حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ دَخَلَ الْعَبَّاسُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَنَخْرُجُ فَنَرَى قُرَيْشًا تَحَدَّثُ فَإِذَا رَأَوْنَا سَكَتُوا فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَرَّ عِرْقٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ثُمَّ قَالَ وَاللَّهِ لَا يَدْخُلُ قَلْبَ امْرِئٍ إِيمَانٌ حَتَّى يُحِبَّكُمْ لِلَّهِ وَلِقَرَابَتِي
عبدالمطلب بن ربیعہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عباس ؓ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! ہم لوگ باہر نکلتے ہیں اور دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ قریش کے لوگ آپس میں باتیں کر رہے ہیں لیکن ہمیں دیکھ کر وہ خاموش ہوجاتے ہیں، اس پر نبی ﷺ کو غصہ آیا اور دونوں آنکھوں کے درمیان موجود رگ پھول گئی، پھر فرمایا اللہ کی قسم! کسی شخص کے دل میں اس وقت تک ایمان داخل نہیں ہوسکتا جب تک وہ اللہ کی رضا کے لئے اور میری قرابت کی وجہ سے تم سے محبت نہ کرنے لگے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ يَعْنِي الشَّافِعِيَّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَاقَ طَعْمَ الْإِيمَانِ مَنْ رَضِيَ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا رَسُولًا
حضرت عباس ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس شخص نے ایمان کا مزہ چکھ لیا جو اللہ کو رب مان کر، اسلام کو دین مان کر اور محمد ﷺ کو پیغمبر مان کر راضی اور مطمئن ہوگیا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ الْهَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَاقَ طَعْمَ الْإِيمَانِ مَنْ رَضِيَ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا
حضرت عباس ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس شخص نے ایمان کا مزہ چکھ لیا جو اللہ کو رب مان کر، اسلام کو دین مان کر اور محمد ﷺ کو پیغمبر مان کر راضی اور مطمئن ہوگیا
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ الْقُرَشِيُّ عَنِ ابْنِ الْهَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا سَجَدَ الْعَبْدُ سَجَدَ مَعَهُ سَبْعَةُ آرَابٍ وَجْهُهُ وَكَفَّاهُ وَرُكْبَتَاهُ وَقَدَمَاهُ
حضرت عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب انسان سجدہ کرتا ہے تو اس کے ساتھ سات ہڈیاں سجدہ کرتی ہیں، چہرہ، دونوں ہاتھ، دونوں پاؤں اور دونوں گھٹنے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ النَّصْرِيُّ أَنَّ عُمَرَ دَعَاهُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فَبَيْنَا أَنَا عِنْدَهُ إِذْ جَاءَ حَاجِبُهُ يَرْفَأُ فَقَالَ هَلْ لَكَ فِي عُثْمَانَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ وَالزُّبَيْرِ وَسَعْدٍ يَسْتَأْذِنُونَ قَالَ نَعَمْ فَأَدْخَلَهُمْ فَلَبِثَ قَلِيلًا ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ هَلْ لَكَ فِي عَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ يَسْتَأْذِنَانِ قَالَ نَعَمْ فَأَذِنَ لَهُمَا فَلَمَّا دَخَلَا قَالَ عَبَّاسٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ اقْضِ بَيْنِي وَبَيْنَ هَذَا لَعَلِيٍّ وَهُمَا يَخْتَصِمَانِ فِي الصَّوَافِ الَّتِي أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَمْوَالِ بَنِي النَّضِيرِ فَقَالَ الرَّهْطُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ اقْضِ بَيْنَهُمَا وَأَرِحْ أَحَدَهُمَا مِنْ الْآخَرِ قَالَ عُمَرُ اتَّئِدُوا أُنَاشِدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ يُرِيدُ نَفْسَهُ قَالُوا قَدْ قَالَ ذَلِكَ فَأَقْبَلَ عُمَرُ عَلَى عَلِيٍّ وَعَلَى الْعَبَّاسِ فَقَالَ أَنْشُدُكُمَا بِاللَّهِ أَتَعْلَمَانِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَلِكَ قَالَا نَعَمْ قَالَ فَإِنِّي أُحَدِّثُكُمْ عَنْ هَذَا الْأَمْرِ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَانَ خَصَّ رَسُولَهُ فِي هَذَا الْفَيْءِ بِشَيْءٍ لَمْ يُعْطِهِ أَحَدًا غَيْرَهُ فَقَالَ وَمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ إِلَى قَدِيرٌ فَكَانَتْ هَذِهِ خَاصَّةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ وَاللَّهِ مَا احْتَازَهَا دُونَكُمْ وَلَا اسْتَأْثَرَ بِهَا عَلَيْكُمْ لَقَدْ أَعْطَاكُمُوهَا وَبَثَّهَا فِيكُمْ حَتَّى بَقِيَ مِنْهَا هَذَا الْمَالُ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ نَفَقَةَ سَنَتِهِمْ مِنْ هَذَا الْمَالِ ثُمَّ يَأْخُذُ مَا بَقِيَ فَيَجْعَلُهُ مَجْعَلَ مَالِ اللَّهِ فَعَمِلَ بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيَاتَهُ ثُمَّ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبَضَهُ أَبُو بَكْرٍ فَعَمِلَ فِيهِ بِمَا عَمِلَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
مالک بن اوس بن حدثان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق ؓ نے مجھے پیغام بھیج کر بلوایا، ابھی ہم بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت عمر ؓ کا غلام جس کا نام یرفا تھا اندر آیا اور کہنے لگا کہ حضرت عثمان، عبدالرحمن، سعد اور حضرت زبیر بن العوام ؓ اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں؟ فرمایا انہیں بھی بلا لو۔ حضرت عباس ؓ نے اندر داخل ہوتے ہی فرمایا امیرالمومنین! میرے اور اس کے درمیان فیصلہ کر دیجئے، اس وقت ان کا جھگڑا بنو نضیر سے حاصل ہونے والے مال فئی کے بارے میں تھا، لوگوں نے بھی کہا کہ امیرالمومنین! ان کے درمیان فیصلہ کر دیجئے اور ہر ایک کو دوسرے سے راحت عطاء فرمائیے، حضرت عمر ؓ نے فرمایا میں تمہیں اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کے حکم سے زمین آسمان قائم ہیں، کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے ہمارے مال میں وراثت جاری نہیں ہوتی، ہم جو کچھ چھوڑ جاتے ہیں وہ سب صدقہ ہوتا ہے؟ لوگوں نے اثبات میں جواب دیا، پھر انہوں نے حضرت عباس و علی ؓ سے بھی یہی سوال پوچھا اور انہوں نے بھی تائید کی، اس کے بعد انہوں نے فرمایا کہ میں تمہیں اس کی حقیقت سے آگاہ کرتا ہوں۔ اللہ نے یہ مال فئی خصوصیت کے ساتھ صرف نبی ﷺ کو دیا تھا، کسی کو اس میں سے کچھ نہیں دیا تھا اور فرمایا " وما افاء اللہ علی رسولہ منہم فما اوجفتم علیہ من خیل ولا رکاب " اس لئے یہ مال نبی ﷺ کے لئے خاص تھا، لیکن بخدا! انہوں نے تمہیں چھوڑ کر اپنے لئے محفوظ نہیں کیا اور نہ ہی اس مال کو تم پر ترجیح دی، انہوں نے یہ مال بھی تمہارے درمیان تقسیم کردیا یہاں تک کہ یہ تھوڑا سا بچ گیا جس میں سے وہ اپنے اہل خانہ کو سال بھر کا نفقہ دیا کرتے تھے اور اس مال میں سے بھی اگر کچھ بچ جاتا تو اسے اللہ کے راستہ میں تقسیم کردیتے، جب نبی ﷺ کا وصال ہوگیا تو حضرت صدیق اکبر ؓ نے فرمایا کہ نبی ﷺ کے بعد ان کے مال کا ذمہ دار اور سرپرست میں ہوں، چناچہ انہوں نے اس میں وہی طریقہ اختیار کیا جس پر نبی ﷺ چلتے رہے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ قَالَ أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ النَّصْرِيُّ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فَبَيْنَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَهُ أَتَاهُ حَاجِبُهُ يَرْفَأُ فَقَالَ لِعُمَرَ هَلْ لَكَ فِي عُثْمَانَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ وَسَعْدٍ وَالزُّبَيْرِ يَسْتَأْذِنُونَ قَالَ نَعَمْ ائْذَنْ لَهُمْ قَالَ فَدَخَلُوا فَسَلَّمُوا وَجَلَسُوا قَالَ ثُمَّ لَبِثَ يَرْفَأُ قَلِيلًا فَقَالَ لِعُمَرَ هَلْ لَكَ فِي عَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ فَقَالَ نَعَمْ فَأَذِنَ لَهُمَا فَلَمَّا دَخَلَا عَلَيْهِ جَلَسَا فَقَالَ عَبَّاسٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ اقْضِ بَيْنِي وَبَيْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ الرَّهْطُ عُثْمَانُ وَأَصْحَابُهُ اقْضِ بَيْنَهُمَا وَأَرِحْ أَحَدَهُمَا مِنْ الْآخَرِ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اتَّئِدُوا فَأَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ يُرِيدُ بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفْسَهُ قَالَ الرَّهْطُ قَدْ قَالَ ذَلِكَ فَأَقْبَلَ عُمَرُ عَلَى عَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَ أَنْشُدُكُمَا بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمَانِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَلِكَ قَالَا قَدْ قَالَ ذَلِكَ فَقَالَ عُمَرُ فَإِنِّي أُحَدِّثُكُمْ عَنْ هَذَا الْأَمْرِ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَانَ خَصَّ رَسُولَهُ فِي هَذَا الْفَيْءِ بِشَيْءٍ لَمْ يُعْطِهِ أَحَدًا غَيْرَهُ فَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى وَمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ الْآيَةَ فَكَانَتْ هَذِهِ الْآيَةُ خَاصَّةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ وَاللَّهِ مَا احْتَازَهَا وَلَا اسْتَأْثَرَ بِهَا عَلَيْكُمْ لَقَدْ أَعْطَاكُمُوهَا وَبَثَّهَا فِيكُمْ حَتَّى بَقِيَ مِنْهَا هَذَا الْمَالُ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ نَفَقَةَ سَنَتِهِمْ مِنْ هَذَا الْمَالِ ثُمَّ يَأْخُذُ مَا بَقِيَ مِنْهُ فَيَجْعَلُهُ مَجْعَلَ مَالِ اللَّهِ فَعَمِلَ بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيَاتَهُ أَنْشُدُكُمْ اللَّهَ هَلْ تَعْلَمُونَ ذَلِكَ قَالُوا نَعَمْ قَالَ لِعَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ فَأَنْشُدُكُمَا بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمَانِ ذَلِكَ قَالَا نَعَمْ ثُمَّ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبَضَهَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَعَمِلَ فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْتُمْ حِينَئِذٍ وَأَقْبَلَ عَلَى عَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ تَزْعُمَانِ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ فِيهَا كَذَا وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّهُ فِيهَا لَصَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ
مالک بن اوس بن حدثان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق ؓ نے مجھے پیغام بھیج کر بلوایا، ابھی ہم بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت عمر ؓ کا غلام جس کا نام یرفا تھا اندر آیا اور کہنے لگا کہ حضرت عثمان، عبدالرحمن، سعد اور حضرت زبیر بن العوام ؓ اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں؟ فرمایا انہیں بھی بلا لو۔ حضرت عباس ؓ نے اندر داخل ہوتے ہی فرمایا امیرالمومنین! میرے اور اس کے درمیان فیصلہ کر دیجئے، اس وقت ان کا جھگڑا بنو نضیر سے حاصل ہونے والے مال فئی کے بارے میں تھا، لوگوں نے بھی کہا کہ امیرالمومنین! ان کے درمیان فیصلہ کر دیجئے اور ہر ایک کو دوسرے سے راحت عطاء فرمائیے، کیونکہ اب ان کا جھگڑا بڑھتا ہی جارہا ہے۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا میں تمہیں اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کے حکم سے زمین آسمان قائم ہیں، کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے ہمارے مال میں وراثت جاری نہیں ہوتی، ہم جو کچھ چھوڑ جاتے ہیں وہ سب صدقہ ہوتا ہے؟ لوگوں نے اثبات میں جواب دیا، پھر انہوں نے حضرت عباس و علی ؓ سے بھی یہی سوال پوچھا اور انہوں نے بھی تائید کی، اس کے بعد انہوں نے فرمایا کہ میں تمہیں اس کی حقیقت سے آگاہ کرتا ہوں۔ اللہ نے یہ مال فئی خصوصیت کے ساتھ صرف نبی ﷺ کو دیا تھا، کسی کو اس میں سے کچھ نہیں دیا تھا اور فرمایا " وماافاء اللہ علی رسولہ منہم فما اوجفتم علیہ من خیل ولارکاب " اس لئے یہ مال نبی ﷺ کے لئے خاص تھا، لیکن بخدا! انہوں نے تمہیں چھوڑ کر اپنے لئے محفوظ نہیں کیا اور نہ ہی اس مال کو تم پر ترجیح دی، انہوں نے یہ مال بھی تمہارے درمیان تقسیم کردیا یہاں تک کہ یہ تھوڑا سا بچ گیا جس میں سے وہ اپنے اہل خانہ کو سال بھر کا نفقہ دیا کرتے تھے اور اس مال میں سے بھی اگر کچھ بچ جاتا تو اسے اللہ کے راستہ میں تقسیم کردیتے اور وہ اپنی زندگی میں اسی طریقے پر عمل کرتے رہے، میں تم سے اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیا تم بھی یہ بات جانتے ہو؟ لوگوں نے کہا جی ہاں! پھر انہوں نے حضرت عباس ؓ اور علی ؓ سے بھی یہی سوال پوچھا اور انہوں نے بھی یہی جواب دیا، جب نبی ﷺ کا وصال ہوگیا تو حضرت صدیق اکبر ؓ نے فرمایا کہ نبی ﷺ کے بعد ان کے مال کا ذمہ دار اور سرپرست میں ہوں، چناچہ انہوں نے اس میں وہی طریقہ اختیار کیا جس پر نبی ﷺ چلتے رہے اور اب تم (انہوں نے حضرت عباس ؓ اور علی ؓ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا) یہ سمجھتے ہو کہ ابوبکر ایسے تھے، حالانکہ اللہ جانتا ہے کہ وہ اس معاملے میں سچے، نیکو کار، راہ راست پر اور حق کی تابعداری کرنے والے تھے۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنِ الْعَبَّاسِ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي شَيْئًا أَدْعُو بِهِ فَقَالَ سَلْ اللَّهَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ قَالَ ثُمَّ أَتَيْتُهُ مَرَّةً أُخْرَى فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي شَيْئًا أَدْعُو بِهِ قَالَ فَقَالَ يَا عَبَّاسُ يَا عَمَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلْ اللَّهَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ
ایک مرتبہ حضرت عباس ؓ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگے یا رسول اللہ! مجھے کوئی دعاء سکھا دیجئے، نبی ﷺ نے فرمایا آپ اپنے رب سے دنیا و آخرت میں در گذر اور عافیت کی دعاء مانگتے رہا کریں، پھر حضرت عباس ؓ ایک سال بعد دوبارہ آئے، تب بھی نبی ﷺ نے انہیں یہی دعاء تلقین فرمائی۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ عَنِ ابْنِ شُرَحْبِيلَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ الْعَبَّاسِ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ نِسَاؤُهُ فَاسْتَتَرْنَ مِنِّي إِلَّا مَيْمُونَةَ فَقَالَ لَا يَبْقَى فِي الْبَيْتِ أَحَدٌ شَهِدَ اللَّدَّ إِلَّا لُدَّ إِلَّا أَنَّ يَمِينِي لَمْ تُصِبْ الْعَبَّاسَ ثُمَّ قَالَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ لِحَفْصَةَ قُولِي لَهُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ إِذَا قَامَ مَقَامَكَ بَكَى قَالَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ لِيُصَلِّ بِالنَّاسِ فَقَامَ فَصَلَّى فَوَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِفَّةً فَجَاءَ فَنَكَصَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَرَادَ أَنْ يَتَأَخَّرَ فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِهِ ثُمَّ اقْتَرَأَ
