حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ شَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
نزال بن سبرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی ؓ نے وضو کا بچا ہوا پانی کھڑے ہو کر پیا اور فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ يَا عَلِيُّ إِنَّ لَكَ كَنْزًا مِنْ الْجَنَّةِ وَإِنَّكَ ذُو قَرْنَيْهَا فَلَا تُتْبِعْ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ فَإِنَّمَا لَكَ الْأُولَى وَلَيْسَتْ لَكَ الْآخِرَةُ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ان سے فرمایا اے علی! جنت میں تمہارے لئے ایک خزانہ رکھا گیا ہے اور تم اس کے دو سینگوں والے ہو (مکمل مالک ہو) اس لئے اگر کسی نامحرم پر نظر پڑجائے تو دوبارہ اس پر نظر مت ڈالو کیونکہ پہلی نظر تو تمہیں معاف ہوجائے گی لیکن دوسری معاف نہیں ہوگی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا نَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُدْنَهُ نَحَرَ بِيَدِهِ ثَلَاثِينَ وَأَمَرَنِي فَنَحَرْتُ سَائِرَهَا وَقَالَ اقْسِمْ لُحُومَهَا بَيْنَ النَّاسِ وَجُلُودَهَا وَجِلَالَهَا وَلَا تُعْطِيَنَّ جَازِرًا مِنْهَا شَيْئًا
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جب نبی ﷺ نے قربانی شروع کی تو اپنے دست مبارک سے تیس اونٹ ذبح کئے اور مجھے حکم دیا تو باقی کے اونٹ میں نے ذبح کئے اور نبی ﷺ نے فرمایا ان اونٹوں کی کھالیں اور جھولیں بھی تقسیم کردیں اور گوشت بھی تقسیم کردوں اور یہ کہ قصاب کو ان میں سے کوئی چیز مزدوری کے طور پر نہ دوں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ ضَمْرَةَ يَقُولُ سَأَلْنَا عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ النَّهَارِ فَقَالَ إِنَّكُمْ لَا تُطِيقُونَ ذَلِكَ قُلْنَا مَنْ أَطَاقَ مِنَّا ذَلِكَ قَالَ إِذَا كَانَتْ الشَّمْسُ مِنْ هَاهُنَا كَهَيْئَتِهَا مِنْ هَاهُنَا عِنْدَ الْعَصْرِ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَإِذَا كَانَتْ الشَّمْسُ مِنْ هَاهُنَا كَهَيْئَتِهَا مِنْ هَاهُنَا عِنْدَ الظُّهْرِ صَلَّى أَرْبَعًا وَيُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ وَقَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعًا وَيَفْصِلُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ بِالتَّسْلِيمِ عَلَى الْمَلَائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ وَالنَّبِيِّينَ وَمَنْ تَبِعَهُمْ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ
عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نے حضرت علی ؓ سے پوچھا کہ نبی ﷺ دن کے وقت کس طرح نوافل پڑھتے تھے؟ فرمایا تم اس طرح پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتے، ہم نے عرض کیا آپ بتا دیجئے، ہم اپنی طاقت اور استطاعت کے بقدر اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے، فرمایا کہ نبی ﷺ فجر کی نماز پڑھ کر تھوڑی دیر انتظار فرماتے، جب سورج مشرق سے اس مقدار میں نکل آتا جتنا عصر کی نماز کے بعد مغرب کی طرف ہوتا ہے، تو آپ ﷺ کھڑے ہو کردو رکعت نماز پڑھتے، پھر تھوڑی دیر انتظار فرماتے اور جب سورج مشرق سے اتنی مقدار میں نکل آتاجتنا ظہر کی نماز کے بعد مغرب کی طرف ہوتا ہے تو آپ ﷺ کھڑے ہو کر چار رکعت نماز پڑھتے، پھر سورج ڈھلنے کے بعد چار رکعتیں ظہر سے پہلے، دو رکعتیں ظہر کے بعد اور چار رکعتیں عصر سے پہلے پڑھتے تھے اور ہر دو رکعتوں میں ملائکہ مقربین، انبیاء کرام (علیہم السلام) اور ان کی پیروی کرنے والے مسلمانوں اور مومنین کے لئے سلام کے کلمات کہتے (تشہد پڑھتے)
قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ أَبُو الْحَارِثِ حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ الْأَبَّارُ عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ حَصِيرَةَ عَنْ أَبِي صَادِقٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ نَاجِذٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيكَ مَثَلٌ مِنْ عِيسَى أَبْغَضَتْهُ الْيَهُودُ حَتَّى بَهَتُوا أُمَّهُ وَأَحَبَّتْهُ النَّصَارَى حَتَّى أَنْزَلُوهُ بِالْمَنْزِلَةِ الَّتِي لَيْسَ بِهِ ثُمَّ قَالَ يَهْلِكُ فِيَّ رَجُلَانِ مُحِبٌّ مُفْرِطٌ يُقَرِّظُنِي بِمَا لَيْسَ فِيَّ وَمُبْغِضٌ يَحْمِلُهُ شَنَآنِي عَلَى أَنْ يَبْهَتَنِي
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ تمہارے معاملہ میں وہی ہوگا جیسا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ہوا، یہودیوں نے ان سے بغض کیا یہاں تک کہ ان کی والدہ پر گناہ کا بہتان باندھا اور عیسائیوں نے ان سے اتنی محبت کی کہ انہیں اس مقام پر پہنچا دیا جوان کا مقام و مرتبہ نہ تھا۔ پھر حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ میرے متعلق دو قسم کے لوگ ہلاک ہوں گے، ایک وہ محبت میں حد سے آگے بڑھ جانے والے جو مجھے اس مقام پر فائز کردیں گے جو میرا مقام نہیں ہے اور دوسرے وہ بغض رکھنے والے جو میری عدات میں آکر مجھ پر ایسے بہتان باندھیں گے جن کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعِ بْنِ الْجَرَّاحِ بْنِ مَلِيحٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا أَبُو غَيْلَانَ الشَّيْبَانِيُّ عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ حَصِيرَةَ عَنْ أَبِي صَادِقٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ نَاجِدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ فِيكَ مِنْ عِيسَى مَثَلًا أَبْغَضَتْهُ يَهُودُ حَتَّى بَهَتُوا أُمَّهُ وَأَحَبَّتْهُ النَّصَارَى حَتَّى أَنْزَلُوهُ بِالْمَنْزِلِ الَّذِي لَيْسَ بِهِ أَلَا وَإِنَّهُ يَهْلِكُ فِيَّ اثْنَانِ مُحِبٌّ يُقَرِّظُنِي بِمَا لَيْسَ فِيَّ وَمُبْغِضٌ يَحْمِلُهُ شَنَآنِي عَلَى أَنْ يَبْهَتَنِي أَلَا إِنِّي لَسْتُ بِنَبِيٍّ وَلَا يُوحَى إِلَيَّ وَلَكِنِّي أَعْمَلُ بِكِتَابِ اللَّهِ وَسُنَّةِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا اسْتَطَعْتُ فَمَا أَمَرْتُكُمْ مِنْ طَاعَةِ اللَّهِ فَحَقٌّ عَلَيْكُمْ طَاعَتِي فِيمَا أَحْبَبْتُمْ وَكَرِهْتُمْ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے مجھے بلا کر فرمایا کہ تمہارے معاملہ میں وہی ہوگا جیسا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ہوا، یہودیوں نے ان سے بغض کیا یہاں تک کہ ان کی والدہ پر گناہ کا بہتان باندھا اور عیسائیوں نے ان سے اتنی محبت کی کہ انہیں اس مقام پر پہنچا دیا جو ان کا مقام و مرتبہ نہ تھا۔ پھر حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ میرے متعلق دو قسم کے لوگ ہلاک ہوں گے، ایک وہ محبت میں حد سے آگے بڑھ جانے والے جو مجھے اس مقام پر فائز کردیں گے جو میرا مقام نہیں ہے اور دوسرے وہ بغض رکھنے والے جو میری عداوت میں آکر مجھ پر ایسے بہتان باندھیں جن کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ خبردار! میں نبی نہیں ہوں اور نہ ہی مجھ پر وحی آتی ہے، میں تو حسب استطاعت صرف کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ پر عمل پیرا ہوں، اس لئے اللہ کی اطاعت کے حوالے سے میں تمہیں جو حکم دوں، خواہ وہ تمہیں اچھا لگے یا برا، اس میں تم پر میری اطاعت کرنا میرا حق بنتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْمُزَنِيُّ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ إِنِّي دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ عِنْدَهُ أَحَدٌ إِلَّا عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَ يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ كَيْفَ أَنْتَ وَقَوْمَ كَذَا وَكَذَا قَالَ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ قَوْمٌ يَخْرُجُونَ مِنْ الْمَشْرِقِ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنْ الرَّمِيَّةِ فَمِنْهُمْ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْيَدِ كَأَنَّ يَدَيْهِ ثَدْيُ حَبَشِيَّةٍ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذْ دَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ عَلَيْهِ ثِيَابُ السَّفَرِ فَاسْتَأْذَنَ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يُكَلِّمُ النَّاسَ فَشُغِلَ عَنْهُ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنِّي دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَ لِي كَيْفَ أَنْتَ وَقَوْمَ كَذَا وَكَذَا فَقُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ثُمَّ عَادَ فَقُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَقَالَ قَوْمٌ يَخْرُجُونَ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ فِيهِمْ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْيَدِ كَأَنَّ يَدَهُ ثَدْيُ حَبَشِيَّةٍ أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ هَلْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ فِيهِمْ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ
کلیب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت علی ؓ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا تو انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت سوائے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے نبی ﷺ کے پاس کوئی اور نہ تھا، نبی ﷺ نے مجھے دیکھ کر فرمایا اے ابن ابی طالب! تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب ایسی ایسی قوم سے تمہارا پالا پڑے گا؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں، فرمایا ایک قوم ہوگی جو مشرق سے نکلے گی، وہ لوگ قرآن تو پڑھتے ہوں گے لیکن وہ ان کے حلق سے آگے نہ جاسکے گا وہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، ان میں ایک آدمی ایسا بھی ہوگا جس کا ہاتھ ناقص ہوگا اور اس کے ہاتھ ایک حبشی عورت کی چھاتی کی طرح محسوس ہوں گے۔ کلیب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت علی ؓ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا ایک آدمی ان کے پاس آیا جس پر سفر کے کپڑے تھے، اس نے حضرت علی ؓ سے جو کہ لوگوں سے گفتگو فرما رہے تھے اندر آنے کی اجازت لی، حضرت علی ؓ نے اس سے منہ پھیرنے کے بعد فرمانے لگے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت سوائے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے نبی ﷺ کے پاس کوئی اور نہ تھا، نبی ﷺ نے مجھے دیکھ کر فرمایا اے ابن ابی طالب! تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب ایسی ایسی قوم سے تمہارا پالا پڑے گا؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں، دو مرتبہ اسی طرح ہوا پھر فرمایا ایک قوم ہوگی جو مشرق سے نکلے گی، وہ لوگ قرآن تو پڑھتے ہوں گے لیکن وہ ان کے حلق سے آگے نہ جاسکے گا، وہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، ان میں ایک آدمی ایسا بھی ہوگا جس کا ہاتھ ناقص ہوگا اور اس کے ہاتھ ایک حبشی عورت کی چھاتی کی طرح محسوس ہوں گے۔۔۔۔۔ اس کے بعد انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعِ بْنِ الْجَرَّاحِ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي حَيَّةَ الْوَادِعِيِّ عَنْ عَمْرٍو ذِي مُرٍّ قَالَ أَبْصَرْنَا عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ قَالَ وَأَنَا أَشُكُّ فِي الْمَضْمَضَةِ وَالِاسْتِنْشَاقِ ثَلَاثًا ذَكَرَهَا أَمْ لَا وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَيَدَيْهِ ثَلَاثًا كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا ثَلَاثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ قَالَ أَحَدُهُمَا ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَةً فَمَسَحَ بِهَا رَأْسَهُ ثُمَّ قَامَ فَشَرِبَ فَضْلَ وَضُوئِهِ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ آخِرُ مُسْنَدِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
عبد خیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی ؓ نے ہمیں نبی ﷺ کا طریقہ وضو سکھایا، چناچہ سب سے پہلے انہوں نے اپنے ہاتھوں کو دھویا، تین مرتبہ چہرہ دھویا، دونوں بازوؤں کو کہنیوں سمیت تین تین مرتبہ دھویا، پھر دوبارہ اپنے ہاتھوں کو برتن میں ڈالا اور اپنے ہاتھ کو اس کے نیچے ڈبو دیا، پھر اسے باہر نکال کر دوسرے ہاتھ پر مل لیا اور دونوں ہتھیلیوں سے سر کا ایک مرتبہ مسح کیا اور ٹخنوں سمیت دونوں پاؤں تین تین مرتبہ دھوئے، پھر ہتھیلی سے چلو بنا کر تھوڑا سا پانی لیا اور اسے پی گئے اور فرمایا کہ نبی ﷺ اسی طرح وضو کیا کرتے تھے۔
حضرت طلحہ بن عبیدالہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ وَعَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَرْدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ قَالَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ نِعْمَ أَهْلُ الْبَيْتِ عَبْدُ اللَّهِ وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَأُمُّ عَبْدِ اللَّهِ
حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے جناب رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عبداللہ، ابو عبداللہ اور ام عبداللہ کیا خوب گھرانے والے ہیں۔
حضرت طلحہ بن عبیدالہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ وَعَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْوَرْدِ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ قَالَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ لَا أُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا إِلَّا أَنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ إِنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ صَالِحِي قُرَيْشٍ قَالَ وَزَادَ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَرْدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ طَلْحَةَ قَالَ نِعْمَ أَهْلُ الْبَيْتِ عَبْدُ اللَّهِ وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَأُمُّ عَبْدِ اللَّهِ
حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ یوں نبی ﷺ کے حوالے سے احادیث بیان کرنا میری عادت نہیں ہے البتہ میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے ضرور سنا ہے کہ عمرو بن العاص قریش کے نیک لوگوں میں سے ہیں اور عبداللہ، ابو عبداللہ اور ام عبداللہ کیا خوب گھرانے والے ہیں۔
