Musnad Imam Ahmad

All 26,407 hadiths in order · Page 57 of 1,321

1121Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ يُحَدِّثُ عَنِ الْمُنْذِرِ الثَّوْرِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمَذْيِ مِنْ أَجْلِ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ بْنَ الْأَسْوَدِ فَسَأَلَ عَنْ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ فِيهِ الْوُضُوءُ

حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ مجھے بکثرت مذی آتی تھی، چونکہ نبی ﷺ کی صاحبزادی میرے نکاح میں تھیں اس لئے مجھے خود یہ مسئلہ پوچھتے ہوئے شرم آتی تھی، میں نے حضرت مقداد ؓ سے کہا کہ وہ نبی صلی اللہ سے یہ مسئلہ پوچھیں، چناچہ انہوں نے یہ مسئلہ پوچھا تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ ایسا شخص وضو کرلیا کرے۔

1122Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَرَادَ أَنْ يَرْجُمَ مَجْنُونَةً فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ مَا لَكَ ذَلِكَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ عَنْ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ وَعَنْ الطِّفْلِ حَتَّى يَحْتَلِمَ وَعَنْ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَبْرَأَ أَوْ يَعْقِلَ فَأَدْرَأَ عَنْهَا عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

حسن ؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق ؓ نے ایک دیوانی عورت کو رجم کرنے کا ارادہ کیا تو حضرت علی ؓ نے ان سے فرمایا کہ میں جناب رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تین طرح کے لوگ مرفوع القلم ہیں۔ (١) سویا ہوا شخص جب تک بیدار نہ ہوجائے۔ (٢) بچہ، جب تک بالغ نہ ہوجائے، چناچہ حضرت عمر ؓ نے اس کی سزامعطل کردی۔ (٣) مجنون، جب تک اس کی عقل لوٹ نہ آئے۔

1123Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الدَّانَاجِ عَنْ حُضَيْنٍ قَالَ شُهِدَ عَلَى الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ عِنْدَ عُثْمَانَ أَنَّهُ شَرِبَ الْخَمْرَ فَكَلَّمَ عَلِيٌّ عُثْمَانَ فِيهِ فَقَالَ دُونَكَ ابْنُ عَمِّكَ فَاجْلِدْهُ فَقَالَ قُمْ يَا حَسَنُ فَقَالَ مَا لَكَ وَلِهَذَا وَلِّ هَذَا غَيْرَكَ فَقَالَ بَلْ عَجَزْتَ وَوَهَنْتَ وَضَعُفْتَ قُمْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ فَجَلَدَهُ وَعَدَّ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَلَمَّا كَمَّلَ أَرْبَعِينَ قَالَ حَسْبُكَ أَوْ أَمْسِكْ جَلَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعِينَ وَأَبُو بَكْرٍ أَرْبَعِينَ وَكَمَّلَهَا عُمَرُ ثَمَانِينَ وَكُلٌّ سُنَّةٌ

حضین کہتے ہیں کہ کوفہ سے کچھ لوگ حضرت عثمان غنی ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے حضرت عثمان ؓ کو ولید کی شراب نوشی کے حوالے سے کچھ خبریں بتائیں، حضرت علی ؓ نے بھی ان سے اس حوالے سے گفتگو کی تو حضرت عثمان ؓ نے ان سے فرمایا کہ آپ کا چچا زاد بھائی آپ کے حوالے ہے، آپ اس پر سزا جاری فرمائیے انہوں نے حضرت امام حسن ؓ سے فرمایا کہ حسن! کھڑے ہو کر اسے کوڑے مارو، انہوں نے کہا کہ آپ یہ کام نہیں کرسکتے، کسی اور کو اس کا حکم دیجئے، فرمایا اصل میں تم کمزور اور عاجز ہوگئے ہو، اس لئے عبداللہ بن جعفر! تم کھڑے ہو کر اس پر سزا جاری کرو، چناچہ حضرت عبداللہ بن جعفر ؓ کوڑے مارتے جاتے تھے اور حضرت علی ؓ گنتے جاتے تھے، جب چالیس کوڑے ہوئے تو حضرت علی ؓ نے فرمایا بس کرو، نبی ﷺ نے شرابی کو چالیس کوڑے مارے تھے، حضرت صدیق اکبر ؓ نے بھی چالیس کوڑے مارے تھے، لیکن حضرت عمر ؓ نے اسی مارے تھے اور دونوں ہی سنت ہیں۔

