ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكَعَاتٍ
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ رات کو نو رکعتیں پڑھتے ہیں۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ خَرَجْنَا نُرِيدُ الْحَجَّ فَلَمْ أَطُفْ فَقُلْتُ يَرْجِعُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ وَأَرْجِعُ بِحَجَّةٍ قَالَتْ صَفِيَّةُ مَا أُرَانِي إِلَّا حَابِسَتَكُمْ قَالَ عَقْرَى حَلْقَى قَالَ طُفْتِ يَوْمَ النَّحْرِ قَالَتْ نَعَمْ قَالَتْ فَأَمَرَهَا فَنَفَرَتْ
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ہمراہ روانہ ہوئے، ہماری نیت صرف حج کرنا تھی، میں نے عرض کیا یار سول اللہ! ﷺ کیا آپ کے صحابہ حج اور عمرہ دونوں کے ساتھ اور میں صرف حج کے ساتھ واپس جاؤنگی؟ اسی دوران حضرت صفیہ کے " ایام " شروع ہوگئے، نبی ﷺ نے فرمایا یہ عورتیں تو کاٹ دیتی ہیں اور مونڈ دیتی ہیں، تم ہمیں ٹھہرنے پر مجبور کر دوگی، کیا تم نے دس ذی الحجہ کو طواف زیارت نہیں کیا تھا؟ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں، نبی ﷺ نے فرمایا بس پھر کوئی حرج نہیں، اب روانہ ہوجاؤ۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ نَزَلَتْ عَلَيْهِ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ يُصَلِّي صَلَاةً إِلَّا دَعَا وَقَالَ سُبْحَانَكَ رَبِّي وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ سورت نصر کے نزول کے بعد میں نے جب بھی نبی ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو نبی ﷺ نے دعاء کر کے یہ ضرور کہا " سُبْحَانَكَ رَبِّي وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي "
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ رَأَيْتُ وَبِيصَ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ (میں نبی ﷺ کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور گویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ حالت احرام میں نبی ﷺ کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَطْيَبِ مَا أَجِدُ مِنْ الطِّيبِ حَتَّى أَنِّي أَرَى وَبِيصَ الطِّيبِ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ میں نبی ﷺ کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور گویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ میں حالت احرام میں نبی ﷺ کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ صَفِيَّةَ حَاضَتْ قَبْلَ النَّفْرِ فَسَأَلَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ كُنْتِ طُفْتِ طَوَافَ يَوْمِ النَّحْرِ قَالَتْ نَعَمْ فَأَمَرَهَا أَنْ تَنْفِرَ فَنَفَرَتْ
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ رونگی سے پہلے حضرت صفیہ کے " ایام " شروع ہوگئے، نبی ﷺ نے فرمایا تم ہمیں ٹھہرنے پر مجبور کر دوگی، کیا تم نے دس ذی الحجہ کو طواف زیارت نہیں کیا تھا؟ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں، نبی ﷺ نے فرمایا بس پھر کوئی حرج نہیں، اب روانہ ہوجاؤ۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يُسَارِعُ إِلَى شَيْءٍ مَا يُسَارِعُ إِلَى الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ فجر سے پہلے کی دو رکعتوں کی طرف جتنی سبقت فرماتے تھے، کسی اور چیز کی طرف نہ فرماتے تھے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ خَصِيفٍ قَالَ حَدَّثَنِي رَجُلٌ مُنْذُ ثَلَاثِينَ سَنَةً عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَجْمَرْتُ شَعْرِي إِجْمَارًا شَدِيدًا فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ أَمَا عَلِمْتِ أَنَّ عَلَى كُلِّ شَعَرَةٍ جَنَابَةً
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنے سر کے بالوں کا بڑا مضبوط جوڑا باندھ لیا، تو نبی ﷺ نے مجھ سے فرمایا اے عائشہ! کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ جنابت کا اثر ہر بال تک پہنچتا ہے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ عَنِ أَبِيهِ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ كَانَ يُصَلِّي قَالَتْ كَانَ يُصَلِّي الْهَجِيرَ ثُمَّ يُصَلِّي بَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ
شریح کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے پوچھا کہ نبی ﷺ کس طرح نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ ظہر کی نماز پڑھتے تھے اور اس کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنِ الْمِقْدَامِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ قَالَتْ كَانَ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ فَإِذَا دَخَلَ تَسَوَّكَ
