حضرت عبداللہ بن جعفر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسَافِعٍ أَنَّ مُصْعَبَ بْنَ شَيْبَةَ أَخْبَرَهُ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ شَكَّ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَمَا يُسَلِّمُ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسَافِعٍ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ فَذَكَرَ مِثْلَهُ بِإِسْنَادِهِ
حضرت عبداللہ بن جعفر ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص کو نماز میں شک ہوجائے، اسے چاہیے کہ وہ بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کرلے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حضرت عبداللہ بن جعفر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي يَعْقُوبَ يُحَدِّثُ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَغْلَتَهُ وَأَرْدَفَنِي خَلْفَهُ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَبَرَّزَ كَانَ أَحَبَّ مَا تَبَرَّزَ فِيهِ هَدَفٌ يَسْتَتِرُ بِهِ أَوْ حَائِشُ نَخْلٍ فَدَخَلَ حَائِطًا لِرَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَإِذَا فِيهِ نَاضِحٌ لَهُ فَلَمَّا رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَنَّ وَذَرَفَتْ عَيْنَاهُ فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَسَحَ ذِفْرَاهُ وَسَرَاتَهُ فَسَكَنَ فَقَالَ مَنْ رَبُّ هَذَا الْجَمَلِ فَجَاءَ شَابٌّ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ أَنَا فَقَالَ أَلَا تَتَّقِي اللَّهَ فِي هَذِهِ الْبَهِيمَةِ الَّتِي مَلَّكَكَ اللَّهُ إِيَّاهَا فَإِنَّهُ شَكَاكَ إِلَيَّ وَزَعَمَ أَنَّكَ تُجِيعُهُ وَتُدْئِبُهُ ثُمَّ ذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَائِطِ فَقَضَى حَاجَتَهُ ثُمَّ تَوَضَّأَ ثُمَّ جَاءَ وَالْمَاءُ يَقْطُرُ مِنْ لِحْيَتِهِ عَلَى صَدْرِهِ فَأَسَرَّ إِلَيَّ شَيْئًا لَا أُحَدِّثُ بِهِ أَحَدًا فَحَرَّجْنَا عَلَيْهِ أَنْ يُحَدِّثَنَا فَقَالَ لَا أُفْشِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرَّهُ حَتَّى أَلْقَى اللَّهَ
حضرت عبداللہ بن جعفر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ اپنے خچر پر سوار ہوئے اور مجھے اپنے پیچھے اپنی سواری پر بٹھالیا اور نبی ﷺ کی عادت تھی کہ قضاء حاجت کے موقع پر کسی اونچی عمارت یا درختوں کے جھنڈ کی آڑ میں ہوجاتے تھے، ایک دن نبی ﷺ کسی انصاری کے باغ میں داخل ہوئے، اچانک ایک اونٹ آیا اور آپ ﷺ کے قدموں میں لوٹنے لگا، اس وقت اس کی آنکھوں میں آنسو تھے، نبی ﷺ نے اس کی کمر پر اور سر کے پچھلے حصے پر ہاتھ پھیرا جس سے وہ پر سکون ہوگیا، پھر نبی ﷺ نے فرمایا کہ اس اونٹ کا مالک کون ہے؟ یہ سن کر ایک انصاری نوجوان آگے بڑھا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! ﷺ یہ میرا اونٹ ہے، فرمایا کہ تم اس جانور میں جو اللہ نے تمہاری ملکیت میں کردیا ہے، اللہ سے ڈرتے نہیں، یہ مجھ سے شکایت کر رہا ہے کہ تم اسے بھوکا رکھتے ہو اور اس سے محنت ومشقت کا کام زیادہ لیتے ہو، پھر نبی صلی اللہ علیہ باغ میں گئے اور قضاء حاجت فرمائی، پھر وضو کر کے واپس آئے تو پانی کے قطرات آپ ﷺ کی داڑھی مبارک سے سینہ مبارک پر ٹپک رہے تھے اور نبی ﷺ نے مجھ سے راز کی ایک بات فرمائی جو میں کسی سے کبھی بیان نہ کروں گا، ہم نے انہیں وہ بات بتانے پر بہت اصرار کیا لیکن انہوں نے کہا کہ میں نبی ﷺ کا راز افشاں نہیں کروں گا یہاں تک کہ اللہ سے جا ملوں۔