1124Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ الشَّعْبِيِّ أَنَّ شَرَاحَةَ الْهَمْدَانِيَّةَ أَتَتْ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَتْ إِنِّي زَنَيْتُ فَقَالَ لَعَلَّكِ غَيْرَى لَعَلَّكِ رَأَيْتِ فِي مَنَامِكِ لَعَلَّكِ اسْتُكْرِهْتِ فَكُلٌّ تَقُولُ لَا فَجَلَدَهَا يَوْمَ الْخَمِيسِ وَرَجَمَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَقَالَ جَلَدْتُهَا بِكِتَابِ اللَّهِ وَرَجَمْتُهَا بِسُنَّةِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

امام شعبی ؓ کہتے ہیں کہ شراحہ ہمدانیہ حضرت علی ؓ کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ مجھ سے بدکاری کا ارتکاب ہوگیا ہے اس لئے مجھے سزا دیجئے، حضرت علی ؓ نے فرمایا ہوسکتا ہے تو نے خواب میں اس طرح کرتے ہوئے دیکھا ہو، شاید تجھے زبردستی اس کام پر مجبور کیا گیا ہو؟ لیکن وہ ہر بات کے جواب میں " نہیں " کہتی رہی، چناچہ حضرت علی ؓ نے جمعرات کے دن اسے کوڑے مارے اور جمعہ کے دن اس پر حد رجم فرمائی اور فرمایا کہ میں نے کتاب اللہ کی روشنی میں اسے کوڑے مارے ہیں اور سنت رسول اللہ ﷺ کی روشنی میں اسے رجم کیا ہے۔

1125Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ أَنْبَأَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ شَهِدْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى أَنْ يُمْسِكَ أَحَدٌ مِنْ نُسُكِهِ شَيْئًا فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت اپنے پاس رکھنے سے منع فرماتے ہوئے سنا ہے۔

1126Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَسُفْيَانُ بْنُ وَكِيعِ بْنِ الْجَرَّاحِ قَالَا حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ نُعَيْمِ بْنِ دِجَاجَةَ الْأَسَدِيِّ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو مَسْعُودٍ فَقَالَ لَهُ يَا فَرُّوخُ أَنْتَ الْقَائِلُ لَا يَأْتِي عَلَى النَّاسِ مِائَةُ سَنَةٍ وَعَلَى الْأَرْضِ عَيْنٌ تَطْرِفُ أَخْطَتْ اسْتُكَ الْحُفْرَةَ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَأْتِي عَلَى النَّاسِ مِائَةُ سَنَةٍ وَعَلَى الْأَرْضِ عَيْنٌ تَطْرِفُ مِمَّنْ هُوَ الْيَوْمَ حَيٌّ وَإِنَّمَا رَخَاءُ هَذِهِ وَفَرَجُهَا بَعْدَ الْمِائَةِ

نعیم بن دجاجہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابو مسعود انصاری ؓ حضرت علی ؓ کے پاس آئے حضرت علی ؓ نے فرمایا کیا آپ ہی نے یہ بات فرمائی ہے کہ لوگوں پر سو سال نہیں گذریں گے کہ زمین پر کوئی آنکھ ایسی باقی نہ بچے گی جس کی پلکیں جھپکتی ہوں یعنی سب لوگ مرجائیں گے؟ آپ سے اس میں خطا ہوئی، نبی ﷺ نے جو بات فرمائی تھی وہ یہ ہے کہ آج جو لوگ زندہ ہیں سو سال گذرنے پر ان میں سے کسی کی آنکھ ایسی نہ رہے گی کہ جس کی پلکیں جھپکتی ہوں، یعنی قیامت مراد نہیں ہے، بخدا! اس امت کو سو سال کے بعد تو سہولیات ملیں گی۔

