حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ هُبَيْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَوْ نَهَانِي عَنْ الْمِيثَرَةِ وَالْقَسِّيِّ وَخَاتَمِ الذَّهَبِ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے سونے کی انگوٹھی، ریشم اور سرخ زین پوش سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عَمَّارًا اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الطَّيِّبُ الْمُطَيَّبُ ائْذَنْ لَهُ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا، اتنی دیر میں حضرت عمار ؓ آکر اجازت طلب کرنے لگے، نبی ﷺ نے فرمایا کہ انہیں اجازت دے دو، خوش آمدید اس شخص کو جو پاکیزہ ہے اور پاکیزگی کا حامل ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ مُضَرِّبٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُنَا لَيْلَةَ بَدْرٍ وَمَا مِنَّا إِنْسَانٌ إِلَّا نَائِمٌ إِلَّا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّهُ كَانَ يُصَلِّي إِلَى شَجَرَةٍ وَيَدْعُو حَتَّى أَصْبَحَ وَمَا كَانَ مِنَّا فَارِسٌ يَوْمَ بَدْرٍ غَيْرَ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر کے موقع پر ہم نے دیکھا ہے کہ ہمارے درمیان ہر شخص سو جاتا تھا، سوائے نبی ﷺ کے جو ایک درخت کے نیچے نماز پڑھتے جاتے تھے اور روتے جاتے تھے یہاں تک کہ صبح ہوگئی اور غزوہ بدر کے دن حضرت مقداد بن اسود ؓ کے علاوہ ہم میں کوئی گھڑ سوار نہ تھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سُمَيْعٍ حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ عُمَيْرٍ قَالَ جَاءَ زَيْدُ بْنُ صُوحَانَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ حَدِّثْنِي مَا نَهَاكَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ نَهَانِي عَنْ الْحَنْتَمِ وَالدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَالْجِعَةِ وَعَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ أَوْ قَالَ حَلْقَةِ الذَّهَبِ وَعَنْ الْحَرِيرِ وَالْقَسِّيِّ وَالْمِيثَرَةِ الْحَمْرَاءِ قَالَ وَأُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةُ حَرِيرٍ فَكَسَانِيهَا فَخَرَجْتُ فِيهَا فَأَخَذَهَا فَأَعْطَاهَا فَاطِمَةَ أَوْ عَمَّتَهُ إِسْمَاعِيلُ يَقُولُ ذَلِكَ حَدَّثَنَاه يُونُسُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ جَاءَ صَعْصَعَةُ بْنُ صُوحَانَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
مالک بن عمیر کہتے ہیں کہ ایک دن حضرت علی ؓ کی خدمت میں زید بن صوحان آگئے اور سلام کر کے کہنے لگے امیرالمومنین! نبی ﷺ نے جن چیزوں سے آپ لوگوں کو روکا تھا ہمیں بھی ان سے روکیے، انہوں نے فرمایا نبی ﷺ نے ہمیں کدو کی تونبی، سبز مٹکے، لکڑی کے برتن، لکڑی کو کھود کر بنائے گئے برتن کو استعمال کرنے اور جو کی نبیذ سے منع فرمایا (کیونکہ ان میں شراب کشید کی جاتی تھی) نیز ریشم، سرخ زین پوش، خالص ریشم اور سونے کے حلقوں سے منع فرمایا۔ پھر فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے مجھے ایک ریشمی جوڑا عنایت فرمایا: میں وہ پہن کر باہر نکلا، نبی ﷺ نے یہ دیکھ کر وہ حضرت فاطمہ ؓ یا ان کی پھوپھی کو بھجوا دیا۔ گذشتہ حدیث ایک اور سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ ضِرَارِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ حُصَيْنٍ الْمُزَنِيِّ قَالَ قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ إِلَّا الْحَدَثُ لَا أَسْتَحْيِيكُمْ مِمَّا لَا يَسْتَحْيِي مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَالْحَدَثُ أَنْ يَفْسُوَ أَوْ يَضْرِطَ
