حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے دعاء کرتے ہوئے فرمایا اے اللہ! میری امت کے صبح کے اوقات میں برکت عطاء فرما۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ عَبِيدَةُ لَا أُحَدِّثُكَ إِلَّا مَا سَمِعْتُ مِنْهُ قَالَ مُحَمَّدٌ فَحَلَفَ لَنَا عَبِيدَةُ ثَلَاثَ مِرَارٍ وَحَلَفَ لَهُ عَلِيٌّ لَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا لَنَبَّأْتُكُمْ مَا وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ يَقْتُلُونَهُمْ عَنْ لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ آنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْهُ قَالَ إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ فِيهِمْ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْيَدِ أَوْ مَثْدُونُ الْيَدِ أَحْسَبُهُ قَالَ أَوْ مُودَنُ الْيَدِ
حضرت علی ؓ کے سامنے ایک مرتبہ خوارج کا ذکر ہوا تو فرمایا کہ ان میں ایک آدمی ناقص الخلقت بھی ہوگا، اگر تم حد سے آگے نہ بڑھ جاتے تو میں تم سے وہ وعدہ بیان کرتا جو اللہ نے نبی ﷺ کی زبانی ان کے قتل کرنے والوں سے فرما رکھا ہے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے واقعی نبی ﷺ سے اس سلسلے میں کوئی فرمان سنا ہے؟ تو انہوں نے تین مرتبہ فرمایا ہاں! رب کعبہ کی قسم۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِينَ إِلَى الرَّحْمَنِ وَفْدًا قَالَ لَا وَاللَّهِ مَا عَلَى أَرْجُلِهِمْ يُحْشَرُونَ وَلَا يُحْشَرُ الْوَفْدُ عَلَى أَرْجُلِهِمْ وَلَكِنْ عَلَى نُوقٍ لَمْ تَرَ الْخَلَائِقُ مِثْلَهَا عَلَيْهَا رَحَائِلُ مِنْ ذَهَبٍ فَيَرْكَبُونَ عَلَيْهَا حَتَّى يَضْرِبُوا أَبْوَابَ الْجَنَّةِ
نعمان بن سعد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم حضرت علی ؓ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے اس آیت کی تلاوت کی کہ قیامت کا دن وہ ہوگا جس میں ہم متقیوں کو رحمن کی بارگاہ میں ایک وفد کی صورت میں جمع کریں گے اور فرمایا کہ بخدا! انہیں پاؤں کے بل چلا کر جمع نہیں کیا جائے گا، بلکہ انہیں ایسی اونٹنیوں پر سوار کیا جائے گا جن کی مثل اس سے قبل مخلوق نے نہ دیکھی ہوگی، ان پر سونے کے کجاوے ہوں گے اور وہ اس پر سوار ہوں گے یہاں تک کہ جنت کے دروازے کھٹکھٹائیں گے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ وَقَفْتُ مَعَ الْحُسَيْنِ فَلَمْ أَزَلْ أَسْمَعُهُ يَقُولُ لَبَّيْكَ حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ فَقُلْتُ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ مَا هَذَا الْإِهْلَالُ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُهِلُّ حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْجَمْرَةِ وَحَدَّثَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهَا
عکرمہ کہتے ہیں کہ میں حضرت امام حسین ؓ کے ساتھ مزدلفہ سے واپس ہوا تو میں نے انہیں مسلسل تلبیہ پڑھتے ہوئے سنا تاآنکہ انہوں نے جمرہ عقبہ کی رمی کرلی، میں نے ان سے اس حوالے سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں اپنے والد صاحب کے ساتھ مزدلفہ سے واپس ہوا تھا تو میں نے انہیں بھی جمرہ عقبہ کی رمی تک مسلسل تلبیہ پڑھتے ہوئے سنا، میں نے ان سے اس حوالے پوچھا تو انہوں نے فرمایا میں نبی ﷺ کے ساتھ مزدلفہ سے واپس ہوا تو میں نے نبی ﷺ کو جمرہ عقبہ کی رمی تک مسلسل تلبیہ پڑھتے ہوئے سنا۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي زُهَيْرٌ أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي بِشَهْرٍ أَصُومُهُ بَعْدَ رَمَضَانَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ كُنْتَ صَائِمًا شَهْرًا بَعْدَ رَمَضَانَ فَصُمْ الْمُحَرَّمَ فَإِنَّهُ شَهْرُ اللَّهِ وَفِيهِ يَوْمٌ تَابَ فِيهِ عَلَى قَوْمٍ وَيُتَابُ فِيهِ عَلَى آخَرِينَ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! رمضان کے علاوہ مجھے کوئی ایسا مہینہ بتائیے جس کے میں روزے رکھ سکوں؟ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اگر تم رمضان کے بعد کسی مہینے کے روزے رکھنا چاہتے ہو تو ماہ محرم کے روزے رکھو، کیونکہ یہ اللہ کا مہینہ ہے، اس میں ایک دن ایسا ہے جس میں اللہ نے ایک قوم کی توبہ قبول کی تھی اور اللہ ایک قوم کی توبہ قبول کرے گا۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِيٍّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُنَاسٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَالُوا يَا مُحَمَّدُ إِنَّا جِيرَانُكَ وَحُلَفَاؤُكَ وَإِنَّ نَاسًا مِنْ عَبِيدِنَا قَدْ أَتَوْكَ لَيْسَ بِهِمْ رَغْبَةٌ فِي الدِّينِ وَلَا رَغْبَةٌ فِي الْفِقْهِ إِنَّمَا فَرُّوا مِنْ ضِيَاعِنَا وَأَمْوَالِنَا فَارْدُدْهُمْ إِلَيْنَا فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا تَقُولُ قَالَ صَدَقُوا إِنَّهُمْ جِيرَانُكَ قَالَ فَتَغَيَّرَ وَجْهُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا تَقُولُ قَالَ صَدَقُوا إِنَّهُمْ لَجِيرَانُكَ وَحُلَفَاؤُكَ فَتَغَيَّرَ وَجْهُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ قریش کے کچھ لوگ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم آپ کے پڑوسی اور آپ کے حلیف ہیں، ہمارے کچھ غلام آپ کے پاس آگئے ہیں، انہیں دین سے رغبت ہے اور نہ ہی اس کی سمجھ بوجھ سے کوئی دلچسپی ہے، اصل میں وہ ہماری جائیداد اور مال و دولت اپنے قبضہ میں کر کے فرار ہوگئے ہیں، اس لئے آپ انہیں ہمارے حوالے کردیں، نبی ﷺ نے حضرت صدیق اکبر ؓ سے پوچھا کہ آپ کی کیا رائے ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ ان کی یہ بات تو صحیح ہے کہ یہ آپ کے پڑوسی ہیں، اس پر نبی ﷺ کے رخ انور کا رنگ بدل گیا، پھر حضرت عمر ؓ سے ان کی رائے پوچھی تو انہوں نے بھی یہی کہا کہ یہ آپ کے پڑوسی اور حلیف تو واقعۃ ہیں، اس پر نبی ﷺ کے چہرے کا رنگ متغیر ہوگیا۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ سَنَةَ سِتٍّ وَعِشْرِينَ وَمِائَتَيْنِ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلَهُ رَجُلٌ آقْرَأُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ فَإِذَا رَكَعْتُمْ فَعَظِّمُوا اللَّهَ وَإِذَا سَجَدْتُمْ فَاجْتَهِدُوا فِي الْمَسْأَلَةِ فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ
نعمان بن سعد کہتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت علی ؓ سے پوچھا کہ کیا میں رکوع اور سجدہ میں قرأت کرسکتا ہوں؟ انہوں نے کہا جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے مجھے رکوع اور سجدے کی حالت میں تلاوت قرآن سے منع کیا گیا ہے، جب تم رکوع کرو تو اللہ کی عظمت بیان کیا کرو اور جب سجدہ کرو تو خوب توجہ سے دعاء مانگو، امید ہے کہ تمہاری دعا قبول ہوگی۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ الْأَسَدِيُّ أَبُو مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَغُرَفًا يُرَى بُطُونُهَا مِنْ ظُهُورِهَا وَظُهُورُهَا مِنْ بُطُونِهَا فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَنْ هِيَ قَالَ لِمَنْ أَطَابَ الْكَلَامَ وَأَطْعَمَ الطَّعَامَ وَصَلَّى لِلَّهِ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جنت میں ایسے بالاخانے بھی ہیں جن کا اندرونی حصہ باہر سے ہی نظر آتا ہے اور بیرونی حصہ اندر سے نظر آتا ہے، ایک دیہاتی نے پوچھا یا رسول اللہ! ﷺ یہ کس کے لئے ہیں؟ فرمایا اس شخص کے لئے جو اچھی بات کرے، ضرورت مندوں کو کھانا کھلائے اور جب لوگ رات کو سو رہے ہوں تو صرف رضاء الٰہی کے لئے نماز تہجد ادا کرے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي رَوْحُ بْنُ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ و حَدَّثَنِي عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ الْأَسَدِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے دعاء کرتے ہوئے فرمایا اے اللہ! میری امت کے صبح کے اوقات میں برکت عطاء فرما۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ أَنْبَأَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَبُعٍ قَالَ خَطَبَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ لَتُخْضَبَنَّ هَذِهِ مِنْ هَذِهِ قَالَ قَالَ النَّاسُ فَأَعْلِمْنَا مَنْ هُوَ وَاللَّهِ لَنُبِيرَنَّ عِتْرَتَهُ قَالَ أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ أَنْ يُقْتَلَ غَيْرُ قَاتِلِي قَالُوا إِنْ كُنْتَ قَدْ عَلِمْتَ ذَلِكَ اسْتَخْلِفْ إِذًا قَالَ لَا وَلَكِنْ أَكِلُكُمْ إِلَى مَا وَكَلَكُمْ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
عبداللہ بن سبع کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی ؓ خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ داڑھی اس سر کے خون سے رنگین ہو کر رہے گی، لوگوں نے کہا امیرالمومنین! ہمیں اس کا نام پتہ بتائیے، ہم اس کی نسل تک مٹا دیں گے، فرمایا میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہیں میرے قاتل کے علاوہ کسی اور کو قتل نہ کردینا، لوگوں نے عرض کیا کہ جب یہ بات آپ کو معلوم ہے تو پھر ہم پر اپنا نائب ہی مقرر کر دیجئے، فرمایا نہیں، میں تمہیں اسی کیفیت پر چھوڑ کر جاؤں گا جس پر نبی ﷺ نے چھوڑا تھا۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَنْبَأَنَا زَائِدَةُ عَنِ السُّدِّيِّ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ قَالَ خَطَبَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَقِيمُوا عَلَى أَرِقَّائِكُمْ الْحُدُودَ مَنْ أُحْصِنَ مِنْهُمْ وَمَنْ لَمْ يُحْصَنْ فَإِنَّ أَمَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَنَتْ فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُقِيمَ عَلَيْهَا الْحَدَّ فَأَتَيْتُهَا فَإِذَا هِيَ حَدِيثُ عَهْدٍ بِنِفَاسٍ فَخَشِيتُ إِنْ أَنَا جَلَدْتُهَا أَنْ تَمُوتَ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ أَحْسَنْتَ
ابو عبدالرحمن سلمی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی ؓ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا لوگو! اپنے غلاموں باندیوں پر بھی حدود جاری کیا کرو خواہ وہ شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ، کیونکہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کی ایک باندی سے بدکاری کا ارتکاب ہوگیا تھا، نبی صلی اللہ نے مجھے اس پر سزا جاری کرنے کا حکم دیا، جب میں اس پر حد جاری کرنے لگا تو پتہ چلا کہ ابھی اس کے نفاس کا زمانہ تازہ ہے، مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں کوڑے لگنے سے یہ مر ہی نہ جائے، چناچہ میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا معاملہ ذکر کردیا، نبی ﷺ نے فرمایا تم نے اچھا کیا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ فَقُلْتُ إِنَّكَ تَبْعَثُنِي إِلَى قَوْمٍ وَهُمْ أَسَنُّ مِنِّي لِأَقْضِيَ بَيْنَهُمْ فَقَالَ اذْهَبْ فَإِنَّ اللَّهَ سَيَهْدِي قَلْبَكَ وَيُثَبِّتُ لِسَانَكَ
