حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي حَيَّةَ قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَوَضَّأَ فَأَنْقَى كَفَّيْهِ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ثُمَّ غَسَلَ قَدَمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثُمَّ قَامَ فَشَرِبَ فَضْلَ وَضُوئِهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّمَا أَرَدْتُ أَنْ أُرِيَكُمْ طُهُورَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابوحیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت علی ؓ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، انہوں نے پہلے اپنی دونوں ہتھیلیوں کو صاف کیا، پھر تین مرتبہ چہرہ اور دونوں بازو دھوئے، سر کا مسح کیا پھر ٹخنوں سمیت دونوں پاؤں دھوئے، پھر کھڑے ہو کر وضو سے بچا ہوا پانی پی لیا اور فرمایا میں تمہیں نبی ﷺ کا طریقہ وضو دکھانا چاہتا تھا۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ نَافِعٍ حَدَّثَنِي أَبُو مَطَرٍ الْبَصْرِيُّ وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عَلِيًّا اشْتَرَى ثَوْبًا بِثَلَاثَةِ دَرَاهِمَ فَلَمَّا لَبِسَهُ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَزَقَنِي مِنْ الرِّيَاشِ مَا أَتَجَمَّلُ بِهِ فِي النَّاسِ وَأُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي ثُمَّ قَالَ هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ
ابو مطر بصری جنہوں نے حضرت علی ؓ کو پایا تھا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی ؓ نے تین درہم کا ایک کپڑا خریدا، جب اسے پہنا تو یہ دعاء پڑھی کہ اس اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے یہ لباس عطاء فرمایا جس سے میں لوگوں میں خوبصورت لگتا ہوں اور اپنا ستر چھپاتا ہوں پھر فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو بھی یہ دعاء پڑھتے ہوئے سنا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي حَيَّةَ الْهَمْدَانِيِّ قَالَ قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى وُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْيَنْظُرْ إِلَيَّ قَالَ فَتَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ ثُمَّ شَرِبَ فَضْلَ وَضُوئِهِ
ایک مرتبہ حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ جو شخص نبی ﷺ کا وضو دیکھنا چاہتا ہے وہ میری طرف دیکھے، پھر انہوں نے وضو کرتے ہوئے اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھویا، سر کا مسح کیا اور وضو سے بچا ہوا پانی پی لیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا مُخْتَارُ بْنُ نَافِعٍ التَّمَّارُ عَنْ أَبِي مَطَرٍ أَنَّهُ رَأَى عَلِيًّا أَتَى غُلَامًا حَدَثًا فَاشْتَرَى مِنْهُ قَمِيصًا بِثَلَاثَةِ دَرَاهِمَ وَلَبِسَهُ إِلَى مَا بَيْنَ الرُّسْغَيْنِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ يَقُولُ وَلَبِسَهُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَزَقَنِي مِنْ الرِّيَاشِ مَا أَتَجَمَّلُ بِهِ فِي النَّاسِ وَأُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي فَقِيلَ هَذَا شَيْءٌ تَرْوِيهِ عَنْ نَفْسِكَ أَوْ عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هَذَا شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ عِنْدَ الْكُسْوَةِ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَزَقَنِي مِنْ الرِّيَاشِ مَا أَتَجَمَّلُ بِهِ فِي النَّاسِ وَأُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي
ابو مطر بصری جنہوں نے حضرت علی ؓ کو پایا تھا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی ؓ نے تین درہم کا ایک کپڑا خریدا، جب اسے پہنا تو یہ دعاء پڑھی کہ اس اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے یہ لباس عطاء فرمایا جس سے میں لوگوں میں خوبصورت لگتا ہوں اور اپنا ستر چھپاتا ہوں، پھر فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو بھی یہ دعاء پڑھتے ہوئے سنا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا مُخْتَارٌ عَنْ أَبِي مَطَرٍ قَالَ بَيْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ مَعَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيٍّ فِي الْمَسْجِدِ عَلَى بَابِ الرَّحَبَةِ جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ أَرِنِي وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عِنْدَ الزَّوَالِ فَدَعَا قَنْبَرًا فَقَالَ ائْتِنِي بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ وَوَجْهَهُ ثَلَاثًا وَتَمَضْمَضَ ثَلَاثًا فَأَدْخَلَ بَعْضَ أَصَابِعِهِ فِي فِيهِ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا وَمَسَحَ رَأْسَهُ وَاحِدَةً فَقَالَ دَاخِلُهُمَا مِنْ الْوَجْهِ وَخَارِجُهُمَا مِنْ الرَّأْسِ وَرِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثَلَاثًا وَلِحْيَتُهُ تَهْطِلُ عَلَى صَدْرِهِ ثُمَّ حَسَا حَسْوَةً بَعْدَ الْوُضُوءِ ثُمَّ قَالَ أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَا كَانَ وُضُوءُ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابو مطر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم امیرالمومنین حضرت علی ؓ کے ساتھ زوال کے وقت مسجد میں باب الرحبیہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ مجھے نبی ﷺ جیسا وضو کر کے دکھائیے، حضرت علی ؓ نے اپنے غلام قنبر کو بلا کر فرمایا ایک کٹورے میں پانی لے کر آؤ، پھر انہوں نے اپنے ہاتھوں اور چہرے کو تین مرتبہ دھویا، ٣ مرتبہ کلی کی اور اپنی ایک انگلی منہ میں ڈالی، ناک میں تین مرتبہ پانی ڈالا، تین مرتبہ بازوؤں کو دھویا، ایک مرتبہ سر کا مسح کیا، چہرہ کی طرف سے اندر کے حصے کا اور سر کی طرف سے باہر کے حصے کا اور تین مرتبہ ٹخنوں سمیت پاؤں دھوئے، اس وقت ان کی داڑھی سینے پر لٹک رہی تھی، پھر انہوں نے وضو کے بعد ایک گھونٹ پانی پیا اور فرمایا کہ نبی ﷺ کے وضو کے متعلق سوال کرنے والا کہاں ہے؟ نبی ﷺ اس طرح وضو فرماتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ وَأَبُو نُعَيْمٍ قَالَا حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ ابْنِ شَدَّادٍ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ أَبَاهُ وَأُمَّهُ لِأَحَدٍ إِلَّا لِسَعْدٍ قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ أَبَوَيْهِ لِأَحَدٍ
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو کبھی کسی کے لئے سوائے حضرت سعد ؓ کے اپنے والدین کو جمع کرتے ہوئے نہیں سنا، غزوہ احد کے دن آپ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے فرما رہے تھے کہ سعدتیر پھینکو، تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ تَنَوَّقُ فِي قُرَيْشٍ وَلَا تَزَوَّجُ إِلَيْنَا قَالَ وَعِنْدَكَ شَيْءٌ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ ابْنَةُ حَمْزَةَ قَالَ تِلْكَ ابْنَةُ أَخِي مِنْ الرَّضَاعَةِ
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں عرض کیا یا رسول اللہ! آپ ہمیں چھوڑ کر قریش کے دوسرے خاندانوں کو کیوں پسند کرتے ہیں؟ نبی ﷺ نے فرمایا کہ تمہارے پاس بھی کچھ ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! حضرت حمزہ ؓ کی صاحبزادی! فرمایا کہ وہ تو میری رضاعی بھتیجی ہے (دراصل نبی ﷺ اور حضرت امیر حمزہ ؓ آپس میں رضاعی بھائی بھی تھے اور چچا بھتیجے بھی)