حضرت طلحہ بن عبیدالہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ قَالَ كُنَّا مَعَ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَنَحْنُ حُرُمٌ فَأُهْدِيَ لَهُ طَيْرٌ وَطَلْحَةُ رَاقِدٌ فَمِنَّا مَنْ أَكَلَ وَمِنَّا مَنْ تَوَرَّعَ فَلَمْ يَأْكُلْ فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ طَلْحَةُ وَفَّقَ مَنْ أَكَلَهُ وَقَالَ أَكَلْنَاهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
عبدالرحمن بن عثمان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ کے ساتھ تھے، ہم لوگوں نے احرام باندھ رکھا تھا، تھوڑی دیر بعد کوئی شخص ان کی خدمت میں ایک پرندہ بطور ہدیہ کے لایا، حضرت طلحہ ؓ اس وقت سو رہے تھے، ہم میں سے کچھ لوگوں نے اسے کھالیا اور کچھ لوگوں نے اجتناب کیا، جب حضرت طلحہ ؓ بیدار ہوئے تو انہوں نے ان لوگوں کی تصویب فرمائی جنہوں نے اسے کھالیا تھا اور فرمایا کہ ہم نے بھی حالت احرام میں دوسرے کا شکار نبی ﷺ کی موجودگی میں کھالیا تھا۔
حضرت طلحہ بن عبیدالہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ عَنْ عَامِرٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رَأَى عُمَرُ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ ثَقِيلًا فَقَالَ مَا لَكَ يَا أَبَا فُلَانٍ لَعَلَّكَ سَاءَتْكَ إِمْرَةُ ابْنِ عَمِّكَ يَا أَبَا فُلَانٍ قَالَ لَا إِلَّا أَنِّي سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا مَا مَنَعَنِي أَنْ أَسْأَلَهُ عَنْهُ إِلَّا الْقُدْرَةُ عَلَيْهِ حَتَّى مَاتَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَا يَقُولُهَا عَبْدٌ عِنْدَ مَوْتِهِ إِلَّا أَشْرَقَ لَهَا لَوْنُهُ وَنَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَتَهُ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنِّي لَأَعْلَمُ مَا هِيَ قَالَ وَمَا هِيَ قَالَ تَعْلَمُ كَلِمَةً أَعْظَمَ مِنْ كَلِمَةٍ أَمَرَ بِهَا عَمَّهُ عِنْدَ الْمَوْتِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ طَلْحَةُ صَدَقْتَ هِيَ وَاللَّهِ هِيَ
یحییٰ بن طلحہ (رح) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق ؓ نے حضرت طلحہ ؓ کو یہ فرمایا کہ کیا بات ہے، نبی ﷺ کے وصال مبارک کے بعد سے آپ پراگندہ حال اور غبار آلود رہنے لگے ہیں؟ کیا آپ کو اپنے چچا زاد بھائی کی یعنی میری خلافت اچھی نہیں لگی؟ انہوں نے فرمایا بات یہ ہے نہیں ہے، اصل بات یہ ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ اگر کوئی شخص نزع کی حالت میں وہ کلمہ کہہ لے تو قیامت کے دن وہ اس کے لئے باعث نور ہو، (مجھے افسوس ہے کہ میں نبی ﷺ سے اس کلمے کے بارے میں پوچھ نہیں سکا اور خود نبی ﷺ نے بھی نہیں بتایا، میں اس وجہ سے پریشان ہوں)۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ میں وہ کلمہ جانتا ہوں، حضرت ابو طلحہ ؓ نے پوچھا کہ وہ کیا کلمہ ہے؟ فرمایا وہی کلمہ جو نبی ﷺ نے اپنے چچا کے سامنے پیش کیا تھا یعنی لا الہ الا اللہ، حضرت طلحہ ؓ فرمانے لگے کہ آپ نے سچ فرمایا۔
حضرت طلحہ بن عبیدالہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ إِسْمَاعِيلَ قَالَ قَالَ قَيْسٌ رَأَيْتُ طَلْحَةَ يَدُهُ شَلَّاءُ وَقَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ
قیس کہتے ہیں کہ میں نے حضرت طلحہ ؓ کے اس ہاتھ کا دیدار کیا ہے جو شل ہوگیا تھا، یہ وہی مبارک ہاتھ تھا جس کے ذریعے انہوں نے غزوہ احد کے موقع پر نبی ﷺ کی حفاظت میں اپنے ہاتھ پر مشرکین کے تیر روکے تھے۔
