Musnad Imam Ahmad

All 26,407 hadiths in order · Page 61 of 1,321

1201Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ قَالَ قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ إِنَّ الشِّيعَةَ يَزْعُمُونَ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَرْجِعُ قَالَ كَذَبَ أُولَئِكَ الْكَذَّابُونَ لَوْ عَلِمْنَا ذَاكَ مَا تَزَوَّجَ نِسَاؤُهُ وَلَا قَسَمْنَا مِيرَاثَهُ

عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت امام حسن ؓ سے عرض کیا کہ شیعوں کا یہ خیال ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ دوبارہ واپس آئیں گے؟ فرمایا یہ کذاب لوگ جھوٹ بولتے ہیں، اگر ہمیں اس بات کا یقین ہوتا تو ان کی بیویاں دوسرے شوہروں سے نکاح نہ کرتیں اور ہم ان کی میراث تقسیم نہ کرتے۔

1202Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنِّي قَدْ عَفَوْتُ لَكُمْ عَنْ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ وَلَا صَدَقَةَ فِيهِمَا

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میں نے تم سے گھوڑے اور غلام کی زکوٰۃ چھوڑ دی ہے اس لئے ان میں زکوٰۃ نہیں ہے۔

1203Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الرَّقِّيُّ حَدَّثَنَا حَفْصٌ أَبُو عُمَرَ عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَاذَانَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَاسْتَظْهَرَهُ شُفِّعَ فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ قَدْ وَجَبَتْ لَهُمْ النَّارُ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص نے قرآن پڑھا اور وہ اس پر غالب آگیا تو قیامت کے دن اس کے اہل خانہ میں سے دس ایسے افراد کے حق میں اس کی سفارش قبول کی جائے گی جن کے لئے جہنم واجب ہوچکی ہوگی۔

1204Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِشْكَابٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَفَوْتُ عَنْ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ فِي الصَّدَقَةِ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میں نے تم سے گھوڑے اور غلام کی زکوٰۃ چھوڑ دی ہے۔

1205Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو سَلْمٍ خَلِيلُ بْنُ سَلْمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ جِبْرِيلَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ أَوْ كَلْبٌ وَكَانَ الْكَلْبُ لِلْحَسَنِ فِي الْبَيْتِ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کوئی تصویر یا کتا ہو، اس وقت گھر میں حضرت حسن ؓ کا ایک چھوٹا سا کتا تھا۔

1206Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ يُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ قَالَ قُلْتُ لِعَلِيٍّ أَرَأَيْتَ مَسِيرَكَ هَذَا عَهْدٌ عَهِدَهُ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْ رَأْيٌ رَأَيْتَهُ قَالَ مَا تُرِيدُ إِلَى هَذَا قُلْتُ دِينَنَا دِينَنَا قَالَ مَا عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ شَيْئًا وَلَكِنْ رَأْيٌ رَأَيْتُهُ

قیس بن عبادہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی ؓ سے ایک سفر کے دوران پوچھا کہ یہ توبتایئے، کیا نبی ﷺ نے آپ کو اس سفر کی وصیت کی تھی یا یہ آپ کی رائے پر مبنی ہے؟ حضرت علی ؓ نے پوچھا کہ اس سوال سے تمہارا کیا مقصد ہے؟ میں نے عرض کیا کہ صرف دین، فرمایا نبی ﷺ نے مجھے اس کی کوئی وصیت نہیں کی تھی، یہ تو ایک رائے ہے۔

1207Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ لِلْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رُمْحٌ فَكُنَّا إِذَا خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ خَرَجَ بِهِ مَعَهُ فَيَرْكُزُهُ فَيَمُرُّ النَّاسُ عَلَيْهِ فَيَحْمِلُونَهُ فَقُلْتُ لَئِنْ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأُخْبِرَنَّهُ فَقَالَ إِنَّكَ إِنْ فَعَلْتَ لَمْ تَرْفَعْ ضَالَّةً

حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ کے پاس ایک نیزہ تھا، ہم جب بھی نبی ﷺ کے ساتھ کسی غزوے کے لئے نکلتے تو وہ اس نیزے کو بھی اپنے ساتھ لے کر جاتے تھے، وہ اسے گاڑ دیتے، لوگ وہاں سے گذرتے تو انہیں اٹھا کر پکڑا دیتے، میں نے یہ دیکھ کر اپنے دل میں سوچا کہ نبی ﷺ کے پاس پہنچ کر آپ کو یہ ساری صورت حال ضرور بتاؤں گا (چنانچہ جب میں نے ذکر کیا تو) نبی ﷺ نے فرمایا اگر تم ایسا کرنے لگے تو کوئی گمشدہ چیز اس کے مالک تک پہنچانے کے لئے نہیں اٹھائی جائے گی۔

1208Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي حَيَّةَ بْنِ قَيْسٍ قَالَ تَوَضَّأَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ شَرِبَ فَضْلَ وَضُوئِهِ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ

ایک مرتبہ حضرت علی ؓ نے وضو کرتے ہوئے اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھویا اور وضو سے بچا ہوا پانی پی لیا، پھر فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

1209Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ قَالَ بَلَغَنِي عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُلَيْلٍ فَغَدَوْتُ إِلَيْهِ فَوَجَدْتُهُمْ فِي جَنَازَةٍ فَحَدَّثَنِي رَجُلٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُلَيْلٍ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ أُعْطِيَ كُلُّ نَبِيٍّ سَبْعَةَ نُجَبَاءَ وَأُعْطِيَ نَبِيُّكُمْ أَرْبَعَةَ عَشَرَ نَجِيبًا مِنْهُمْ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے مجھ سے پہلے ہر نبی کو سات رفقاء، نجباء، وزراء دیئے گئے ہیں جبکہ مجھے چودہ دیئے گئے ہیں۔ جن میں صدیق اکبر ؓ، عمر فاروق، عبداللہ بن مسعود اور عمار ؓ شامل ہیں۔

1210Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ قَالَ وَكَانَ رَجُلَ صِدْقٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ وَأَنْ لَا نُضَحِّيَ بِعَوْرَاءَ وَلَا مُقَابَلَةٍ وَلَا مُدَابَرَةٍ وَلَا شَرْقَاءَ وَلَا خَرْقَاءَ قَالَ زُهَيْرٌ فَقُلْتُ لِأَبِي إِسْحَاقَ أَذَكَرَ عَضْبَاءَ قَالَ لَا قُلْتُ مَا الْمُقَابَلَةُ قَالَ هِيَ الَّتِي يُقْطَعُ طَرَفُ أُذُنِهَا قُلْتُ فَالْمُدَابَرَةُ قَالَ الَّتِي يُقْطَعُ مُؤَخَّرُ الْأُذُنِ قُلْتُ مَا الشَّرْقَاءُ قَالَ الَّتِي يُشَقُّ أُذُنُهَا قُلْتُ فَمَا الْخَرْقَاءُ قَالَ الَّتِي تَخْرِقُ أُذُنَهَا السِّمَةُ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا تھا کہ قربانی کے جانور کے کان اور آنکھ اچھی طرح دیکھ لیں، کانے جانور کی قربانی نہ کریں، مقابلہ، مدابرہ، شرقاء یا خرقاء کی قربانی نہ کریں، راوی کہتے ہیں کہ میں نے ابو اسحاق سے پوچھا حضرت علی ؓ نے عضباء کا ذکر بھی کیا تھا یا نہیں؟ انہوں نے کہا نہیں! پھر میں نے پوچھا کہ مقابلہ سے کیا مراد ہے؟ فرمایا وہ جانور جس کے کان کا ایک کنارہ کٹا ہوا ہو، پھر میں نے پوچھا کہ مدابرہ سے کیا مراد ہے؟ فرمایا وہ جانور جس کا کان پیچھے سے کٹا ہوا ہو، میں نے شرقاء کا معنی پوچھا تو فرمایا جس کا کان چیرا ہوا ہو، میں نے خرقاء کا معنی پوچھا تو انہوں بتایا وہ جانور جس کا کان پھٹ گیا ہو۔

1211Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَحْبِسُوا لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت اپنے پاس رکھنے سے منع فرمایا تھا۔

1212Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ عَنِ الْحَكَمِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقَالَتْ سَلْ عَلِيًّا فَهُوَ أَعْلَمُ بِهَذَا مِنِّي هُوَ كَانَ يُسَافِرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ وَلِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ

