Musnad Imam Ahmad

All 26,407 hadiths in order · Page 67 of 1,321

1321Musnad Imam Ahmad

حضرت طلحہ بن عبیدالہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَسْتُرُ الْمُصَلِّيَ قَالَ مِثْلُ آخِرَةِ الرَّحْلِ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ

حضرت طلحہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ سے یہ سوال پوچھا گیا کہ نمازی کس چیز کو سترہ بنائے؟ تو نبی ﷺ نے فرمایا کجاوے کے پچھلے حصے کی مانند کسی بھی چیز کو بنالے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

1322Musnad Imam Ahmad

حضرت طلحہ بن عبیدالہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَوْمٍ فِي رُءُوسِ النَّخْلِ فَقَالَ مَا يَصْنَعُ هَؤُلَاءِ قَالُوا يُلَقِّحُونَهُ يَجْعَلُونَ الذَّكَرَ فِي الْأُنْثَى قَالَ مَا أَظُنُّ ذَلِكَ يُغْنِي شَيْئًا فَأُخْبِرُوا بِذَلِكَ فَتَرَكُوهُ فَأُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنْ كَانَ يَنْفَعُهُمْ فَلْيَصْنَعُوهُ فَإِنِّي إِنَّمَا ظَنَنْتُ ظَنًّا فَلَا تُؤَاخِذُونِي بِالظَّنِّ وَلَكِنْ إِذَا أَخْبَرْتُكُمْ عَنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِشَيْءٍ فَخُذُوهُ فَإِنِّي لَنْ أَكْذِبَ عَلَى اللَّهِ شَيْئًا

حضرت طلحہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کا گذر کچھ لوگوں کے پاس سے ہوا جو کھجوروں کے باغات میں تھے، نبی ﷺ نے پوچھا کہ یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ نر کھجور کو مادہ کھجور میں ملار ہے ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا کہ میرا خیال نہیں ہے کہ اس سے کچھ فائدہ ہوتا ہو، ان لوگوں کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے اس سال یہ عمل نہیں کیا، نبی ﷺ کو یہ خبر معلوم ہوئی تو فرمایا کہ اگر انہیں اس سے کچھ فائدہ ہوتا ہو تو انہیں یہ کام کرلینا چاہئے، میں نے تو صرف ایک گمان اور خیال ظاہر کیا ہے اس لئے میرے گمان پر عمل کرنا تمہارے لئے ضروری نہیں ہے، ہاں! البتہ جب میں تمہیں اللہ کے حوالے سے کوئی بات بتاؤں تو تم اس پر عمل کرو کیونکہ میں اللہ پر کسی صورت جھوٹ نہیں باندھ سکتا۔

1323Musnad Imam Ahmad

حضرت طلحہ بن عبیدالہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا مُجَمِّعُ بْنُ يَحْيَى الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَوْهَبٍ عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ الصَّلَاةُ عَلَيْكَ قَالَ قُلْ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ

حضرت طلحہ ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! آپ پر درود کس طرح پڑھا جائے، فرمایا یوں کہا کرو، اے اللہ! محمد ﷺ اور آل محمد ﷺ پر اسی طرح درود نازل فرما جیسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر نازل کیا، بیشک تو قابل تعریف اور بزرگی والا ہے اور محمد ﷺ وآل محمد ﷺ پر اس طرح برکتوں کا نزول فرما جیسے ابراہیم (علیہ السلام) پر کیا، بیشک تو قابل تعریف اور بزرگی والا ہے۔

1324Musnad Imam Ahmad

حضرت طلحہ بن عبیدالہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سُفْيَانَ الْمَدَايِنِيُّ حَدَّثَنِي بِلَالُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى الْهِلَالَ قَالَ اللَّهُمَّ أَهِلَّهُ عَلَيْنَا بِالْيُمْنِ وَالْإِيمَانِ وَالسَّلَامَةِ وَالْإِسْلَامِ رَبِّي وَرَبُّكَ اللَّهُ

حضرت طلحہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب بھی نیا چاند دیکھتے تو یہ دعاء پڑھتے اے اللہ! اس چاند کو ہم پر برکت اور ایمان، سلامتی اور اسلام کے ساتھ طلوع فرما، اے چاند! میرا اور تیرا رب اللہ ہے۔

1325Musnad Imam Ahmad

حضرت طلحہ بن عبیدالہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلَ مُؤْخِرَةِ الرَّحْلِ ثُمَّ يُصَلِّي

حضرت طلحہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے فرمایا انسان کجاوے کے پچھلے حصے کی مانند کسی بھی چیز کو سترہ بنالے پھر نماز پڑھے۔

1326Musnad Imam Ahmad

حضرت طلحہ بن عبیدالہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ أَنَّهُ سَمِعَ مُوسَى بْنَ طَلْحَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ مَرَرْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَخْلِ الْمَدِينَةِ فَرَأَى أَقْوَامًا فِي رُءُوسِ النَّخْلِ يُلَقِّحُونَ النَّخْلَ فَقَالَ مَا يَصْنَعُ هَؤُلَاءِ قَالَ يَأْخُذُونَ مِنْ الذَّكَرِ فَيَحُطُّونَ فِي الْأُنْثَى يُلَقِّحُونَ بِهِ فَقَالَ مَا أَظُنُّ ذَلِكَ يُغْنِي شَيْئًا فَبَلَغَهُمْ فَتَرَكُوهُ وَنَزَلُوا عَنْهَا فَلَمْ تَحْمِلْ تِلْكَ السَّنَةَ شَيْئًا فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّمَا هُوَ ظَنٌّ ظَنَنْتُهُ إِنْ كَانَ يُغْنِي شَيْئًا فَاصْنَعُوا فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ وَالظَّنُّ يُخْطِئُ وَيُصِيبُ وَلَكِنْ مَا قُلْتُ لَكُمْ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَلَنْ أَكْذِبَ عَلَى اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ فَذَكَرَهُ

حضرت طلحہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کا گذر کچھ لوگوں کے پاس سے ہوا جو کھجوروں کے باغات میں تھے، نبی ﷺ نے پوچھا کہ یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ نر کھجور کو مادہ کھجور میں ملا رہے ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا کہ میرا خیال نہیں ہے کہ اس سے کچھ فائدہ ہوتا ہو، ان لوگوں کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے اس سال یہ عمل نہیں کیا، نبی ﷺ کو یہ خبر معلوم ہوئی تو فرمایا کہ اگر انہیں اس سے کچھ فائدہ ہوتا ہو تو انہیں یہ کام کرلینا چاہئے، میں نے تو صرف ایک گمان اور خیال ظاہر کیا ہے اس لئے میرے گمان پر عمل کرنا تمہارے لئے ضروری نہیں ہے، ہاں! البتہ جب میں تمہیں اللہ کے حوالے سے کوئی بات بتاؤں تو تم اس پر عمل کرو کیونکہ میں اللہ پر کسی صورت جھوٹ نہیں باندھ سکتا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

1327Musnad Imam Ahmad

حضرت طلحہ بن عبیدالہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ أَنَّ نَفَرًا مِنْ بَنِي عُذْرَةَ ثَلَاثَةً أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمُوا قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يَكْفِنِيهِمْ قَالَ طَلْحَةُ أَنَا قَالَ فَكَانُوا عِنْدَ طَلْحَةَ فَبَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا فَخَرَجَ أَحَدُهُمْ فَاسْتُشْهِدَ قَالَ ثُمَّ بَعَثَ بَعْثًا فَخَرَجَ فِيهِمْ آخَرُ فَاسْتُشْهِدَ قَالَ ثُمَّ مَاتَ الثَّالِثُ عَلَى فِرَاشِهِ قَالَ طَلْحَةُ فَرَأَيْتُ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةَ الَّذِينَ كَانُوا عِنْدِي فِي الْجَنَّةِ فَرَأَيْتُ الْمَيِّتَ عَلَى فِرَاشِهِ أَمَامَهُمْ وَرَأَيْتُ الَّذِي اسْتُشْهِدَ أَخِيرًا يَلِيهِ وَرَأَيْتُ الَّذِي اسْتُشْهِدَ أَوَّلَهُمْ آخِرَهُمْ قَالَ فَدَخَلَنِي مِنْ ذَلِكَ قَالَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا أَنْكَرْتَ مِنْ ذَلِكَ لَيْسَ أَحَدٌ أَفْضَلَ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ مُؤْمِنٍ يُعَمَّرُ فِي الْإِسْلَامِ لِتَسْبِيحِهِ وَتَكْبِيرِهِ وَتَهْلِيلِهِ

حضرت عبداللہ بن شداد ؓ سے مروی ہے کہ بنو عذرہ کے تین آدمیوں کی ایک جماعت نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کرلیا، نبی ﷺ نے صحابہ کرام ؓ سے فرمایا کہ ان کی کفالت کون کرے گا؟ حضرت طلحہ ؓ نے اپنے آپ کو پیش کردیا، چناچہ یہ لوگ حضرت طلحہ ؓ کے پاس رہتے رہے، اس دوران نبی ﷺ نے ایک لشکر روانہ فرمایا تو ان میں سے بھی ایک آدمی اس میں شریک ہوگیا اور وہیں پر جام شہادت نوش کرلیا۔ کچھ عرصہ کے بعد نبی ﷺ نے ایک اور لشکر روانہ فرمایا تو دوسرا آدمی بھی شریک ہوگیا اور اس دوران وہ بھی شہید ہوگیا جبکہ تیسرے شخص کا انتقال طبعی موت سے ہوگیا، حضرت طلحہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے خواب میں ان تینوں کو جو میرے پاس رہتے تھے جنت میں دیکھا، ان میں سے جس کی موت طبعی ہوئی تھی وہ ان دونوں سے آگے تھا، بعد میں شہید ہونے والا دوسرے درجے پر تھا اور سب سے پہلے شہید ہونے والا سب سے آخر میں تھا، مجھے اس پر بڑا تعجب ہوا، میں نے نبی ﷺ سے اس چیز کا تذکرہ کیا تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ تمہیں اس پر تعجب کیونکر ہوا؟ اللہ کی بارگاہ میں اس مومن سے افضل کوئی نہیں ہے جسے حالت اسلام میں لمبی عمر دی گئی ہو، اس کی تسبیح و تکبیر اور تہلیل کی وجہ سے۔

