حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ عَنِ الْحَكَمِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ قَالَ أَتَيْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَسْأَلُهَا عَنْ الْخُفَّيْنِ فَقَالَتْ عَلَيْكَ بِابْنِ أَبِي طَالِبٍ فَاسْأَلْهُ فَإِنَّهُ كَانَ يُسَافِرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ لِلْمُسَافِرِ وَيَوْمًا وَلَيْلَةً لِلْمُقِيمِ
شریح بن ہانی کہتے ہیں کہ میں نے موزوں پر مسح کے حوالے سے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے ایک سوال پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ سوال تم حضرت علی ؓ سے پوچھو انہیں اس مسئلے کا زیادہ علم ہوگا کیونکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ کے ساتھ سفر میں بھی رہتے تھے، چناچہ میں نے حضرت علی ؓ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا مسافر کے لئے تین دن اور تین رات موزوں پر مسح کرنے کی اجازت ہے اور مقیم کے لئے ایک دن اور ایک رات۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ الْعَبْسِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْأَحْزَابِ صَلَّيْنَا الْعَصْرَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَغَلُونَا عَنْ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى صَلَاةِ الْعَصْرِ مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَأَجْوَافَهُمْ نَارًا
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن ہم نے عصر کی نماز مغرب اور عشاء کے درمیان پڑھی جس پر نبی ﷺ نے فرمایا اللہ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ أَبُو مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ ذَكْوَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَلَمْ يَدْخُلْ عَلَيَّ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَدْخُلَ قَالَ إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلَا بَوْلٌ و حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ و حَدَّثَنَاه شَيْبَانُ مَرَّةً أُخْرَى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ حُسَيْنِ بْنِ ذَكْوَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ عَنْ حَبَّةَ بْنِ أَبِي حَبَّةَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام يُسَلِّمُ عَلَيَّ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ مِثْلَهُ نَحْوَهُ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَكَانَ أَبِي لَا يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ يَعْنِي كَانَ حَدِيثُهُ لَا يَسْوَى عِنْدَهُ شَيْئًا
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جبرئیل میرے پاس آئے لیکن گھر میں داخل نہیں ہوئے، نبی ﷺ نے ان سے فرمایا کہ اندر کیوں نہیں آئے؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کوئی تصویر ہو یا پیشاب ہو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنِي يَزِيدُ أَبُو خَالِدٍ الْبَيْسَرِيُّ الْقُرَشِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُبْرِزْ فَخِذَكَ وَلَا تَنْظُرْ إِلَى فَخِذِ حَيٍّ وَلَا مَيِّتٍ
حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا علی! اپنی ران کسی کے سامنے ظاہر نہ کرو اور کسی زندہ یا مردہ شخص کی ران پر نگاہ مت ڈالو۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ وَحُسَيْنٌ وَأَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ لِفَاطِمَةَ لَوْ أَتَيْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتِيهِ خَادِمًا فَقَدْ أَجْهَدَكِ الطَّحْنُ وَالْعَمَلُ قَالَ حُسَيْنٌ إِنَّهُ قَدْ جَهَدَكِ الطَّحْنُ وَالْعَمَلُ وَكَذَلِكَ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ قَالَتْ فَانْطَلِقْ مَعِي قَالَ فَانْطَلَقْتُ مَعَهَا فَسَأَلْنَاهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا أَدُلُّكُمَا عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ ذَلِكَ إِذَا أَوَيْتُمَا إِلَى فِرَاشِكُمَا فَسَبِّحَا اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَاحْمَدَاهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَكَبِّرَاهُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ فَتِلْكَ مِائَةٌ عَلَى اللِّسَانِ وَأَلْفٌ فِي الْمِيزَانِ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا تَرَكْتُهَا بَعْدَمَا سَمِعْتُهَا مِنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَجُلٌ وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ قَالَ وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت فاطمہ ؓ سے کہا کہ آٹا پیس پیس کر تمہارے ہاتھوں میں نشان پڑگئے ہیں، اگر تم نبی ﷺ کے پاس جا کر ان سے ایک خادم کی درخواست کر تیں (تو شاید کچھ بہتر ہوجاتا) انہوں نے کہا کہ آپ بھی میرے ساتھ چلیں، چناچہ میں ان کے ساتھ چلا گیا اور ہم نے نبی ﷺ کے سامنے درخواست پیش کردی۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جو تمہارے لئے خادم سے بہتر ہو؟ جب تم اپنے بستر پر لیٹا کرو تو ٣٣ مرتبہ سبحان اللہ ٣٣ مرتبہ الحمدللہ اور ٣٤ مرتبہ اللہ اکبر کہہ لیا کرو، کہنے کو تو یہ سو ہوں گے لیکن میزان عمل میں ایک ہزار کے برابر ہوں گے، چناچہ اس دن کے بعد سے میں نے انہیں کبھی ترک نہیں کیا، ایک سائل نے پوچھا کہ جنگ صفین کی رات بھی نہیں؟ فرمایا ہاں! جنگ صفین کی رات بھی نہیں۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ وَقَدْ صَلَّى الْفَجْرَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي الْمَجْلِسِ فَقُلْتُ لَوْ قُمْتَ إِلَى فِرَاشِكَ كَانَ أَوْطَأَ لَكَ فَقَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ صَلَّى الْفَجْرَ ثُمَّ جَلَسَ فِي مُصَلَّاهُ صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ وَصَلَاتُهُمْ عَلَيْهِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ وَمَنْ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ وَصَلَاتُهُمْ عَلَيْهِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب کوئی شخص نماز کے بعد اپنی جائے نماز پر بیٹھارہتا ہے تو فرشتے اسپر صلوۃ پڑھتے رہتے ہیں اور فرشتوں کی صلوۃ یہ دعاء ہے کہ اے اللہ! اسے معاف فرمادے، اے اللہ! اس پر رحم فرمادے، اسی طرح اگر وہ بیٹھ کر اگلی نماز کا انتظار کرتا رہے تو فرشتے اس پر بھی صلوۃ پڑھتے ہیں اور ان کی صلوۃ یہی دعاء ہے کہ اے اللہ! اسے معاف فرمادے، اے اللہ اس پر رحم فرمادے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ عَنْ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الضُّحَى حِينَ كَانَتْ الشَّمْسُ مِنْ الْمَشْرِقِ مِنْ مَكَانِهَا مِنْ الْمَغْرِبِ صَلَاةَ الْعَصْرِ
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ چاشت کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جب سورج مشرق سے اتنا نکل آتا جتنا عصر کے وقت مغرب سے قریب ہوتا۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي سَمِينَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ ذَكْوَانَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَأَلَ مَسْأَلَةً عَنْ ظَهْرِ غِنًى اسْتَكْثَرَ بِهَا مِنْ رَضْفِ جَهَنَّمَ قَالُوا مَا ظَهْرُ غِنًى قَالَ عَشَاءُ لَيْلَةٍ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص " ظہر غنی " کی موجودگی میں کسی سے سوال کرتا ہے تو وہ اپنے پیٹ میں جہنم کے انگاروں کی تعداد بڑھاتا ہے، لوگوں نے پوچھا کہ ظہر غنی سے کیا مراد ہے؟ تو فرمایا رات کا کھانا۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ ذَكْوَانَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنْ السَّبُعِ وَكُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنْ الطَّيْرِ وَعَنْ ثَمَنِ الْمَيْتَةِ وَعَنْ لَحْمِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ وَعَنْ مَهْرِ الْبَغِيِّ وَعَنْ عَسْبِ الْفَحْلِ وَعَنْ الْمَيَاثِرِ الْأُرْجُوَانِ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ہر اس درندے کو کھانے سے منع فرمایا ہے جو کچلی والے دانتوں سے شکار کرتا ہو اور ہر وہ پرندہ جو اپنے پنجوں سے شکار کرتا ہو، نیز مردار کی قیمت کھانے سے، پالتو گدھوں کے گوشت سے، فاحشہ عورت کی کمائی سے، سانڈ کو جفتی پردے کر اس سے حاصل ہونے والی کمائی سے اور سرخ زین پوشوں سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ طَارِقِ بْنِ زِيَادٍ قَالَ سَارَ عَلِيٌّ إِلَى النَّهْرَوَانِ فَقَتَلَ الْخَوَارِجَ فَقَالَ اطْلُبُوا فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَيَجِيءُ قَوْمٌ يَتَكَلَّمُونَ بِكَلِمَةِ الْحَقِّ لَا يُجَاوِزُ حُلُوقَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ سِيمَاهُمْ أَوْ فِيهِمْ رَجُلٌ أَسْوَدُ مُخْدَجُ الْيَدِ فِي يَدِهِ شَعَرَاتٌ سُودٌ إِنْ كَانَ فِيهِمْ فَقَدْ قَتَلْتُمْ شَرَّ النَّاسِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِمْ فَقَدْ قَتَلْتُمْ خَيْرَ النَّاسِ قَالَ ثُمَّ إِنَّا وَجَدْنَا الْمُخْدَجَ قَالَ فَخَرَرْنَا سُجُودًا وَخَرَّ عَلِيٌّ سَاجِدًا مَعَنَا
طارق بن زیاد کہتے ہیں کہ ہم حضرت علی ؓ کے ساتھ خوارج سے جنگ کے لئے نکلے، حضرت علی ؓ نے ان سے قتال کیا اور فرمایا دیکھو! نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے عنقریب ایک ایسی قوم کا خروج ہوگا جو بات تو صحیح کرے گی لیکن وہ ان کے حلق سے آگے نہیں بڑھے گی، وہ لوگ حق سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، ان کی علامت یہ ہوگی کہ ان میں ایک شخص کا ہاتھ ناتمام ہوگا، اس کے ہاتھ (ہتھیلی) میں کالے بال ہوں گے، اب اگر ایسا ہی ہے تو تم نے ایک بدترین آدمی کے وجود سے دنیا کو پاک کردیا اور اگر ایسا نہ ہوا تو تم نے ایک بہترین آدمی کو قتل کردیا، یہ سن کر ہم رونے لگے، حضرت علی ؓ نے فرمایا اسے تلاش کرو، چناچہ ہم نے اسے تلاش کیا تو ہمیں ناقص ہاتھ والا ایک آدمی مل گیا، جسے دیکھ کر ہم سجدے میں گرپڑے، حضرت علی ؓ بھی ہمارے ساتھ ہی سربسجود ہوگئے۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ سُفْيَانَ قَالَ خَطَبَ رَجُلٌ يَوْمَ الْبَصْرَةِ حِينَ ظَهَرَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ عَلِيٌّ هَذَا الْخَطِيبُ الشَّحْشَحُ سَبَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ وَثَلَّثَ عُمَرُ ثُمَّ خَبَطَتْنَا فِتْنَةٌ بَعْدَهُمْ يَصْنَعُ اللَّهُ فِيهَا مَا شَاءَ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ سب سے پہلے تشریف لے گئے، دوسرے نمبر پر حضرت صدیق اکبر ؓ چلے گئے اور تیسرے نمبر پر حضرت عمر فاروق ؓ چلے گئے، اس کے بعد ہمیں امتحانات نے گھیر لیا، اب اللہ جو چاہے گا سو کرے گا۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ أَبِي عَوْنٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْحَنَفِيِّ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ قِيلَ لِعَلِيٍّ وَلِأَبِي بَكْرٍ يَوْمَ بَدْرٍ مَعَ أَحَدِكُمَا جِبْرِيلُ وَمَعَ الْآخَرِ مِيكَائِيلُ وَإِسْرَافِيلُ مَلَكٌ عَظِيمٌ يَشْهَدُ الْقِتَالَ أَوْ قَالَ يَشْهَدُ الصَّفَّ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ مجھے اور حضرت صدیق اکبر ؓ کو غزوہ بدر کے موقع پر بتایا گیا کہ آپ میں سے ایک کے ساتھ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) اور دوسرے کے ساتھ میکائیل (علیہ السلام) ہیں اور اسرافیل (علیہ السلام) بھی جو ایک عظیم فرشتہ ہیں میدان کار زار میں موجود ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ظہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھی ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ كَثِيرٍ أَبِي هَاشِمٍ بَيَّاعِ السَّابِرِيِّ عَنْ قَيْسٍ الْخَارِفِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ سَبَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَثَلَّثَ عُمَرُ ثُمَّ خَبَطَتْنَا فِتْنَةٌ أَوْ أَصَابَتْنَا فِتْنَةٌ فَكَانَ مَا شَاءَ اللَّهُ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ سب سے پہلے تشریف لے گئے، دوسرے نمبر پر حضرت صدیق اکبر ؓ چلے گئے اور تیسرے نمبر پر حضرت عمر فاروق ؓ چلے گئے، اس کے بعد ہمیں امتحانات نے گھیر لیا، اب اللہ جو چاہے گا سو کرے گا۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدُوَيْهِ أَبُو مُحَمَّدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَوَّلِهِ وَأَوْسَطِهِ وَآخِرِهِ وَانْتَهَى وِتْرُهُ إِلَى آخِرِ اللَّيْلِ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ رات کے ابتدائی، درمیانے اور آخری ہر حصے میں وتر پڑھ لیا کرتے تھے، تاہم آخر میں آپ ﷺ رات کے آخری حصے میں اس کی پابندی فرمانے لگے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ خُثَيْمٍ أَبُو مَعْمَرٍ الْهِلَالِيُّ حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنْ التَّطَوُّعِ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ وَبِالنَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ آٹھ رکعت نفل پڑھتے تھے اور دن میں بارہ رکعتیں پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَنْدَلٍ وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ جَمِيعًا فِي سَنَةِ سِتٍّ وَعِشْرِينَ وَمِائَتَيْنِ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ السَّلُولِيِّ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَلَا إِنَّ الْوَتْرَ لَيْسَ بِحَتْمٍ كَصَلَاتِكُمْ الْمَكْتُوبَةِ وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْتَرَ ثُمَّ قَالَ أَوْتِرُوا يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ أَوْتِرُوا فَإِنَّ اللَّهَ وَتْرٌ يُحِبُّ الْوَتْرَ وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَنْدَلٍ وَمَعْنَاهُمَا وَاحِدٌ
حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ وتر فرض نماز کی طرح یقینی نہیں ہیں (قرآن سے اس کا ثبوت نہیں) البتہ نبی ﷺ نے چونکہ وتر پڑھے ہیں اس لئے اے اہل قرآن! تم بھی وتر پڑھا کرو، کیونکہ اللہ بھی وتر ہے اور طاق عدد ہی کو پسند کرتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا فِطْرٌ عَنْ كَثِيرِ بْنِ نَافِعٍ النَّوَّاءِ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُلَيْلٍ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ قَبْلِي نَبِيٌّ إِلَّا قَدْ أُعْطِيَ سَبْعَةَ رُفَقَاءَ نُجَبَاءَ وُزَرَاءَ وَإِنِّي أُعْطِيتُ أَرْبَعَةَ عَشَرَ حَمْزَةُ وَجَعْفَرٌ وَعَلِيٌّ وَحَسَنٌ وَحُسَيْنٌ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَالْمِقْدَادُ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَأَبُو ذَرٍّ وَحُذَيْفَةُ وَسَلْمَانُ وَعَمَّارٌ وَبِلَالٌ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مجھ سے پہلے ہر نبی کو سات رفقاء، نجباء اور وزراء دیئے گئے ہیں جبکہ مجھے چودہ دیئے گئے ہیں۔ حضرت حمزہ، جعفر، علی، حسن، حسین، صدیق اکبر، عمر فاروق، مقداد، عبداللہ بن مسعود، ابوذر غفاری، حذیفہ، سلمان، عمار اور حضرت بلال ؓ اجمعین۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى النَّعْلَيْنِ ثُمَّ قَالَ لَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ كَمَا رَأَيْتُمُونِي فَعَلْتُ لَرَأَيْتُ أَنَّ بَاطِنَ الْقَدَمَيْنِ هُوَ أَحَقُّ بِالْمَسْحِ مِنْ ظَاهِرِهِمَا
عبد خیر کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت علی ؓ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، انہوں نے نعلین پر مسح کیا اور فرمایا اگر میں نے نبی ﷺ کو پاؤں کا اوپر والا حصہ دھوتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میری رائے یہ تھی کہ پاؤں کا نچلا حصہ دھوئے جانے کا زیادہ حق دار ہے (کیونکہ وہ زمین کے ساتھ زیادہ لگتا ہے)
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَيْسَ فِي مَالٍ زَكَاةٌ حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ انسان کے مال پر اس وقت تک زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی جب تک اس پر پورا سال نہ گذر جائے۔