حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ زُبَيْدٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ عَلِيٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کی نافرمانی میں کسی انسان کی اطاعت جائز نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى أَجْمَلِ فَتَاةٍ فِي قُرَيْشٍ قَالَ وَمَنْ هِيَ قُلْتُ ابْنَةُ حَمْزَةَ قَالَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنْ الرَّضَاعَةِ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ مِنْ الرَّضَاعَةِ مَا حَرَّمَ مِنْ النَّسَبِ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا آپ کو قریش کی ایک خوبصورت ترین دوشیزہ کے بارے میں نہ بتاؤں؟ نبی ﷺ نے پوچھا وہ کون ہے؟ میں نے عرض کیا حضرت حمزہ ؓ کی صاحبزادی، فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ وہ میری رضاعی بھتیجی ہے اور اللہ تعالیٰ نے رضاعت کی وجہ سے بھی وہ تمام رشتے حرام قرار دئیے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام قرار دیئے ہیں۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ عَفَوْتُ لَكُمْ عَنْ صَدَقَةِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ وَلَكِنْ هَاتُوا رُبُعَ الْعُشُورِ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمًا
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میں نے تم سے گھوڑے اور غلام کی زکوٰۃ چھوڑی دی ہے اس لئے چاندی کی زکوٰۃ بہرحال تمہیں ادا کرنا ہوگی، جس کا نصاب یہ ہے کہ ہر چالیس پر ایک درہم واجب ہوگا۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَا حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ وَكِيعٌ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حُنَيْنٍ وَقَالَ عُثْمَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَقُولُ نَهَاكُمْ عَنْ الْمُعَصْفَرِ وَالتَّخَتُّمِ بِالذَّهَبِ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مجھے " میں یہ نہیں کہتا کہ تمہیں " سونے کی انگوٹھی اور عصفر سے رنگا ہوا کپڑا پہننے سے منع کیا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَلِيٍّ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لِي أَرَاكَ تَنَوَّقُ فِي قُرَيْشٍ وَتَدَعُنَا قَالَ عِنْدَكَ شَيْءٌ قُلْتُ ابْنَةُ حَمْزَةَ قَالَ هِيَ ابْنَةُ أَخِي مِنْ الرَّضَاعَةِ
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں عرض کیا یا رسول اللہ! آپ ہمیں چھوڑ کر قریش کے دوسرے خاندانوں کو کیوں پسند کرتے ہیں؟ نبی ﷺ نے فرمایا کہ تمہارے پاس بھی کچھ ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! حضرت حمزہ ؓ کی صاحبزادی! فرمایا کہ وہ تو میری رضاعی بھتیجی ہے) در اصل نبی ﷺ اور حضرت امیرحمزہ ؓ آپس میں رضاعی بھائی بھی تھے اور چچا بھتیجے بھی)
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سَيْفُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَكِّيُّ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَلِيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا نَحَرَ الْبُدْنَ أَمَرَنِي أَنْ أَتَصَدَّقَ بِلُحُومِهَا وَجُلُودِهَا وَجِلَالِهَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ زَادَ سُفْيَانُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَلِيٍّ قَالَ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا أُعْطِيَ الْجَازِرَ مِنْهَا عَلَى جِزَارَتِهَا شَيْئًا
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے جب اونٹ ذبح کئے تو مجھے حکم دیا کہ ان اونٹوں کی کھالیں اور جھولیں بھی تقسیم کردوں اور گوشت بھی تقسیم کردوں۔ حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مجھے حکم دیا قصاب کو ان میں سے کوئی چیز مزدوری کے طور پر نہ دوں۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ هُبَيْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ وَعَنْ الْمِيثَرَةِ وَعَنْ الْقَسِّيِّ وَعَنْ الْجِعَةِ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے سونے کی انگوٹھی، ریشم اور سرخ زین پوش اور جو کی نبیذ سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ هُبَيْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ أَيْقَظَ أَهْلَهُ وَرَفَعَ الْمِئْزَرَ قِيلَ لِأَبِي بَكْرٍ مَا رَفَعَ الْمِئْزَرَ قَالَ اعْتَزَلَ النِّسَاءَ
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوتا تو نبی ﷺ اپنے اہل خانہ کو بھی جگاتے اور تہہ بند کس لیتے، کسی نے راوی سے پوچھا کہ تہبند کس لینے سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ ازواج مطہرات سے جدا رہتے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ وَشُعْبَةَ وَإِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ هُبَيْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوقِظُ أَهْلَهُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اپنے اہل خانہ کو بھی رات کو جاگنے کے لئے اٹھایا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي يُوسُفُ الصَّفَّارُ مَوْلَى بَنِي أُمَيَّةَ وَسُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ الْأَوَاخِرُ شَدَّ الْمِئْزَرَ وَأَيْقَظَ نِسَاءَهُ قَالَ ابْنُ وَكِيعٍ رَفَعَ الْمِئْزَرَ
