حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ قَالَ كُنَّا مَعَ عَلِيٍّ فَدَعَا ابْنًا لَهُ يُقَالُ لَهُ عُثْمَانُ لَهُ ذُؤَابَةٌ
ھبیرہ بن یریم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم حضرت علی ؓ کے ساتھ تھے، انہوں نے اپنے ایک بیٹے کو بلایا جس کا نام عثمان تھا اس کے بالوں کی مینڈھیاں بنی ہوئی تھیں۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ كَانَ أَبِي يَسْمُرُ مَعَ عَلِيٍّ فَكَانَ عَلِيٌّ يَلْبَسُ ثِيَابَ الصَّيْفِ فِي الشِّتَاءِ وَثِيَابَ الشِّتَاءِ فِي الصَّيْفِ فَقِيلَ لَهُ لَوْ سَأَلْتَهُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَيَّ وَأَنَا أَرْمَدُ يَوْمَ خَيْبَرَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَمِدٌ فَتَفَلَ فِي عَيْنِي وَقَالَ اللَّهُمَّ أَذْهِبْ عَنْهُ الْحَرَّ وَالْبَرْدَ فَمَا وَجَدْتُ حَرًّا وَلَا بَرْدًا بَعْدُ قَالَ وَقَالَ لَأَبْعَثَنَّ رَجُلًا يُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَيُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَيْسَ بِفَرَّارٍ قَالَ فَتَشَرَّفَ لَهَا النَّاسُ قَالَ فَبَعَثَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
عبدالرحمن بن ابی لیلی کہتے ہیں کہ میرے والد صاحب حضرت علی ؓ کے ساتھ رات کے وقت مختلف امور پر بات چیت کیا کرتے تھے، حضرت علی ؓ کی عجیب عادت تھی کہ وہ سردی کے موسم میں گرمی کے کپڑے اور گرمی کے موسم میں سردی کے کپڑے پہن لیا کرتے تھے، کسی نے میرے والد صاحب سے کہا کہ اگر آپ اس چیز کے متعلق حضرت علی ؓ سے پوچھیں تو شاید وہ جواب دے دیں؟ چناچہ والد صاحب کے سوال کرنے پر حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ ایک مرتبہ غزوہ خیبر کے دن نبی ﷺ نے میرے پاس ایک قاصد بھیجا، مجھے آشوب چشم کی بیماری لاحق تھی، اس لئے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے تو آشوب چشم ہوا ہے، نبی ﷺ نے یہ سن کر میری آنکھوں میں اپنا لعاب دہن ڈال دیا اور یہ دعاء کی کہ اے اللہ! اس کی گرمی سردی دور فرما، اس دن سے آج تک مجھے کبھی گرمی اور سردی کا احساس ہی نہیں ہوا۔ اس موقع پر نبی ﷺ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ میں یہ جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوگا اور خود اللہ اور اس کے رسول کی نگاہوں میں محبوب ہوگا، وہ بھاگنے والا نہ ہوگا، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اس مقصد کے لئے اپنے آپ کو نمایاں کرنے لگے، لیکن نبی ﷺ نے وہ جھنڈا مجھے عنایت فرما دیا۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو السَّرِيِّ هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ هُبَيْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ فِي حَدِيثِهِ أَمَا تَغَارُونَ أَنْ يَخْرُجَ نِسَاؤُكُمْ وَقَالَ هَنَّادٌ فِي حَدِيثِهِ أَلَا تَسْتَحْيُونَ أَوْ تَغَارُونَ فَإِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ نِسَاءَكُمْ يَخْرُجْنَ فِي الْأَسْوَاقِ يُزَاحِمْنَ الْعُلُوجَ
ایک مرتبہ حضرت علی ؓ نے لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا تمہیں شرم یا غیرت نہیں آتی کہ تمہاری عورتیں گھروں سے باہر نکلیں، مجھے پتہ چلا ہے کہ تمہاری عورتیں بازاروں میں نکل کر طاقتور لوگوں کے رش میں گھس جاتی ہیں (ان کا جسم مردوں سے ٹکراتا ہے اور انہیں کچھ خبر نہیں ہوتی کہ ان کے جسم کا کون ساحصہ مرد کے جسم کے کون سے حصے سے ٹکراتا ہے)۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُخَيْمِرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقَالَتْ سَلْ عَنْ ذَلِكَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَإِنَّهُ كَانَ يَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ قِيلَ لِمُحَمَّدٍ كَانَ يَرْفَعُهُ فَقَالَ إِنَّهُ كَانَ يَرَى أَنَّهُ مَرْفُوعٌ وَلَكِنَّهُ كَانَ يَهَابُهُ
