Musnad Imam Ahmad 25008

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

25008Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ خَرَجْنَا نُرِيدُ الْحَجَّ فَلَمْ أَطُفْ فَقُلْتُ يَرْجِعُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ وَأَرْجِعُ بِحَجَّةٍ قَالَتْ صَفِيَّةُ مَا أُرَانِي إِلَّا حَابِسَتَكُمْ قَالَ عَقْرَى حَلْقَى قَالَ طُفْتِ يَوْمَ النَّحْرِ قَالَتْ نَعَمْ قَالَتْ فَأَمَرَهَا فَنَفَرَتْ

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ہمراہ روانہ ہوئے، ہماری نیت صرف حج کرنا تھی، میں نے عرض کیا یار سول اللہ! ﷺ کیا آپ کے صحابہ حج اور عمرہ دونوں کے ساتھ اور میں صرف حج کے ساتھ واپس جاؤنگی؟ اسی دوران حضرت صفیہ کے " ایام " شروع ہوگئے، نبی ﷺ نے فرمایا یہ عورتیں تو کاٹ دیتی ہیں اور مونڈ دیتی ہیں، تم ہمیں ٹھہرنے پر مجبور کر دوگی، کیا تم نے دس ذی الحجہ کو طواف زیارت نہیں کیا تھا؟ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں، نبی ﷺ نے فرمایا بس پھر کوئی حرج نہیں، اب روانہ ہوجاؤ۔