ رِجَالٍ آمُرُهُمْ الْأَمْرَ يَرْغَبُونَ عَنْهُ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُهُمْ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَأَشَدُّهُمْ لَهُ خَشْيَةً

حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک مرتبہ کسی کام میں رخصت عطا فرمائی تو کچھ لوگ اس رخصت کو قبول کرنے سے کنارہ کش رہے، نبی ﷺ نے فرمایا لوگوں کا کیا مسئلہ ہے کہ وہ ان چیزوں سے اعراض کرتے ہیں جن میں مجھے رخصت دی گئی ہے، واللہ میں ان سب سے زیادہ اللہ کو جاننے والا اور ان سب سے زیادہ اس سے ڈرنے والا ہوں۔

24352Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ مَالِكٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا مَرِضَ يَقْرَأُ عَلَى نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ وَيَنْفُثُ

حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ مرض الوفات میں " معوذات " پڑھ پڑھ کر اپنے اوپر دم کرتے تھے۔

24353Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ مَالِكٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اعْتَكَفَ يُدْنِي إِلَيَّ رَأْسَهُ أُرَجِّلُهُ وَكَانَ لَا يَدْخُلُ بَيْتَهُ إِلَّا لِحَاجَةِ الْإِنْسَانِ

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ معتکف ہوتے اور مسجد سے اپنا سر باہر نکال دیتے، میں اسے کنگھی کردیتی اور انسانی ضرورت کے علاوہ نبی ﷺ گھر نہ آتے تھے۔

24354Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ مَالِكٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ إِثْمٌ فَإِذَا كَانَ فِيهِ إِثْمٌ كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ مِنْ شَيْءٍ يُؤْتَى إِلَيْهِ إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ حُرْمَةُ اللَّهِ فَيَنْتَقِمَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ جب بھی نبی ﷺ کے سامنے دو چیزیں پیش کی جاتیں اور ان میں سے ایک چیز زیادہ آسان ہوتی تو نبی ﷺ آسان چیز کو اختیار فرماتے تھے، الاّ یہ کہ وہ گناہ ہو، کیونکہ اگر وہ گناہ ہوتا تو نبی ﷺ دوسرے لوگوں کی نسبت اس سے زیادہ سے زیادہ دور ہوتے تھے اور نبی ﷺ کی شان میں کوئی بھی گستاخی ہوتی تو نبی ﷺ اس آدمی سے کبھی انتقام نہیں لیتے تھے البتہ اگر محارم الٰہی کو پامال کیا جاتا تو اللہ کے لئے انتقام لیا کرتے تھے۔

24355Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ مَالِكٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يُوتِرُ مِنْهَا بِوَاحِدَةٍ فَإِذَا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ

حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ عشاء کے بعد گیارہ رکعتیں اور ان میں سے ایک وتر پڑھتے تھے اور جب نماز سے فارغ ہوجاتے تو پھر دائیں پہلو پر لیٹ جاتے۔

24356Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ عَنِ الْمِقْدَامِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ يَا أُمَّهْ بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يَبْدَأُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ عَلَيْكِ بَيْتَكِ وَبِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يَخْتِمُ قَالَتْ كَانَ يَبْدَأُ بِالسِّوَاكِ وَيَخْتِمُ بِرَكْعَتَيْ الْفَجْرِ

حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ رات کو جب اپنے گھر میں داخل ہوتے تھے تو سب سے پہلے مسواک فرماتے تھے اور جب گھر سے نکلتے تھے تو سب سے آخر میں فجر سے پہلے کی دو رکعتیں پڑھتے تھے۔

24357Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَابَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَبَقْتُهُ

حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے مجھ سے دوڑ کا مقابلہ کیا، اس مقابلے میں میں آگے نکل گئی۔

24358Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَنَامُ مُعْتَرِضَةً بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ غَمَزَنِي بِرِجْلِهِ فَقَالَ تَنَحَّيْ

حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی ﷺ رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے سامنے لیٹی ہوتی تھی اور جب وہ وتر پڑھنا چاہتے تو میرے پاؤں پر چٹکی بھر دیتے اور مجھے پیچھے ہٹنے کے لئے فرما دیتے تھے۔

24359Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَ قُلْتُ يَا أُمَّهْ كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ قَالَتْ كَانَ يُصَلِّي ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً تِسْعًا قَائِمًا وَثِنْتَيْنِ جَالِسًا وَثِنْتَيْنِ بَعْدَ النِّدَاءَيْنِ يَعْنِي بَيْنَ أَذَانِ الْفَجْرِ وَبَيْنَ الْإِقَامَةِ

حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے، نو رکعتیں کھڑے ہو کر اور دو بیٹھ کر، پھر صبح کی اذان سن کردو مختصر رکعتیں پڑھتے تھے۔

24360Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَقَدْ كَانَ يَأْتِي عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ الشَّهْرُ مَا يُرَى فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِهِ الدُّخَانُ قُلْتُ يَا أُمَّهْ وَمَا كَانَ طَعَامُهُمْ قَالَتْ الْأَسْوَدَانِ التَّمْرُ وَالْمَاءُ غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ لَهُ جِيرَانُ صِدْقٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَكَانَ لَهُمْ رَبَائِبُ فَكَانُوا يَبْعَثُونَ إِلَيْهِ مِنْ أَلْبَانِهَا

حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ آلِ محمد ﷺ پر بعض اوقات ایک ایک مہینہ اس طرح گزر جاتا تھا کہ نبی ﷺ کے کسی گھر میں آگ نہیں جلتی تھی، الاّ یہ کہ کہیں سے تھوڑا بہت گوشت آجائے اور ہمارے گزارے کے لئے صرف دو ہی چیزیں ہوتی تھیں یعنی پانی اور کجھور، البتہ ہمارے آس پاس انصار کے کچھ گھرانے آباد تھے، اللہ انہیں ہمیشہ جزائے خیر دے، کہ وہ روزانہ نبی ﷺ کے پاس اپنی بکری کا دودھ بھیج دیا کرتے تھے اور نبی ﷺ اسے نوش فرما لیا کرتے تھے۔

24361Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ مَا فَعَلَتْ الذَّهَبُ قَالَتْ قُلْتُ وَهِيَ عِنْدِي قَالَ ائْتِينِي بِهَا فَجِئْتُ بِهَا وَهِيَ مَا بَيْنَ التِّسْعِ أَوْ الْخَمْسِ فَوَضَعَهَا فِي يَدِهِ ثُمَّ قَالَ بِهَا وَأَشَارَ يَزِيدُ بِيَدِهِ مَا ظَنُّ مُحَمَّدٍ بِاللَّهِ لَوْ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهَذِهِ عِنْدَهُ أَنْفِقِيهَا

حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے اپنے مرض الوفات میں مجھ سے فرمایا اے عائشہ! وہ سونا کیا ہوا؟ وہ سات سے نو کے درمیان کچھ اشرفیاں لے کر آئیں، نبی ﷺ انہیں اپنے ہاتھ سے پلٹنے اور فرمانے لگے محمد ﷺ اللہ سے کس گمان کے ساتھ ملے گا جب کہ اس کے پاس یہ اشرفیاں موجود ہوں؟ انہیں خرچ کردو۔

24362Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ قَالَ قَالَتْ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةُ إِنْ كُنْتُ لَأَتَّزِرُ ثُمَّ أَدْخُلُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لِحَافِهِ وَأَنَا حَائِضٌ

حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ میں جب " ایام " سے ہوتی تو اپنی تہبند اچھی طرح باندھ لیتی، پھر نبی ﷺ کے ساتھ ان کے لحاف میں لیٹ جاتی تھی، لیکن وہ تم سے زیادہ اپنی خواہشات پر قابو رکھنے والے تھے۔