1328Musnad Imam Ahmad

حضرت طلحہ بن عبیدالہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عَبِيدَةَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُجَبَّرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَشْرَفَ عَلَى الَّذِينَ حَصَرُوهُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ فَلَمْ يَرُدُّوا عَلَيْهِ فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَفِي الْقَوْمِ طَلْحَةُ قَالَ طَلْحَةُ نَعَمْ قَالَ فَإِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ أُسَلِّمُ عَلَى قَوْمٍ أَنْتَ فِيهِمْ فَلَا تَرُدُّونَ قَالَ قَدْ رَدَدْتُ قَالَ مَا هَكَذَا الرَّدُّ أُسْمِعُكَ وَلَا تُسْمِعُنِي يَا طَلْحَةُ أَنْشُدُكَ اللَّهَ أَسَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يُحِلُّ دَمَ الْمُسْلِمِ إِلَّا وَاحِدَةٌ مِنْ ثَلَاثٍ أَنْ يَكْفُرَ بَعْدَ إِيمَانِهِ أَوْ يَزْنِيَ بَعْدَ إِحْصَانِهِ أَوْ يَقْتُلَ نَفْسًا فَيُقْتَلَ بِهَا قَالَ اللَّهُمَّ نَعَمْ فَكَبَّرَ عُثْمَانُ فَقَالَ وَاللَّهِ مَا أَنْكَرْتُ اللَّهَ مُنْذُ عَرَفْتُهُ وَلَا زَنَيْتُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ وَقَدْ تَرَكْتُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَكَرُّهًا وَفِي الْإِسْلَامِ تَعَفُّفًا وَمَا قَتَلْتُ نَفْسًا يَحِلُّ بِهَا قَتْلِي

ایک مرتبہ حضرت عثمان غنی ؓ نے اپنے بالا خانے سے ان لوگوں کو جھانک کر دیکھا جنہوں نے ان کا محاصرہ کر رکھا تھا اور انہیں سلام کیا، لیکن انہوں نے اس کا کوئی جواب نہ دیا، پھر حضرت عثمان ؓ نے پوچھا کہ کیا اس گروہ میں حضرت طلحہ ؓ موجود ہیں۔ حضرت طلحہ ؓ نے فرمایا ہاں! میں موجود ہوں، حضرت عثمان ؓ نے انا للہ کہا اور فرمایا میں ایسے گروہ کو سلام کر رہا ہوں جس میں آپ بھی موجود ہیں، پھر بھی سلام کا جواب نہیں دیتے، حضرت طلحہ ؓ نے فرمایا میں نے جواب دیا ہے، حضرت عثمان ؓ نے فرمایا کیا اس طرح جواب دیا جاتا ہے کہ میری آواز تو آپ تک پہنچ رہی ہے لیکن آپ کی آواز مجھ تک نہیں پہنچ رہی۔ طلحہ! میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا تم نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ کسی مسلمان کا خون بہانا ان تین وجوہات کے علاوہ کسی وجہ سے بھی جائز نہیں یا تو وہ ایمان لانے کے بعد مرتد ہوجائے یا شادی شدہ ہونے کے باوجود بدکاری کا ارتکاب کرے یا کسی کو قتل کرے اور بدلے میں اسے قتل کردیا جائے؟ حضرت طلحہ ؓ نے ان کی تصدیق کی جس پر حضرت عثمان ؓ نے اللہ اکبر کہہ کر فرمایا بخدا! میں نے اللہ کو جب سے پہچانا ہے کبھی اس کا انکار نہیں کیا، اسی طرح میں نے زمانہ جاہلیت یا اسلام میں کبھی بدکاری نہیں کی، میں نے اس کام کو جاہلیت میں طبعی ناپسندیدگی کی وجہ سے چھوڑ رکھا تھا اور اسلام میں اپنی عفت کی حفاظت کے لئے اس سے اپنا دامن بچائے رکھا، نیز میں نے کسی انسان کو بھی قتل نہیں کیا جس کے بدلے میں مجھے قتل کرنا حلال ہو۔

