حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبِيدَةَ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ لِأَهْلِ النَّهْرَوَانِ مِنْهُمْ رَجُلٌ مَثْدُونُ الْيَدِ أَوْ مُودَنُ الْيَدِ أَوْ مُخْدَجُ الْيَدِ لَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا لَأَنْبَأْتُكُمْ مَا قَضَى اللَّهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَنْ قَتَلَهُمْ قَالَ عَبِيدَةُ فَقُلْتُ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ آنْتَ سَمِعْتَهُ قَالَ نَعَمْ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ يَحْلِفُ عَلَيْهَا ثَلَاثًا
حضرت علی ؓ کے سامنے ایک مرتبہ خوارج کا ذکر ہوا تو فرمایا کہ ان میں ایک آدمی ناقص الخلقت بھی ہوگا، اگر تم حد سے آگے نہ بڑھ جاتے تو میں تم سے وہ وعدہ بیان کرتا جو اللہ نے نبی ﷺ کی زبانی ان کے قتل کرنے والوں سے فرما رکھا ہے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کیا آپ نے واقعی نبی ﷺ سے اس سلسلے میں کوئی فرمان سنا ہے تو انہوں نے تین مرتبہ فرمایا ہاں! رب کعبہ کی قسم۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوَتْرَ فَأَوْتِرُوا يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اے اہل قرآن وتر پڑھا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ طاق ہے اور طاق عدد کو پسند کرتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ السَّلُولِيِّ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى أَثَرِ كُلِّ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ رَكْعَتَيْنِ إِلَّا الْفَجْرَ وَالْعَصْرَ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ فجر اور عصر کے علاوہ ہر فرض نماز کے بعد دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُصَلِّي صَلَاةً يُصَلَّى بَعْدَهَا إِلَّا صَلَّى بَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ (فجر اور عصر کے علاوہ) ہر فرض نماز کے بعد دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوَتْرَ فَأَوْتِرُوا يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اے اہل قرآن وتر پڑھا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ طاق ہے اور طاق عدد کو پسند کرتا ہے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا الْعَوَّامُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَلِيٍّ قَالَ أَتَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى وَضَعَ قَدَمَهُ بَيْنِي وَبَيْنَ فَاطِمَةَ فَعَلَّمَنَا مَا نَقُولُ إِذَا أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ تَسْبِيحَةً وَثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ تَحْمِيدَةً وَأَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ تَكْبِيرَةً قَالَ عَلِيٌّ فَمَا تَرَكْتُهَا بَعْدُ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ قَالَ وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کو جب ہم اپنے بستروں پر لیٹ چکے تھے تو نبی ﷺ تشریف لائے اور میرے اور فاطمہ کے درمیان قدم مبارک رکھ کر ہمیں بستر پر لیٹنے کے بعد یہ کلمات پڑھنے کے لئے سکھائے ٣٣ مرتبہ سبحان اللہ، ٣٣ مرتبہ الحمدللہ اور ٣٤ مرتبہ اللہ اکبر، حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ پھر میں نے ان کلمات کو کبھی ترک نہیں کیا، کسی نے پوچھا صفین کی رات میں بھی نہیں؟ فرمایا ہاں!۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَنْبَأَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الدَّانَاجِ عَنْ حُضَيْنِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ وَعْلَةَ أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ صَلَّى بِالنَّاسِ الصُّبْحَ أَرْبَعًا ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ أَزِيدُكُمْ فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى عُثْمَانَ فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُجْلَدَ فَقَالَ عَلِيٌّ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قُمْ يَا حَسَنُ فَاجْلِدْهُ قَالَ وَفِيمَ أَنْتَ وَذَاكَ فَقَالَ عَلِيٌّ بَلْ عَجَزْتَ وَوَهَنْتَ قُمْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ فَاجْلِدْهُ فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ فَجَلَدَهُ وَعَلِيٌّ يَعُدُّ فَلَمَّا بَلَغَ أَرْبَعِينَ قَالَ لَهُ أَمْسِكْ ثُمَّ قَالَ ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمْرِ أَرْبَعِينَ وَضَرَبَ أَبُو بَكْرٍ أَرْبَعِينَ وَعُمَرُ صَدْرًا مِنْ خِلَافَتِهِ ثُمَّ أَتَمَّهَا عُمَرُ ثَمَانِينَ وَكُلٌّ سُنَّةٌ
حضین (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ولید بن عقبہ نے لوگوں کو فجر کی نماز میں دو کی بجائے چار رکعتیں پڑھا دیں، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر کہا کہ شاید میں نے نماز کی رکعتوں میں اضافہ کردیا ہے؟ یہ معاملہ حضرت عثمان غنی ؓ کے سامنے پیش ہوا تو انہوں نے ولید پر شراب نوشی کی سزا جاری کرنے کا حکم دے دیا، حضرت علی ؓ نے حضرت امام حسن ؓ سے فرمایا کہ حسن! کھڑے ہو کر اسے کوڑے مارو، انہوں نے کہا کہ آپ یہ کام نہیں کرسکتے، کسی اور کو اس کا حکم دیجئے، فرمایا اصل میں تم کمزور اور عاجز ہوگئے ہو، اس لئے عبداللہ بن جعفر! تم کھڑے ہو کر اس پر سزا جاری کرو۔ چناچہ حضرت عبداللہ بن جعفر ؓ کوڑے مارتے جاتے تھے اور حضرت علی ؓ گنتے جاتے تھے، جب چالیس کوڑے ہوئے تو حضرت علی ؓ نے فرمایا بس کرو، نبی ﷺ نے شرابی کو چالیس کوڑے مارے تھے، حضرت صدیق اکبر ؓ نے بھی چالیس کوڑے مارے تھے، لیکن حضرت عمر ؓ نے اسی مارے تھے اور دونوں ہی سنت پر ہیں۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيِّ عَنْ أَبِي جَمِيلَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ جَارِيَةً لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُفِسَتْ مِنْ الزِّنَا فَأَرْسَلَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُقِيمَ عَلَيْهَا الْحَدَّ فَوَجَدْتُهَا فِي الدَّمِ لَمْ يَجِفَّ عَنْهَا فَرَجَعْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ لِي إِذَا جَفَّ الدَّمُ عَنْهَا فَاجْلِدْهَا الْحَدَّ ثُمَّ قَالَ أَقِيمُوا الْحُدُودَ عَلَى مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کی ایک خادمہ سے بدکاری کا گناہ سرزد ہوگیا، نبی ﷺ نے مجھے اس پر حد جاری کرنے کا حکم دیا، میں نے دیکھا کہ اس کا تو خون ہی بند نہیں ہو رہا، میں نے آکر نبی ﷺ سے یہ بات ذکر کی، تو نبی ﷺ نے فرمایا جب اس کا خون بند ہوجائے تو اس پر حد جاری کردینا اور یاد رکھو! اپنے غلاموں اور باندیوں پر بھی حد جاری کیا کرو۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ الْخُرَيْبِيُّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّ الْوَتْرَ لَيْسَ بِحَتْمٍ وَلَكِنَّهُ سُنَّةٌ سَنَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَوْتِرُوا يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ وتر فرض نماز کی طرح قرآن کریم سے حتمی ثبوت نہیں رکھتے لیکن ان کا وجوب نبی ﷺ کی سنت سے ثابت ہے اس لئے اہل قرآن! وتر پڑھا کرو۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَفَوْتُ لَكُمْ عَنْ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ فَأَدُّوا صَدَقَةَ الرِّقَةِ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمًا وَلَيْسَ فِي تِسْعِينَ وَمِائَةٍ شَيْءٌ فَإِذَا بَلَغَتْ مِائَتَيْنِ فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میں نے تم سے گھوڑے اور غلام کی زکوٰۃ چھوڑ دی ہے اس لئے چاندی کی زکوٰۃ بہرحال تمہیں ادا کرنا ہوگی، جس کا نصاب یہ ہے کہ ہر چالیس پر ایک درہم واجب ہوگا، ایک سو نوے درہم تک کچھ واجب نہ ہوگا، لیکن جب ان کی تعداد دو سو تک پہنچ جائے تو اس پر پانچ درہم واجب ہوں گے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ قَالَ سُئِلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ سِتَّ عَشْرَةَ رَكْعَةً
عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے حضرت علی ؓ سے پوچھا کہ نبی ﷺ کس طرح نوافل پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ پوری رات میں نبی ﷺ کے نوافل کی سولہ رکعتیں ہوتی تھیں۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ بْنُ يُونُسَ عَنْ ثُوَيْرِ بْنِ أَبِي فَاخِتَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَهْدَى كِسْرَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبِلَ مِنْهُ وَأَهْدَى قَيْصَرُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبِلَ مِنْهُ وَأَهْدَتْ الْمُلُوكُ فَقَبِلَ مِنْهُمْ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسری نے نبی ﷺ کی خدمت میں ہدیہ بھیجا، آپ ﷺ نے قبول فرما لیا اسی طرح قیصر نے ہدیہ بھیجا تو وہ بھی قبول فرما لیا اور دیگر بادشاہوں نے بھییجا تو وہ بھی قبول فرما لیا۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ النَّابِغَةِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ وَعَنْ الْأَوْعِيَةِ وَأَنْ تُحْبَسَ لُحُومُ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ ثُمَّ قَالَ إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا فَإِنَّهَا تُذَكِّرُكُمْ الْآخِرَةَ وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ الْأَوْعِيَةِ فَاشْرَبُوا فِيهَا وَاجْتَنِبُوا كُلَّ مَا أَسْكَرَ وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ أَنْ تَحْبِسُوهَا بَعْدَ ثَلَاثٍ فَاحْبِسُوا مَا بَدَا لَكُمْ حَدَّثَنَاه عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ النَّابِغَةِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ وَإِيَّاكُمْ وَكُلَّ مُسْكِرٍ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ابتداء قبرستان جانے سے، مخصوص برتنوں کے استعمال سے اور تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت اپنے پاس رکھنے سے منع فرما دیا تھا، اس کے بعد فرمایا کہ میں نے پہلے تمہیں قبرستان جانے سے روکا تھا، اب اجازت دیتا ہوں اس لئے قبرستان جایا کرو کیونکہ اس سے آخرت کی یاد آتی ہے، میں نے تمہیں مخصوص برتن استعمال کرنے سے بھی روکا تھا، اب انہیں پینے کے لئے استعمال کرلیا کرو لیکن نشہ آور چیزوں سے بچتے رہو اور میں نے تمہیں تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھنے سے بھی منع کیا تھا اب تہیں اجازت ہے کہ جب تک چاہو رکھو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً فَاسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَجْلِ ابْنَتِهِ فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الرَّجُلِ يَجِدُ الْمَذْيَ فَقَالَ ذَلِكَ مَاءُ الْفَحْلِ وَلِكُلِّ فَحْلٍ مَاءٌ فَلْيَغْسِلْ ذَكَرَهُ وَأُنْثَيَيْهِ وَلْيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ میرے جسم سے خروج مذی بکثرت ہوتا تھا، مجھے خود سے یہ مسئلہ نبی ﷺ سے پوچھتے ہوئے شرم آتی تھی کہ ان کی صاحبزادی میرے نکاح میں تھیں، چناچہ میں نے مقداد سے کہا، انہوں نے نبی ﷺ سے یہ مسئلہ پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ تو مرد کا پانی ہے اور ہر طاقتور مرد کا پانی ہوتا ہے اس لئے جب مذی دیکھو تو اپنی شرمگاہ کو دھو لیا کرو اور نماز جیسا وضو کرلیا کرو۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ عَنْ ابْنِ أَشْوَعَ عَنْ حَنَشِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَعَثَ صَاحِبَ شُرْطَتِهِ فَقَالَ أَبْعَثُكَ لِمَا بَعَثَنِي لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَدَعْ قَبْرًا إِلَّا سَوَّيْتَهُ وَلَا تِمْثَالًا إِلَّا وَضَعْتَهُ