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُهْدِيَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَغْلَةٌ فَرَكِبَهَا فَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ لَوْ اتَّخَذْنَا مِثْلَ هَذَا قَالَ أَتُرِيدُونَ أَنْ تُنْزُوا الْحَمِيرَ عَلَى الْخَيْلِ إِنَّمَا يَفْعَلُ ذَلِكَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کی خدمت میں بطور ہدیہ کے ایک خچر پیش کیا گیا، نبی ﷺ اس پر سوار ہوئے، کسی صحابی ؓ نے پوچھا اگر ہم بھی یہ جانور حاصل کرنا چاہیں؟ نبی ﷺ نے فرمایا کیا تم گھوڑوں پر گدھوں کو کدوانا چاہتے ہو؟ یہ وہ لوگ کرتے ہیں جو جاہل ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ هِلَالٍ الرَّقِّيُّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي حَيَّةَ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَلَا أُرِيكُمْ كَيْفَ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ قُلْنَا بَلَى قَالَ فَأْتُونِي بِطَسْتٍ وَتَوْرٍ مِنْ مَاءٍ فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَغَسَلَ يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثَلَاثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ثَلَاثًا وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا
ابو حیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی ؓ نے فرمایا کیا میں تمہیں نبی ﷺ کی طرح وضو کر کے نہ دکھاؤں؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں، انہوں نے فرمایا پھر میرے پاس ایک طشت اور پانی کا ایک برتن لے کر آؤ، چناچہ پہلے انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں کو دھویا، پھر تین مرتبہ کلی کی، تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا، تین مرتبہ چہرہ دھویا، تین مرتبہ کہنیوں سمیت ہاتھ دھوئے، سر کا مسح کیا اور تین مرتبہ ٹخنوں سمیت دونوں پاؤں دھوئے۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لِعُمَرَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ عَنْ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ وَعَنْ الصَّغِيرِ حَتَّى يَكْبَرَ وَعَنْ الْمُبْتَلَى حَتَّى يَعْقِلَ
حضرت علی ؓ نے ایک مرتبہ حضرت عمر ؓ سے عرض کیا اے امیرالمومنین! کیا آپ نے نہیں سنا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تین طرح کے لوگ مرفوع القلم ہیں۔ (١) سویا ہوا شخص جب تک بیدار نہ ہوجائے (٢) بچہ جب تک بالغ نہ ہو جائے (٣) مجنون، جب تک اس کی عقل نہ لوٹ آئے
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي الْحُسَامِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْأَكْبَرِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُعْطِيتُ أَرْبَعًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ مِنْ أَنْبِيَاءِ اللَّهِ أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ وَسُمِّيتُ أَحْمَدَ وَجُعِلَ التُّرَابُ لِي طَهُورًا وَجُعِلَتْ أُمَّتِي خَيْرَ الْأُمَمِ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مجھے چار چیزیں ایسی دی گئی ہیں، جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں، مجھے زمین کے خزانے دیئے گئے ہیں، میرا نام احمد رکھا گیا ہے، مٹی کو میرے لئے پانی کی طرح پاک کرنے والا قرار دیا گیا ہے اور میری امت کو بہترین امت کا خطاب دیا گیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ عَنْ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ وَعَنْ الصَّغِيرِ حَتَّى يَكْبَرَ وَعَنْ الْمُبْتَلَى حَتَّى يَعْقِلَ
حضرت علی ؓ نے ایک مرتبہ حضرت عمر ؓ سے عرض کیا اے امیرالمومنین! کیا آپ نے نہیں سنا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تین طرح کے لوگ مرفوع القلم ہیں۔ (١) سویا ہوا شخص جب تک بیدار نہ ہو جائے (٢) بچہ جب تک بالغ نہ ہو جائے (٣) مجنون، جب تک اس کی عقل نہ لوٹ آئے