حضرت عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، وہاں تمام ازواج مطہرات موجود تھیں، سوائے حضرت میمونہ ؓ کے ان سب نے مجھ سے پردہ کیا (کیونکہ میمونہ ؓ ان کی سالی تھیں) نبی ﷺ نے فرمایا میرے منہ میں زبردستی دوا ڈالنے کے موقع پر جو شخص بھی موجود تھا اس کے منہ میں بھی زبردستی دوا ڈالی جائے لیکن میری اس قسم کا تعلق حضرت عباس ؓ کے ساتھ نہیں ہے۔ پھر فرمایا کہ ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں، حضرت عائشہ ؓ نے حضرت حفصہ ؓ سے کہا کہ نبی ﷺ سے عرض کرو کہ ابو بکرجب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو وہ رونے لگیں گے (اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکیں گے) نبی ﷺ نے پھر فرمایا کہ ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، چناچہ انہوں نے کھڑے ہو کر نماز پڑھائی، ادھر نبی ﷺ کو بھی اپنے مرض میں کچھ تخفیف محسوس ہوئی اور نبی ﷺ بھی نماز کے لئے آگئے، اس پر حضرت صدیق اکبر ؓ نے الٹے پاؤں پیچھے ہونا چاہا لیکن نبی ﷺ ان کے پہلو میں آکر بیٹھ گئے اور قرأت فرمائی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا قَيْسٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ عَنْ أَرْقَمَ بْنِ شُرَحْبِيلَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي مَرَضِهِ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَخَرَجَ أَبُو بَكْرٍ فَكَبَّرَ وَوَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاحَةً فَخَرَجَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ تَأَخَّرَ فَأَشَارَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَانَكَ ثُمَّ جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ فَاقْتَرَأَ مِنْ الْمَكَانِ الَّذِي بَلَغَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ مِنْ السُّورَةِ
حضرت عباس ؓ سے مروی ہے کہ اپنے مرض الوفات میں نبی ﷺ نے فرمایا کہ ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں، چناچہ انہوں نے کھڑے ہو کر نماز پڑھائی، ادھر نبی ﷺ کو بھی اپنے مرض میں کچھ تخفیف محسوس ہوئی اور نبی ﷺ بھی دو آدمیوں کے سہارے نماز کے لئے آگئے، اس پر حضرت صدیق اکبر ؓ نے الٹے پاؤں پیچھے ہونا چاہا لیکن نبی ﷺ نے انہیں اشارہ سے فرمایا کہ اپنی جگہ پر ہی رہو، پھر نبی ﷺ ان کے پہلو میں آکر بیٹھ گئے اور اسی جگہ سے قرأت فرمائی جہاں تک حضرت ابوبکر ؓ پہنچے تھے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَبِي قُرَّةَ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِي قَبِيلٍ عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ عَنِ الْعَبَّاسِ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَالَ انْظُرْ هَلْ تَرَى فِي السَّمَاءِ مِنْ نَجْمٍ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ مَا تَرَى قَالَ قُلْتُ أَرَى الثُّرَيَّا قَالَ أَمَا إِنَّهُ يَلِي هَذِهِ الْأُمَّةَ بِعَدَدِهَا مِنْ صُلْبِكَ اثْنَيْنِ فِي فِتْنَةٍ
حضرت عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت میں نبی ﷺ کے ساتھ تھا، نبی ﷺ نے فرمایا دیکھئے، آسمان میں آپ کو کوئی ستارہ نظر آتا ہے؟ میں نے کہا جی ہاں! فرمایا کون سا ستارہ نظر آتا ہے؟ میں نے عرض کیا ثریا، فرمایا تمہاری نسل میں سے اس ثریا ستارے کی تعداد کے برابر لوگ اس امت کے حکمران ہوں گے جن میں سے دو آزمائش کا شکار ہوں گے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي الْأَشْعَثِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِيَاسِ بْنِ عَفِيفٍ الْكِنْدِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ كُنْتُ امْرَأً تَاجِرًا فَقَدِمْتُ الْحَجَّ فَأَتَيْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لِأَبْتَاعَ مِنْهُ بَعْضَ التِّجَارَةِ وَكَانَ امْرَأً تَاجِرًا فَوَاللَّهِ إِنَّنِي لَعِنْدَهُ بِمِنًى إِذْ خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ خِبَاءٍ قَرِيبٍ مِنْهُ فَنَظَرَ إِلَى الشَّمْسِ فَلَمَّا رَآهَا مَالَتْ يَعْنِي قَامَ يُصَلِّي قَالَ ثُمَّ خَرَجَتْ امْرَأَةٌ مِنْ ذَلِكَ الْخِبَاءِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ ذَلِكَ الرَّجُلُ فَقَامَتْ خَلْفَهُ تُصَلِّي ثُمَّ خَرَجَ غُلَامٌ حِينَ رَاهَقَ الْحُلُمَ مِنْ ذَلِكَ الْخِبَاءِ فَقَامَ مَعَهُ يُصَلِّي قَالَ فَقُلْتُ لِلْعَبَّاسِ مَنْ هَذَا يَا عَبَّاسُ قَالَ هَذَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ابْنُ أَخِي قَالَ فَقُلْتُ مَنْ هَذِهِ الْمَرْأَةُ قَالَ هَذِهِ امْرَأَتُهُ خَدِيجَةُ ابْنَةُ خُوَيْلِدٍ قَالَ قُلْتُ مَنْ هَذَا الْفَتَى قَالَ هَذَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ابْنُ عَمِّهِ قَالَ فَقُلْتُ فَمَا هَذَا الَّذِي يَصْنَعُ قَالَ يُصَلِّي وَهُوَ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ وَلَمْ يَتْبَعْهُ عَلَى أَمْرِهِ إِلَّا امْرَأَتُهُ وَابْنُ عَمِّهِ هَذَا الْفَتَى وَهُوَ يَزْعُمُ أَنَّهُ سَيُفْتَحُ عَلَيْهِ كُنُوزُ كِسْرَى وَقَيْصَرَ قَالَ فَكَانَ عَفِيفٌ وَهُوَ ابْنُ عَمِّ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ يَقُولُ وَأَسْلَمَ بَعْدَ ذَلِكَ فَحَسُنَ إِسْلَامُهُ لَوْ كَانَ اللَّهُ رَزَقَنِي الْإِسْلَامَ يَوْمَئِذٍ فَأَكُونُ ثَالِثًا مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
عفیف کندی کہتے ہیں کہ میں ایک تاجر آدمی تھا، ایک مرتبہ میں حج کے لئے آیا، میں حضرت عباس ؓ کے پاس جو خود بھی تاجر تھے کچھ مال تجارت خریدنے کے لئے آیا، میں ان کے پاس اس وقت منیٰ میں تھا کہ اچانک قریب کے خیمے سے ایک آدمی نکلا، اس نے سورج کو جب ڈھلتے ہوئے دیکھا تو نماز پڑھنے کے لئے کھڑا ہوگیا، پھر ایک عورت اسی خیمے سے نکلی جس سے وہ مرد نکلا تھا، اس عورت نے اس مرد کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھنا شروع کردی، پھر ایک لڑکا جو قریب البلوغ تھا وہ بھی اسی خیمے سے نکلا اور اس مرد کے ساتھ کھڑا ہو کر نماز پڑھنے لگا۔ میں نے عباس ؓ سے پوچھا کہ عباس! یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا یہ میرے بھتیجے محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہیں، میں نے پوچھا یہ عورت کون ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ ان کی بیوی خدیجہ بنت خویلد ہیں، میں نے پوچھا یہ نوجوان کون ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ ان کے چچا کے بیٹے علی بن ابی طالب ہیں، میں نے پوچھا یہ کیا کر رہے ہیں؟ انہوں نے کہا یہ نماز پڑھ رہے ہیں، ان کا خیال یہ ہے کہ یہ اللہ کے نبی ہیں لیکن ابھی تک ان کی پیروی صرف ان کی بیوی اور اس نوجوان نے ہی شروع کی ہے اور ان کا خیال یہ بھی ہے کہ عنقریب قیصر و کسری کے خزانوں کو ان کے لئے کھول دیا جائے گا۔ عفیف جنہوں نے بعد میں اسلام قبول کرلیا تھا کہتے ہیں کہ اگر اللہ مجھے اسی دن اسلام قبول کرنے کی توفیق دے دیتا تو میں تیسرا مسلمان ہوتا۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ قَالَ قَالَ الْعَبَّاسُ بَلَغَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضُ مَا يَقُولُ النَّاسُ قَالَ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ مَنْ أَنَا قَالُوا أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ الْخَلْقَ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِ خَلْقِهِ وَجَعَلَهُمْ فِرْقَتَيْنِ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِ فِرْقَةٍ وَخَلَقَ الْقَبَائِلَ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِ قَبِيلَةٍ وَجَعَلَهُمْ بُيُوتًا فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ بَيْتًا فَأَنَا خَيْرُكُمْ بَيْتًا وَخَيْرُكُمْ نَفْسًا