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے جب مجھے یمن کی طرف بھیجا تو میں نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ آپ مجھے ایک ایسی قوم کی طرف فیصلہ کرنے کے لئے بھیج رہے ہیں جو مجھ سے بڑی عمر کے ہیں فرمایا اللہ تمہاری زبان کو صحیح راستے پر چلائے گا اور تمہارے دل کو مضبوط رکھے گا۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ سُوقًا مَا فِيهَا بَيْعٌ وَلَا شِرَاءٌ إِلَّا الصُّوَرُ مِنْ النِّسَاءِ وَالرِّجَالِ فَإِذَا اشْتَهَى الرَّجُلُ صُورَةً دَخَلَ فِيهَا وَإِنَّ فِيهَا لَمَجْمَعًا لِلْحُورِ الْعِينِ يَرْفَعْنَ أَصْوَاتًا لَمْ يَرَ الْخَلَائِقُ مِثْلَهَا يَقُلْنَ نَحْنُ الْخَالِدَاتُ فَلَا نَبِيدُ وَنَحْنُ الرَّاضِيَاتُ فَلَا نَسْخَطُ وَنَحْنُ النَّاعِمَاتُ فَلَا نَبْؤُسُ فَطُوبَى لِمَنْ كَانَ لَنَا وَكُنَّا لَهُ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي زُهَيْرٌ أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ سُوقًا فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فَإِذَا اشْتَهَى الرَّجُلُ صُورَةً دَخَلَهَا قَالَ وَفِيهَا مُجْتَمَعُ الْحُورِ الْعِينِ يَرْفَعْنَ أَصْوَاتًا فَذَكَرَ مِثْلَهُ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا جنت میں ایک بازار ہوگا لیکن اس میں خریدو فروخت نہ ہوگی، اس میں صرف مردوں اور عورتوں کی صورتیں ہوں گی، جس آدمی کو جو صورت پسند ہوگی وہ اس میں داخل ہوجائے گا، نیز جنت میں حور عین کا ایک مجمع لگتا ہے جہاں وہ " کہ ان جیسا حسین خلائق عالم نے نہ دیکھا ہوگا " اپنی آوازیں بلند کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ہم ہمیشہ رہنے والی ہیں، ہم کبھی فناء نہ ہوں گی، ہم ہمیشہ راضی رہنے والی ہیں، ہم کبھی ناراض نہ ہوں گی، ہم نازونعم میں پلی ہوئی ہیں اس لئے ہم تنگی میں نہیں رہیں گی، اس شخص کے لئے خوشخبری ہے جو ہمارا ہے اور جس کے ہم ہیں۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْبَلْخِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي حَيَّةَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ ثُمَّ شَرِبَ فَضْلَ وَضُوئِهِ ثُمَّ قَالَ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى وُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا
ایک مرتبہ حضرت علی ؓ نے وضو کرتے ہوئے اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھویا، سر کا مسح کیا اور وضو سے بچا ہوا پانی پی لیا، پھر فرمایا کہ جو شخص نبی ﷺ کا طریقہ وضو دیکھنا چاہتا ہے تو وہ یہ دیکھ لے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ قِتَالُهُمْ حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ایک قوم ایسی آئے گی جو اسلام سے ایسے نکل جائے گی جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، یہ لوگ قرآن تو پڑھتے ہوں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اتر سکے گا، ان سے قتال کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ حَارِثَةَ بْنِ الْمُضَرِّبِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ وَأَبُو النَّضْرِ قَالَا حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا إِذَا احْمَرَّ الْبَأْسُ وَلَقِيَ الْقَوْمُ الْقَوْمَ اتَّقَيْنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا يَكُونُ مِنَّا أَحَدٌ أَدْنَى مِنْ الْقَوْمِ مِنْهُ
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر کے دن ہم لوگ نبی ﷺ کی پناہ میں آجاتے تھے، اس دن نبی ﷺ کے علاوہ ہم میں سے کوئی بھی دشمن کے اتنا قریب نہ تھا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَيَّاشٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ فَقَالَ هَذَا الْمَوْقِفُ وَعَرَفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ ثُمَّ أَرْدَفَ أُسَامَةَ فَجَعَلَ يُعْنِقُ عَلَى نَاقَتِهِ وَالنَّاسُ يَضْرِبُونَ الْإِبِلَ يَمِينًا وَشِمَالًا لَا يَلْتَفِتُ إِلَيْهِمْ وَيَقُولُ السَّكِينَةَ أَيُّهَا النَّاسُ وَدَفَعَ حِينَ غَابَتْ الشَّمْسُ فَأَتَى جَمْعًا فَصَلَّى بِهَا الصَّلَاتَيْنِ يَعْنِي الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ ثُمَّ بَاتَ بِهَا فَلَمَّا أَصْبَحَ وَقَفَ عَلَى قُزَحَ فَقَالَ هَذَا قُزَحُ وَهُوَ الْمَوْقِفُ وَجَمْعٌ كُلُّهَا مَوْقِفٌ قَالَ ثُمَّ سَارَ فَلَمَّا أَتَى مُحَسِّرًا قَرَعَهَا فَخَبَّتْ حَتَّى جَازَ الْوَادِيَ ثُمَّ حَبَسَهَا وَأَرْدَفَ الْفَضْلَ ثُمَّ سَارَ حَتَّى أَتَى الْجَمْرَةَ فَرَمَاهَا ثُمَّ أَتَى الْمَنْحَرَ فَقَالَ هَذَا الْمَنْحَرُ وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ ثُمَّ أَتَتْهُ امْرَأَةٌ شَابَّةٌ مِنْ خَثْعَمَ فَقَالَتْ إِنَّ أَبِي شَيْخٌ قَدْ أَفْنَدَ وَقَدْ أَدْرَكَتْهُ فَرِيضَةُ اللَّهِ فِي الْحَجِّ فَهَلْ يُجْزِئُ أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ قَالَ نَعَمْ فَأَدِّي عَنْ أَبِيكِ قَالَ وَلَوَى عُنُقَ الْفَضْلِ فَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ لَوَيْتَ عُنُقَ ابْنِ عَمِّكَ قَالَ رَأَيْتُ شَابًّا وَشَابَّةً فَخِفْتُ الشَّيْطَانَ عَلَيْهِمَا قَالَ وَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ أَفَضْتُ قَبْلَ أَنْ أَحْلِقَ قَالَ فَاحْلِقْ أَوْ قَصِّرْ وَلَا حَرَجَ قَالَ وَأَتَى زَمْزَمَ فَقَالَ يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ سِقَايَتَكُمْ لَوْلَا أَنْ يَغْلِبَكُمْ النَّاسُ عَلَيْهَا لَنَزَعْتُ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر میدان عرفات میں وقوف کیا اور فرمایا کہ یہ وقوف کی جگہ ہے اور پورا عرفہ ہی وقوف کی جگہ ہے، پھر غروب شمس کے بعد آپ ﷺ روانہ ہوئے اپنے پیچھے حضرت اسامہ ؓ کو بٹھا لیا اور اپنی سواری کی رفتار تیز کردی، لوگ دائیں بائیں بھاگنے لگے، نبی ﷺ ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے لوگو! سکون اور اطمینان اختیار کرو، پھر آپ مزدلفہ پہنچے تو مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھیں اور رات بھر وہیں رہے، صبح ہوئی تو آپ ﷺ جبل قزح پر تشریف لائے، وہاں وقوف کیا اور فرمایا کہ یہ وقوف کی جگہ ہے اور پورا مزدلفہ ہی وقوف کی جگہ ہے، پھر آپ ﷺ چلتے ہوئے وادی محسر پہنچے، وہاں ایک لمحے کے لئے رکے پھر اپنی اونٹنی کو سرپٹ دوڑا دیا تاآنکہ اس وادی سے نکل گئے (کیونکہ یہ عذاب کی جگہ تھی)۔ پھر سواری روک کر اپنے پیچھے حضرت فضل ؓ کو بٹھا لیا اور چلتے چلتے منیٰ پہنچ کر جمرہ عقبہ آئے اور اسے کنکریاں ماریں پھر قربان گاہ تشریف لائے اور فرمایا کہ یہ قربان گاہ ہے اور منیٰ پورا ہی قربان گاہ ہے، اتنی دیر میں بنوخثعم کی ایک نوجوان عورت کوئی مسئلہ پوچھنے کے لئے نبی ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میرے والد بہت بوڑھے ہیں وہ تقریبا ختم ہوچکے ہیں لیکن ان پر حج بھی فرض ہے، کیا میں ان کی طرف سے حج کرسکتی ہوں؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہاں! تم اپنے والد کی طرف سے حج کرسکتی ہو، یہ کہتے ہوئے نبی ﷺ نے حضرت فضل ؓ کی گردن موڑ دی (کیونکہ وہ اس عورت کو دیکھنے لگے تھے) حضرت عباس ؓ نے یہ دیکھ کر پوچھا یا رسول اللہ! آپ نے اس کی گردن کس حکمت کی بنا پر موڑی؟ نبی ﷺ نے فرمایا میں نے دیکھا کہ دونوں نوجوان ہیں، مجھے ان کے بارے شیطان سے امن نہ ہوا اس لئے دونوں کا رخ پھیر دیا، بہرحال تھوڑی دیر بعد ایک اور آدمی آیا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ! میں نے قربانی کرنے سے پہلے بال کٹوا لئے اب کیا کروں؟ فرمایا اب قربانی کرلو، کوئی حرج نہیں ایک اور شخص نے آکر عرض کیا یا رسول اللہ! میں نے حلق سے پہلے طواف زیارت کرلیا، فرمایا کوئی بات نہیں اب حلق یا قصر کرلو۔ اس کے بعد نبی ﷺ طواف زیارت کے لئے حرم شریف پہنچے، طواف کیا، زمزم پیا اور فرمایا بنو عبدالمطلب! حاجیوں کو پانی پلانے کی ذمہ داری پوری کرتے رہو، اگر لوگ تم پر غالب نہ آجاتے تو میں بھی اس میں سے ڈول کھینچ کھینچ کر نکالتا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا هَاشِمٌ يَعْنِي ابْنَ الْبَرِيدِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ الْحَنَفِيِّ عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ قَالَ أَخَذَ بِيَدِي عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَانْطَلَقْنَا نَمْشِي حَتَّى جَلَسْنَا عَلَى شَطِّ الْفُرَاتِ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ إِلَّا قَدْ سَبَقَ لَهَا مِنْ اللَّهِ شَقَاءٌ أَوْ سَعَادَةٌ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِيمَ إِذًا نَعْمَلُ قَالَ اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى إِلَى قَوْلِهِ فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى
ابوعبدالرحمن سلمی (رح) کہتے ہیں کہ ایک دن حضرت علی ؓ نے میرا ہاتھ پکڑا اور ہم چہل قدمی کرتے ہوئے چلتے رہے، حتی کہ فرات کے کنارے جا کر بیٹھ گئے، تو حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ ایک دن نبی ﷺ نے فرمایا تم میں سے ہر شخص کا شقی یا سعید ہونا اللہ کے علم میں موجود اور متعین ہے، صحابہ کرام ؓ نے پوچھا یا رسول اللہ! پھر ہم عمل کیوں کریں؟ فرمایا عمل کرتے رہو کیونکہ ہر ایک کے لئے وہی اعمال آسان کئے جائیں گے جن کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہوگا، پھر آپ ﷺ نے قرآن کی یہ آیت تلاوت فرمائی کہ جس شخص نے دیا، تقویٰ اختیار کیا اور اچھی بات کی تصدیق کی تو ہم اس کے لئے آسانی کے اسباب پیدا کردیں گے اور جو شخص بخل اختیار کرے اپنے آپ کو مستغنی ظاہر کرے اور اچھی بات کی تکذیب کرے تو ہم اس کے لئے تنگی کے اسباب پیدا کردیں گے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي حَيَّةَ الْوَادِعِيِّ قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَالَ فِي الرَّحَبَةِ ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا وَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَغَسَلَ قَدَمَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ كَالَّذِي رَأَيْتُمُونِي فَعَلْتُ
ابوحیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت علی ؓ کو صحن میں پیشاب کرتے ہوئے دیکھا، پھر انہوں نے پانی منگوایا اور پہلے انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں کو دھو کر صاف کیا، پھر تین مرتبہ کلی کی، تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا، تین مرتبہ چہرہ دھویا، تین مرتبہ کہنیوں سمیت دونوں ہاتھ دھوئے، سر کا مسح کیا اور ٹخنوں سمیت دونوں پاؤں دھوئے اور وضو کا بچا ہوا پانی لے کر کھڑے کھڑے پی گئے اور فرمایا کہ میں تمہیں نبی ﷺ کا طریقہ وضو دکھانا چاہتا تھا۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي زُهَيْرٌ أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي حَيَّةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک مرتبہ وضو کرتے ہوئے اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھویا۔