شریح بن ہانی کہتے ہیں کہ میں نے موزوں پر مسح کے حوالے سے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے ایک سوال پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ سوال تم حضرت علی ؓ سے پوچھو انہیں اس مسئلے کا زیادہ علم ہوگا کیونکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ کے ساتھ سفر میں بھی رہتے تھے، چناچہ میں نے حضرت علی ؓ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا مسافر کے لئے تین دن اور تین رات موزوں پر مسح کرنے کی اجازت ہے اور مقیم کے لئے ایک دن اور ایک رات۔

1213Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ يَعْنِي أَبَا عُمَرَ الْقَارِئَ عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَاذَانَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ فَاسْتَظْهَرَهُ وَحَفِظَهُ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ وَشَفَّعَهُ فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ كُلُّهُمْ قَدْ وَجَبَتْ لَهُمْ النَّارُ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص نے قرآن پڑھا اور وہ اس پر غالب آگیا تو قیامت کے دن اس کے اہل خانہ میں سے دس ایسے افراد کے حق میں اس کی سفارش قبول کی جائے گی جن کے لئے جہنم واجب ہوچکی ہوگی۔

1214Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي الْحَسْنَاءِ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ حَنَشٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُضَحِّيَ عَنْهُ بِكَبْشَيْنِ فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَفْعَلَهُ وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ فِي حَدِيثِهِ ضَحَّى عَنْهُ بِكَبْشَيْنِ وَاحِدٌ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْآخَرُ عَنْهُ فَقِيلَ لَهُ فَقَالَ إِنَّهُ أَمَرَنِي فَلَا أَدَعُهُ أَبَدًا

حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ایک مرتبہ مجھے اپنی طرف سے دو مینڈھوں کی قربانی کرنے کا حکم دیا، چناچہ میں آخر دم تک ان کی طرف سے قربانی کرتا رہوں گا۔

1215Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي مُحْرِزُ بْنُ عَوْنِ بْنِ أَبِي عَوْنٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ حَنَشٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاضِيًا فَقَالَ إِذَا جَاءَكَ الْخَصْمَانِ فَلَا تَقْضِ عَلَى أَحَدِهِمَا حَتَّى تَسْمَعَ مِنْ الْآخَرِ فَإِنَّهُ يَبِينُ لَكَ الْقَضَاءُ

حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے مجھے قاضی بنا کر بھیجا اور ارشاد فرمایا جب تمہارے پاس دو فریق آئیں تو صرف کسی ایک کی بات سن کر فیصلہ نہ کرنا بلکہ دونوں کی بات سننا، تم دیکھو گے کہ تم کس طرح فیصلہ کرتے ہو۔

1216Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرَكَانِيُّ وَحَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى رَحْمَوَيْهِ وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ الْحَضْرَمِيُّ وَحَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ قَالُوا حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ حَنَشٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ قَاضِيًا فَقُلْتُ تَبْعَثُنِي إِلَى قَوْمٍ وَأَنَا حَدَثُ السِّنِّ وَلَا عِلْمَ لِي بِالْقَضَاءِ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى صَدْرِي فَقَالَ ثَبَّتَكَ اللَّهُ وَسَدَّدَكَ إِذَا جَاءَكَ الْخَصْمَانِ فَلَا تَقْضِ لِلْأَوَّلِ حَتَّى تَسْمَعَ مِنْ الْآخَرِ فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ يَبِينَ لَكَ الْقَضَاءُ قَالَ فَمَا زِلْتُ قَاضِيًا وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ دَاوُدَ بْنِ عَمْرٍو الضَّبِّيِّ وَبَعْضُهُمْ أَتَمُّ كَلَامًا مِنْ بَعْضٍ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ حَنَشٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاضِيًا إِلَى الْيَمَنِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ مُثَبِّتٌ قَلْبَكَ وَهَادٍ فُؤَادَكَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ لُوَيْنٌ وَحَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ حَنَشٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ مَعْنَاهُ

حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے جب مجھے یمن کی طرف بھیجا تو میں اس وقت نوخیز تھا، میں نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ میں نوعمر ہوں اور مجھے فیصلہ کرنے کا قطعا کوئی علم نہیں ہے؟ نبی ﷺ نے میرے سینے پر اپنا ہاتھ مار کر فرمایا اللہ تمہاری زبان کو صحیح راستے پر چلائے گا اور تمہارے دل کو مضبوط رکھے گا، جب تمہارے پاس دو فریق آئیں تو دوسرے فریق کی بات سنے بغیر پہلے کے حق میں فیصلہ نہ کرنا، اس طرح تمہارے لئے فیصلہ کرنا آسان ہوجائے گا وہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں مسلسل قاضی بنتا رہا۔ گذشتہ حدیث ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

1217Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا السَّكَنُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ عَنِ ابْنِ أَشْوَعَ عَنْ حَنَشٍ الْكِنَانِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ بَعَثَ عَامِلَ شُرْطَتِهِ فَقَالَ لَهُ أَتَدْرِي عَلَى مَا أَبْعَثُكَ عَلَى مَا بَعَثَنِي عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَنْحِتَ كُلَّ يَعْنِي صُورَةً وَأَنْ أُسَوِّيَ كُلَّ قَبْرٍ

حضرت علی ؓ کے حوالے سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنے رفیق حیان کو مخاطب کر کے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ میں تمہیں اس کام کے لئے بھیج رہا ہوں، جس کام کے لئے نبی ﷺ نے مجھے بھیجا تھا، انہوں نے مجھے ہر قبر کو برابر کرنے اور ہر بت کو مٹا ڈالنے کا حکم دیا تھا۔

1218Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ حَنَشٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَقَاضَى إِلَيْكَ رَجُلَانِ فَلَا تَقْضِ لِلْأَوَّلِ حَتَّى تَسْمَعَ مَا يَقُولُ الْآخَرُ فَإِنَّكَ سَوْفَ تَرَى كَيْفَ تَقْضِي

حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا جب تمہارے پاس دو فریق آئیں تو صرف کسی ایک کی بات سن کر فیصلہ نہ کرنا بلکہ دونوں کی بات سننا، تم دیکھو گے کہ تم کس طرح فیصلہ کرتے ہو۔

1219Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي الْحَسْنَاءِ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ حَنَشٍ قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ فَقُلْتُ لَهُ مَا هَذَا فَقَالَ أَوْصَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُضَحِّيَ عَنْهُ

حنش کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت علی ؓ کو دو مینڈھے ذبح کرتے ہوئے دیکھا، میں نے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے ایک مرتبہ مجھے اپنی طرف سے قربانی کرنے کا حکم دیا، (چنانچہ میں آخر دم تک ان کی طرف سے قربانی کرتا رہوں گا)

1220Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ حَمَّادٍ عَنْ أَسْبَاطِ بْنِ نَصْرٍ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ حَنَشٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَعَثَهُ بِبَرَاءَةٌ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي لَسْتُ بِاللَّسِنِ وَلَا بِالْخَطِيبِ قَالَ مَا بُدٌّ أَنْ أَذْهَبَ بِهَا أَنَا أَوْ تَذْهَبَ بِهَا أَنْتَ قَالَ فَإِنْ كَانَ وَلَا بُدَّ فَسَأَذْهَبُ أَنَا قَالَ فَانْطَلِقْ فَإِنَّ اللَّهَ يُثَبِّتُ لِسَانَكَ وَيَهْدِي قَلْبَكَ قَالَ ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَمِهِ

حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ جب نبی ﷺ نے انہیں مشرکین سے اعلان برأت کے لئے حضرت صدیق اکبر ؓ کے پیچھے بھیجا تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں تو کوئی فصیح وبلیغ آدمی نہیں ہوں اور نہ ہی کوئی خطیب ہوں؟ نبی ﷺ نے فرمایا اس کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں ہے کہ یا تم چلے جاؤ یا میں چلاجاؤں، حضرت علی ؓ نے عرض کیا کہ اگر یہی ضروری ہے تو پھر میں ہی چلا جاتا ہوں، فرمایا تم جاؤ، اللہ تعالیٰ تمہاری زبان کو جمادے گا اور تمہارے دل کو صحیح راہ پر رکھے گا، پھر نبی ﷺ نے اپنا ہاتھ ان کے منہ پر رکھا۔