حضرت عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کو لوگوں کی طرف سے کچھ باتیں معلوم ہوئیں، آپ ﷺ منبر پر رونق افروز ہوئے اور لوگوں سے مخاطب ہو کر پوچھا میں کون ہوں؟ لوگوں نے کہا کہ آپ اللہ کے پیغمبر ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا میں محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہوں، اللہ نے مخلوقات کو پیدا کیا اور مجھے ان میں سب سے بہتر مخلوق میں رکھا، پھر اللہ نے انہیں دو گروہوں میں تقسیم کردیا اور مجھے بہترین گروہ میں رکھا، پھر اللہ نے قبائل کو پیدا کیا اور مجھے بہترین قبیلہ میں رکھا، پھر اللہ نے رہائشیں مقرر کیں اور مجھے سب سے بہترین رہائش میں رکھا، اس لئے میں رہائش کے اعتبار سے بھی تم سب سے بہتر ہوں اور اپنی ذات کے اعتبار سے بھی تم سب سے بہتر ہوں۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَفَعْتَ أَبَا طَالِبٍ بِشَيْءٍ فَإِنَّهُ قَدْ كَانَ يَحُوطُكَ وَيَغْضَبُ لَكَ قَالَ نَعَمْ هُوَ فِي ضَحْضَاحٍ مِنْ النَّارِ لَوْلَا ذَلِكَ لَكَانَ هُوَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنْ النَّارِ
ایک مرتبہ حضرت عباس ؓ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! آپ کے چچا خواجہ ابو طالب آپ کا بہت دفاع کیا کرتے تھے، آپ کی وجہ سے انہیں کیا فائدہ ہوا؟ فرمایا وہ جہنم کے اوپر والے حصے میں ہیں، اگر میں نہ ہوتا تو وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوتے۔
حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَخِي عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَانَ لِلْعَبَّاسِ مِيزَابٌ عَلَى طَرِيقِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَلَبِسَ عُمَرُ ثِيَابَهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَقَدْ كَانَ ذُبِحَ لِلْعَبَّاسِ فَرْخَانِ فَلَمَّا وَافَى الْمِيزَابَ صُبَّ مَاءٌ بِدَمِ الْفَرْخَيْنِ فَأَصَابَ عُمَرَ وَفِيهِ دَمُ الْفَرْخَيْنِ فَأَمَرَ عُمَرُ بِقَلْعِهِ ثُمَّ رَجَعَ عُمَرُ فَطَرَحَ ثِيَابَهُ وَلَبِسَ ثِيَابًا غَيْرَ ثِيَابِهِ ثُمَّ جَاءَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ فَأَتَاهُ الْعَبَّاسُ فَقَالَ وَاللَّهِ إِنَّهُ لَلْمَوْضِعُ الَّذِي وَضَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عُمَرُ لِلْعَبَّاسِ وَأَنَا أَعْزِمُ عَلَيْكَ لَمَّا صَعِدْتَ عَلَى ظَهْرِي حَتَّى تَضَعَهُ فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي وَضَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَعَلَ ذَلِكَ الْعَبَّاسُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
عبیداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت عباس ؓ کا ایک پرنالہ تھا جو حضرت عمر ؓ کے راستے میں آتا تھا، ایک مرتبہ حضرت عمر ؓ نے جمعہ کے دن نئے کپڑے پہنے، اسی دن حضرت عباس ؓ کے یہاں دو چوزے ذبح ہوئے تھے، جب حضرت عمر ؓ اس پرنالے کے قریب پہنچے تو اس میں چوزوں کا خون ملا پانی بہنے لگا، وہ پانی حضرت عمر ؓ پر گرا اور اس میں چوزوں کا خون بھی تھا، حضرت عمر ؓ نے اس پرنالے کو وہاں سے ہٹا دینے کا حکم دیا اور گھر واپس جاکر وہ کپڑے اتار کر دوسرے کپڑے پہنے اور آکر لوگوں کو نماز پڑھائی۔ نماز کے بعد ان کے پاس حضرت عباس ؓ آئے اور کہنے لگے کہ بخدا! اس جگہ اس پرنالے کو نبی ﷺ نے لگایا تھا، حضرت عمر ؓ نے یہ سن کر فرمایا میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ آپ میری کمر پر کھڑے ہو کر اسے وہیں لگا دیجئے جہاں نبی ﷺ نے اسے لگایا تھا، چناچہ حضرت عباس ؓ نے وہ پرنالہ اسی طرح دوبارہ لگا دیا۔
حضرت فضل بن عباس (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَمْعٍ فَلَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ
حضرت فضل بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ وہ مزدلفہ سے واپسی پر نبی ﷺ کی سواری پر پیچھے سوار تھے، نبی ﷺ جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ کہتے رہے۔
