Musnad Imam Ahmad

All 26,407 hadiths in order · Page 55 of 1,321

1081Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ و حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ و حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ أَبِي جَنَابٍ عَنْ أَبِي جَمِيلَةَ الطُّهَوِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ لِلْحَجَّامِ حِينَ فَرَغَ كَمْ خَرَاجُكَ قَالَ صَاعَانِ فَوَضَعَ عَنْهُ صَاعًا وَأَمَرَنِي فَأَعْطَيْتُهُ صَاعًا

حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے پچھنے لگوائے، فراغت کے بعد پچھنے لگانے والے سے اس کی مزدوری پوچھی، اس نے دو صاع بتائے، نبی ﷺ نے اس سے ایک صاع کم کردیا اور مجھے ایک صاع اس کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔

1082Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ ح و حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ و حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيِّ عَنْ أَبِي جَمِيلَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ خَادِمًا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَرَتْ فَأَمَرَنِي أَنْ أُقِيمَ عَلَيْهَا الْحَدَّ فَوَجَدْتُهَا لَمْ تَجِفَّ مِنْ دَمِهَا فَأَتَيْتُهُ فَذَكَرْتُ لَهُ فَقَالَ إِذَا جَفَّتْ مِنْ دَمِهَا فَأَقِمْ عَلَيْهَا الْحَدَّ أَقِيمُوا الْحُدُودَ عَلَى مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ إِسْحَاقَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَالْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ أَبِي جَمِيلَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَمَةٍ لَهُ فَجَرَتْ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کی ایک خادمہ سے بدکاری کا گناہ سرزد ہوگیا، نبی ﷺ نے اس پر حد جاری کرنے کا حکم دیا، میں نے دیکھا کہ اس کا تو خون ہی بند نہیں ہو رہا، میں نے آکر نبی ﷺ سے یہ بات ذکر کی، تو نبی ﷺ نے فرمایا جب اس کا خون بند ہوجائے تب اس پر حد جاری کردینا، یاد رکھو! اپنے غلاموں اور باندیوں پر بھی حد جاری کیا کرو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

1083Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ أَنَّهُ قَالَ شَهِدْتُ عَلِيًّا وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ وَعُثْمَانُ يَنْهَى عَنْ الْمُتْعَةِ وَأَنْ يُجْمَعَ بَيْنَهُمَا فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَهَلَّ بِهِمَا فَقَالَ لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجٍّ مَعًا فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَرَانِي أَنْهَى النَّاسَ عَنْهُ وَأَنْتَ تَفْعَلُهُ قَالَ لَمْ أَكُنْ أَدَعُ سُنَّةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِقَوْلِ أَحَدٍ مِنْ النَّاسِ

مروان بن حکم سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں مکہ اور مدینہ کے درمیان حضرت عثمان غنی ؓ اور حضرت علی ؓ کے ساتھ موجود تھا، حضرت عثمان غنی ؓ حج تمتع یعنی حج اور عمرہ کو ایک ہی سفر میں جمع کرنے سے منع فرماتے تھے، یہ دیکھ کر حضرت علی ؓ نے دونوں کا احرام باندھ لیا، حضرت عثمان ؓ نے ان سے فرمایا کہ کیا آپ کے علم میں نہیں ہے کہ میں نے اس کی ممانعت کا حکم جاری کردیا ہے اور آپ پھر بھی اس طرح کر رہے ہیں؟ فرمایا لیکن کسی کی بات کے آگے میں نبی ﷺ کی بات کو نہیں چھوڑ سکتا۔

1084Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي وَإِسَحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ و حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ و حَدَّثَنِي سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ جَمِيعًا عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ مَيْسَرَةَ رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ شَرِبَ قَائِمًا فَقُلْتُ تَشْرَبُ وَأَنْتَ قَائِمٌ قَالَ إِنْ أَشْرَبْ قَائِمًا فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ قَائِمًا وَإِنْ أَشْرَبْ قَاعِدًا فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ قَاعِدًا

میسرہ (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے دیکھا کہ حضرت علی ؓ نے کھڑے ہو کر پانی پیا، میں نے ان سے کہا کہ آپ کھڑے ہو کر پانی پی رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا اگر میں نے کھڑے ہو کر پانی پیا ہے تو نبی ﷺ کو دیکھ کر کیا ہے اور اگر بیٹھ کر پیا ہے تو انہیں اس طرح بھی کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