حضرت طلحہ بن عبیدالہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عُمَرَ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَآهُ كَئِيبًا فَقَالَ مَا لَكَ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ كَئِيبًا لَعَلَّهُ سَاءَتْكَ إِمْرَةُ ابْنِ عَمِّكَ يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ قَالَ لَا وَأَثْنَى عَلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَلَكِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ كَلِمَةٌ لَا يَقُولُهَا عَبْدٌ عِنْدَ مَوْتِهِ إِلَّا فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَتَهُ وَأَشْرَقَ لَوْنُهُ فَمَا مَنَعَنِي أَنْ أَسْأَلَهُ عَنْهَا إِلَّا الْقُدْرَةُ عَلَيْهَا حَتَّى مَاتَ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنِّي لَأَعْلَمُهَا فَقَالَ لَهُ طَلْحَةُ وَمَا هِيَ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ هَلْ تَعْلَمُ كَلِمَةً هِيَ أَعْظَمَ مِنْ كَلِمَةٍ أَمَرَ بِهَا عَمَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَقَالَ طَلْحَةُ هِيَ وَاللَّهِ هِيَ
یحییٰ بن طلحہ (رح) ویسے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق ؓ نے حضرت طلحہ ؓ کو یہ فرمایا کہ کیا بات ہے، نبی ﷺ کے وصال مبارک کے بعد سے آپ پراگندہ حال اور غبار آلود رہنے لگے ہیں؟ کیا آپ کو اپنے چچازاد بھائی کی یعنی میری خلافت اچھی نہیں لگی؟ انہوں نے فرمایا بات یہ نہیں ہے، اصل بات یہ ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ اگر کوئی شخص نزع کی حالت میں وہ کلمہ کہہ لے تو قیامت کے دن وہ اس کے لئے باعث نور ہو (مجھے افسوس ہے کہ میں نبی ﷺ سے اس کلمے کے بارے میں پوچھ نہیں سکا اور خود نبی ﷺ نے بھی نہیں بتایا، میں اس وجہ سے پریشان ہوں)۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ میں وہ کلمہ جانتا ہوں، حضرت ابو طلحہ ؓ نے پوچھا کہ وہ کیا کلمہ ہے؟ فرمایا وہی کلمہ جو نبی ﷺ نے اپنے چچا کے سامنے پیش گیا تھا یعنی لا الہ الا اللہ، حضرت طلحہ ؓ فرمانے لگے کہ آپ نے سچ فرمایا۔
حضرت طلحہ بن عبیدالہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَعْنٍ الْغِفَارِيُّ أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ دِينَارٍ أَنَّهُ مَرَّ هُوَ وَرَجُلٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو يُوسُفَ مِنْ بَنِي تَيْمٍ عَلَى رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لَهُ أَبُو يُوسُفَ إِنَّا لَنَجِدُ عِنْدَ غَيْرِكَ مِنْ الْحَدِيثِ مَا لَا نَجِدُهُ عِنْدَكَ فَقَالَ أَمَا إِنَّ عِنْدِي حَدِيثًا كَثِيرًا وَلَكِنَّ رَبِيعَةَ بْنَ الْهُدَيْرِ قَالَ وَكَانَ يَلْزَمُ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ إِنَّهُ لَمْ يَسْمَعْ طَلْحَةَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا قَطُّ غَيْرَ حَدِيثٍ وَاحِدٍ قَالَ رَبِيعَةُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ قُلْتُ لَهُ وَمَا هُوَ قَالَ قَالَ لِي طَلْحَةُ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَشْرَفْنَا عَلَى حَرَّةِ وَاقِمٍ قَالَ فَدَنَوْنَا مِنْهَا فَإِذَا قُبُورٌ بِمَحْنِيَّةٍ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قُبُورُ إِخْوَانِنَا هَذِهِ قَالَ قُبُورُ أَصْحَابِنَا ثُمَّ خَرَجْنَا حَتَّى إِذَا جِئْنَا قُبُورَ الشُّهَدَاءِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ قُبُورُ إِخْوَانِنَا
داؤود بن خالد بن دینار کہتے ہیں کہ ان کا اور بنو تیم کے ایک شخص کا " جس کا نام ابو یوسف تھا " ربیعہ بن ابی عبدالرحمن کے پاس سے گذر ہوا، ابو یوسف نے ان سے کہا کہ ہمیں آپ کے علاوہ دیگر حضرات کے پاس ایسی احادیث مل جاتی ہیں جو آپ کے پاس نہیں ملتیں؟ انہوں نے فرمایا کہ احادیث تو میرے پاس بھی بہت زیادہ ہیں لیکن میں نے ربیعہ بن ہدیر کو " جو کہ حضرت طلحہ ؓ کے ساتھ چمٹے رہتے تھے " یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کے حوالے حضرت طلحہ ؓ کو سوائے ایک حدیث کے کوئی اور حدیث بیان کرتے ہوئے نہیں سنا، میں نے ان سے پوچھا کہ وہ ایک حدیث کون سی ہے؟ تو بقول ربیعہ کے حضرت طلحہ ؓ نے فرمایا کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ نکلے، جب ہم حرہ و ارقم نامی جگہ پر (جو کہ مدینہ منورہ میں ایک ٹیلہ ہے) پہنچے اور اس کے قریب ہوئے تو ہمیں کمان کی طرح خمدار کچھ قبریں دکھائی دیں، ہم نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! ہمارے بھائیوں کی قبریں یہی ہیں؟ نبی ﷺ نے فرمایا یہ ہمارے اصحاب کی قبریں ہیں، پھر ہم وہاں سے نکل کر جب شہداء کی قبروں پر پہنچے تو نبی ﷺ نے فرمایا ہمارے بھائیوں کی قبریں یہ ہیں۔
حضرت طلحہ بن عبیدالہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنَّا نُصَلِّي وَالدَّوَابُّ تَمُرُّ بَيْنَ أَيْدِينَا فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مِثْلُ مُؤْخِرَةِ الرَّحْلِ تَكُونُ بَيْنَ يَدَيْ أَحَدِكُمْ ثُمَّ لَا يَضُرُّهُ مَا مَرَّ عَلَيْهِ وَقَالَ عُمَرُ مَرَّةً بَيْنَ يَدَيْهِ
موسیٰ بن طلحہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ جب ہم لوگ نماز پڑھ رہے ہوتے تھے تو جانور ہمارے سامنے سے گذرتے رہتے تھے، ہم نے یہ بات نبی ﷺ سے ذکر کی تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ اگر تمہارے سامنے کجاوے کے پچھلے حصے کی طرح کوئی چیز ہو ( جو بطور سترہ کے گاڑ لی گئی ہو) تو پھر جو مرضی چیز گذرتی رہے، تمہاری نماز میں کوئی حرج نہیں ہوگا۔
حضرت طلحہ بن عبیدالہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ نَزَلَ رَجُلَانِ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ عَلَى طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ فَقُتِلَ أَحَدُهُمَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ مَكَثَ الْآخَرُ بَعْدَهُ سَنَةً ثُمَّ مَاتَ عَلَى فِرَاشِهِ فَأُرِيَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ أَنَّ الَّذِي مَاتَ عَلَى فِرَاشِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ قَبْلَ الْآخَرِ بِحِينٍ فَذَكَرَ ذَلِكَ طَلْحَةُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمْ مَكَثَ فِي الْأَرْضِ بَعْدَهُ قَالَ حَوْلًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى أَلْفًا وَثَمَانِ مِائَةِ صَلَاةٍ وَصَامَ رَمَضَانَ
ابو سلمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ یمن کے دو آدمی حضرت طلحہ ؓ کے یہاں مہمان بنے، ان میں سے ایک صاحب تو نبی ﷺ کے ساتھ جہاد کرتے ہوئے شہید ہوگئے اور دوسرے صاحب ان کے بعد ایک سال مزید زندہ رہے اور بالآخر طبعی موت سے رخصت ہوگئے، حضرت طلحہ ؓ نے ایک مرتبہ خواب میں دیکھا کہ اپنی طبعی موت مرنے والا اپنے دوسرے ساتھی سے کافی عرصہ قبل ہی جنت میں داخل ہوگیا ہے، حضرت طلحہ ؓ نے یہ خواب نبی ﷺ سے ذکر کیا، نبی ﷺ نے ان سے پوچھا کہ یہ دوسرا آدمی اپنے پہلے ساتھی کے بعد کتنا عرصہ تک زمین پر زندہ رہا؟ انہوں نے بتایا کہ ایک سال تک، نبی ﷺ نے فرمایا کہ اس نے ایک ہزار آٹھ سو نمازیں پڑھیں اور ماہ رمضان کے روزے الگ رکھے۔ (آخر ان کا ثواب بھی تو ہوگا)