ایک مرتبہ حضرت علی ؓ نے منبر پر لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا لوگو! میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نماز " حدث " کے علاوہ کسی اور چیز سے نہیں ٹوٹتی اور میں تم سے اس چیز کو بیان کرنے میں شرم نہیں کروں گا جس سے نبی ﷺ نے شرم محسوس نہیں فرمائی، حدث کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کی ہوا نکل جائے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي قَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ أَبُو عَبَّادٍ الذَّارِعُ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا عُتَيْبَةُ الضَّرِيرُ حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ أَصْرَمَ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ مَاتَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ وَتَرَكَ دِينَارًا وَدِرْهَمًا فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَرَكَ دِينَارًا وَدِرْهَمًا فَقَالَ كَيَّتَانِ صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ اہل صفہ میں سے ایک صاحب کا انتقال ہوگیا، کسی شخص نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! انہوں نے ترکہ میں ایک دینار اور ایک درہم چھوڑے، نبی ﷺ نے فرمایا یہ جہنم کے دو انگارے ہیں جن سے داغا جائے گا، تم اپنے ساتھی کی نماز جنازہ خود پڑھ لو۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْحُسَامِ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ عَادَ مَرِيضًا مَشَى فِي خِرَافِ الْجَنَّةِ فَإِذَا جَلَسَ عِنْدَهُ اسْتَنْقَعَ فِي الرَّحْمَةِ فَإِذَا خَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ وُكِّلَ بِهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ يَسْتَغْفِرُونَ لَهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی مریض کی عیادت کے لئے جاتا ہے گویا وہ جنت کے باغات میں چلتا ہے، جب وہ بیمار کے پاس بیٹھتا ہے تو اللہ کی رحمت کے سمندر میں غوطے کھاتا ہے اور جب وہاں سے واپس روانہ ہوتا ہے تو اس کے لئے ستر ہزار فرشتے مقرر کردیئے جاتے ہیں جو اس دن اس کے لئے بخشش کی دعاء مانگتے رہتے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ قَالَ سَمِعْتُ مَسْعُودَ بْنَ الْحَكَمِ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِي جَنَازَةٍ فَقُمْنَا وَرَأَيْتُهُ قَعَدَ فَقَعَدْنَا
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ پہلے جنازہ دیکھ کر کھڑے ہوجاتے تھے تو ہم بھی کھڑے ہوجاتے تھے پھر بعد میں آپ ﷺ خود بھی بیٹھے رہنے لگے تو ہم بھی بیٹھنے لگے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا بُرْدَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالسَّدَادَ وَاذْكُرْ بِالْهُدَى هِدَايَتَكَ الطَّرِيقَ وَاذْكُرْ بِالسَّدَادِ تَسْدِيدَكَ السَّهْمَ قَالَ وَنَهَى أَوْ نَهَانِي عَنْ الْقَسِّيِّ وَالْمِيثَرَةِ وَعَنْ الْخَاتَمِ فِي السَّبَّابَةِ أَوْ الْوُسْطَى
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ دعاء پڑھا کرو اے اللہ میں تجھ سے ہدایت اور سداد کا سوال کرتا ہوں اور ہدایت کا لفظ بولتے وقت راستے کی رہنمائی کو ذہن میں رکھا کرو اور سداد کا لفظ بولتے وقت تیر کی درستگی کو ذہن میں رکھا کرو نیز حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے ریشم، سرخ زین پوش اور سبابہ یا وسطی میں انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي عَوْنٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ ذَكَرْتُ ابْنَةَ حَمْزَةَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنْ الرَّضَاعَةِ
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کے سامنے حضرت حمزہ ؓ کی صاحبزادی کا تذکرہ کیا تو نبی ﷺ نے فرمایا وہ میری رضاعی بھتیجی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو دَاوُدَ الْمُبَارَكِيُّ سُلَيْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ أَبِي الْمُوَرِّعِ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ فَقَالَ مَنْ يَأْتِي الْمَدِينَةَ فَلَا يَدَعُ قَبْرًا إِلَّا سَوَّاهُ وَلَا صُورَةً إِلَّا طَلَخَهَا وَلَا وَثَنًا إِلَّا كَسَرَهُ قَالَ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ أَنَا ثُمَّ هَابَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ فَجَلَسَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَانْطَلَقْتُ ثُمَّ جِئْتُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أَدَعْ بِالْمَدِينَةِ قَبْرًا إِلَّا سَوَّيْتُهُ وَلَا صُورَةً إِلَّا طَلَخْتُهَا وَلَا وَثَنًا إِلَّا كَسَّرْتُهُ قَالَ فَقَالَ مَنْ عَادَ فَصَنَعَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى مُحَمَّدٍ يَا عَلِيُّ لَا تَكُونَنَّ فَتَّانًا أَوْ قَالَ مُخْتَالًا وَلَا تَاجِرًا إِلَّا تَاجِرَ الْخَيْرِ فَإِنَّ أُولَئِكَ هُمْ الْمُسَوِّفُونَ فِي الْعَمَلِ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہم لوگ ایک جنازے میں شریک تھے، اس موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کون شخص مدینہ منورہ جائے گا کہ وہاں جا کر کوئی بت ایسا نہ چھوڑے جسے اس نے توڑ نہ دیا ہو، کوئی قبر ایسی نہ چھوڑے جسے برابر نہ کردیا اور کوئی تصویر ایسی نہ دیکھے جس پر گارا اور کیچڑ نہ مل دے؟ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں یہ کام کروں گا، چناچہ وہ آدمی روانہ ہوگیا، لیکن جب مدینہ منورہ پہنچا تو وہ اہل مدینہ سے مرعوب ہو کر واپس لوٹ آیا۔ یہ دیکھ کر حضرت علی ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں جاتا ہوں، نبی ﷺ نے انہیں اجازت دے دی، چناچہ جب وہ واپس آئے تو عرض کیا یا رسول اللہ! میں نے جہاں بھی کسی نوعیت کا بت پایا اسے توڑ دیا، جو قبر بھی نظر آئی اسے برابر کردیا اور جو تصویر بھی دکھائی دی اس پر کیچڑ ڈال دیا، اس کے بعد نبی ﷺ نے فرمایا اب جو شخص ان کاموں میں سے کوئی کام دوبارہ کرے گا گویا وہ محمد ﷺ پر نازل کردہ وحی کا انکار کرتا ہے، نیز یہ بھی فرمایا کہ اے علی! تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والے یا شیخی خورے مت بننا، صرف خیر ہی کے تاجر بننا، کیونکہ یہ وہی لوگ ہیں جن پر صرف عمل کے ذریعے ہی سبقت لے جانا ممکن ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي عَوْنٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةٌ سِيَرَاءُ فَبَعَثَ بِهَا إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجْتُ فِيهَا فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى رَأَيْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ إِنِّي لَمْ أُعْطِكَهَا لِتَلْبَسَهَا قَالَ فَأَمَرَنِي فَأَطَرْتُهَا بَيْنَ نِسَائِي
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کی خدمت میں کہیں سے ہدیہ کے طور پر ایک ریشمی جوڑا آیا، نبی ﷺ نے وہ میرے پاس بھیج دیا، میں اسے پہن کر باہر نکلا تو نبی ﷺ غصہ میں آگئے حتی کہ میں نے نبی ﷺ کے روئے انور پر ناراضگی کے اثرات دیکھے پھر نبی ﷺ نے فرمایا میں نے تمہیں یہ پہننے کے لئے نہیں دیا تھا، پھر مجھے حکم دیا تو میں نے اسے اپنی عورتوں میں تقسیم کردیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمَلَائِكَةُ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلَا جُنُبٌ وَلَا كَلْبٌ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اس گھر میں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے جس میں کوئی جنبی ہو، یا تصویر یا کتا ہو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ أَنَّهُ شَهِدَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ جَلَسَ فِي الرَّحَبَةِ فِي حَوَائِجِ النَّاسِ فَلَمَّا حَضَرَتْ الْعَصْرُ أُتِيَ بِتَوْرٍ فَأَخَذَ حَفْنَةَ مَاءٍ فَمَسَحَ يَدَيْهِ وَذِرَاعَيْهِ وَوَجْهَهُ وَرَأْسَهُ وَرِجْلَيْهِ ثُمَّ شَرِبَ فَضْلَهُ وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ قَالَ إِنَّ نَاسًا يَكْرَهُونَ أَنْ يَشْرَبُوا وَهُمْ قِيَامٌ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ كَمَا صَنَعْتُ وَهَذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ قَالَ سَمِعْتُ النَّزَّالَ بْنَ سَبْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ أُتِيَ بِكُوزٍ