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ إِذَا قُلْتَهُنَّ غُفِرَ لَكَ عَلَى أَنَّهُ مَغْفُورٌ لَكَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھا دوں کہ جب تم انہیں زبان سے ادا کرلو تو تمہارے گناہ معاف کردیئے جائیں حالانکہ تمہارے گناہ معاف ہوچکے، یہ کلمات کہہ لیا کرو جن کا ترجمہ یہ ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے وہ حلیم و کریم ہے، اللہ ہر عیب اور نقص سے پاک ہے، وہ عرش عظیم کا رب ہے، تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کو پالنے والا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَكَاتِبَهُ وَالْمُحِلَّ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ وَمَانِعَ الصَّدَقَةِ وَنَهَى عَنْ النَّوْحِ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے دس قسم کے لوگوں پر لعنت فرمائی ہے سود خور، سود کھلانے والا، سودی معاملات لکھنے والا، سودی معاملات کے گواہ، حلالہ کرنے والا، حلالہ کروانے والا، زکوٰۃ روکنے والا، جسم گودنے والی اور جسم گدوانے والی پر لعنت فرمائی ہے اور نبی ﷺ نوحہ کرنے سے منع فرماتے تھے۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ أَخْبَرَنِي عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَذْنَبَ فِي الدُّنْيَا ذَنْبًا فَعُوقِبَ بِهِ فَاللَّهُ أَعْدَلُ مِنْ أَنْ يُثَنِّيَ عُقُوبَتَهُ عَلَى عَبْدِهِ وَمَنْ أَذْنَبَ ذَنْبًا فِي الدُّنْيَا فَسَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَفَا عَنْهُ فَاللَّهُ أَكْرَمُ مِنْ أَنْ يَعُودَ فِي شَيْءٍ قَدْ عَفَا عَنْهُ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص دنیا میں کسی گناہ کا ارتکاب کر بیٹھے اور اسے اس کی سزا بھی مل جائے تو اللہ تعالیٰ اس سے بہت عادل ہے کہ اپنے بندے کو دوبارہ سزادے اور جو شخص دنیا میں کوئی گناہ کر بیٹھے اور اللہ اس کی پردہ پوشی کرتے ہوئے اسے معاف فرما دے تو اللہ تعالیٰ اس سے بہت کریم ہے کہ جس چیز کو وہ معاف کرچکا ہو اس کا معاملہ دوبارہ کھولے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَا حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ قَالَ صَلَّيْنَا مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الظُّهْرَ فَانْطَلَقَ إِلَى مَجْلِسٍ لَهُ يَجْلِسُهُ فِي الرَّحَبَةِ فَقَعَدَ وَقَعَدْنَا حَوْلَهُ ثُمَّ حَضَرَتْ الْعَصْرُ فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ فَأَخَذَ مِنْهُ كَفًّا فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَمَسَحَ بِوَجْهِهِ وَذِرَاعَيْهِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَمَسَحَ بِرِجْلَيْهِ ثُمَّ قَامَ فَشَرِبَ فَضْلَ إِنَائِهِ ثُمَّ قَالَ إِنِّي حُدِّثْتُ أَنَّ رِجَالًا يَكْرَهُونَ أَنْ يَشْرَبَ أَحَدُهُمْ وَهُوَ قَائِمٌ إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ كَمَا فَعَلْتُ
نزال بن سبرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نے حضرت علی ؓ کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی، پھر وہ اپنی نشست پر تشریف لے گئے جہاں وہ باب الرحبہ کے قریب بیٹھتے تھے، جب وہ بیٹھے تو ہم بھی ان کے گرد بیٹھ گئے، جب عصر کی نماز کا وقت آیا تو ان کے پاس ایک برتن لایا گیا، انہوں نے اس سے ایک چلو بھرا، کلی کی، ناک میں پانی ڈالا، چہرے اور ہاتھوں پر پھیرا، سر اور پاؤں پر پھیرا اور کھڑے ہو کر بچا ہوا پانی پی لیا اور فرمایا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ کچھ لوگ کھڑے ہو کر پانی پینے کو مکروہ سمجھتے ہیں، میں نے نبی ﷺ کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُنِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنِّي لَأَرْبُطُ الْحَجَرَ عَلَى بَطْنِي مِنْ الْجُوعِ وَإِنَّ صَدَقَتِي الْيَوْمَ لَأَرْبَعُونَ أَلْفًا حَدَّثَنَا أَسْوَدُ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ وَإِنَّ صَدَقَةَ مَالِي لَتَبْلُغُ أَرْبَعِينَ أَلْفَ دِينَارٍ