شریح بن ہانی کہتے ہیں کہ میں نے موزوں پر مسح کے حوالے سے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے ایک سوال پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ سوال تم حضرت علی ؓ سے پوچھو انہیں اس مسئلے کا زیادہ علم ہوگا کیونکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ کے ساتھ سفر میں بھی رہتے تھے، چناچہ میں نے حضرت علی ؓ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا مسافر کے لئے تین دن اور تین رات موزوں پر مسح کرنے کی اجازت ہے اور مقیم کے لئے ایک دن اور ایک رات۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ لَعَنَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ وَكَاتِبَهُ وَشَاهِدَهُ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُتَوَشِّمَةَ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ قُلْتُ إِلَّا مِنْ دَاءٍ قَالَ نَعَمْ وَالْحَالَّ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ وَمَانِعَ الصَّدَقَةِ وَقَالَ وَكَانَ يَنْهَى عَنْ النَّوْحِ وَلَمْ يَقُلْ لَعَنَ فَقُلْتُ مَنْ حَدَّثَكَ قَالَ الْحَارِثُ الْأَعْوَرُ الْهَمْدَانِيُّ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے دس قسم کے لوگوں پر لعنت فرمائی ہے سودخور، سود کھلانے والا، سودی معاملات لکھنے والا، سودی معاملات کے گواہ، حلالہ کرنے والا، حلالہ کروانے والا، زکوٰۃ روکنے والا، جسم گودنے والی اور جسم گدوانے والی اور نبی ﷺ نوحہ کرنے سے منع فرماتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ النَّاجِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ بْنِ عِمْرَانَ الْوَاسِطِيُّ قَالَا ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ وَهَذَا لَفْظُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ زَاذَانَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ تَرَكَ مَوْضِعَ شَعَرَةٍ مِنْ جَنَابَةٍ لَمْ يُصِبْهَا الْمَاءُ فُعِلَ بِهِ كَذَا وَكَذَا مِنْ النَّارِ قَالَ عَلِيٌّ فَمِنْ ثَمَّ عَادَيْتُ شَعْرِي كَمَا تَرَوْنَ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص جنابت کی حالت میں غسل کرتے ہوئے ایک بال کے برابر بھی جگہ خالی چھوڑ دے جہاں پانی نہ پہنچا ہو، اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ جہنم میں ایسا ایسا معاملہ کریں گے، بس اسی وقت سے میں نے اپنے بالوں کے ساتھ دشمنی پال لی۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنِ ابْنِ عُمَيْرٍ قَالَ شَرِيكٌ قُلْتُ لَهُ عَمَّنْ يَا أَبَا عُمَيْرٍ عَمَّنْ حَدَّثَهُ قَالَ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَخْمَ الْهَامَةِ مُشْرَبًا حُمْرَةً شَثْنَ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ ضَخْمَ اللِّحْيَةِ طَوِيلَ الْمَسْرُبَةِ ضَخْمَ الْكَرَادِيسِ يَمْشِي فِي صَبَبٍ يَتَكَفَّأُ فِي الْمِشْيَةِ لَا قَصِيرٌ وَلَا طَوِيلٌ لَمْ أَرَ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کا سر مبارک بڑا، رنگ سرخی مائل سفید اور داڑھی گھنی تھی، ہڈیوں کے جوڑ بہت مضبوط تھے، ہتھیلیاں اور پاؤں بھرے ہوئے تھے، سینے سے لے کرنا ف تک بالوں کی ایک لمبی سی دھاری تھی، سر کے بال گھنے اور ہلکے گھنگھریالے تھے، چلتے وقت چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے تھے، ایسا محسوس ہوتا تھا گویا کہ کسی گھاٹی سے اتر رہے ہیں، بہت زیادہ لمبے تھے اور نہ بہت زیادہ چھوٹے قد کے، میں نے ان سے پہلے یا ان کے بعد ان جیسا کوئی نہ دیکھا، ﷺ۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلِمَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقْرِئُنَا الْقُرْآنَ مَا لَمْ يَكُنْ جُنُبًا