1085Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى حَدَّثَنَا عَلِيٌّ أَنَّ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا اشْتَكَتْ مَا تَلْقَى مِنْ أَثَرِ الرَّحَى فِي يَدِهَا وَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْيٌ فَانْطَلَقَتْ فَلَمْ تَجِدْهُ وَلَقِيَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَأَخْبَرَتْهَا فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ عَائِشَةُ بِمَجِيءِ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا إِلَيْهَا فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا فَذَهَبْنَا لِنَقُومَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَكَانِكُمَا فَقَعَدَ بَيْنَنَا حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمَيْهِ عَلَى صَدْرِي فَقَالَ أَلَا أُعَلِّمُكُمَا خَيْرًا مِمَّا سَأَلْتُمَا إِذَا أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَكُمَا أَنْ تُكَبِّرَا اللَّهَ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ وَتُسَبِّحَاهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَتَحْمَدَاهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت فاطمہ ؓ نے نبی ﷺ سے شکایت کی کہ آٹا پیس پیس کر ہاتھوں میں نشان پڑگئے ہیں، اس دوران نبی ﷺ کے پاس کہیں سے کچھ قیدی آئے، حضرت فاطمہ ؓ کو پتہ چلا تو وہ نبی ﷺ کی خدمت میں ایک خادم کی درخواست لے کر حاضر ہوئیں لیکن نبی صلی اللہ علیہ سلم نہ ملے، تو وہ حضرت عائشہ ؓ کو بتا کر واپس آگئیں۔ جب نبی ﷺ واپس آئے تو حضرت عائشہ ؓ نے انہیں حضرت فاطمہ ؓ کے آنے کی اطلاع دی، چناچہ رات کو جب ہم اپنے بستروں پر لیٹ چکے تھے تو نبی ﷺ تشریف لائے، ہم نے کھڑا ہونا چاہا لیکن آپ ﷺ نے فرمایا اپنی جگہ رہو، یہ کہہ کر نبی ﷺ ہمارے پاس بیٹھ گئے، حتی کہ میں نے آپ ﷺ کے قدموں کی ٹھنڈک محسوس کی اور فرمایا کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جو تمہارے لئے خادم سے بہتر ہو؟ جب تم اپنے بستر پر لیٹا کرو تو ٣٣ مرتبہ سبحان اللہ، ٣٣ مرتبہ الحمدللہ اور ٣٤ مرتبہ اللہ اکبر کہہ لیا کرو۔

1086Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو وَكِيعٍ الْجَرَّاحُ بْنُ مَلِيحٍ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيِّ عَنْ أَبِي جَمِيلَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَالَ أَبُو الرَّبِيعِ فِي حَدِيثِهِ عَنْ مَيْسَرَةَ أَبِي جَمِيلَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَمَةٍ لَهُ سَوْدَاءَ زَنَتْ لِأَجْلِدَهَا الْحَدَّ قَالَ فَوَجَدْتُهَا فِي دِمَائِهَا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ فَقَالَ لِي إِذَا تَعَالَتْ مِنْ نُفَاسِهَا فَاجْلِدْهَا خَمْسِينَ وَقَالَ أَبُو الرَّبِيعِ فِي حَدِيثِهِ قَالَ فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِذَا جَفَّتْ مِنْ دِمَائِهَا فَحُدَّهَا ثُمَّ قَالَ أَقِيمُوا الْحُدُودَ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کی ایک سیاہ فام خادمہ سے بدکاری کا گناہ سرزد ہوگیا، نبی ﷺ نے اس پر حد جاری کرنے کا حکم دیا، میں نے دیکھا کہ اس کا تو خون ہی بند نہیں ہو رہا، میں نے آکر نبی ﷺ سے یہ بات ذکر کی، تو نبی ﷺ نے فرمایا جب اس کا خون بند ہوجائے تب اس پر حد جاری کردینا، یاد رکھو! اپنے غلاموں اور باندیوں پر بھی حد جاری کیا کرو۔

1087Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَسِيرُ حَتَّى إِذَا غَرَبَتْ الشَّمْسُ وَأَظْلَمَ نَزَلَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ عَلَى أَثَرِهَا ثُمَّ يَقُولُ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُمْ أَنَّ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا شَكَتْ إِلَى أَبِيهَا مَا تَلْقَى مِنْ يَدَيْهَا مِنْ الرَّحَى فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ

حضرت علی ؓ (جب سفر پر روانہ ہوتے تو) چلتے رہتے تھے یہاں تک کہ جب سورج غروب ہوجاتا اور اندھیرا چھا جاتا تو وہ اتر کر مغرب کی نماز اس کے آخر وقت میں ادا کرتے اور اس کے فورا بعد ہی عشاء کی نماز اس کے اول وقت میں ادا کرلیتے اور فرماتے کہ میں نے نبی ﷺ کو بھی اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ حدیث نمبر (١١٤١) اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