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ رات کو جب اپنے گھر میں داخل ہوتے تھے تو سب سے پہلے مسواک فرماتے تھے اور جب گھر سے نکلتے تھے تو سب سے آخر میں فجر سے پہلے کی دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ قَالَ سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ فجر سے پہلے دو مختصر رکعتیں پڑھتے، پھر دائیں پہلو پر لیٹ جاتے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبِيتُ جُنُبًا فَيَأْتِيهِ بِلَالٌ فَيُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ فَيَقُومُ فَيَغْتَسِلُ فَأَنْظُرُ إِلَى تَحَادُرِ الْمَاءِ فِي شَعْرِهِ وَجِلْدِهِ ثُمَّ يَخْرُجُ فَأَسْمَعُ صَوْتَهُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ ثُمَّ يَظَلُّ صَائِمًا
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ بعض اوقات صبح کے وقت اختیاری طور پر ناپاک ہوتے تو غسل فرماتے، ان کے بالوں اور جسم سے پانی کے قطرے ٹپک رہے ہوتے تھے اور وہ نماز کیلئے چلے جاتے اور میں ان کی قرأت سنتی تھی اور اس دن نبی ﷺ روزے سے ہوتے تھے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ عَنْ عَامِرٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَظَلُّ صَائِمًا مَا يُبَالِي مَا قَبَّلَ مِنْ وَجْهِي حَتَّى يُفْطِرَ
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ روزے کی حالت میں مجھے بوسہ دے دیا کرتے تھے اور اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ قَالَ حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرُّقْيَةِ مِنْ كُلِّ ذِي حُمَةٍ
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ہر ڈنگ والی چیز سے جھاڑ پھونک کرنے کی اجازت دی تھی۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا نُبَيْهٍ يَقُولُ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَحْتَ الْكَعْبِ مِنْ الْإِزَارِ فَفِي النَّارِ
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا تہبند کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچا رہے گا وہ جہنم میں ہوگا۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا وَائِلٌ قَالَ سَمِعْتُ الْبَهِيَّ يُحَدِّثُ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ فِي جَيْشٍ قَطُّ إِلَّا أَمَّرَهُ عَلَيْهِمْ وَإِنْ بَقِيَ بَعْدَهُ اسْتَخْلَفَهُ
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے جب کبھی لشکر میں حضرت زید بن حارثہ کو بھیجا تو انہی کو اس لشکر کا امیر مقرر فرمایا: اگر وہ نبی ﷺ کے بعد زندہ رہتے تو نبی ﷺ انہی کو اپنا خلیفہ مقرر فرماتے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ قَالَ اعْتَلَجَ نَاسٌ فَأَصَابَ طُنُبُ الْفُسْطَاطِ عَيْنَ رَجُلٍ مِنْهُمْ فَضَحِكُوا فَقَالَتْ عَائِشَةُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ مُؤْمِنٍ تَشُوكُهُ شَوْكَةٌ فَمَا فَوْقَهَا إِلَّا حَطَّ اللَّهُ عَنْهُ خَطِيئَةً وَرَفَعَ لَهُ بِهَا دَرَجَةً
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کو کانٹا چبھنے کی یا اس سے بھی کم درجے کی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اس کے بدلے اس کا ایک درجہ بلند کردیا جاتا ہے اور ایک گناہ معاف کردیا جاتا ہے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُطِيعٌ الْغَزَّالُ عَنْ كُرْدُوسٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَقَدْ مَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَبِيلِهِ وَمَا شَبِعَ أَهْلُهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ طَعَامِ بُرٍّ
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے کبھی تین دن تک پیٹ بھر کر گندم کی روٹی نہیں کھائی، حتیٰ کہ دنیا سے رخصت ہوگئے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ صَمْعَةَ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ قَالَ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّهَا كَانَتْ تَغْتَسِلُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ میں اور نبی ﷺ ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي لَمْ يَقُمْ مِنْهُ لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ قَالَ وَقَالَتْ عَائِشَةُ لَوْلَا ذَلِكَ أَبْرَزَ قَبْرَهُ وَلَكِنَّهُ خَشِيَ أَنْ يُتَّخَذَ مَسْجِدًا
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ اپنے اس مرض میں " جس سے آپ جانبر نہ ہو سکے " ارشاد فرمایا کہ یہود و نصاریٰ پر اللہ کی لعنت نازل ہو، انہوں نے اپنے انبیاء (علیہم السلام) کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی ﷺ کو صرف یہ اندیشہ تھا کہ ان کی قبر کو سجدہ گاہ نہ بنایا جائے ورنہ قبر مبارک کو کھلا رکھنے میں کوئی حرج نہ تھا۔