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ ہمیں مستقل قرآن پڑھاتے رہتے تھے الاّ یہ جنبی ہوجاتے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ الْجَرْمِىُّ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى قَالَ كُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِي فَجَاءَ عَلِيٌّ فَقَامَ عَلَيْنَا فَسَلَّمَ ثُمَّ أَمَرَ أَبَا مُوسَى بِأُمُورٍ مِنْ أُمُورِ النَّاسِ قَالَ ثُمَّ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلْ اللَّهَ الْهُدَى وَأَنْتَ تَعْنِي بِذَلِكَ هِدَايَةَ الطَّرِيقِ وَاسْأَلْ اللَّهَ السَّدَادَ وَأَنْتَ تَعْنِي بِذَلِكَ تَسْدِيدَكَ السَّهْمَ وَنَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَجْعَلَ خَاتَمِي فِي هَذِهِ أَوْ هَذِهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى قَالَ فَكَانَ قَائِمًا فَمَا أَدْرِي فِي أَيَّتِهِمَا قَالَ وَنَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمِيثَرَةِ وَعَنْ الْقَسِّيَّةِ قُلْنَا لَهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَأَيُّ شَيْءٍ الْمِيثَرَةُ قَالَ شَيْءٌ يَصْنَعُهُ النِّسَاءُ لِبُعُولَتِهِنَّ عَلَى رِحَالِهِنَّ قَالَ قُلْنَا وَمَا الْقَسِّيَّةُ قَالَ ثِيَابٌ تَأْتِينَا مِنْ قِبَلِ الشَّامِ مُضَلَّعَةٌ فِيهَا أَمْثَالُ الْأُتْرُجِّ قَالَ قَالَ أَبُو بُرْدَةَ فَلَمَّا رَأَيْتُ السَّبَنِيَّ عَرَفْتُ أَنَّهَا هِيَ
حضرت ابو بردہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ حضرت علی ؓ تشریف لے آئے، انہوں نے آکر ہمیں سلام کیا اور میرے والد صاحب کو لوگوں کا کوئی معاملہ سپرد فرمایا اور فرمانے لگے کہ مجھ سے جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا اللہ سے ہدایت کی دعاء مانگا کرو اور ہدایت سے ہدایت الطریق مراد لے لیا کرو اور اللہ سے درستگی کی دعاء کیا کرو اور آپ اس سے تیر کی درستگی مراد لے لیا کرو۔ نیز نبی ﷺ نے مجھے شہادت یا درمیان والی انگلی میں انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا ہے، راوی کہتے ہیں کہ حضرت علی ؓ کھڑے ہوئے تھے اس لئے انگلیوں کے اشارہ میں صحیح طور پر سمجھ نہ سکا، پھر انہوں نے فرمایا نبی ﷺ نے مجھے سرخ دھاری دار اور ریشمی کپڑوں سے منع فرمایا ہے، ہم نے پوچھا امیرالمومنین! " میثرہ " (یہ لفظ حدیث میں استعمال ہوا ہے) سے کیا مراد ہے؟ یہ کیا چیز ہوتی ہے؟ فرمایا عورتیں اپنے شوہروں کی سواری کے کجاوے پر رکھنے کے لئے ایک چیز بناتی تھیں (جسے زین پوش کہا جاتا ہے) اس سے وہ مراد ہے، پھر ہم نے پوچھا کہ " قسیہ " سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے فرمایا شام کے وہ کپڑے جن میں " اترج " جیسے نقش و نگار بنے ہوتے تھے، ابو بردہ کہتے ہیں کہ جب میں نے کتان کے بنے ہوئے کپڑے دیکھے تو میں سمجھ گیا کہ یہ وہی ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ مَيْسَرَةَ وَزَاذَانَ قَالَا شَرِبَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَائِمًا ثُمَّ قَالَ إِنْ أَشْرَبْ قَائِمًا فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ قَائِمًا وَإِنْ أَشْرَبْ جَالِسًا فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ جَالِسًا