حضرت عبداللہ بن جعفر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ كَانَ يَتَخَتَّمُ فِي يَمِينِهِ وَزَعَمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَخَتَّمُ فِي يَمِينِهِ
ابن ابی رافع (رح) کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن جعفر ؓ دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے اور ان کے بقول نبی ﷺ بھی دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے۔
حضرت عبداللہ بن جعفر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ حَدَّثَنَا شَيْخٌ قَدِمَ عَلَيْنَا مِنْ الْحِجَازِ قَالَ شَهِدْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ بِالْمُزْدَلِفَةِ فَكَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يَحُزُّ اللَّحْمَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَطْيَبُ اللَّحْمِ لَحْمُ الظَّهْرِ
حجاز کے ایک شیخ کہتے ہیں کہ میں مزدلفہ میں حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ اور حضرت عبداللہ بن جعفر ؓ کے ساتھ موجود تھا، حضرت ابن زبیر ؓ گوشت کے ٹکڑے کاٹ کاٹ کر حضرت عبداللہ ؓ کودے رہے تھے، حضرت عبداللہ کہنے لگے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ پشت کا گوشت بہترین ہوتا ہے۔
حضرت عبداللہ بن جعفر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَنْبَغِي لِنَبِيٍّ أَنْ يَقُولَ إِنِّي خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ و حَدَّثَنَاه هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ مِثْلَهُ
حضرت عبداللہ بن جعفر ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کسی نبی کے لئے یہ مناسب نہیں کہ یوں کہے کہ میں حضرت یونس (علیہ السلام) بن متی سے بہتر ہوں۔ م۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حضرت عبداللہ بن جعفر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ فَحَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ عُرْوَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرْتُ أَنْ أُبَشِّرَ خَدِيجَةَ بِبَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ
حضرت عبداللہ بن جعفر ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مجھے حکم دیا گیا ہے کہ حضرت حذیفہ ؓ کو جنت میں لکڑی کے بنے ہوئے ایک ایسے محل کی خوشخبری دوں جس میں کوئی شور و شغب ہوگا اور نہ ہی کسی قسم کا تعب۔
حضرت عبداللہ بن جعفر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنِي مِسْعَرٌ عَنْ شَيْخٍ مِنْ فَهْمٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَحْمٍ فَجَعَلَ الْقَوْمُ يُلَقُّونَهُ اللَّحْمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَطْيَبَ اللَّحْمِ لَحْمُ الظَّهْرِ
(ایک مرتبہ ایک اونٹ ذبح ہوا تو) حضرت عبداللہ بن جعفر ؓ نے فرمایا کہ انہوں نے ایک موقع پر نبی ﷺ کو جبکہ لوگ نبی ﷺ کے سامنے گوشت لاکر پیش کر رہے تھے فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بہترین گوشت پشت کا ہوتا ہے۔
حضرت عبداللہ بن جعفر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ خَالِدِ ابْنِ سَارَّةَ أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ قَالَ لَوْ رَأَيْتَنِي وَقُثَمَ وَعُبَيْدَ اللَّهِ ابْنَيْ عَبَّاسٍ وَنَحْنُ صِبْيَانٌ نَلْعَبُ إِذْ مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى دَابَّةٍ فَقَالَ ارْفَعُوا هَذَا إِلَيَّ قَالَ فَحَمَلَنِي أَمَامَهُ وَقَالَ لِقُثَمَ ارْفَعُوا هَذَا إِلَيَّ فَجَعَلَهُ وَرَاءَهُ وَكَانَ عُبَيْدُ اللَّهِ أَحَبَّ إِلَى عَبَّاسٍ مِنْ قُثَمَ فَمَا اسْتَحَى مِنْ عَمِّهِ أَنْ حَمَلَ قُثَمًا وَتَرَكَهُ قَالَ ثُمَّ مَسَحَ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثًا وَقَالَ كُلَّمَا مَسَحَ اللَّهُمَّ اخْلُفْ جَعْفَرًا فِي وَلَدِهِ قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ مَا فَعَلَ قُثَمُ قَالَ اسْتُشْهِدَ قَالَ قُلْتُ اللَّهُ أَعْلَمُ بِالْخَيْرِ وَرَسُولُهُ بِالْخَيْرِ قَالَ أَجَلْ