حضرت طلحہ بن عبیدالہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ عَمِّهِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ يَقُولُ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْإِسْلَامُ قَالَ خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ قَالَ هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُنَّ قَالَ لَا وَسَأَلَهُ عَنْ الصَّوْمِ فَقَالَ صِيَامُ رَمَضَانَ قَالَ هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُ قَالَ لَا قَالَ وَذَكَرَ الزَّكَاةَ قَالَ هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا قَالَ لَا قَالَ وَاللَّهِ لَا أَزِيدُ عَلَيْهِنَّ وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُنَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ
حضرت طلحہ ؓ فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! اسلام کیا ہے؟ فرمایا دن رات میں پانچ نمازیں، اس نے پوچھا کہ ان کے علاوہ بھی کوئی نماز مجھ پر فرض ہے؟ فرمایا نہیں، پھر اس نے روزہ کی بابت پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا کہ ماہ رمضان کے روزے فرض ہیں، اس نے پوچھا کیا اس کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی روزے فرض ہیں؟ فرمایا نہیں پھر زکوٰۃ کا تذکرہ ہوا اور اس نے پھر یہی پوچھا کیا اس کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی چیز فرض ہے؟ فرمایا نہیں۔ اس پر اس نے کہا اللہ کی قسم! میں ان چیزوں میں کسی قسم کی کمی بیشی نہ کروں گا، نبی ﷺ نے فرمایا کہ اگر یہ سچ کہہ رہا ہے اور اس نے اس بات کو سچ کر دکھایا تو یہ کامیاب ہوگیا۔
حضرت طلحہ بن عبیدالہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ وَطَلْحَةَ وَالزُّبَيْرِ وَسَعْدٍ نَشَدْتُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي تَقُومُ بِهِ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ أَعَلِمْتُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّا لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ
ایک مرتبہ حضرت فاروق اعظم ؓ نے حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت طلحہ، حضرت زبیر اور حضرت سعد ؓ سے فرمایا میں تمہیں اللہ کی قسم اور واسطہ دیتا ہوں جس کے حکم سے زمین و آسمان قائم ہیں، کیا آپ کے علم میں یہ بات ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے ہمارے مال میں وراثت جاری نہیں ہوتی، ہم جو کچھ چھوڑ جاتے ہیں وہ سب صدقہ ہوتا ہے؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا۔
حضرت طلحہ بن عبیدالہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنَّا مَعَ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ وَنَحْنُ حُرُمٌ فَأُهْدِيَ لَهُ طَيْرٌ وَطَلْحَةُ رَاقِدٌ فَمِنَّا مَنْ أَكَلَ وَمِنَّا مَنْ تَوَرَّعَ فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ طَلْحَةُ وَفَّقَ مَنْ أَكَلَهُ وَقَالَ أَكَلْنَاهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
عبدالرحمن بن عثمان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ کے ساتھ تھے، ہم لوگوں نے احرام باندھ رکھا تھا، تھوڑی دیر بعد کوئی شخص ان کی خدمت میں ایک پرندہ بطور ہدیہ کے لایا، حضرت طلحہ ؓ اس وقت سو رہے تھے، ہم میں سے کچھ لوگوں نے اسے کھالیا اور کچھ لوگوں نے اجتناب کیا، جب حضرت طلحہ ؓ بیدار ہوئے تو انہوں نے ان لوگوں کی تصویب فرمائی جنہوں نے اسے کھالیا تھا اور فرمایا کہ ہم نے بھی حالت احرام میں دوسرے کا شکار نبی ﷺ کی موجودگی میں کھالیا تھا۔