میسرہ (رح) اور زاذان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی ؓ نے کھڑے ہو کر پانی پیا اور فرمایا اگر میں نے کھڑے ہو کر پانی پیا ہے تو نبی ﷺ کو دیکھ کر کیا ہے اور اگر بیٹھ کر پیا ہے تو انہیں اس طرح بھی کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ عَنِ الْحَكَمِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ وَلِلْمُقِيمِ يَوْمًا وَلَيْلَةً
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مسافر کے لئے تین دن اور تین رات اور مقیم کے لئے ایک دن اور ایک رات مسح کی اجازت دی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا فَلَأَنْ أَقَعَ مِنْ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَقُولَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ يَقُلْ وَلَكِنَّ الْحَرْبَ خَدْعَةٌ
ابو جحیفہ کہتے ہیں کہ حضرت علی ؓ نے ایک مرتبہ فرمایا جب میں تم سے نبی ﷺ کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کروں تو میرے نزدیک آسمان سے گر جانا ان کی طرف جھوٹی نسبت کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہے اور جنگ تو نام ہی تدبیر اور چال کا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ زَاذَانَ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ شَرِبَ قَائِمًا فَنَظَرَ النَّاسُ فَأَنْكَرُوا ذَلِكَ عَلَيْهِ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا تَنْظُرُونَ إِنْ أَشْرَبْ قَائِمًا فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ قَائِمًا وَإِنْ أَشْرَبْ قَاعِدًا فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ قَاعِدًا
زاذان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی ؓ نے کھڑے ہو کر پانی پیا، لوگ ان کی طرف تعجب سے دیکھنے لگے، انہوں نے فرمایا مجھے کیوں گھور گھور کر دیکھ رہے ہو؟ اگر میں نے کھڑے ہو کر پانی پیا ہے تو نبی ﷺ کو دیکھ کر کیا ہے اور اگر بیٹھ کر پیا ہے تو انہیں اس طرح بھی کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ أَخْبَرَنِي وَرْقَاءُ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ أَبِي جَمِيلَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے اپنے جسم مبارک کی رگ سے زائد خون نکلوایا اور یہ کام کرنے والے کو " جسے حجام کہا جاتا تھا " اس کی مزدوری دے دی۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ و حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَا حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ أَبِي جَمِيلَةَ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَنِي فَأَعْطَيْتُ الْحَجَّامَ أَجْرَهُ
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے اپنے جسم مبارک کی رگ سے زائد خون نکلوایا اور یہ کام کرنے والے کو " جسے حجام کہا جاتا تھا " اس کی مزدوری دے دی۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ زَاذَانَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلَتْ خَدِيجَةُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَلَدَيْنِ مَاتَا لَهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُمَا فِي النَّارِ قَالَ فَلَمَّا رَأَى الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِهَا قَالَ لَوْ رَأَيْتِ مَكَانَهُمَا لَأَبْغَضْتِهِمَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَوَلَدِي مِنْكَ قَالَ فِي الْجَنَّةِ قَالَ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمُؤْمِنِينَ وَأَوْلَادَهُمْ فِي الْجَنَّةِ وَإِنَّ الْمُشْرِكِينَ وَأَوْلَادَهُمْ فِي النَّارِ ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُمْ بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّاتِهِمْ
حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت خدیجہ ؓ نے نبی ﷺ سے اپنے ان دو بچوں کے متعلق پوچھا جو زمانہ جاہلیت میں فوت ہوگئے تھے، نبی ﷺ نے فرمایا کہ وہ دونوں جہنم میں ہیں، پھر جب نبی ﷺ نے حضرت خدیجہ ؓ سے چہرے پر اس کے نا خوشگوار اثرات دیکھے تو فرمایا کہ اگر تم ان دونوں کا ٹھکانہ دیکھ لیتیں تو تمہیں بھی ان سے نفرت ہوجاتی۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! پھر میرے ان بچوں کا کیا ہوگا جو آپ سے ہوئے ہیں؟ فرمایا وہ جنت میں ہیں، پھر فرمایا کہ مومنین اور ان کی اولاد جنت میں ہوگی اور مشرکین اور ان کی اولاد جہنم میں ہوگی، اس کے بعد نبی ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی کہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور اس ایمان لانے میں ان کی اولاد نے بھی ان کی پیروی کی، ہم انہیں ان کی اولاد سے ملا دیں گے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ عَنْ عَلِيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ قَاعِدًا يَوْمَ الْخَنْدَقِ عَلَى فُرْضَةٍ مِنْ فُرَضِ الْخَنْدَقِ فَقَالَ شَغَلُونَا عَنْ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى حَتَّى غَابَتْ الشَّمْسُ مَلَأَ اللَّهُ بُطُونَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ نَارًا
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن نبی ﷺ خندق کے کنارے پر بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ خَيْرٍ قَالَ جَلَسَ عَلِيٌّ بَعْدَمَا صَلَّى الْفَجْرَ فِي الرَّحَبَةِ ثُمَّ قَالَ لِغُلَامِهِ ائْتِنِي بِطَهُورٍ فَأَتَاهُ الْغُلَامُ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ وَطَسْتٍ قَالَ عَبْدُ خَيْرٍ وَنَحْنُ جُلُوسٌ نَنْظُرُ إِلَيْهِ فَأَخَذَ بِيَمِينِهِ الْإِنَاءَ فَأَكْفَأَهُ عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى ثُمَّ غَسَلَ كَفَّيْهِ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى الْإِنَاءَ فَأَفْرَغَ عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى ثُمَّ غَسَلَ كَفَّيْهِ فَعَلَهُ ثَلَاثَ مِرَارٍ قَالَ عَبْدُ خَيْرٍ كُلُّ ذَلِكَ لَا يُدْخِلُ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الْإِنَاءِ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَنَثَرَ بِيَدِهِ الْيُسْرَى فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الْإِنَاءِ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِلَى الْمِرْفَقِ ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِلَى الْمِرْفَقِ ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الْإِنَاءِ حَتَّى غَمَرَهَا الْمَاءُ ثُمَّ رَفَعَهَا بِمَا حَمَلَتْ مِنْ الْمَاءِ ثُمَّ مَسَحَهَا بِيَدِهِ الْيُسْرَى ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ كِلْتَيْهِمَا مَرَّةً ثُمَّ صَبَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ عَلَى قَدَمِهِ الْيُمْنَى ثُمَّ غَسَلَهَا بِيَدِهِ الْيُسْرَى ثُمَّ صَبَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى قَدَمِهِ الْيُسْرَى ثُمَّ غَسَلَهَا بِيَدِهِ الْيُسْرَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فَغَرَفَ بِكَفِّهِ فَشَرِبَ ثُمَّ قَالَ هَذَا طُهُورُ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى طُهُورِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَذَا طُهُورُهُ