1329Musnad Imam Ahmad

حضرت طلحہ بن عبیدالہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ عَنِ ابْنِ الْهَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَنَّ رَجُلَيْنِ قَدِمَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ إِسْلَامُهُمَا جَمِيعًا وَكَانَ أَحَدُهُمَا أَشَدَّ اجْتِهَادًا مِنْ صَاحِبِهِ فَغَزَا الْمُجْتَهِدُ مِنْهُمَا فَاسْتُشْهِدَ ثُمَّ مَكَثَ الْآخَرُ بَعْدَهُ سَنَةً ثُمَّ تُوُفِّيَ قَالَ طَلْحَةُ فَرَأَيْتُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ كَأَنِّي عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ إِذَا أَنَا بِهِمَا وَقَدْ خَرَجَ خَارِجٌ مِنْ الْجَنَّةِ فَأَذِنَ لِلَّذِي تُوُفِّيَ الْآخِرَ مِنْهُمَا ثُمَّ خَرَجَ فَأَذِنَ لِلَّذِي اسْتُشْهِدَ ثُمَّ رَجَعَا إِلَيَّ فَقَالَا لِي ارْجِعْ فَإِنَّهُ لَمْ يَأْنِ لَكَ بَعْدُ فَأَصْبَحَ طَلْحَةُ يُحَدِّثُ بِهِ النَّاسَ فَعَجِبُوا لِذَلِكَ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مِنْ أَيِّ ذَلِكَ تَعْجَبُونَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا كَانَ أَشَدَّ اجْتِهَادًا ثُمَّ اسْتُشْهِدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدَخَلَ هَذَا الْجَنَّةَ قَبْلَهُ فَقَالَ أَلَيْسَ قَدْ مَكَثَ هَذَا بَعْدَهُ سَنَةً قَالُوا بَلَى وَأَدْرَكَ رَمَضَانَ فَصَامَهُ قَالُوا بَلَى وَصَلَّى كَذَا وَكَذَا سَجْدَةً فِي السَّنَةِ قَالُوا بَلَى قَالَ رَسُولُ اللَّهِ فَلَمَا بَيْنَهُمَا أَبْعَدُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ

حضرت طلحہ ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ دو آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان دونوں نے اکٹھے ہی اسلام قبول کیا، ان میں سے ایک اپنے دوسرے ساتھی کے مقابلے میں بہت محنت کرتا تھا، یہ شخص جو بہت محنت کرتا تھا ایک غزوہ میں شریک ہو کر شہید ہوگیا، دوسرا شخص اس کے بعد ایک سال تک زندہ رہا، پھر طبعی وفات سے انتقال کر گیا۔ حضرت طلحہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا میں جنت کے دروازے کے قریب ہوں، اچانک وہ دونوں مجھے دکھائی دیتے ہیں، جنت سے ایک آدمی باہر نکلتا ہے اور بعد میں فوت ہونے والے کو اندر داخل ہونے کی اجازت دے دیتا ہے، تھوری دیر بعد باہر آکر وہ شہید ہونے والے کو بھی اجازت دے دیتا ہے، پھر وہ دونوں میرے پاس آتے ہیں اور مجھ سے کہتے ہیں کہ آپ ابھی واپس چلے جائیں ابھی آپ کا وقت نہیں آیا۔ جب صبح ہوئی اور حضرت طلحہ ؓ نے لوگوں کے سامنے یہ خواب ذکر کیا تو لوگوں کو بہت تعجب ہوا، نبی ﷺ کو معلوم ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمہیں کس بات پر تعجب ہو رہا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ شخص زیادہ محنت کرتا تھا، پھر اللہ کے راستہ میں شہید بھی ہوا، اس کے باوجود دوسرا آدمی جنت میں پہلے داخل ہوگیا، نبی ﷺ نے فرمایا کیا وہ اس کے بعد ایک سال تک زندہ نہیں رہا تھا؟ لوگوں نے کہا کیوں نہیں، پھر فرمایا کیا اس نے رمضان کا مہینہ پا کر اس کے روزے نہیں رکھے تھے؟ لوگوں نے کہا کیوں نہیں، پھر فرمایا کیا اس نے سال میں اتنے سجدے نہیں کئے؟ لوگوں نے کہا کیوں نہیں، اس پر فرمایا کہ اسی وجہ سے تو ان دونوں کے درمیان زمین آسمان کا فاصلہ ہے۔