1127Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْوَضِيءِ قَالَ شَهِدْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حِينَ قَتَلَ أَهْلَ النَّهْرَوَانِ قَالَ الْتَمِسُوا الْمُخْدَجَ فِي الْقَتْلَى قَالُوا لَمْ نَجِدْهُ قَالَ اطْلُبُوهُ فَوَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلَا كُذِبْتُ حَتَّى اسْتَخْرَجُوهُ مِنْ تَحْتِ الْقَتْلَى قَالَ أَبُو الْوَضِيءِ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ حَبَشِيٌّ إِحْدَى يَدَيْهِ مِثْلُ ثَدْيِ الْمَرْأَةِ عَلَيْهَا شَعَرَاتٌ مِثْلُ ذَنَبِ الْيَرْبُوعِ

ابو الوضی کہتے ہیں کہ جب حضرت علی ؓ اہل نہروان کے ساتھ جنگ میں مشغول تھے تو میں وہاں موجود تھا، حضرت علی ؓ نے فرمایا مقتولین میں ایک ایسا آدمی تلاش کرو جس کا ہاتھ ناقص اور نامکمل ہو، لوگوں نے اسے لاشوں میں تلاش کیا لیکن وہ نہیں ملا اور لوگ کہنے لگے کہ ہمیں نہیں مل رہا، حضرت علی ؓ نے فرمایا دوبارہ جا کر تلاش کرو، بخدا! میں تم سے جھوٹ بول رہا ہوں اور نہ مجھ سے جھوٹ بولا گیا۔ آخری مرتبہ جب لوگوں نے اسے تلاش کیا تو وہ انہیں مقتولین کی لاشوں کے نیچے مٹی میں پڑا ہوا مل گیا، انہوں نے اسے نکالا اور لا کر حضرت علی ؓ کی خدمت میں پیش کردیا۔ ابو الوضی کہتے ہیں کہ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے گویا میں اب بھی اسے اپنی نگاہوں کے سامنے دیکھ رہا ہوں، وہ ایک حبشی تھا جس کے ہاتھ پر عورت کی چھاتی جیسا نشان بنا ہوا تھا اور اس چھاتی پر اسی طرح کے بال تھے جیسے کسی جنگلی چوہے کی دم پر ہوتے ہیں۔

1128Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ يُوسُفَ الشَّاعِرُ حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ أَنَّ أَبَا الْوَضِيءِ عَبَّادًا حَدَّثَهُ أَنَّهُ قَالَ كُنَّا عَامِدِينَ إِلَى الْكُوفَةِ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَلَمَّا بَلَغْنَا مَسِيرَةَ لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ مِنْ حَرُورَاءَ شَذَّ مِنَّا نَاسٌ كَثِيرٌ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ لَا يَهُولَنَّكُمْ أَمْرُهُمْ فَإِنَّهُمْ سَيَرْجِعُونَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ قَالَ فَحَمِدَ اللَّهَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَالَ إِنَّ خَلِيلِي أَخْبَرَنِي أَنَّ قَائِدَ هَؤُلَاءِ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْيَدِ عَلَى حَلَمَةِ ثَدْيِهِ شَعَرَاتٌ كَأَنَّهُنَّ ذَنَبُ الْيَرْبُوعِ فَالْتَمَسُوهُ فَلَمْ يَجِدُوهُ فَأَتَيْنَاهُ فَقُلْنَا إِنَّا لَمْ نَجِدْهُ فَقَالَ فَالْتَمِسُوهُ فَوَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلَا كُذِبْتُ ثَلَاثًا فَقُلْنَا لَمْ نَجِدْهُ فَجَاءَ عَلِيٌّ بِنَفْسِهِ فَجَعَلَ يَقُولُ اقْلِبُوا ذَا اقْلِبُوا ذَا حَتَّى جَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْكُوفَةِ فَقَالَ هُوَ ذَا قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اللَّهُ أَكْبَرُ لَا يَأْتِيكُمْ أَحَدٌ يُخْبِرُكُمْ مَنْ أَبُوهُ فَجَعَلَ النَّاسُ يَقُولُونَ هَذَا مَلِكٌ هَذَا مَلِكٌ يَقُولُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ابْنُ مَنْ هُوَ