حضرت علی ؓ کے حوالے سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنے رفیق حیان کو مخاطب کر کے فرمایا میں تمہیں اس کام لئے بھیج رہا ہوں، جس کام کے لئے نبی ﷺ نے مجھے بھیجا تھا، کوئی قبر برابر کئے بغیر نہ چھوڑنا اور کوئی تصویر مٹائے بغیر نہ چھوڑنا۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا سَقَتْ السَّمَاءُ فَفِيهِ الْعُشْرُ وَمَا سُقِيَ بِالْغَرْبِ وَالدَّالِيَةِ فَفِيهِ نِصْفُ الْعُشْرِ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ فَحَدَّثْتُ أَبِي بِحَدِيثِ عُثْمَانَ عَنْ جَرِيرٍ فَأَنْكَرَهُ وَكَانَ أَبِي لَا يُحَدِّثُنَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ لِضَعْفِهِ عِنْدَهُ وَإِنْكَارِهِ لِحَدِيثِهِ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو زمین بارش کے پانی سے سیراب ہوتی ہو اس میں عشر واجب ہے اور جو زمین ڈول یا رہٹ سے سیراب ہوتی ہو، اس میں نصف عشر واجب ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ يَعْنِي الرَّازِيَّ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ سِتَّ عَشْرَةَ رَكْعَةً سِوَى الْمَكْتُوبَةِ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ فرائض کے علاوہ رات کو سولہ رکعتیں پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ الرَّازِيُّ عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ وَالْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ قَالَ أَتَيْنَا عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْنَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَلَا تُحَدِّثُنَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَطَوُّعَهُ فَقَالَ وَأَيُّكُمْ يُطِيقُهُ قَالُوا نَأْخُذُ مِنْهُ مَا أَطَقْنَا قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنْ النَّهَارِ سِتَّ عَشْرَةَ رَكْعَةً سِوَى الْمَكْتُوبَةِ
عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نے حضرت علی ؓ سے پوچھا کہ نبی ﷺ دن کے وقت کس طرح نوافل پڑھتے تھے؟ فرمایا تم اس طرح پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتے، ہم نے عرض کیا آپ بتا دیجئے، ہم اپنی طاقت اور استطاعت کے بقدر اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے، فرمایا کہ نبی ﷺ فرائض کے علاوہ دن کو سولہ رکعتیں پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ وَشَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَفَوْتُ لَكُمْ عَنْ صَدَقَةِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ فَأَدُّوا رُبُعَ الْعُشُورِ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میں نے تم سے گھوڑے اور غلام کی زکوٰۃ چھوڑ دی ہے اس لئے چاندی کی زکوٰۃ بہرحال تمہیں ادا کرنا ہوگی، جس کا نصاب یہ ہے کہ ہر چالیس پر ایک درہم واجب ہوگا۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَلِيُّ إِنِّي أُحِبُّ لَكَ مَا أُحِبُّ لِنَفْسِي وَأَكْرَهُ لَكَ مَا أَكْرَهُ لِنَفْسِي لَا تَقْرَأْ وَأَنْتَ رَاكِعٌ وَلَا وَأَنْتَ سَاجِدٌ وَلَا تُصَلِّ وَأَنْتَ عَاقِصٌ شَعْرَكَ فَإِنَّهُ كِفْلُ الشَّيْطَانِ وَلَا تُقْعِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ وَلَا تَعْبَثْ بِالْحَصَى وَلَا تَفْتَرِشْ ذِرَاعَيْكَ وَلَا تَفْتَحْ عَلَى الْإِمَامِ وَلَا تَتَخَتَّمْ بِالذَّهَبِ وَلَا تَلْبَسْ الْقَسِّيَّ وَلَا تَرْكَبْ عَلَى الْمَيَاثِرِ
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا علی! میں تمہارے لئے وہی پسند کرتا ہوں جو اپنے لئے پسند کرتا ہوں اور تمہارے لئے وہی چیز ناپسند کرتا ہوں جو اپنے لئے ناپسند کرتا ہوں، رکوع یا سجدے کی حالت میں قرآن کریم کی تلاوت نہ کیا کرو، بالوں کی مینڈھیاں بنا کر نماز نہ پڑھو، کیونکہ یہ شیطان کا طریقہ ہے، دو سجدوں کے درمیان اپنی سرین پر مت بیٹھو، کنکریوں کے ساتھ دوران نماز مت کھیلو، سجدے میں اپنے بازو زمین پر مت بچھاؤ، امام کو لقمہ مت دو، سونے کی انگوٹھی مت پہنو، ریشمی لباس مت پہنو اور سرخ زین پوش پر مت سوار ہوا کرو۔