24363Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْنُبُ ثُمَّ يَنَامُ فَإِذَا قَامَ اغْتَسَلَ وَخَرَجَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ ثُمَّ يَصُومُ بَقِيَّةَ ذَلِكَ الْيَوْمِ

حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی ﷺ پر غسل واجب ہوتا اور وہ سو جاتے، جب بیدار ہوتے تو غسل کرلیتے اور جس وقت باہر نکلتے تو ان کے سر سے پانی کے قطرات ٹپک رہے ہوتے تھے، پھر نبی ﷺ اس دن کے بقیہ حصے میں روزہ رکھ لیتے تھے۔

24364Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ وَافَقْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ فَبِمَ أَدْعُو قَالَ قُولِي اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي

حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا اے اللہ کے نبی ﷺ! یہ بتائیے کہ اگر مجھے شب قدر حاصل ہوجائے تو میں اس میں کیا دعا مانگوں؟ نبی ﷺ نے فرمایا تم یہ دعا مانگا کرو کہ اے اللہ! تو خوب معاف کرنے والا ہے، معاف کرنے کو پسند بھی کرتا ہے، لہذا مجھے معاف فرما دے۔

24365Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي رَمَضَانَ وَصَلَّى خَلْفَهُ نَاسٌ بِصَلَاتِهِ ثُمَّ نَزَلَ اللَّيْلَةَ الثَّانِيَةَ فَكَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ثُمَّ كَثُرُوا فِي اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ فَلَمَّا كَانَتْ اللَّيْلَةُ الرَّابِعَةُ غَصَّ الْمَسْجِدُ بِأَهْلِهِ فَلَمْ يَنْزِلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا فِي ذَلِكَ مَا شَأْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَنْزِلْ فَسَمِعَ مَقَالَتَهُمْ فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي قَدْ سَمِعْتُ مَقَالَتَكُمْ وَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَنْزِلَ إِلَيْكُمْ إِلَّا مَخَافَةَ أَنْ يُفْتَرَضَ عَلَيْكُمْ قِيَامُ هَذَا الشَّهْرِ

حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ رمضان کے درمیان رات میں گھر سے نکلے اور مسجد میں جا کر نماز پڑھنے لگے، لوگ جمع ہوئے اور وہ بھی نبی ﷺ کی نماز میں شریک ہوگئے، اگلی رات کو پہلے سے زیادہ تعداد میں لوگ جمع ہوگئے، تیسرے دن بھی یہی ہوا، چوتھے دن بھی لوگ اتنے جمع ہوگئے کہ مسجد میں مزید کسی آدمی کے آنے کی گنجائش نہ رہی لیکن اس دن نبی ﷺ گھر میں بیٹھے رہے اور باہر نہیں نکلے، حتیٰ کہ میں نے بعض لوگوں کو " نماز نماز " کہتے ہوئے بھی سنا، لیکن نبی ﷺ باہر نہیں نکلے، پھر جب صبح ہوئی تو فرمایا تمہاری آج رات کی حالت مجھ سے پوشیدہ نہیں ہے، لیکن مجھے اس بات کا اندیشہ ہو چلا تھا کہ کہیں یہ نماز تم پر فرض نہ ہوجائے اور پھر تم اس سے عاجز آجاؤ۔

24366Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا كَهْمَسٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ وَافَقْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ بِمَ أَدْعُو قَالَ قُولِي اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي

حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا اے اللہ کے نبی ﷺ! یہ بتائیے کہ اگر مجھے شب قدر حاصل ہوجائے تو میں اس میں کیا دعا مانگوں؟ نبی ﷺ نے فرمایا تم یہ دعا مانگا کرو کہ اے اللہ! تو خوب معاف کرے والا ہے، معاف کرنے کو پسند کرتا ہے، لہذا مجھے بھی معاف فرمادے۔