ابو الوضی کہتے ہیں کہ ہم کوفہ کے ارادے سے حضرت علی ؓ کے ساتھ روانہ ہوئے، جب ہم " حروراء " نامی جگہ سے دو یا تین راتوں کے فاصلے کے برابر رہ گئے تو ہم سے بہت سارے لوگ جدا ہو کر چلے گئے، حضرت علی ؓ سے ہم نے اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے فرمایا کہ تم گھبراؤ مت، عنقریب یہ لوگ واپس لوٹ آئیں گے، اس کے بعد راوی نے مکمل حدیث ذکر کی اور آخر میں کہا کہ پھر حضرت علی ؓ نے اللہ کا شکر ادا کیا اور فرمایا کہ میرے خلیل ﷺ نے مجھے بتایا تھا کہ ان لوگوں کا قائد ایک ایسا آدمی ہوگا جس کا ہاتھ نامکمل ہوگا اور اس کے ہاتھ پر عورت کی چھاتی جیسی گھنڈی بھی ہوگی جس پر اس طرح کے بال ہوں گے جیسے جنگلی چوہے کی دم ہوتی ہے، تم مقتولین میں اس کی لاش تلاش کرو۔ لوگوں نے اس کی تلاش شروع کی لیکن نہ مل سکی، ہم نے آکر عرض کردیا کہ ہمیں تو اس کی لاش نہیں مل رہی، تین مرتبہ اسی طرح ہوا، پھر حضرت علی ؓ خود بنفس نفیس اسے تلاش کرنے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمانے لگے اس پلٹو، اسے پلٹو، اتنی دیر میں کوفہ کا ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ یہ رہا، حضرت علی ؓ نے اسے دیکھ کر اللہ اکبر کا نعرہ لگایا اور فرمایا تم میں سے کسی کو یہ معلوم نہیں ہے کہ اس کا باپ کون ہے؟ لوگ کہنے لگے کہ اس کا نام مالک ہے، اس کا نام مالک ہے، حضرت علی ؓ نے پوچھا یہ کس کا بیٹا ہے؟ (تو اس کا کوئی جواب نہ مل سکا)

1129Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَنْبَأَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لِشَرَاحَةَ لَعَلَّكِ اسْتُكْرِهْتِ لَعَلَّ زَوْجَكِ أَتَاكِ لَعَلَّكِ لَعَلَّكِ قَالَتْ لَا قَالَ فَلَمَّا وَضَعَتْ مَا فِي بَطْنِهَا جَلَدَهَا ثُمَّ رَجَمَهَا فَقِيلَ لَهُ جَلَدْتَهَا ثُمَّ رَجَمْتَهَا قَالَ جَلَدْتُهَا بِكِتَابِ اللَّهِ وَرَجَمْتُهَا بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

امام شعبی (رح) کہتے ہیں کہ (شراحہ ہمدانیہ حضرت علی ؓ کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ مجھ سے بدکاری کا ارتکاب ہوگیا ہے اس لئے سزا دیجئے) حضرت علی ؓ نے فرمایا ہوسکتا ہے تجھے زبردستی اس کام پر مجبور کیا گیا ہو؟ شاید وہ تمہارا شوہر ہی ہو، لیکن وہ ہر بات کے جواب میں " نہیں " کہتی رہی، چناچہ وضع حمل کے بعد حضرت علی ؓ نے اسے کوڑے مارے اور اس پر حد رجم جاری فرمائی کسی شخص نے ان سے پوچھا کہ آپ نے اسے کوڑے بھی مارے اور رجم بھی کیا؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے کتاب اللہ کی روشنی میں اسے کوڑے مارے ہیں اور سنت رسول اللہ ﷺ کی روشنی میں اسے رجم کیا ہے۔

1130Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ حَبَّةَ الْعُرَنِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ أَنَا أَوَّلُ رَجُلٍ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے ساتھ سب سے پہلا نماز پڑھنے والا آدمی میں ہی ہوں۔

1131Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ ثُمَّ شَهِدْتُهُ مَعَ عَلِيٍّ فَصَلَّى قَبْلَ أَنْ يَخْطُبَ بِلَا أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى أَنْ تَأْكُلُوا نُسُكَكُمْ بَعْدَ ثَلَاثِ لَيَالٍ فَلَا تَأْكُلُوهَا بَعْدُ

ابو عبید کہتے ہیں کہ عید الفطر اور عید الاضحی دونوں موقعوں پر مجھے حضرت علی ؓ کے ساتھ شریک ہونے کا موقع ملا ہے، انہوں نے خطبہ سے پہلے بغیر اذان اور اقامت کے نماز پڑھائی، پھر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا لوگو! نبی ﷺ نے قربانی کا گوشت تین دن کے بعد کھانے سے منع فرمایا ہے لہذا تین دن کے بعد اسے مت کھایا کرو۔