حضرت عبداللہ بن جعفر ؓ فرماتے ہیں کاش! تم نے اس وقت مجھے اور حضرت عباس ؓ کے دو بیٹوں قثم اور عبیداللہ کو دیکھا ہوتا جب کہ ہم بچے آپس میں کھیل رہے تھے، کہ نبی ﷺ کا اپنی سواری پر وہاں سے گذر ہوا، نبی ﷺ نے فرمایا اس بچے کو اٹھا کر مجھے پکڑاؤ اور اٹھا کر مجھے اپنے آگے بٹھا لیا، پھر قثم کو پکڑانے کے لئے کہا اور انہیں اپنے پیچھے بٹھالیا، جبکہ حضرت عباس ؓ کی نظروں میں قثم سے زیادہ عبیداللہ محبوب تھا، لیکن نبی ﷺ کو اپنے چچا سے اس معاملے میں کوئی عار محسوس نہ ہوئی کہ آپ ﷺ نے قثم کو اٹھا لیا اور عبیداللہ کو چھوڑ دیا۔ پھر نبی ﷺ نے تین مرتبہ میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا اے اللہ! جعفر کا اس کی اولاد کے لئے کوئی نعم البدل عطاء فرما، راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ سے پوچھا کہ قثم کا کیا بنا؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ شہید ہوگئے، میں نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی خیر کو بہت طور پر جانتے ہیں، انہوں نے فرمایا بالکل ایسا ہی ہے۔
حضرت عبداللہ بن جعفر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسَافِعٍ أَنَّ مُصْعَبَ بْنَ شَيْبَةَ أَخْبَرَهُ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ شَكَّ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَمَا يُسَلِّمُ
حضرت عبداللہ بن جعفر ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص کو نماز میں شک ہوجائے، اسے چاہیے کہ وہ بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کرلے۔
حضرت عبداللہ بن جعفر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنِ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ أَنَّهُ زَوَّجَ ابْنَتَهُ مِنْ الْحَجَّاجِ بْنِ يُوسُفَ فَقَالَ لَهَا إِذَا دَخَلَ بِكِ فَقُولِي لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا حَزَبَهُ أَمْرٌ قَالَ هَذَا قَالَ حَمَّادٌ ظَنَنْتُ أَنَّهُ قَالَ فَلَمْ يَصِلْ إِلَيْهَا
حضرت عبداللہ بن جعفر ؓ کے حوالے سے منقول ہے کہ انہوں نے اپنی صاحبزادی کا نکاح حجاج بن یوسف سے کردیا اور اس سے فرمایا کہ جب وہ تمہارے پاس آئے تو تم یوں کہہ لینا، اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ بردبار اور سخی ہے، اللہ جو عرش عظیم کا رب ہے، ہر عیب سے پاک ہے، تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کو پالنے والا ہے۔ اور فرمایا کہ نبی ﷺ کو جب کوئی پریشانی لاحق ہوتی تھی تو آپ ﷺ بھی یہی کلمات کہتے تھے، حماد کہتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ راوی نے یہ بھی کہا کہ حجاج ان تک پہنچ نہیں سکا۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَمُّكَ أَبُو طَالِبٍ كَانَ يَحُوطُكَ وَيَنْفَعُكَ قَالَ إِنَّهُ فِي ضَحْضَاحٍ مِنْ النَّارِ وَلَوْلَا أَنَا كَانَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنْ النَّارِ