1330Musnad Imam Ahmad

حضرت طلحہ بن عبیدالہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ أَبُو النَّضْرِ قَالَ جَلَسَ إِلَيَّ شَيْخٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ فِي مَسْجِدِ الْبَصْرَةِ وَمَعَهُ صَحِيفَةٌ لَهُ فِي يَدِهِ قَالَ وَفِي زَمَانِ الْحَجَّاجِ فَقَالَ لِي يَا عَبْدَ اللَّهِ أَتَرَى هَذَا الْكِتَابَ مُغْنِيًا عَنِّي شَيْئًا عِنْدَ هَذَا السُّلْطَانِ قَالَ فَقُلْتُ وَمَا هَذَا الْكِتَابُ قَالَ هَذَا كِتَابٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَهُ لَنَا أَنْ لَا يُتَعَدَّى عَلَيْنَا فِي صَدَقَاتِنَا قَالَ فَقُلْتُ لَا وَاللَّهِ مَا أَظُنُّ أَنْ يُغْنِيَ عَنْكَ شَيْئًا وَكَيْفَ كَانَ شَأْنُ هَذَا الْكِتَابِ قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ مَعَ أَبِي وَأَنَا غُلَامٌ شَابٌّ بِإِبِلٍ لَنَا نَبِيعُهَا وَكَانَ أَبِي صَدِيقًا لِطَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ التَّيْمِيِّ فَنَزَلْنَا عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ أَبِي اخْرُجْ مَعِي فَبِعْ لِي إِبِلِي هَذِهِ قَالَ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ وَلَكِنْ سَأَخْرُجُ مَعَكَ فَأَجْلِسُ وَتَعْرِضُ إِبِلَكَ فَإِذَا رَضِيتُ مِنْ رَجُلٍ وَفَاءً وَصِدْقًا مِمَّنْ سَاوَمَكَ أَمَرْتُكَ بِبَيْعِهِ قَالَ فَخَرَجْنَا إِلَى السُّوقِ فَوَقَفْنَا ظُهْرَنَا وَجَلَسَ طَلْحَةُ قَرِيبًا فَسَاوَمَنَا الرِّجَالُ حَتَّى إِذَا أَعْطَانَا رَجُلٌ مَا نَرْضَى قَالَ لَهُ أَبِي أُبَايِعُهُ قَالَ نَعَمْ رَضِيتُ لَكُمْ وَفَاءَهُ فَبَايِعُوهُ فَبَايَعْنَاهُ فَلَمَّا قَبَضْنَا مَا لَنَا وَفَرَغْنَا مِنْ حَاجَتِنَا قَالَ أَبِي لِطَلْحَةَ خُذْ لَنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِتَابًا أَنْ لَا يُتَعَدَّى عَلَيْنَا فِي صَدَقَاتِنَا قَالَ فَقَالَ هَذَا لَكُمْ وَلِكُلِّ مُسْلِمٍ قَالَ عَلَى ذَلِكَ إِنِّي أُحِبُّ أَنْ يَكُونَ عِنْدِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِتَابٌ فَخَرَجَ حَتَّى جَاءَ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ صَدِيقٌ لَنَا وَقَدْ أَحَبَّ أَنْ تَكْتُبَ لَهُ كِتَابًا لَا يُتَعَدَّى عَلَيْهِ فِي صَدَقَتِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا لَهُ وَلِكُلِّ مُسْلِمٍ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ أُحِبُّ أَنْ يَكُونَ عِنْدِي مِنْكَ كِتَابٌ عَلَى ذَلِكَ قَالَ فَكَتَبَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الْكِتَابَ آخِرُ حَدِيثِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