1088Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْبَخْتَرِيِّ الطَّائِيَّ قَالَ أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ لَمَّا بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ فَقُلْتُ تَبْعَثُنِي وَأَنَا رَجُلٌ حَدِيثُ السِّنِّ وَلَيْسَ لِي عِلْمٌ بِكَثِيرٍ مِنْ الْقَضَاءِ قَالَ فَضَرَبَ صَدْرِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ اذْهَبْ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَيُثَبِّتُ لِسَانَكَ وَيَهْدِي قَلْبَكَ قَالَ فَمَا أَعْيَانِي قَضَاءٌ بَيْنَ اثْنَيْنِ

حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے جب مجھے یمن کی طرف بھیجا تو میں اس وقت نوخیز تھا، میں نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ میں نوعمر ہوں اور مجھے فیصلہ کرنے کا قطعا کوئی علم نہیں ہے؟ نبی ﷺ نے میرے سینے پر اپنا ہاتھ مار کر فرمایا اللہ تمہاری زبان کو صحیح راستے پر چلائے گا اور تمہارے دل کو مضبوط رکھے گا، حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد کبھی بھی دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کرنے میں مجھے کوئی شک نہیں ہوا۔

1089Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ اجْتَمَعَ عَلِيٌّ وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بِعُسْفَانَ فَكَانَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَنْهَى عَنْ الْمُتْعَةِ وَالْعُمْرَةِ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا تُرِيدُ إِلَى أَمْرٍ فَعَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَنْهَى عَنْهَا فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَعْنَا مِنْكَ

حضرت سعید بن مسیب (رح) فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی ؓ اور حضرت عثمان غنی ؓ مقام عسفان میں اکٹھے ہوگئے، حضرت عثمان ؓ حج تمتع سے روکتے تھے، حضرت علی ؓ نے ان سے پوچھا کہ نبی ﷺ نے جس کام کو کیا ہو، اس سے روکنے میں آپ کا کیا مقصد ہے؟ حضرت عثمان ؓ نے فرمایا یہ مسئلہ رہنے ہی دیجئے۔ (کیونکہ میں نے اس کا حکم نہیں دیا، صرف مشورہ کے طور پر یہ بات کہی ہے)

1090Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ شَدَّادٍ يَقُولُ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ أَبَوَيْهِ لِأَحَدٍ غَيْرِ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ فَإِنَّ يَوْمَ أُحُدٍ جَعَلَ يَقُولُ ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي

حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو کبھی کسی کے لئے سوائے حضرت سعد ؓ کے اپنے والدین کو جمع کرتے ہوئے نہیں سنا غزوہ احد کے دن آپ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے فرما رہے تھے کہ سعد تیر پھینکو، تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔

1091Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ قَالُوا حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي و حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ و حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَمُعَاذٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ وَقَالَ أَبُو خَيْثَمَةَ فِي حَدِيثِهِ ابْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَوْلُ الْغُلَامِ الرَّضِيعِ يُنْضَحُ وَبَوْلُ الْجَارِيَةِ يُغْسَلُ قَالَ قَتَادَةُ وَهَذَا مَا لَمْ يَطْعَمَا الطَّعَامَ فَإِذَا طَعِمَا الطَّعَامَ غُسِلَا جَمِيعًا قَالَ عَبْد اللَّهِ وَلَمْ يَذْكُرْ أَبُو خَيْثَمَةَ فِي حَدِيثِهِ قَوْلَ قَتَادَةَ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا بچے کے پیشاب پر پانی کے چھینٹے مارنا بھی کافی ہے اور بچی کا پیشاب جس چیز پر لگ جائے اسے دھویا جائے گا، قتادہ ؓ کہتے ہیں کہ یہ حکم اس وقت تک ہے جب انہوں نے کھانا پینا شروع نہ کیا ہو اور جب وہ کھانا پینا شروع کردیں تو دونوں کا پیشاب جس چیز کو لگ جائے اسے دھونا ہی پڑے گا۔

1092Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيْلِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الرَّضِيعِ يُنْضَحُ بَوْلُ الْغُلَامِ وَيُغْسَلُ بَوْلُ الْجَارِيَةِ قَالَ قَتَادَةُ وَهَذَا مَا لَمْ يَطْعَمَا الطَّعَامَ فَإِذَا طَعِمَا غُسِلَا جَمِيعًا