نزال بن سبرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ان کے سامنے حضرت علی ؓ نے ظہر کی نماز پڑھی، پھر مسجد کے صحن میں بیٹھ گئے تاکہ لوگوں کے مسائل حل کریں، جب نماز عصر کا وقت آیا تو انہوں نے چلو بھر کر پانی لیا اور اپنے ہاتھوں، بازؤوں، چہرے، سر اور پاؤں پانی کا گیلا ہاتھ پھیرا، پھر کھڑے کھڑے وہ پانی پی لیا اور فرمایا کہ کچھ لوگ کھڑے ہو کر پانی پینے کو ناپسند سمجھتے ہیں حالانکہ نبی ﷺ نے بھی اسی طرح کیا ہے جیسے میں نے کیا ہے اور جو آدمی بےوضو نہ ہو بلکہ پہلے سے اس کا وضو موجود ہو، یہ اس شخص کا وضو ہے۔ گذشتہ حدیث ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ الْحَكَمُ أَخْبَرَنِي عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَأَمَرَهُ أَنْ يُسَوِّيَ الْقُبُورَ
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ایک مرتبہ انہیں مدینہ منورہ بھیجا اور تمام قبریں برابر کرنے کا حکم دیا۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي شَيْبَانُ أَبُو مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ أَنْبَأَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ عَنِ الْحَكَمِ بنِ عُتَيْبَةَ عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ الْهُذَلِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ أَنْ يُسَوِّيَ كُلَّ قَبْرٍ وَأَنْ يُلَطِّخَ كُلَّ صَنَمٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أَدْخُلَ بُيُوتَ قَوْمِي قَالَ فَأَرْسَلَنِي فَلَمَّا جِئْتُ قَالَ يَا عَلِيُّ لَا تَكُونَنَّ فَتَّانًا وَلَا مُخْتَالًا وَلَا تَاجِرًا إِلَّا تَاجِرَ خَيْرٍ فَإِنَّ أُولَئِكَ مُسَوِّفُونَ أَوْ مَسْبُوقُونَ فِي الْعَمَلِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ قَالَ وَأَهْلُ الْبَصْرَةِ يُكَنُّونَهُ أَبَا مُوَرِّعٍ قَالَ وَكَانَ أَهْلُ الْكُوفَةِ يُكَنُّونَهُ بِأَبِي مُحَمَّدٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي دَاوُدَ عَنْ أَبِي شِهَابٍ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ایک انصاری آدمی کو بھیجا اور اسے حکم دیا کہ ہر قبر برابر کردو اور ہر بت پر گارا مل دو، اس نے کہا یا رسول اللہ! میں اپنی قوم کے گھروں میں داخل نہیں ہونا چاہتا، پھر نبی ﷺ نے مجھے بھیجا، جب میں واپس آیا تو فرمایا کہ تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والے یا شیخی خورے مت بنا، صرف خیر ہی کے تاجر بننا، کیونکہ یہ وہی لوگ ہیں جن پر صرف عمل کے ذریعے ہی سبقت لے جانا ممکن ہے۔ گذشتہ حدیث ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ عُرْفُطَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ خَيْرٍ قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُتِيَ بِكُرْسِيٍّ فَقَعَدَ عَلَيْهِ ثُمَّ أُتِيَ بِكُوزٍ قَالَ حَجَّاجٌ بِتَوْرٍ مِنْ مَاءٍ قَالَ فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا وَمَضْمَضَ ثَلَاثًا مَعَ الِاسْتِنْشَاقِ بِمَاءٍ وَاحِدٍ وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا قَالَ حَجَّاجٌ ثَلَاثًا ثَلَاثًا بِيَدٍ وَاحِدَةٍ وَوَضَعَ يَدَيْهِ فِي التَّوْرِ ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ قَالَ حَجَّاجٌ فَأَشَارَ بِيَدَيْهِ مِنْ مُقَدَّمِ رَأْسِهِ إِلَى مُؤَخَّرِ رَأْسِهِ قَالَ وَلَا أَدْرِي أَرَدَّهَا إِلَى مُقَدَّمِ رَأْسِهِ أَمْ لَا وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا قَالَ حَجَّاجٌ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى طُهُورِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَذَا طُهُورُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
