ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

Musnad Imam Ahmad · Chapter 996 · 2,326 hadiths · Page 71 of 117

24327Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ أَوْ بِذَاتِ الْجَيْشِ انْقَطَعَ عِقْدٌ لِي فَأَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْتِمَاسِهِ وَأَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ فَأَتَى النَّاسُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالُوا أَلَا تَرَى مَا صَنَعَتْ عَائِشَةُ أَقَامَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِالنَّاسِ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعٌ رَأْسَهُ عَلَى فَخِذِي فَقَالَ حَبَسْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسَ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ قَالَتْ فَعَاتَبَنِي أَبُو بَكْرٍ وَقَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ وَجَعَلَ يَطْعَنُ بِيَدِهِ فِي خَاصِرَتِي وَلَا يَمْنَعُنِي مِنْ التَّحَرُّكِ إِلَّا مَكَانُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَخِذِي فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَصْبَحَ النَّاسُ عَلَى غَيْرِ مَاءٍ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ آيَةَ التَّيَمُّمِ فَتَيَمَّمُوا فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ الْحَضِيرِ مَا هِيَ بِأَوَّلِ بَرَكَتِكُمْ يَا آلَ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ فَبَعَثْنَا الْبَعِيرَ الَّذِي كُنْتُ عَلَيْهِ فَوَجَدْنَا الْعِقْدَ تَحْتَهُ

حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ہمراہ کسی سفر پر روانہ ہوئے، جب ہم مقام بیداء یا ذات الحبیش میں پہنچے تو میرا ہار کہیں گر کر گم ہوگیا، نبی ﷺ نے کچھ لوگوں کو وہ ہار تلاش کرنے کے لئے بھیجا اور لوگ وہاں رک گئے، ادھر نماز کا وقت ہوگیا تھا اور لوگوں کے پاس پانی نہیں تھا، لوگ حضرت ابوبکر ؓ کے پاس آئے اور کہنے لگے دیکھئے تو سہی، عائشہ نے کیا کردیا؟ انہوں نے نبی ﷺ کو اور لوگوں کو ایسی جگہ رکوا دیا جہاں پانی نہیں ہے، حضرت صدیق اکبر ؓ ان کے پاس گئے تو نبی ﷺ اپنا سر میری ران پر رکھے ہوئے تھے، وہ کہنے لگے تم نے نبی ﷺ اور لوگوں کو روک دیا جب کہ ان کے پاس پانی تک نہیں ہے اور انہوں نے مجھے سخت ڈانٹا اور جو اللہ کو منظور ہوا، وہ مجھے کہا اور اپنے ہاتھ میری کوکھ میں چبھونے لگے اور میں اپنی ران پر نبی ﷺ کے سر مبارک کی وجہ سے حرکت بھی نہ کرسکی، نبی ﷺ یوں ہی سوتے رہے اور صبح تک لوگوں کو پانی نہ ملا، تو اللہ تعالیٰ نے تیمم کا حکم نازل فرما دیا، اس پر حضرت اسید بن حضیر ؓ سے کہا کہ اے آل ابی بکر یہ! تمہاری پہلی برکت نہیں ہے، وہ کہتی ہیں کہ جس اونٹ پر میں سوار تھی، جب اسے اٹھایا تو اس کے نیچے سے ہار بھی مل گیا۔

24328Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سَعْدٍ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ عَنْ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُنِي وَهُوَ صَائِمٌ وَأَنَا صَائِمَةٌ

حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے مجھے بوسہ دیا، وہ بھی روزے سے تھے اور میں بھی۔

24329Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ أَبِي عُذْرَةَ وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى الرِّجَالَ وَالنِّسَاءَ عَنْ الْحَمَّامَاتِ ثُمَّ رَخَّصَ لِلرِّجَالِ فِي الْمَيَازِرِ

حضرت عائشہ ؓ سے سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ابتداء میں مردوں اور عورتوں کو حمام میں جانے سے روک دیا تھا، بعد میں مردوں کو اس بات کی اجازت دے دی تھی کہ وہ تہبندے کے ساتھ حمام میں جاسکتے ہیں۔

24330Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ طَحْلَاءَ عَنْ أَبِي الرِّجَالِ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ بَيْتٌ لَيْسَ فِيهِ تَمْرٌ جِيَاعٌ أَهْلُهُ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ كَانَ سُفْيَانُ حَدَّثَنَاهُ عَنْهُ

حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا عائشہ! وہ گھر جس میں کجھور نہ ہو، ایسے ہے جس میں کھانے کی کوئی چیز نہ ہو اور وہاں رہنے والے بھوکے ہیں۔

24331Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ عَفَّانُ قَالَ أَخْبَرَنَا الْأَزْرَقُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ ذَكْوَانَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ چٹائی پر نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔

24332Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنِ السُّدِّيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْبَهِيِّ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْجَارِيَةِ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ قَالَتْ أَرَادَ أَنْ يَبْسُطَهَا فَيُصَلِّيَ عَلَيْهَا فَقَالَتْ إِنِّي حَائِضٌ فَقَالَ إِنَّ حَيْضَتَهَا لَيْسَتْ فِي يَدِهَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ السُّدِّيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْبَهِيِّ قَالَ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ فَذَكَرَهُ

حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ مسجد میں تھے کہ ایک باندی سے فرمایا مجھے چٹائی پکڑانا، نبی ﷺ اسے بچھا کر اس پر نماز پڑھنا چاہتے تھے، انہوں نے بتایا کہ وہ ایام سے ہے، نبی ﷺ نے فرمایا اس کے " ایام " اس کے ہاتھ میں سرایت نہیں کرگئے۔

24333Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنِ السُّدِّيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْبَهِيِّ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا كُنْتُ أَقْضِي مَا يَبْقَى عَلَيَّ مِنْ رَمَضَانَ حَيَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّهَا إِلَّا فِي شَعْبَانَ

حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ میں اپنے رمضان کے روزوں کی قضاء ماہ شعبان ہی میں کرتی تھی تاآنکہ نبی ﷺ کا وصال ہوگیا ہے۔

24334Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مِينَاءَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُ حَدَّثَتْنِي خَالَتِي عَائِشَةُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا لَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُ عَهْدٍ بِشِرْكٍ أَوْ بِجَاهِلِيَّةٍ لَهَدَمْتُ الْكَعْبَةَ فَأَلْزَقْتُهَا بِالْأَرْضِ وَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ بَابًا شَرْقِيًّا وَبَابًا غَرْبِيًّا وَزِدْتُ فِيهَا مِنْ الْحَجَرِ سِتَّةَ أَذْرُعٍ فَإِنَّ قُرِيْشًا اقْتَصَرَتْهَا حِينَ بَنَتْ الْكَعْبَةَ

ام المومنین حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر تمہاری قوم زمانہ جاہلیت کے قریب نہ ہوتی تو میں خانہ کعبہ کو شہید کرکے زمین کی سطح پر اس کے دو دروازے بنا دیتا، ایک دروازہ داخل ہونے کے لئے اور ایک دروازہ باہر نکلنے کے لئے اور حطیم کی جانب سے چھ گز زمین بیت اللہ میں شامل کردیتا، کیونکہ قریش نے خانہ کعبہ کی تعمیر کے وقت اسے کم کردیا تھا۔

24335Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ مَالِكٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ رَجُلٍ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ امْرِئٍ يَكُونُ لَهُ صَلَاةٌ مِنْ اللَّيْلِ يَغْلِبُهُ عَلَيْهَا نَوْمٌ إِلَّا كَانَ نَوْمُهُ عَلَيْهِ صَدَقَةً وَكُتِبَ لَهُ أَجْرُ صَلَاتِهِ

حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص رات کے کسی حصے میں اٹھ کر نماز پڑھتا ہو اور سوجاتا ہو تو اس کے لئے نماز کا اجر تو لکھا جاتا ہی ہے اس کی نیند بھی صدقہ ہوتی ہے جس کا ثواب اسے ملتا ہے۔

24336Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ ثُمَّ يُقَلِّدُهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ ثُمَّ يَبْعَثُ بِهَا مَعَ أَبِي فَلَا يَدَعُ شَيْئًا أَحَلَّهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ حَتَّى يَنْحَرَ الْهَدْيَ حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالَ حَدَّثَنِي سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ عَنْ خَالَتِهِ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ بِالشِّرْكِ لَهَدَمْتُ الْكَعْبَةَ فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ مَهْدِيٍّ

حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا میں نبی ﷺ کی ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھ سے بٹا کرتی تھی، پھر نبی ﷺ اپنے ہاتھ سے اپنا قلادہ باندھتے تھے، پھر میرے والد کے ساتھ اسے بھیج دیتے اور ہدی کا جانور ذبح ہونے تک کوئی حلال چیز نہ چھوڑتے تھے۔ ام المومنین حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر تمہاری قوم زمانہ جاہلیت کے قریب نہ ہوتی۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔

24337Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أُحِلَّ لَهُ النِّسَاءُ

حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کا وصال اس وقت تک نہیں ہوا جب تک ان کے لئے عورتیں حلال نہیں کردی گئیں۔ فائدہ: دراصل یہ سورت احزاب کی اس آیت کی طرف اشارہ ہے جس میں فرمایا گیا تھا کہ اب آپ کے لئے مزید عورتوں سے نکاح کرنا حلال نہیں ہے، بعد میں یہ پابندی ختم کردی گئی تھی، حضرت عائشہ ؓ کی یہ حدیث اسی بات کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔

24338Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ تَقُولُ إِنَّ بَرِيرَةَ كَانَتْ مُكَاتِبَةً لِأُنَاسٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَأَرَدْتُ أَنْ أَبْتَاعَهَا فَأَمَرْتُهَا أَنْ تَأْتِيَهُمْ فَتُخْبِرَهُمْ أَنِّي أُرِيدُ أَنْ أَبْتَاعَهَا فَأُعْتِقَهَا فَقَالُوا إِنْ جَعَلْتِ لَنَا وَلَاءَهَا ابْتَعْنَاهَا مِنْهَا فَاسْتَفْتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ وَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمِرْجَلُ يَفُورُ بِلَحْمٍ فَقَالَ مِنْ أَيْنَ لَكِ هَذَا قُلْتُ أَهْدَتْهُ لَنَا بَرِيرَةُ وَتُصُدِّقَ بِهِ عَلَيْهَا فَقَالَ هَذَا لبَرِيرَةَ صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ قَالَتْ وَكَانَتْ تَحْتَ عَبْدٍ فَلَمَّا أَعْتَقَهَا قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْتَارِي فَإِنْ شِئْتِ أَنْ تَمْكُثِي تَحْتَ هَذَا الْعَبْدِ وَإِنْ شِئْتِ أَنْ تُفَارِقِيهِ

ام المومنین حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ بریرہ انصار کے کچھ لوگوں کی " مکاتبہ " تھی، میں نے اسے خرید نے کا ارادہ کیا اور اس سے کہا کہ تم اپنے مالکوں کے پاس جاؤ اور انہیں بتاؤ کہ میں تمہیں خرید کر آزاد کرنا چاہتی ہوں، وہ کہنے لگے کہ اگر آپ اس کی ولاء ہمیں دینے کا وعدہ کریں تو ہم اسے آپ کو بیچ دیتے ہیں، میں نے نبی ﷺ سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی ﷺ نے فرمایا تم اسے خرید کر آزاد کردو، کیونکہ ولا اسی کو ملتی ہے جو غلام کو آزاد کرے۔ ایک مرتبہ نبی ﷺ میرے یہاں تشریف لائے تو ہنڈ یا میں گوشت ابل رہا تھا، نبی ﷺ نے فرمایا یہ کہاں سے آیا؟ میں نے عرض کیا کہ بریرہ نے ہمیں ہدیہ دیا ہے اور اسے صدقہ میں ملا ہے، نبی ﷺ نے فرمایا یہ بریرہ کے لئے صدقہ اور ہمارے لئے ہدیہ ہے، وہ کہتی ہیں کہ بریرہ غلام کے نکاح میں تھی، جب وہ آزاد ہوئی تو نبی ﷺ نے اسے اختیار دیتے ہوئے فرمایا کہ چاہو تو اسی غلام کے نکاح میں رہو اور چاہو تو جدائی اختیار کرلو۔

24339Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي فِي إِزَارٍ وَرِدَاءٍ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَبَسَطَ يَدَهُ وَقَالَ اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فَأَيُّ عَبْدٍ مِنْ عِبَادِكَ ضَرَبْتُ أَوْ آذَيْتُ فَلَا تُعَاقِبْنِي فِيهِ

حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ میرے پاس ایک تہبند اور ایک چادر میں تشریف لائے قبلہ کی جانب رخ کیا اور اپنے ہاتھ پھیلا کر دعا کی کہ اے اللہ! میں بھی ایک انسان ہوں اس لئے آپ کے جس بندے کو میں نے مارا ہو یا ایذاء پہنچائی ہو تو اس پر مجھ سے مواخذہ نہ کیجئے گا۔

24340Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَسُبُّوا الْأَمْوَاتَ فَإِنَّهُمْ قَدْ أَفْضَوْا إِلَى مَا قَدَّمُوا

حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا مردوں کو برا بھلا مت کہا کرو کیونکہ انہوں نے جو اعمال آگے بھیجے تھے، وہ ان کے پاس پہنچ چکے ہیں۔

24341Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ وحَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ قَالَا حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ شَرِيكِ بْنِ نَمِرٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ عَائِشَةَ إِذَا ذَهَبَ ثُلُثَا اللَّيْلِ إِلَى الْبَقِيعِ فَيَقُولُ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ دَارِ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ فَإِنَّا وَإِيَّاكُمْ وَمَا تُوعَدُونَ غَدًا مُؤَجَّلُونَ قَالَ أَبُو عَامِرٍ تُؤَجَّلُونَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ

حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے دو پہر گذرنے کے بعد نبی ﷺ جنت البقیع تشریف لے گئے، وہاں پہنچ کر نبی ﷺ نے فرمایا: " السلام علیکم دار قوم مومنین " تم لوگ ہم سے چلے گئے اور ہم بھی تم سے آکر ملنے والے ہیں۔

24342Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ سَمِعَ الْقَاسِمَ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ

حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص ہمارے اس طریقے کے علاوہ کوئی اور طریقہ ایجاد کرتا ہے تو وہ مردود ہے۔

24343Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ أَدْوَمُهُ وَإِنْ قَلَّ قَالَ وَسَمِعْتُهُ يَعْنِي أَبَا سَلَمَةَ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ أَوْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اكْلَفُوا مِنْ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ

حضرت عائشہ ؓ مروی ہے کہ نبی ﷺ سے کسی نے پوچھا کہ اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل کونسا ہے؟ انہوں نے فرمایا جو ہمیشہ ہو، اگر تھوڑا ہو۔

24344Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ زَيْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَقِيلُو ذَوِي الْهَيْئَاتِ عَثَرَاتِهِمْ إِلَّا الْحُدُودَ

حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا عام طور پر جرائم میں ملوث نہ ہونے والے افراد کی معمولی لغزشوں کی نظر انداز کردیا کرو، الاّ یہ کہ حدود اللہ کا معاملہ ہو۔

24345Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ لَا يَحِلُّ دَمُ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ إِلَّا ثَلَاثَةَ نَفَرٍ التَّارِكُ الْإِسْلَامَ وَالْمُفَارِقُ الْجَمَاعَةَ وَالثَّيِّبُ الزَّانِي وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ قَالَ الْأَعْمَشُ فَحَدَّثْتُ بِهِ إِبْرَاهِيمَ فَحَدَّثَنِي عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ بِمِثْلِهِ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ہمارے درمیان کھڑے ہو کر ارشاد فرمایا اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، جو مسلمان اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا پیغمبر ہوں، اس کا خون حلال نہیں ہے، سوائے تین میں سے کسی ایک صورت کے، یا تو شادی شدہ ہو کر بدکاری کرے، یا قصاصاً قتل کرنا پڑے یا وہ شخص جو اپنے دین کو ہی ترک کردے اور جماعت سے جدا ہوجائے۔ گذشتہ حدیث اس سند سے حضرت عائشہ ؓ بھی مروی ہے۔

24346Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُرْمِهِ حِينَ أَحْرَمَ وَلِحِلِّهِ حِينَ أَحَلَّ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ میں نے اپنے ان دونوں ہاتھوں سے نبی ﷺ کے احرام پر خوشبو لگائی ہے جبکہ نبی ﷺ احرام باندھتے تھے اور طوافِ زیارت سے قبل حلال ہونے کے بعد بھی خوشبو لگائی ہے۔