ایک مرتبہ حضرت عباس ؓ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ آپ کے چچا خواجہ ابوطالب آپ کا بہت دفاع کیا کرتے تھے، آپ کی وجہ سے انہیں کیا فائدہ ہوا؟ فرمایا وہ جہنم کے اوپر والے حصے میں ہیں، اگر میں نہ ہوتا تو وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوتے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنِ الْعَبَّاسِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ الرَّجُلُ سَجَدَ مَعَهُ سَبْعَةُ آرَابٍ وَجْهِهِ وَكَفَّيْهِ وَرُكْبَتَيْهِ وَقَدَمَيْهِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
حضرت عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب انسان سجدہ کرتا ہے تو اس کے ساتھ سات ہڈیاں سجدہ کرتی ہیں، چہرہ، دونوں ہاتھ، دونوں پاؤں اور دونوں گھٹنے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي صَغِيرَةَ حَدَّثَنِي بَعْضُ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ قَدِمَ عَلَيْنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ فِي بَعْضِ تِلْكَ الْمَوَاسِمِ قَالَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ عَنْ أَبِيهِ الْعَبَّاسِ أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا عَمُّكَ كَبِرَتْ سِنِّي وَاقْتَرَبَ أَجَلِي فَعَلِّمْنِي شَيْئًا يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهِ قَالَ يَا عَبَّاسُ أَنْتَ عَمِّي وَلَا أُغْنِي عَنْكَ مِنْ اللَّهِ شَيْئًا وَلَكِنْ سَلْ رَبَّكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ قَالَهَا ثَلَاثًا ثُمَّ أَتَاهُ عِنْدَ قَرْنِ الْحَوْلِ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ الْقُشَيْرِيُّ حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ وَلَدِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ قَدِمَ عَلَيْنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ فَحَضَرَهُ بَنُو عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا عَمُّكَ قَدْ كَبِرَتْ سِنِّي فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
ایک مرتبہ حضرت عباس ؓ نبی صلی اللہ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگے یا رسول اللہ! ﷺ میں آپ کا چچا ہوں، میں بوڑھا ہوچکا ہوں اور میری موت کا وقت قریب ہے، مجھے کوئی ایسی دعاء سکھا دیجئے جس کے ذریعے اللہ مجھے نفع عطاء فرمائے، نبی ﷺ نے فرمایا اے عباس! آپ واقعی میرے چچا ہیں، لیکن میں اللہ کے معاملے میں آپ کے کسی کام نہیں آسکتا، البتہ آپ اپنے رب سے دنیا و آخرت میں درگذر اور عافیت کی دعاء مانگتے رہا کریں، یہ بات نبی ﷺ نے تین مرتبہ فرمائی پھر حضرت عباس ؓ ایک سال بعد دوبارہ آئے، تب بھی نبی ﷺ نے انہیں یہی دعاء تلقین فرمائی۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَفَعْتَ أَبَا طَالِبٍ بِشَيْءٍ فَإِنَّهُ كَانَ يَحُوطُكَ وَيَغْضَبُ لَكَ قَالَ نَعَمْ هُوَ فِي ضَحْضَاحٍ مِنْ النَّارِ وَلَوْلَا ذَلِكَ لَكَانَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنْ النَّارِ
ایک مرتبہ حضرت عباس ؓ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! آپ کے چچا خواجہ ابو طالب آپ کا بہت دفاع کیا کرتے تھے، آپ کی وجہ سے انہیں کیا فائدہ ہوا؟ فرمایا وہ جہنم کے اوپر والے حصے میں ہیں، اگر میں نہ ہوتا تو وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوتے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ أَنْبَأَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ ابْنُ آدَمَ سَجَدَ مَعَهُ سَبْعَةُ آرَابٍ وَجْهِهِ وَكَفَّيْهِ وَرُكْبَتَيْهِ وَقَدَمَيْهِ