عبد خیر (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی ؓ فجر کی نماز پڑھ کر " رحبہ " کے پاس بیٹھ گئے، پھر اپنے غلام سے وضو کا پانی لانے کے لئے فرمایا: وہ ایک برتن لایا جس میں پانی تھا اور ایک طشت، انہوں نے دائیں ہاتھ سے برتن پکڑا اور بائیں ہاتھ پر پانی انڈیلنے لگے، پھر دونوں ہتھیلیوں کو دھویا (پھر دائیں ہاتھ سے اسی طرح کیا) تین مرتبہ اس طرح کرنے کے بعد داہنا ہاتھ برتن میں داخل کر کے کلی کی، ناک میں پانی ڈالا اور بائیں ہاتھ سے ناک صاف کی، تین مرتبہ اس طرح کرنے کے بعد داہنا ہاتھ برتن میں داخل کر کے تین مرتبہ چہرہ دھویا، پھر تین مرتبہ داہنا ہاتھ کہنی سمیت دھویا، پھر بایاں ہاتھ تین مرتبہ کہنی سمیت دھویا، پھر داہنا ہاتھ برتن میں اچھی طرح ڈبو کر باہر نکالا اور اس پر جو پانی لگ گیا تھا بائیں ہاتھ پر مل کر دونوں ہاتھوں سے ایک مرتبہ سر کا مسح کیا، پھر دائیں ہاتھ سے دائیں پاؤں پر تین مرتبہ پانی بہایا اور بائیں ہاتھ سے اسے مل کر دھویا، پھر بائیں ہاتھ سے بائیں پاؤں پر تین مرتبہ پانی بہایا اور بائیں ہاتھ سے اسے مل کر دھویا تین مرتبہ اسی طرح کیا، پھر داہنا ہاتھ برتن میں ڈال کر چلو بھر پانی نکالا اور اسے پی کر فرمایا یہ ہے نبی ﷺ کا وضو، جو شخص نبی ﷺ کا طریقہ وضو دیکھنا چاہتا ہے تو وہ یہی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي حَسَّانَ الْأَعْرَجِ عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ عَنْ عَلِيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ اللَّهُمَّ امْلَأْ بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا كَمَا شَغَلُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى حَتَّى آبَتْ الشَّمْسُ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن نبی ﷺ نے فرمایا اللہ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جُعْتُ مَرَّةً بِالْمَدِينَةِ جُوعًا شَدِيدًا فَخَرَجْتُ أَطْلُبُ الْعَمَلَ فِي عَوَالِي الْمَدِينَةِ فَإِذَا أَنَا بِامْرَأَةٍ قَدْ جَمَعَتْ مَدَرًا فَظَنَنْتُهَا تُرِيدُ بَلَّهُ فَأَتَيْتُهَا فَقَاطَعْتُهَا كُلَّ ذَنُوبٍ عَلَى تَمْرَةٍ فَمَدَدْتُ سِتَّةَ عَشَرَ ذَنُوبًا حَتَّى مَجَلَتْ يَدَايَ ثُمَّ أَتَيْتُ الْمَاءَ فَأَصَبْتُ مِنْهُ ثُمَّ أَتَيْتُهَا فَقُلْتُ بِكَفَّيَّ هَكَذَا بَيْنَ يَدَيْهَا وَبَسَطَ إِسْمَاعِيلُ يَدَيْهِ وَجَمَعَهُمَا فَعَدَّتْ لِي سِتَّةَ عَشْرَ تَمْرَةً فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَأَكَلَ مَعِي مِنْهَا
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ بھوک کی شدت سے تنگ آکر میں اپنے گھر سے نکلا میں ایک عورت کے پاس سے گذرا، جس نے کچھ گارا اکٹھا کر رکھا تھا، میں سمجھ گیا کہ یہ اسے پانی سے تربتر کرنا چاہتی ہے، میں نے اس کے پاس آکر اس سے یہ معاہدہ کیا کہ ایک ڈول کھینچنے کے بدلے تم مجھے ایک کھجور دوگی، چناچہ میں نے سولہ ڈول کھینچے یہاں تک کہ میرے ہاتھ تھک گئے پھر میں نے پانی کے پاس آکر پانی پیا، اس کے بعد اس عورت کے پاس آکر اپنے دونوں ہاتھوں کو پھیلا دیا اور اس نے گن کر سولہ کھجوریں میرے ہاتھ پر رکھ دیں میں وہ کھجوریں لے کر نبی ﷺ کے پاس آیا اور انہیں یہ سارا واقعہ بتایا اور کچھ کھجوریں میں نے نبی ﷺ کو کھلادیں اور کچھ خود کھالیں۔