حضرت فضل بن عباس (رض) کی مرویات
قَالَ قُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي حَرْمَلَةَ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ الْفَضْلِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبَّى حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ
حضرت فضل بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ وہ مزدلفہ سے واپسی پر نبی ﷺ نے جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ کہا ہے۔
حضرت فضل بن عباس (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ مِنْ جَمْعٍ قَالَ عَطَاءٌ فَأَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ الْفَضْلَ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ
حضرت فضل ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے جمرہ عقبہ کی رمی تک مسلسل تلبیہ کہا ہے۔
حضرت فضل بن عباس (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَخْبَرَنِي أَبُو مَعْبَدٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يُخْبِرُ عَنِ الْفَضْلِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ غَدَاةَ جَمْعٍ لِلنَّاسِ حِينَ دَفَعْنَا عَلَيْكُمْ السَّكِينَةَ وَهُوَ كَافٌّ نَاقَتَهُ حَتَّى إِذَا دَخَلَ مِنًى حِينَ هَبَطَ مُحَسِّرًا قَالَ عَلَيْكُمْ بِحَصَى الْخَذْفِ الَّذِي يُرْمَى بِهِ الْجَمْرَةُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ بِيَدِهِ كَمَا يَخْذِفُ الْإِنْسَانُ و قَالَ رَوْحٌ وَالبُرْسَانِيُّ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ وَغَدَاةَ جَمْعٍ وَقَالَا حِينَ دَفَعُوا
حضرت فضل بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ عرفہ کی رات گذار نے کے بعد جب صبح کے وقت ہم نے وادی مزدلفہ کو چھوڑا ہے تو نبی ﷺ نے لوگوں سے فرمایا اطمینان اور سکون اختیار کرو، اس وقت نبی ﷺ اپنی سواری کو تیز چلنے سے روک رہے تھے، یہاں تک کہ وادی محسر سے اتر کر جب نبی ﷺ منیٰ میں داخل ہوئے تو فرمایا ٹھیکری کی کنکریاں لے لو تاکہ رمی جمرات کی جاسکے اور نبی ﷺ اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کرنے لگے جس طرح انسان کنکری پھینکتے وقت کرتا ہے۔
حضرت فضل بن عباس (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِي الْكَعْبَةِ فَسَبَّحَ وَكَبَّرَ وَدَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَاسْتَغْفَرَ وَلَمْ يَرْكَعْ وَلَمْ يَسْجُدْ
حضرت فضل بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ خانہ کعبہ کے اند ر کھڑے ہوئے اور تسبیح وتکبیر کہی، اللہ سے دعاء کی اور استغفار کیا، لیکن رکوع سجدہ نہیں کیا۔
حضرت فضل بن عباس (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ وَيُونُسُ قَالَا حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ وَكَانَ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي عَشِيَّةِ عَرَفَةَ وَغَدَاةِ جَمْعٍ لِلنَّاسِ حِينَ دَفَعُوا عَلَيْكُمْ السَّكِينَةَ وَهُوَ كَافٌّ نَاقَتَهُ حَتَّى إِذَا دَخَلَ مُحْسِّرًا وَهُوَ مِنْ مِنًى قَالَ عَلَيْكُمْ بِحَصَى الْخَذْفِ الَّذِي يُرْمَى بِهِ الْجَمْرَةُ وَقَالَ لَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ
حضرت فضل بن عباس ؓ جو کہ نبی ﷺ کے ردیف تھے سے مروی ہے کہ عرفہ کی رات گذارنے کے بعدجب صبح کے وقت ہم نے وادی مزدلفہ کو چھوڑا ہے تو نبی ﷺ نے لوگوں سے فرمایا اطمینان اور سکون اختیار کرو، اس وقت نبی ﷺ اپنی سواری کو تیز چلنے سے روک رہے تھے، یہاں تک کہ وادی محسر سے اتر کر جب نبی ﷺ منیٰ میں داخل ہوئے تو فرمایا ٹھیکری کی کنکریاں لے لو تاکہ رمی جمرات کی جاسکے اور نبی ﷺ اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کرنے لگے جس طرح انسان کنکری پھینکتے وقت کرتا ہے۔