1132Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ عَنْ وَهْبِ بْنِ الْأَجْدَعِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا تُصَلُّوا بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَّا أَنْ تُصَلُّوا وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عصر کی نماز کے بعد کوئی نماز نہ پڑھو! ہاں! اگر سورج صاف ستھرا دکھائی دے رہا ہو تو جائز ہے۔

1133Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوَاصِلُ مِنْ السَّحَرِ إِلَى السَّحَرِ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ سحری سے سحری تک روزہ ملاتے تھے (غروب آفتاب کے وقت افطار نہ فرماتے تھے)

1134Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ عَنْ مُنْذِرٍ الثَّوْرِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ جَاءَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَاسٌ مِنْ النَّاسِ فَشَكَوْا سُعَاةَ عُثْمَانَ قَالَ فَقَالَ لِي أَبِي اذْهَبْ بِهَذَا الْكِتَابِ إِلَى عُثْمَانَ فَقُلْ لَهُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ شَكَوْا سُعَاتَكَ وَهَذَا أَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّدَقَةِ فَمُرْهُمْ فَلْيَأْخُذُوا بِهِ قَالَ فَأَتَيْتُ عُثْمَانَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ قَالَ فَلَوْ كَانَ ذَاكِرًا عُثْمَانَ بِشَيْءٍ لَذَكَرَهُ يَوْمَئِذٍ يَعْنِي بِسُوءٍ

محمد بن علی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کچھ لوگ حضرت علی ؓ کی خدمت میں حضرت عثمان ؓ کے مقرر کردہ کچھ گورنروں کی شکایت لے کر آئے، مجھ سے والد صاحب نے کہا کہ یہ خط حضرت عثمان ؓ کے پاس لے جاؤ اور ان سے کہو کہ لوگ آپ کے گورنروں کی شکایت لے کر آئے ہیں، زکوٰۃ کی وصولی میں نبی ﷺ کے احکام اس خط میں درج ہیں، آپ اپنے گورنروں کو حکم جاری کر دیجئے کہ لوگوں سے اسی کے مطابق زکوٰۃ وصول کریں، چناچہ میں حضرت عثمان ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کے سامنے ساری بات دہرادی، راوی کہتے ہیں کہ اگر کوئی آدمی حضرت عثمان غنی ؓ کا غیر مناسب انداز میں تذکرہ کرنا چاہتا تو اس دن کے حوالے سے کرتا۔

1135Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ صَالِحٍ أَنَّ أَبَا الْوَضِيءِ عَبَّادًا حَدَّثَهُ أَنَّهُ قَالَ كُنَّا عَامِدِينَ إِلَى الْكُوفَةِ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَذَكَرَ حَدِيثَ الْمُخْدَجِ قَالَ عَلِيٌّ فَوَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلَا كُذِبْتُ ثَلَاثًا فَقَالَ عَلِيٌّ أَمَا إِنَّ خَلِيلِي أَخْبَرَنِي ثَلَاثَةَ إِخْوَةٍ مِنْ الْجِنِّ هَذَا أَكْبَرُهُمْ وَالثَّانِي لَهُ جَمْعٌ كَثِيرٌ وَالثَّالِثُ فِيهِ ضَعْفٌ

ابو الوضی کہتے ہیں کہ ہم کوفہ کے ارادے سے حضرت علی ؓ کے ساتھ روانہ ہوئے، پھر انہوں نے حدیث نمبر 1179 ذکر کی اور اس کے آخر میں یہ بھی کہا کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا یاد رکھو میرے خلیل ﷺ نے مجھے بتا رکھا ہے کہ جنات میں تین بھائی ہیں، یہ ان میں سب سے بڑا ہے، دوسرے کے پاس بھی جم غفیر ہے اور تیسرا کمزور ہے۔

1136Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى رَحْمَوَيْهِ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ قَالَ صَلَّيْنَا الْغَدَاةَ فَجَلَسْنَا إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا وَمَضْمَضَ مَرَّتَيْنِ مِنْ كَفٍّ وَاحِدٍ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثُمَّ غَسَلَ قَدَمَيْهِ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ هَذَا وُضُوءُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاعْلَمُوا

عبدخیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی ؓ کے ساتھ فجر کی نماز پڑھ کر ہم ان کے پاس ہی بیٹھ گئے انہوں نے وضو کا پانی منگوایا تین مرتبہ اپنے ہاتھوں کو دھویا، پھر ایک ہی کف سے دو مرتبہ کلی کی، تین مرتبہ چہرہ دھویا، دونوں بازؤوں کو کہنیوں سمیت تین تین مرتبہ دھویا اور ٹخنوں سمیت دونوں پاؤں تین تین مرتبہ دھوئے اور فرمایا کہ نبی ﷺ اسی طرح وضو کیا کرتے تھے، اسے خوب سمجھ لو۔

1137Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ قَالَ أَتَيْنَا عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَدْ صَلَّى فَدَعَا بِكُوزٍ ثُمَّ تَمَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا تَمَضْمَضَ مِنْ الْكَفِّ الَّذِي يَأْخُذُ وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَيَدَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا وَيَدَهُ الشِّمَالَ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَعْلَمَ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ هَذَا

عبدخیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم حضرت علی ؓ کے پاس آئے، وہ فجر کی نماز پڑھ چکے تھے، انہوں نے وضو کا پانی منگوایا تین مرتبہ اپنے ہاتھوں کو دھویا، پھر ایک ہی کف سے تین مرتبہ کلی کی، تین مرتبہ چہرہ دھویا، دونوں بازؤوں کو کہنیوں سمیت تین تین مرتبہ دھویا اور فرمایا کہ جو شخص نبی ﷺ کا طریقہ وضو معلوم کرنا چاہتا ہے تو وہ یہی ہے۔

1138Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ لَيْثٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ قَالَ كُنَّا مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَمَرَّ بِهِ جَنَازَةٌ فَقَامَ لَهَا نَاسٌ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَنْ أَفْتَاكُمْ هَذَا فَقَالُوا أَبُو مُوسَى قَالَ إِنَّمَا فَعَلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّةً فَكَانَ يَتَشَبَّهُ بِأَهْلِ الْكِتَابِ فَلَمَّا نُهِيَ انْتَهَى

ابو معمر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم حضرت علی ؓ کے ساتھ موجود تھے وہاں سے ایک جنازہ گذرا، لوگ اسے دیکھ کر کھڑے ہوگئے، حضرت علی ؓ نے پوچھا کہ تمہیں یہ مسئلہ کس نے بتایا ہے؟ لوگوں نے حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کا نام لیا، حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے اس طرح صرف ایک مرتبہ کیا تھا اور وہ بھی اس لئے کہ نبی ﷺ اہل کتاب کی مشابہت اختیار فرمایا کرتے تھے، لیکن جب اس کی ممانعت کردی گئی تو آپ ﷺ رک گئے۔

1139Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ أَصَبْتُ شَارِفًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَغْنَمِ يَوْمَ بَدْرٍ وَأَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَارِفًا أُخْرَى فَأَنَخْتُهُمَا يَوْمًا عِنْدَ بَابِ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَحْمِلَ عَلَيْهِمَا إِذْخِرًا لِأَبِيعَهُ وَمَعِي صَائِغٌ مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعَ لِأَسْتَعِينَ بِهِ عَلَى وَلِيمَةِ فَاطِمَةَ وَحَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَشْرَبُ فِي ذَلِكَ الْبَيْتِ فَثَارَ إِلَيْهِمَا حَمْزَةُ بِالسَّيْفِ فَجَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا ثُمَّ أَخَذَ مِنْ أَكْبَادِهِمَا قُلْتُ لِابْنِ شِهَابٍ وَمِنْ السَّنَامِ قَالَ جَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا فَذَهَبَ بِهَا قَالَ فَنَظَرْتُ إِلَى مَنْظَرٍ أَفْظَعَنِي فَأَتَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ فَخَرَجَ وَمَعَهُ زَيْدٌ فَانْطَلَقَ مَعَهُ فَدَخَلَ عَلَى حَمْزَةَ فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِ فَرَفَعَ حَمْزَةُ بَصَرَهُ فَقَالَ هَلْ أَنْتُمْ إِلَّا عَبِيدٌ لِأَبِي فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَهْقِرُ حَتَّى خَرَجَ عَنْهُمْ وَذَلِكَ قَبْلَ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ

حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر کے مال غنیمت سے مجھے ایک عمر رسیدہ اونٹنی حاصل ہوئی تھی اور ایک ایسی ہی اونٹنی مجھے نبی ﷺ نے دی تھی، ایک دن میں نے ان دونوں کو ایک انصاری کے گھر کے دروازے پر بٹھایا، میرا ارادہ تھا کہ ان پر اذخر نامی گھاس کو لاد کر بازار لے جاؤں گا اور اسے بیچ دوں گا، میرے ساتھ بنو قینقاع کا ایک سنار بھی تھا، جس سے میں حضرت فاطمہ ؓ کے ولیمے میں کام لینا چاہتا تھا۔ ادھر اس انصاری کے گھر میں حضرت حمزہ ؓ شراب پی رہے تھے (کیونکہ اس وقت تک شراب کی حرمرت کا حکم نازل نہیں ہوا تھا) اونٹنیوں کو دیکھ کر وہ اپنی تلوار لے کر ان پر پل پڑے، ان کے کوہان کاٹ ڈالے اور ان کی کوکھیں پھاڑ ڈالیں اور جگر نکال لئے اور انہیں اندر لے گئے، میں نے جب یہ منظر دیکھا تو میں بہت پریشان ہوا، میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت نبی ﷺ کے پاس حضرت زید بن حارثہ ؓ بھی موجود تھے، میں نے نبی ﷺ کو ساری بات بتائی، نبی ﷺ میرے ساتھ نکلے، حضرت زید بن حارثہ ؓ بھی ساتھ تھے، نبی ﷺ حضرت حمزہ ؓ کے پاس پہنچے اور ان سے خوب ناراضگی کا اظہار کیا، حضرت حمزہ ؓ نے آنکھیں اٹھا کر دیکھا اور فرمایا کہ تم سب میرے باپ کے غلام ہی تو ہو، یہ دیکھ کر نبی ﷺ الٹے پاؤں واپس چلے آئے اور یہ واقعہ حرمت شراب کا حکم نازل ہونے سے پہلے کا ہے۔

1140Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ قَالَ قَالَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ عَلِيٍّ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَلَا تُحَدِّثُنَا بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّهَارِ وَالتَّطَوُّعِ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّكُمْ وَاللَّهِ لَا تُطِيقُونَهَا فَقَالُوا لَهُ أَخْبِرْنَا بِهَا نَأْخُذْ مِنْهَا مَا أَطَقْنَا فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ فُضَيْلُ بْنُ الْحُسَيْنِ إِمْلَاءً عَلَيَّ مِنْ كِتَابِهِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّهَارِ فَقَالَ كَانَ يُصَلِّي سِتَّ عَشْرَةَ رَكْعَةً قَالَ يُصَلِّي إِذَا كَانَتْ الشَّمْسُ مِنْ هَاهُنَا كَهَيْئَتِهَا مِنْ هَاهُنَا كَصَلَاةِ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ وَكَانَ يُصَلِّي إِذَا كَانَتْ الشَّمْسُ مِنْ هَاهُنَا كَهَيْئَتِهَا مِنْ هَاهُنَا كَصَلَاةِ الظُّهْرِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَكَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَبَعْدَ الظُّهْرِ رَكْعَتَيْنِ وَقَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ

عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے حضرت علی ؓ سے پوچھا کہ نبی ﷺ دن کے وقت کس طرح نوافل پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ کل سولہ رکعتیں پڑھتے تھے، فجر کی نماز پڑھ کر تھوڑی دیر انتظار فرماتے، جب سورج مشرق سے اس مقدار میں نکل آتا جتنا عصر کی نماز کے بعد مغرب کی طرف ہوتا ہے، تو آپ ﷺ کھڑے ہو کردو رکعت نماز پڑھتے، پھر تھوڑی دیر انتظار فرماتے اور جب سورج مشرق سے اتنی مقدار میں نکل آتاجتنا ظہر کی نماز کے بعد مغرب کی طرف ہوتا ہے، تو آپ ﷺ کھڑے ہو کر چار رکعت نماز پڑھتے۔