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے ساتھ مجھ پر ایسا وقت بھی گذرا ہے کہ بھوک کی شدت سے میں اپنے پیٹ پر پتھر باندھتا تھا اور آج میرے مال کی صرف زکوٰۃ چالیس ہزار دینار بنتی ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُتْبِعْ النَّظَرَ النَّظَرَ فَإِنَّ الْأُولَى لَكَ وَلَيْسَتْ لَكَ الْأَخِيرَةُ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا علی! پہلی نظر کسی نامحرم پر پڑنے کے بعد اس پر دوسری نظر نہ ڈالنا کیونکہ پہلی نظر تو تمہیں معاف ہوگی، دوسری نہیں۔
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا وُلِدَ الْحَسَنُ سَمَّاهُ حَمْزَةَ فَلَمَّا وُلِدَ الْحُسَيْنُ سَمَّاهُ بِعَمِّهِ جَعْفَرٍ قَالَ فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أُغَيِّرَ اسْمَ هَذَيْنِ فَقُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَسَمَّاهُمَا حَسَنًا وَحُسَيْنًا
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ جب حسن کی پیدائش ہوئی تو ان کا نام حمزہ رکھا گیا اور جب حسین کی پیدائش ہوئی تو ان کا نام ان کے چچا کے نام پر جعفر رکھا گیا، بعد میں نبی ﷺ نے مجھے بلایا اور فرمایا کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ ان دونوں کے نام بدل دوں، میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، چناچہ نبی ﷺ نے ان کا نام علی الترتیب حسن اور حسین رکھ دیا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ أَبِي صَادِقٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ نَاجِذٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فِيهِمْ رَهْطٌ كُلُّهُمْ يَأْكُلُ الْجَذَعَةَ وَيَشْرَبُ الْفَرَقَ قَالَ فَصَنَعَ لَهُمْ مُدًّا مِنْ طَعَامٍ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا قَالَ وَبَقِيَ الطَّعَامُ كَمَا هُوَ كَأَنَّهُ لَمْ يُمَسَّ ثُمَّ دَعَا بِغُمَرٍ فَشَرِبُوا حَتَّى رَوَوْا وَبَقِيَ الشَّرَابُ كَأَنَّهُ لَمْ يُمَسَّ أَوْ لَمْ يُشْرَبْ فَقَالَ يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ إِنِّي بُعِثْتُ لَكُمْ خَاصَّةً وَإِلَى النَّاسِ بِعَامَّةٍ وَقَدْ رَأَيْتُمْ مِنْ هَذِهِ الْآيَةِ مَا رَأَيْتُمْ فَأَيُّكُمْ يُبَايِعُنِي عَلَى أَنْ يَكُونَ أَخِي وَصَاحِبِي قَالَ فَلَمْ يَقُمْ إِلَيْهِ أَحَدٌ قَالَ فَقُمْتُ إِلَيْهِ وَكُنْتُ أَصْغَرَ الْقَوْمِ قَالَ فَقَالَ اجْلِسْ قَالَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ كُلُّ ذَلِكَ أَقُومُ إِلَيْهِ فَيَقُولُ لِي اجْلِسْ حَتَّى كَانَ فِي الثَّالِثَةِ ضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى يَدِي
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے بنو عبدالمطلب کو دعوت پر جمع فرمایا: ان میں سے کچھ لوگ تو ایسے تھے کہ پورا پورا بکری کا بچہ کھاجاتے اور سولہ رطل کے برابر پانی پی جاتے، نبی ﷺ نے ان سب کی دعوت میں صرف ایک مد (آسانی کے لئے ایک کلو فرض کرلیں) کھانا تیار کروایا، ان لوگوں نے کھانا شروع کیا تو اتنے سے کھانے میں وہ سب لوگ سیر ہوگئے اور کھانا ویسے ہی بچا رہا، محسوس ہوتا تھا کہ اسے کسی نے چھوا تک نہیں ہے، پھر نبی ﷺ نے تھوڑا سا پانی منگوایا وہ ان سے نے سیراب ہو کر پیا لیکن پانی اسی طرح بچا رہا اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اسے کسی نے ہاتھ تک نہیں لگایا۔ ان تمام مراحل سے فراغت پا کر نبی ﷺ نے ان سے مخاطب ہو کر فرمایا اے بنو عبد المطلب! مجھے خصوصیت کے ساتھ تمہاری طرف اور عمومیت کے ساتھ پوری انسانیت کی طرف مبعوث کیا گیا ہے اور تم نے کھانے کا یہ معجزہ تو دیکھ ہی لیا ہے، اب تم میں سے کون مجھ سے اس بات پر بیعت کرتا ہے کہ وہ میرا بھائی اور میرا ساتھی بنے؟ اس پر کوئی بھی کھڑا نہ ہوا، یہ دیکھ کر " کہ اگرچہ میں سب سے چھوٹا ہوں " میں کھڑا ہوگیا، نبی ﷺ نے مجھے بیٹھ جانے کا حکم دیا اور تین مرتبہ اپنی بات کو دہرایا اور تینوں مرتبہ اسی طرح ہوا کہ میں کھڑا ہوجاتا اور نبی ﷺ مجھے بیٹھنے کا حکم دے دیتے، یہاں تک کہ تیسری مرتبہ نبی ﷺ نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ پر مارا (بیعت فرما لیا)