Musnad Imam Ahmad 24347

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

24347Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ غَالِبٍ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لِلْأَشْتَرِ أَنْتَ الَّذِي أَرَدْتَ قَتْلَ ابْنِ أُخْتِي قَالَ قَدْ حَرَصْتُ عَلَى قَتْلِهِ وَحَرَصَ عَلَى قَتْلِي قَالَتْ أَوَمَا عَلِمْتَ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَحِلُّ دَمُ رَجُلٍ إِلَّا رَجُلٌ ارْتَدَّ أَوْ تَرَكَ الْإِسْلَامَ أَوْ زَنَى بَعْدَمَا أُحْصِنَ أَوْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ

عمرو بن غالب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ ؓ نے اشتر سے فرمایا تم وہی ہو جس نے میرے بھانجے کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی، اشتر نے کہا جی ہاں! میں نے ہی اس کا ارادہ کر رکھا تھا، انہوں نے فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ کسی مسلمان کا خون بہانا جائز نہیں ہے، الاّ یہ کہ تین میں سے کوئی ایک وجہ ہو، شادی شدہ ہونے کے باوجود بدکاری کرنا، اسلام قبول کرنے کے بعد کافر ہوجانا، یا کسی شخص کو قتل کرنا جس کے بدلے میں اسے قتل کردیا جائے۔