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے شیرخوار بچے کے متعلق ارشاد فرمایا بچے کے پیشاب پر پانی کے چھینٹے مارنا بھی کافی ہے اور بچی کا پیشاب جس چیز پر لگ جائے اسے دھویا جائے گا، قتادہ ؓ کہتے ہیں کہ یہ حکم اس وقت تک ہے جب انہوں نے کھانا پینا شروع نہ کیا ہو اور جب وہ کھانا پینا شروع کردیں تو دونوں کا پیشاب جس چیز کو لگ جائے اسے دھونا ہی پڑے گا۔

1093Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي حَسَّانَ الْأَعْرَجِ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ شَغَلُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى حَتَّى آبَتْ الشَّمْسُ مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ نَارًا أَوْ بُيُوتَهُمْ أَوْ بُطُونَهُمْ شَكَّ شُعْبَةُ فِي الْبُيُوتِ وَالْبُطُونِ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن نبی ﷺ نے فرمایا اللہ ان (مشرکین) کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا۔

1094Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَسَّانَ يُحَدِّثُ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ شَغَلُونَا عَنْ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى حَتَّى آبَتْ الشَّمْسُ مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ أَوْ بُطُونَهُمْ نَارًا شَكَّ فِي الْبُيُوتِ وَالْبُطُونِ فَأَمَّا الْقُبُورُ فَلَيْسَ فِيهِ شَكٌّ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن نبی ﷺ نے فرمایا اللہ ان (مشرکین) کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا۔

1095Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَوَّلِهِ وَأَوْسَطِهِ وَآخِرِهِ وَانْتَهَى وِتْرُهُ إِلَى آخِرِهِ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ رات کے ابتدائی، درمیانے اور آخری ہر حصے میں وتر پڑھایا کرتے تھے، تاہم آخر میں آپ ﷺ رات کے آخری حصے میں اس کی پابندی فرمانے لگے تھے۔

1096Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ هُبَيْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوقِظُ أَهْلَهُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اپنے اہل خانہ کو بھی رات جاگنے کے لئے اٹھایا کرتے تھے۔

1097Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ هُبَيْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَتْ لَهُ حُلَّةٌ مِنْ حَرِيرٍ فَكَسَانِيهَا قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَخَرَجْتُ فِيهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَسْتُ أَرْضَى لَكَ مَا أَكْرَهُ لِنَفْسِي قَالَ فَأَمَرَنِي فَشَقَقْتُهَا بَيْنَ نِسَائِي خُمُرًا بَيْنَ فَاطِمَةَ وَعَمَّتِهِ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کی خدمت میں کہیں سے ہدیہ کے طور پر ایک ریشمی جوڑا آیا، نبی ﷺ نے وہ میرے پاس بھیج دیا، میں اسے پہن کر باہر نکلا تو نبی ﷺ نے فرمایا جو چیز میں اپنے لئے ناپسند سمجھتا ہوں، تمہارے لئے بھی اسے پسند نہیں کرسکتا، چناچہ نبی ﷺ کے حکم پر میں نے اسے اپنی عورتوں یعنی فاطمہ ؓ اور اس کی پھوپھی میں تقسیم کردیا۔

1098Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا عُتَيْبَةُ وَهُوَ الضَّرِيرُ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَصْرَمَ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ مَاتَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَرَكَ دِينَارًا وَدِرْهَمًا فَقَالَ كَيَّتَانِ صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ و حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ فَذَكَرَ مِثْلَهُ نَحْوَهُ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ اہل صفہ میں سے ایک صاحب کا انتقال ہوگیا، کسی شخص نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! انہوں نے ترکہ میں ایک دینار اور ایک درہم چھوڑے، نبی ﷺ نے فرمایا یہ جہنم کے دو انگارے ہیں جن سے داغا جائے گا، تم اپنے ساتھی کی نماز جنازہ خود پڑھ لو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

1099Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ جُرَيَّ بْنَ كُلَيْبٍ يَقُولُ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَضَبِ الْقَرْنِ وَالْأُذُنِ قَالَ قَتَادَةُ فَسَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ قَالَ قُلْتُ مَا عَضَبُ الْأُذُنِ فَقَالَ إِذَا كَانَ النِّصْفَ أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے نصف یا اس سے زیادہ سینگ یا کان کٹے ہوئے جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے۔

1100Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ جُرَيِّ بْنِ كُلَيْبٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُضَحَّى بِأَعْضَبِ الْقَرْنِ وَالْأُذُنِ قَالَ قَتَادَةُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ فَقَالَ نَعَمْ الْعَضَبُ النِّصْفُ أَوْ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے نصف یا اس سے زیادہ سینگ یا کان کٹے ہوئے جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے۔