ابوالنضر کہتے ہیں کہ حجاج بن یوسف کے زمانے میں بصرہ کی ایک مسجد میں بنو تمیم کے ایک بزرگ میرے پاس آکر بیٹھ گئے، ان کے ہاتھ میں ایک صحیفہ بھی تھا، وہ مجھ سے کہنے لگے کہ اے بندہ خدا! تمہارا کیا خیال ہے، کیا یہ خط اس بادشاہ کے سامنے مجھے کوئی فائدہ پہنچا سکتا ہے؟ میں نے پوچھا کہ یہ خط کیسا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ نبی ﷺ کا فرمان ہے جو آپ ﷺ نے ہمارے لئے لکھوایا تھا کہ زکوٰۃ کی وصولی میں ہم پر زیادتی نہ کی جائے، میں نے کہا کہ بخدا! مجھے تو نہیں لگتا کہ اس خط سے آپ کو کوئی فائدہ ہو سکے گا (کیونکہ حجاج بہت ظالم ہے) البتہ یہ بتائیے کہ اس خط کا کیا معاملہ ہے؟ انہوں نے بتایا کہ میں اپنے والد کے ساتھ ایک مرتبہ مدینہ منورہ آیا ہوا تھا، اس وقت میں نوجوان تھا، ہم لوگ اپنا ایک اونٹ فروخت کرنا چاہتے تھے، میرے والد حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ کے دوست تھے، اس لئے ہم انہی کے یہاں جاکر ٹھہرے۔ میرے والد صاحب نے ان سے کہا کہ میرے ساتھ چل کر اس اونٹ کو بیچنے میں میری مدد کیجئے، انہوں نے کہا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کے لئے خریدوفروخت کرے، البتہ میں آپ کے ساتھ چلتا ہوں اور آپ کے ساتھ بیٹھ جاؤں گا، آپ اپنا اونٹ لوگوں کے سامنے پیش کریں، جس شخص کے متعلق مجھے یہ اطمینان ہوگا کہ یہ قیمت ادا کردے گا اور سچا ثابت ہوگا، میں آپ کو اس کے ہاتھ فروخت کرنے کا کہہ دوں گا۔ چناچہ ہم نکل کر بازار پہنچے اور ایک جگہ پہنچ کر رک گئے، حضرت طلحہ ؓ قریب ہی بیٹھ گئے، کئی لوگوں نے آکر بھاؤ تاؤ کیا، حتی کہ ایک آدمی آیا جو ہماری منہ مانگی قیمت دینے کے لئے تیار تھا، میرے والد صاحب نے ان سے پوچھا کہ اس کے ساتھ معاملہ کرلوں؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا اور فرمایا کہ مجھے اطمینان ہے کہ یہ تمہاری قیمت پوری پوری ادا کردے گا۔ اس لئے تم یہ اونٹ اس کے ہاتھ فروخت کردو، چناچہ ہم نے اس کے ہاتھ وہ اونٹ فروخت کردیا۔ جب ہمارے قبضے میں پیسے آگئے اور ہماری ضرورت پوری ہوگئی تو میرے والد صاحب نے حضرت طلحہ ؓ سے کہا کہ نبی ﷺ سے اس مضمون کا ایک خط لکھوا کر ہمیں دے دیں کہ زکوٰۃ کی وصولی میں ہم پر زیادتی نہ کی جائے، اس پر انہوں نے فرمایا کہ یہ تمہارے لئے بھی ہے اور ہر مسلمان کے لئے بھی ہے، راوی کہتے ہیں کہ میں اسی وجہ سے چاہتا تھا کہ نبی ﷺ کا کوئی خط میرے پاس ہونا چاہیے۔ بہرحال! حضرت طلحہ رضٰ اللہ عنہ ہمارے ساتھ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! یہ صاحب جن کا تعلق ایک دیہات سے ہے ہمارے دوست ہیں، ان کی خواہش ہے کہ آپ انہیں اس نوعیت کا ایک مضمون لکھوا دیں کہ زکوٰۃ کی وصولی میں ان پر زیادتی نہ کی جائے، فرمایا یہ ان کے لئے بھی ہے اور ہر مسلمان کے لئے بھی، میرے والد نے عرض کیا یا رسول اللہ! میری خواہش ہے کہ آپ کا کوئی خط اس مضمون پر مشتمل میرے پاس ہو، اس پر نبی ﷺ نے ہمیں یہ خط لکھوا کردیا تھا۔

1331Musnad Imam Ahmad

حضرت زبیربن عوام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ عَنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ قَالَ الزُّبَيْرُ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ مَعَ خُصُومَتِنَا فِي الدُّنْيَا قَالَ نَعَمْ وَلَمَّا نَزَلَتْ ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنْ النَّعِيمِ قَالَ الزُّبَيْرُ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ نَعِيمٍ نُسْأَلُ عَنْهُ وَإِنَّمَا يَعْنِي هُمَا الْأَسْوَدَانِ التَّمْرُ وَالْمَاءُ قَالَ أَمَا إِنَّ ذَلِكَ سَيَكُونُ

حضرت زبیر ؓ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ پھر قیامت کے دن تم اپنے رب کے پاس جھگڑا کرو گے، تو انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ! اس جھگڑنے سے دنیا میں اپنے مد مقابل لوگوں سے جھگڑنا مراد ہے؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہاں، پھر جب یہ آیت نازل ہوئی کہ قیامت کے دن تم سے نعمتوں کے بارے سوال ضرور ہوگا تو حضرت زبیر ؓ نے پوچھا یا رسول اللہ! ہم سے کن نعمتوں کے بارے سوال ہوگا، جبکہ ہمارے پاس تو صرف کھجور اور پانی ہے، نبی ﷺ نے فرمایا خبردار! یہ نعمتوں کا زمانہ بھی عنقریب آنے والا ہے۔

1332Musnad Imam Ahmad

حضرت زبیربن عوام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ وَطَلْحَةَ وَالزُّبَيْرِ وَسَعْدٍ نَشَدْتُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي تَقُومُ بِهِ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ أَعَلِمْتُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّا لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ قَالَ قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ