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ اپنے اہل خانہ کو بھی جگاتے اور تہہ بند کس لیتے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا أَبُو وَكِيعٍ الْجَرَّاحُ بْنُ مَلِيحٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ فَصَاعِدًا
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ہمیں حکم فرمایا کہ قربانی کے جانوروں کی آنکھ اور کان اچھی طرح دیکھ لیں کہ کہیں ان میں کوئی عیب تو نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي هَاشِمِ بْنِ كَثِيرٍ عَنْ قَيْسٍ الْخَارِفِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَبَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ وَثَلَّثَ عُمَرُ ثُمَّ خَبَطَتْنَا فِتْنَةٌ فَهُوَ مَا شَاءَ اللَّهُ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ سب سے پہلے تشریف لے گئے، دوسرے نمبر پر حضرت صدیق اکبر ؓ چلے گئے اور تیسرے نمبر پر حضرت عمر فاروق ؓ چلے گئے، اس کے بعد ہمیں امتحانات نے گھیر لیا، اب اللہ جو چاہے گا وہ ہوگا۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عُثْمَانَ الثَّقَفِيِّ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُنْزِيَ حِمَارًا عَلَى فَرَسٍ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ہمیں گھوڑوں پر گدھوں کو کدوانے سے (جفتی کروانے سے) منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ نِسَائِهَا خَدِيجَةُ وَخَيْرُ نِسَائِهَا مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا بہترین عورت حضرت خدیجہ ؓ ہیں اور بہترین عورت حضرت مریم بنت عمران ہیں ؓ ہیں۔
وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ أُرَاهُ قَالَ بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ قَالَ فَنَكَتَ فِي الْأَرْضِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ كُتِبَ مَقْعَدُهُ مِنْ الْجَنَّةِ وَمَقْعَدُهُ مِنْ النَّارِ قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا نَتَّكِلُ قَالَ لَا اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ ثُمَّ قَرَأَ فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى إِلَى قَوْلِهِ فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ ایک دن ہم لوگ کسی جنازے کے ساتھ بقیع میں تھے کہ نبی ﷺ تشریف لے آئے اور بیٹھ گئے، ہم بھی ان کے گرد بیٹھ گئے، آپ کے دست مبارک میں ایک لکڑی تھی جس سے آپ ﷺ زمین کو کرید رہے تھے، تھوڑی دیر بعد سر اٹھا کر فرمایا تم میں سے ہر شخص کا ٹھکانہ خواہ جنت ہو یا جہنم اللہ کے علم میں موجود اور متعین ہے اور یہ لکھا جا چکا ہے کہ وہ شقی ہے یا سعید؟ صحابہ کرام ؓ نے پوچھا یا رسول اللہ! پھر ہم اپنی کتاب پر بھروسہ کر کے عمل کو چھوڑ نہ دیں؟ کیونکہ جو اہل سعادت میں سے ہوگا وہ سعادت حاصل کرلے گا اور جو اہل شقاوت میں سے ہوگا وہ شقاوت پالے گا، نبی ﷺ نے فرمایا عمل کرتے رہو کیونکہ ہر ایک کے لئے وہی اعمال آسان کئے جائیں گے جن کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہوگا، پھر آپ ﷺ نے قرآن کی یہ آیت تلاوت فرمائی کہ جس شخص نے دیا، تقویٰ اختیار کیا اور اچھی بات کی تصدیق کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسباب پیدا کردیں گے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اطْلُبُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ فَإِنْ غُلِبْتُمْ فَلَا تُغْلَبُوا عَلَى السَّبْعِ الْبَوَاقِي
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کیا کرو، اگر پورے عشرے میں نہ کرسکو تو آخری سات راتوں میں اس کی تلاش سے مغلوب نہ ہوجانا (آخری سات راتوں میں اسے ضرور تلاش کرنا)
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ رَجُلٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَنْ يُؤْمِنَ عَبْدٌ حَتَّى يُؤْمِنَ بِأَرْبَعٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَأَنَّ اللَّهَ بَعَثَنِي بِالْحَقِّ وَيُؤْمِنُ بِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَيُؤْمِنُ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک چار چیزوں پر ایمان نہ لے آئے، اللہ پر ایمان لے آئے اور یہ کہ اس نے مجھے برحق نبی بنا کر بھیجا ہے، مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے پر ایمان لائے اور اچھی بری تقدیر پر ایمان رکھے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ هُبَيْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ وَعَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ وَعَنْ الْمِيثَرَةِ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے سونے کی انگوٹھی، ریشم اور سرخ زین پوش سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوقِظُ أَهْلَهُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ وَيَرْفَعُ الْمِئْزَرَ
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوتا تو نبی ﷺ اپنے اہل خانہ کو بھی جگاتے اور تہہ بند کس لیتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ عَنْ شُعْبَةَ وَإِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوقِظُ أَهْلَهُ فِي الْعَشْرِ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اپنے اہل خانہ کو بھی رات جاگنے کے لئے اٹھایا کرتے تھے۔