عبد خیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی ؓ کے پاس کرسی لائی گئی، میں نے انہیں اس پر بیٹھے ہوئے دیکھا، پھر ایک برتن لایا گیا، انہوں نے اپنے ہاتھوں کو تین مرتبہ دھویا، پھر ایک ہی پانی سے تین مرتبہ کلی کی، ناک میں پانی ڈالا، تین مرتبہ چہرہ دھویا، دونوں بازوؤں کو کہنیوں سمیت تین تین مرتبہ دھویا، پھر دوبارہ اپنے ہاتھوں کو برتن میں ڈالا اور دونوں ہتھیلیوں سے سر کا ایک مرتبہ آگے سے پیچھے کی طرف مسح کیا اور ٹخنوں سمیت دونوں پاؤں تین تین مرتبہ دھوئے پھر فرمایا کہ نبی ﷺ اسی طرح وضو کیا کرتے تھے، جو شخص نبی ﷺ کا طریقہ وضو دیکھنا چاہے تو وہ یہی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْوَضِيءِ قَالَ شَهِدْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَيْثُ قَتَلَ أَهْلَ النَّهْرَوَانِ قَالَ الْتَمِسُوا إِلَيَّ الْمُخْدَجَ فَطَلَبُوهُ فِي الْقَتْلَى فَقَالُوا لَيْسَ نَجِدُهُ فَقَالَ ارْجِعُوا فَالْتَمِسُوا فَوَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلَا كُذِبْتُ فَرَجَعُوا فَطَلَبُوهُ فَرَدَّدَ ذَلِكَ مِرَارًا كُلُّ ذَلِكَ يَحْلِفُ بِاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلَا كُذِبْتُ فَانْطَلَقُوا فَوَجَدُوهُ تَحْتَ الْقَتْلَى فِي طِينٍ فَاسْتَخْرَجُوهُ فَجِيءَ بِهِ فَقَالَ أَبُو الْوَضِيءِ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ حَبَشِيٌّ عَلَيْهِ ثَدْيٌ قَدْ طَبَقَ إِحْدَى يَدَيْهِ مِثْلُ ثَدْيِ الْمَرْأَةِ عَلَيْهَا شَعَرَاتٌ مِثْلُ شَعَرَاتٍ تَكُونُ عَلَى ذَنَبِ الْيَرْبُوعِ
ابوا لوضی کہتے ہیں کہ جب حضرت علی ؓ اہل نہروان کے ساتھ جنگ میں مشغول تھے تو میں وہاں موجود تھا، حضرت علی ؓ نے فرمایا مقتولین میں ایک ایسا آدمی تلاش کرو جس کا ہاتھ ناقص اور نامکمل ہو، لوگوں نے اسے لاشوں میں تلاش کیا لیکن وہ نہیں ملا اور لوگ کہنے لگے کہ ہمیں نہیں مل رہا، حضرت علی ؓ نے فرمایا دوبارہ جا کر تلاش کرو، بخدا! میں تم سے جھوٹ بول رہا ہوں اور نہ مجھ سے جھوٹ بولا گیا۔ کئی مرتبہ اسی طرح ہوا اور حضرت علی ؓ ہر مرتبہ لوگوں کو تلاش کرنے کے لئے دوبارہ بھیجتے رہے اور ہر مرتبہ قسم کھا کر یہ فرماتے رہے کہ نہ میں تم سے جھوٹ بول رہا ہوں اور نہ مجھ سے جھوٹ بولا گیا، آخری مرتبہ جب لوگوں نے اسے تلاش کیا تو وہ انہیں مقتولین کی لاشوں کے نیچے مٹی میں پڑا ہوا مل گیا، انہوں نے اسے نکالا اور لا کر حضرت علی ؓ کی خدمت میں پیش کردیا۔ ابو الوضی کہتے ہیں کہ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا میں اب بھی اسے اپنی نگاہوں کے سامنے دیکھ رہا ہوں وہ ایک حبشی تھا جس کے ہاتھ پر عورت کی چھاتی جیسا نشان بنا ہوا تھا اور اس چھاتی پر اسی طرح بال تھے جیسے کسی جنگلی چوہے کی دم پر ہوتے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے کدو کی تو نبی اور لک سے بنے ہوئے برتن کو استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ فِي جَنَازَةٍ فَأَخَذَ عُودًا يَنْكُتُ فِي الْأَرْضِ فَقَالَ مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا قَدْ كُتِبَ مَقْعَدُهُ مِنْ النَّارِ أَوْ مِنْ الْجَنَّةِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا نَتَّكِلُ قَالَ اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى قَالَ شُعْبَةُ وَحَدَّثَنِي بِهِ مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ فَلَمْ أُنْكِرْ مِنْ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ شَيْئًا
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی ﷺ ایک جنازے کے انتظار میں بیٹھے تھے (آپ کے دست مبارک میں ایک لکڑی تھی) جس سے آپ ﷺ زمین کو کرید رہے تھے، تھوڑی دیر بعد سر اٹھا کر فرمایا تم میں سے ہر شخص کا ٹھکانہ خواہ جنت ہو یا جہنم اللہ کے علم میں موجود اور متعین ہے، صحابہ کرام ؓ نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا ہم اسی پر بھروسہ نہ کرلیں؟ فرمایا عمل کرتے رہو کیونکہ ہر ایک کے لئے وہی اعمال آسان کئے جائیں گے جن کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہوگا، پھر آپ ﷺ نے قرآن کی یہ آیت تلاوت فرمائی کہ جس شخص نے دیا، تقویٰ اختیار کیا اور اچھی بات کی تصدیق کی تو۔۔۔۔۔۔۔۔