ایک مرتبہ حضرت فاروق اعظم ؓ نے حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت طلحہ، حضرت زبیر اور حضرت سعد ؓ سے فرمایا میں تمہیں اللہ کی قسم اور واسطہ دیتا ہوں جس کے حکم سے زمین و آسمان قائم ہیں، کیا آپ کے علم میں یہ بات ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے ہمارے مال میں وراثت جاری نہیں ہوتی، ہم جو کچھ چھوڑ جاتے ہیں وہ سب صدقہ ہوتا ہے؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا۔

1333Musnad Imam Ahmad

حضرت زبیربن عوام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَنْ يَحْمِلَ الرَّجُلُ حَبْلًا فَيَحْتَطِبَ بِهِ ثُمَّ يَجِيءَ فَيَضَعَهُ فِي السُّوقِ فَيَبِيعَهُ ثُمَّ يَسْتَغْنِيَ بِهِ فَيُنْفِقَهُ عَلَى نَفْسِهِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ أَعْطَوْهُ أَوْ مَنَعُوهُ

حضرت زبیر بن العوام ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا انسان کے لئے یہ زیادہ بہتر ہے کہ وہ اپنی رسی اٹھائے، اس سے لکڑیاں باندھے، بازار میں لا کر انہیں رکھے اور انہیں بیچ کر اس سے غناء بھی حاصل کرے اور اپنے اوپر خرچ بھی کرے، بہ نسبت اس کے کہ وہ لوگوں سے مانگتا پھرے خواہ لوگ اسے دیں یا نہ دیں۔

1334Musnad Imam Ahmad

حضرت زبیربن عوام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَوَيْهِ يَوْمَ أُحُدٍ

حضرت زبیربن العوام ؓ فرماتے ہیں کہ غزوہ احد کے دن نبی ﷺ نے میرے لئے اپنے والدین کو جمع فرمایا (یعنی مجھ سے یوں فرمایا کہ میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں )

1335Musnad Imam Ahmad

حضرت زبیربن عوام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ أَنْبَأَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْخَنْدَقِ كُنْتُ أَنَا وَعُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ فِي الْأُطُمِ الَّذِي فِيهِ نِسَاءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُطُمِ حَسَّانَ فَكَانَ يَرْفَعُنِي وَأَرْفَعُهُ فَإِذَا رَفَعَنِي عَرَفْتُ أَبِي حِينَ يَمُرُّ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ وَكَانَ يُقَاتِلُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ فَقَالَ مَنْ يَأْتِي بَنِي قُرَيْظَةَ فَيُقَاتِلَهُمْ فَقُلْتُ لَهُ حِينَ رَجَعَ يَا أَبَتِ تَاللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَأَعْرِفُكَ حِينَ تَمُرُّ ذَاهِبًا إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ فَقَالَ يَا بُنَيَّ أَمَا وَاللَّهِ إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَجْمَعُ لِي أَبَوَيْهِ جَمِيعًا يُفَدِّينِي بِهِمَا يَقُولُ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي

حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ فرماتے ہیں کہ غزوہ خندق کے دن میں اور عمر بن ابی سلمہ " اطم حسان " نامی اس ٹیلے پر تھے جس میں نبی ﷺ کی ازواج مطہرات موجود تھیں، کبھی وہ مجھے اٹھا کر اونچا کرتے اور کبھی میں انہیں اٹھا کر اونچا کرتا، جب وہ مجھے اٹھا کر اونچا کرتے تو میں اپنے والد صاحب کو پہچان لیا کرتا جب وہ بنو قریظہ کے پاس سے گذرتے تھے، وہ نبی ﷺ کے ساتھ غزوہ خندق کے موقع پر جہاد میں شریک تھے اور نبی ﷺ فرما رہے تھے کہ بنو قریظہ کے پاس پہنچ کر ان سے کون قتال کرے گا؟ واپسی پر میں نے اپنے والد صاحب سے عرض کیا کہ اباجان! بخدا! میں نے اس وقت آپ کو پہچان لیا تھا جب آپ بنو قریظہ کی طرف جا رہے تھے، انہوں نے فرمایا کہ بیٹے! نبی ﷺ اس موقع پر میرے لئے اپنے والدین کو جمع کر کے یوں فرما رہے تھے کہ میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں۔

1336Musnad Imam Ahmad

حضرت زبیربن عوام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَنْبَأَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي التَّيْمِيَّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ أَنَّ رَجُلًا حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ يُقَالُ لَهَا غَمْرَةُ أَوْ غَمْرَاءُ وَقَالَ فَوَجَدَ فَرَسًا أَوْ مُهْرًا يُبَاعُ فَنُسِبَتْ إِلَى تِلْكَ الْفَرَسِ فَنُهِيَ عَنْهَا