حضرت عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب انسان سجدہ کرتا ہے تو اس کے ساتھ سات ہڈیاں سجدہ کرتی ہیں، چہرہ، دونوں ہاتھ، دونوں پاؤں اور دونوں گھٹنے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ الْعَلَاءِ عَنْ عَمِّهِ شُعَيْبِ بْنِ خَالِدٍ حَدَّثَنِي سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمِيرَةَ عَنْ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَطْحَاءِ فَمَرَّتْ سَحَابَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَدْرُونَ مَا هَذَا قَالَ قُلْنَا السَّحَابُ قَالَ وَالْمُزْنُ قُلْنَا وَالْمُزْنُ قَالَ وَالْعَنَانُ قَالَ فَسَكَتْنَا فَقَالَ هَلْ تَدْرُونَ كَمْ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ قَالَ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ بَيْنَهُمَا مَسِيرَةُ خَمْسِ مِائَةِ سَنَةٍ وَمِنْ كُلِّ سَمَاءٍ إِلَى سَمَاءٍ مَسِيرَةُ خَمْسِ مِائَةِ سَنَةٍ وَكِثَفُ كُلِّ سَمَاءٍ مَسِيرَةُ خَمْسِ مِائَةِ سَنَةٍ وَفَوْقَ السَّمَاءِ السَّابِعَةِ بَحْرٌ بَيْنَ أَسْفَلِهِ وَأَعْلَاهُ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ثُمَّ فَوْقَ ذَلِكَ ثَمَانِيَةُ أَوْعَالٍ بَيْنَ رُكَبِهِنَّ وَأَظْلَافِهِنَّ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ثُمَّ فَوْقَ ذَلِكَ الْعَرْشُ بَيْنَ أَسْفَلِهِ وَأَعْلَاهُ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَاللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَوْقَ ذَلِكَ وَلَيْسَ يَخْفَى عَلَيْهِ مِنْ أَعْمَالِ بَنِي آدَمَ شَيْءٌ قَالَ عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمِيرَةَ عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
حضرت عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ وادی بطحاء میں نبی ﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ وہاں سے ایک بادل گذرا، نبی ﷺ نے فرمایا جانتے ہو، یہ کیا ہے؟ ہم نے کہا اسے سحاب (بادل) کہتے ہیں، فرمایا " مزن " بھی کہتے ہیں؟ ہم نے عرض کیا جی ہاں! مزن بھی کہتے ہیں، پھر فرمایا اسے " عنان " بھی کہتے ہیں؟ اس پر ہم خاموش رہے۔ پھر فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو کہ آسمان اور زمین کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، فرمایا آسمان اور زمین کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے، اسی طرح ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک بھی پانچ سو سال کا فاصلہ ہے اور ہر آسمان کی کثافت پانچ سو سال کی ہے، پھر ساتویں آسمان کے اوپر ایک سمندر ہے، اس سمندر کی سطح اور گہرائی میں زمین و آسمان کا فاصلہ ہے، پھر اس کے اوپر آٹھ پہاڑی بکرے ہیں جن کے گھٹنوں اور کھروں کے درمیان زمین و آسمان جتنا فاصلہ ہے، پھر اس کے اوپر عرش ہے جس کے اوپر اور نیچے والے حصے کے درمیان زمین و آسمان جتنا فاصہ ہے اور سب سے اوپر اللہ تبارک وتعالی ہے جس سے بنی آدم کا کوئی عمل بھی مخفی نہیں۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ هَوَ ابْنُ هَارُونَ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ قُرَيْشًا إِذَا لَقِيَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا لَقُوهُمْ بِبِشْرٍ حَسَنٍ وَإِذَا لَقُونَا لَقُونَا بِوُجُوهٍ لَا نَعْرِفُهَا قَالَ فَغَضِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَضَبًا شَدِيدًا وَقَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَدْخُلُ قَلْبَ رَجُلٍ الْإِيمَانُ حَتَّى يُحِبَّكُمْ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ دَخَلَ الْعَبَّاسُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّا لَنَخْرُجُ فَنَرَى قُرَيْشًا تَحَدَّثُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