حضرت زبیربن العوام ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے کسی آدمی کو فی سبیل اللہ ایک گھوڑے پر سوار کرایا یعنی اس کا مالک بنادیا جس کا نام غمرہ یا غمراء تھا، کچھ عرصے بعد وہی گھوڑا یا اس کا کوئی بچہ فروخت ہوتا ہوا ملا، چونکہ اس کی نسبت اسی گھوڑے کی طرف تھی جسے انہوں نے صدقہ کردیا تھا اس لئے اسے دوبارہ خریدنے سے انہیں منع کردیا گیا۔

1337Musnad Imam Ahmad

حضرت زبیربن عوام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ جُنْدُبٍ عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ ثُمَّ نَنْصَرِفُ فَنَبْتَدِرُ الْآجَامَ فَلَا نَجِدُ إِلَّا قَدْرَ مَوْضِعِ أَقْدَامِنَا قَالَ يَزِيدُ الْآجَامُ هِيَ الْآطَامُ

حضرت زبیر ؓ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھتے تھے اور واپس آکر ٹیلوں میں بیج بکھییر نے لگ جاتے تھے، اس موقع پر ہمیں سوائے اپنے قدموں کی جگہ کے کہیں سایہ نہ ملتا تھا۔

1338Musnad Imam Ahmad

حضرت زبیربن عوام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَنْبَأَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ هِشَامٍ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ هِشَامٍ عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَبَّ إِلَيْكُمْ دَاءُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمْ الْحَسَدُ وَالْبَغْضَاءُ وَالْبَغْضَاءُ هِيَ الْحَالِقَةُ حَالِقَةُ الدِّينِ لَا حَالِقَةُ الشَّعَرِ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا أَفَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِشَيْءٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ

حضرت زبیر ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تم سے پہلے جو امتیں گذر چکی ہیں ان کی بیماریاں یعنی حسد اور بغض تمہارے اندر بھی سرایت کرگئی ہیں اور بغض تو مونڈ دینے والی چیز ہے، بالوں کو نہیں بلکہ دین کو مونڈ دیتی ہے، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے تم اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ آپس میں ایک دوسرے سے محبت نہ کرنے لگو، کیا میں تمہیں ایک ایسا طریقہ نہ بتاؤں جسے اگر تم اختیار کرلو تو ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو، آپس میں سلام کو رواج دو۔

1339Musnad Imam Ahmad

حضرت زبیربن عوام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قُلْتُ لِلزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا لِي لَا أَسْمَعُكَ تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا أَسْمَعُ ابْنَ مَسْعُودٍ وَفُلَانًا وَفُلَانًا قَالَ أَمَا إِنِّي لَمْ أُفَارِقْهُ مُنْذُ أَسْلَمْتُ وَلَكِنِّي سَمِعْتُ مِنْهُ كَلِمَةً مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ

حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد حضرت زبیر ؓ سے پوچھا کہ جس طرح حضرت ابن مسعود ؓ اور دیگر حضرات کو میں حدیث بیان کرتا ہوا سنتا ہوں، آپ کو نہیں سنتا، اس کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا کہ جب سے میں نے اسلام قبول کیا، نبی ﷺ سے کبھی جدا نہیں ہوا لیکن میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص جان بوجھ کر میری طرف جھوٹی بات کی نسبت کرے، اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہئے۔ (اس لئے میں ڈرتا ہوں )

1340Musnad Imam Ahmad

حضرت زبیربن عوام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا شَدَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ عَنْ مُطَرِّفٍ قَالَ قُلْنَا لِلزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ مَا جَاءَ بِكُمْ ضَيَّعْتُمْ الْخَلِيفَةَ حَتَّى قُتِلَ ثُمَّ جِئْتُمْ تَطْلُبُونَ بِدَمِهِ قَالَ الزُّبَيْرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّا قَرَأْنَاهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً لَمْ نَكُنْ نَحْسَبُ أَنَّا أَهْلُهَا حَتَّى وَقَعَتْ مِنَّا حَيْثُ وَقَعَتْ

مطرف کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نے حضرت زبیر ؓ سے کہا کہ اے ابو عبداللہ! آپ لوگ کس مقصد کی خاطر آئے ہیں، آپ لوگوں نے ایک خلیفہ کو ضائع کردیا یہاں تک کہ وہ شہید ہوگئے، اب آپ ان کے قصاص کا مطالبہ کر رہے ہیں؟ حضرت زبیر ؓ نے فرمایا کہ ہم نبی ﷺ، حضرت صدیق اکبر، فاروق اعظم اور حضرت عثمان غنی ؓ کے زمانے میں قرآن کریم کی یہ آیت پڑھتے تھے کہ اس آزمائش سے بچو جو خاص طور پر صرف ان لوگوں کی نہیں ہوگی جنہوں نے تم میں سے ظلم کیا ہوگا (بلکہ عمومی ہوگی) لیکن ہم یہ نہیں سمجھتے تھے کہ اس کا اطلاق ہم پر ہی ہوگا، یہاں تک کہ ہم پر یہ آزمائش آگئی۔