حضرت عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! قریش کے لوگ جب ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو بڑے ہشاش بشاش چہرے کے ساتھ ملتے ہیں اور جب ہم سے ملتے ہیں تو اجنبیوں کی طرح؟ اس پر نبی صلی اللہ علیہ سخت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، کسی شخص کے دل میں اس وقت تک ایمان داخل نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ تم سے اللہ اور اس کے رسول کی خاطر محبت نہ کرنے لگے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ قَالَ قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَغْنَيْتَ عَنْ عَمِّكَ فَقَدْ كَانَ يَحُوطُكَ وَيَغْضَبُ لَكَ قَالَ هُوَ فِي ضَحْضَاحٍ وَلَوْلَا أَنَا لَكَانَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنْ النَّارِ
ایک مرتبہ حضرت عباس ؓ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! آپ کے چچا خواجہ ابو طالب آپ کا بہت دفاع کیا کرتے تھے، آپ کی وجہ سے انہیں کیا فائدہ ہوا؟ فرمایا وہ جہنم کے اوپر والے حصے میں ہیں، اگر میں نہ ہوتا تو وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوتے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي كَثِيرُ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَنْ أَبِيهِ الْعَبَّاسِ قَالَ شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُنَيْنًا قَالَ فَلَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا مَعَهُ إِلَّا أَنَا وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَلَزِمْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نُفَارِقْهُ وَهُوَ عَلَى بَغْلَةٍ شَهْبَاءَ وَرُبَّمَا قَالَ مَعْمَرٌ بَيْضَاءَ أَهْدَاهَا لَهُ فَرْوَةُ بْنُ نَعَامَةَ الْجُذَامِيُّ فَلَمَّا الْتَقَى الْمُسْلِمُونَ وَالْكُفَّارُ وَلَّى الْمُسْلِمُونَ مُدْبِرِينَ وَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْكُضُ بَغْلَتَهُ قِبَلَ الْكُفَّارِ قَالَ الْعَبَّاسُ وَأَنَا آخِذٌ بِلِجَامِ بَغْلَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكُفُّهَا وَهُوَ لَا يَأْلُو مَا أَسْرَعَ نَحْوَ الْمُشْرِكِينَ وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ آخِذٌ بِغَرْزِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَبَّاسُ نَادِ يَا أَصْحَابَ السَّمُرَةِ قَالَ وَكُنْتُ رَجُلًا صَيِّتًا فَقُلْتُ بِأَعْلَى صَوْتِي أَيْنَ أَصْحَابُ السَّمُرَةِ قَالَ فَوَاللَّهِ لَكَأَنَّ عَطْفَتَهُمْ حِينَ سَمِعُوا صَوْتِي عَطْفَةُ الْبَقَرِ عَلَى أَوْلَادِهَا فَقَالُوا يَا لَبَّيْكَ يَا لَبَّيْكَ وَأَقْبَلَ الْمُسْلِمُونَ فَاقْتَتَلُوا هُمْ وَالْكُفَّارُ فَنَادَتْ الْأَنْصَارُ يَقُولُونَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ قَصَّرَتْ الدَّاعُونَ عَلَى بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ فَنَادَوْا يَا بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ قَالَ فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى بَغْلَتِهِ كَالْمُتَطَاوِلِ عَلَيْهَا إِلَى قِتَالِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا حِينَ حَمِيَ الْوَطِيسُ قَالَ ثُمَّ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَصَيَاتٍ فَرَمَى بِهِنَّ وُجُوهَ الْكُفَّارِ ثُمَّ قَالَ انْهَزَمُوا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ انْهَزَمُوا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ قَالَ فَذَهَبْتُ أَنْظُرُ فَإِذَا الْقِتَالُ عَلَى هَيْئَتِهِ فِيمَا أَرَى قَالَ فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَمَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَصَيَاتِهِ فَمَا زِلْتُ أَرَى حَدَّهُمْ كَلِيلًا وَأَمْرَهُمْ مُدْبِرًا حَتَّى هَزَمَهُمْ اللَّهُ قَالَ وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْكُضُ خَلْفَهُمْ عَلَى بَغْلَتِهِ
حضرت عباس ؓ فرماتے ہیں کہ غزوہ حنین کے موقع پر میں نبی ﷺ کے ہمراہ تھا، اس وقت نبی ﷺ کے ساتھ میرے اور ابو سفیان بن حارث کے علاوہ کوئی نہ تھا، ہم دونوں نبی ﷺ کے ساتھ چمٹے رہے اور کسی صورت جدا نہ ہوئے، اس وقت نبی ﷺ اپنے سفید خچر پر سوار تھے جو انہیں فروہ بن نعامہ الجذامی نے ہدیہ کے طور پر پیش کیا تھا۔ جب مسلمان اور کفار آمنے سامنے ہوئے تو ابتدائی طور پر مسلمان پشت پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے اور نبی ﷺ باربار ایڑ لگا کر اپنے خچر پر کفار کی طرف بڑھنے لگے، میں نے نبی ﷺ کے خچر پر لگام پکڑ رکھی تھی اور میں اسے آگے جانے سے روک رہا تھا لیکن نبی ﷺ مشرکین کی طرف تیزی سے بڑھنے میں کوئی کوتاہی نہ کر رہے تھے، ابو سیفان بن حارث نے نبی ﷺ کی سواری کی رکاب تھام رکھی تھی۔ نبی ﷺ نے جنگ کا رخ دیکھ کر فرمایا عباس! یا اصحاب السمرۃ کہہ کر مسلمانوں کو پکارو، میری آواز طبعی طور پر اونچی تھی اس لئے میں نے اونچی آواز سے پکار کر کہا این اصحاب السمرۃ!؟ بخدا! یہ آواز سنتے ہی مسلمان ایسے پلٹے جیسے گائے اپنی ولد کی طرف واپس پلٹتی ہے اور لبیک کہتے ہوئے آگے بڑھے اور کفار پر جا پڑے۔ ادھر انصار نے اپنے ساتھیوں کو پکارتے ہوئے کہا اے گروہ انصار! پھر منادی کرنے والوں نے صرف بنو حارث بن خزرج کا نام لے کر انہیں پکارا، جب نبی ﷺ نے اس کیفیت کو اپنے خچر پر سوار ملاحظہ فرمایا اور ایسا محسوس ہوا کہ خود نبی ﷺ بھی آگے بڑھ کر قتال میں شریک ہونا چاہتے ہیں تو فرمایا اب گھمسان کا رن پڑا ہے، پھر نبی ﷺ نے چند کنکریاں اٹھائیں اور کفار کے چہروں پر انہیں پھینکتے ہوئے فرمایا رب کعبہ کی قسم! انہیں شکست ہوگئی، رب کعبہ کی قسم! انہیں شکست ہوگئی۔ میں جائزہ لینے کے لئے آگے بڑھا تو میرا خیال یہ تھا کہ لڑائی تو ابھی اسی طرح جاری ہے، لیکن بخدا! جیسے ہی نبی ﷺ نے ان پر کنکریاں پھینکیں تو مجھے محسوس ہوا کہ ان کی تیزی سستی میں تبدیل ہو رہی ہے اور ان کا معاملہ پشت پھیر کر بھاگنے کے قریب ہے چناچہ ایسا ہی ہوا اور اللہ نے انہیں شکست سے دو چار کردیا اور مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا میں اب بھی نبی ﷺ کو اپنے خچر پر سوار ان کی طرف ایڑ لگا کر جاتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ فَلَمْ أَحْفَظْهُ عَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ عَبَّاسٌ وَأَبُو سُفْيَانَ مَعَهُ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَخَطَبَهُمْ وَقَالَ الْآنَ حَمِيَ الْوَطِيسُ وَقَالَ نَادِ يَا أَصْحَابَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ
حضرت عباس ؓ سے مروی ہے کہ وہ اور حضرت ابو سفیان ؓ نبی ﷺ کے ہمراہ تھے، نبی ﷺ نے خطبہ ارشاد فرمایا اور فرمایا کہ اب گھمسان کا رن پڑا ہے اور فرمایا یہ آواز لگاؤ یا اصحاب سورت البقرۃ۔