Musnad Imam Ahmad

All 26,407 hadiths in order · Page 41 of 1,321

801Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ ضَمْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَيْسَ الْوَتْرُ بِحَتْمٍ كَالصَّلَاةِ وَلَكِنْ سُنَّةٌ فَلَا تَدَعُوهُ قَالَ شُعْبَةُ وَوَجَدْتُهُ مَكْتُوبًا عِنْدِي وَقَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ وتر فرض نماز کی طرح قرآن کریم سے حتمی ثبوت نہیں رکھتے لیکن ان کا وجوب نبی ﷺ کی سنت سے ثابت ہے اس لئے تم اسے ترک نہ کیا کرو۔

802Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي الْحَسْنَاءِ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ حَنَشٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُضَحِّيَ عَنْهُ فَأَنَا أُضَحِّي عَنْهُ أَبَدًا

حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ایک مرتبہ مجھے اپنی طرف سے قربانی کرنے کا حکم دیا، چناچہ میں آخر دم تک ان کی طرف سے قربانی کرتا رہوں گا۔

803Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ عَنْ جَابِرٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَكَاتِبَهُ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ لِلْحُسْنِ وَمَانِعَ الصَّدَقَةِ وَالْمُحِلَّ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ وَكَانَ يَنْهَى عَنْ النَّوْحِ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے دس قسم کے لوگوں پر لعنت فرمائی ہے سودخور، سود کھلانے والا، سودی معاملات لکھنے والا، سودی معاملات کے گواہ، حلالہ کرنے والا، حلالہ کروانے والا، زکوٰۃ روکنے والا، جسم گودنے والی اور جسم گدوانے والی اور نبی ﷺ نوحہ کرنے سے منع فرماتے تھے۔

804Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ آتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّ غَدَاةٍ فَإِذَا تَنَحْنَحَ دَخَلْتُ وَإِذَا سَكَتَ لَمْ أَدْخُلْ قَالَ فَخَرَجَ إِلَيَّ فَقَالَ حَدَثَ الْبَارِحَةَ أَمْرٌ سَمِعْتُ خَشْخَشَةً فِي الدَّارِ فَإِذَا أَنَا بِجِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام فَقُلْتُ مَا مَنَعَكَ مِنْ دُخُولِ الْبَيْتِ فَقَالَ فِي الْبَيْتِ كَلْبٌ قَالَ فَدَخَلْتُ فَإِذَا جَرْوٌ لِلْحَسَنِ تَحْتَ كُرْسِيٍّ لَنَا قَالَ فَقَالَ إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا يَدْخُلُونَ الْبَيْتَ إِذَا كَانَ فِيهِ ثَلَاثٌ كَلْبٌ أَوْ صُورَةٌ أَوْ جُنُبٌ

حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ میں روزانہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا، اگر میں نبی صلی اللہ کے گھر میں داخل ہونا چاہتا اور وہ نماز پڑھ رہے ہوتے تو کھانس دیا کرتے تھے اور جب وہ خاموش رہتے تو میں گھر میں داخل نہ ہوتا، ایک مرتبہ میں رات کے وقت حاضر ہوا تو نبی ﷺ نے باہر نکل کر فرمایا کہ آج رات عجیب واقعہ ہوا ہے مجھے کسی کی آہٹ گھر میں محسوس ہوئی، میں گھبرا کر باہر نکلا تو سامنے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کھڑے تھے، میں نے ان سے پوچھا کہ آپ گھر کے اندر کیوں نہیں آ رہے؟ وہ کہنے لگے آپ کے کمرے میں کہیں سے کتا آگیا ہے اس لئے میں اندر نہیں آسکتا اور واقعی حسن کی کرسی کے نیچے کتے کا ایک پلہ موجود تھا اور فرمایا کہ ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کوئی کتا، کوئی جنبی یا کوئی تصویر ہو۔

805Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ الْأَعْوَرِ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كُنْتُ مُؤَمِّرًا أَحَدًا مِنْ أُمَّتِي مِنْ غَيْرِ مَشُورَةٍ لَأَمَّرْتُ عَلَيْهِمْ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر میں مسلمانوں کے مشورہ کے بغیر کسی کو امیر بناتا تو ابن ام عبد یعنی حضرت ابن مسعود ؓ کو بناتا۔

806Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا رِزَامُ بْنُ سَعِيدٍ التَّيْمِيُّ عَنْ جَوَّابٍ التَّيْمِيِّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ شَرِيكٍ يَعْنِي التَّيْمِيَّ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِذَا حَذَفْتَ فَاغْتَسِلْ مِنْ الْجَنَابَةِ وَإِذَا لَمْ تَكُنْ حَاذِفًا فَلَا تَغْتَسِلْ

حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ مجھے کثرت سے خروج مذی کا عارضہ لاحق رہتا تھا، میں نے نبی ﷺ سے اس کی بابت دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اگر خروج منی ہوجائے تو غسل کیا کرو جس طرح جنابت کی صورت میں کیا جاتا ہے اور اگر ایسا نہ ہو تو غسل کرنے کی ضرورت نہیں۔

807Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ الْوَلِيدِ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ طَارِقِ بْنِ زِيَادٍ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ عَلِيٍّ إِلَى الْخَوَارِجِ فَقَتَلَهُمْ ثُمَّ قَالَ انْظُرُوا فَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّهُ سَيَخْرُجُ قَوْمٌ يَتَكَلَّمُونَ بِالْحَقِّ لَا يُجَاوِزُ حَلْقَهُمْ يَخْرُجُونَ مِنْ الْحَقِّ كَمَا يَخْرُجُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ سِيمَاهُمْ أَنَّ مِنْهُمْ رَجُلًا أَسْوَدَ مُخْدَجَ الْيَدِ فِي يَدِهِ شَعَرَاتٌ سُودٌ إِنْ كَانَ هُوَ فَقَدْ قَتَلْتُمْ شَرَّ النَّاسِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ هُوَ فَقَدْ قَتَلْتُمْ خَيْرَ النَّاسِ فَبَكَيْنَا ثُمَّ قَالَ اطْلُبُوا فَطَلَبْنَا فَوَجَدْنَا الْمُخْدَجَ فَخَرَرْنَا سُجُودًا وَخَرَّ عَلِيٌّ مَعَنَا سَاجِدًا غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ يَتَكَلَّمُونَ بِكَلِمَةِ الْحَقِّ

طارق بن زیادہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت علی ؓ کے ساتھ خوارج سے جنگ کے لئے نکلے، حضرت علی ؓ نے ان سے قتال کیا اور فرمایا دیکھو! نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے عنقریب ایک ایسی قوم کا خروج ہوگا جو بات تو صحیح کرے گی لیکن وہ ان کے حلق سے آگے نہیں بڑھے گی، وہ لوگ حق سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، ان کی علامت یہ ہوگی کہ ان میں ایک شخص کا ہاتھ ناتمام ہوگا، اس کے ہاتھ (ہتھیلی) میں کالے بال ہوں گے، اب اگر ایسا ہی ہے تو تم نے ایک بدترین آدمی کے وجود سے دنیا کو پاک کردیا اور اگر ایسا نہ ہوا تو تم نے ایک بہترین آدمی کو قتل کردیا، یہ سن کر ہم رونے لگے، حضرت علی ؓ نے فرمایا اسے تلاش کرو، چناچہ ہم نے اسے تلاش کیا تو ہمیں ناقص ہاتھ والا ایک آدمی مل گیا، جسے دیکھ کر ہم سجدے میں گرپڑے، حضرت علی ؓ بھی ہمارے ساتھ ہی سربسجود ہوگئے، البتہ انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ ان کی بات صحیح تھی۔

808Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ يَقُولُ شُكْرَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ تَقُولُونَ مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا بِنَجْمِ كَذَا وَكَذَا حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَفَعَهُ وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ قَالَ مُؤَمَّلٌ قُلْتُ لِسُفْيَانَ إِنَّ إِسْرَائِيلَ رَفَعَهُ قَالَ صِبْيَانٌ صِبْيَانٌ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا قرآن کریم میں یہ جو فرمایا گیا ہے کہ تم نے اپناحصہ یہ بنا رکھا ہے کہ تم تکذیب کرتے رہو، اس کا مطلب یہ ہے کہ تم یہ کہتے ہو فلاں فلاں ستارے کے طلوع و غروب سے بارش ہوئی ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

809Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ وَكَانَ رَجُلَ صِدْقٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ وَأَنْ لَا نُضَحِّيَ بِعَوْرَاءَ وَلَا مُقَابَلَةٍ وَلَا مُدَابَرَةٍ وَلَا شَرْقَاءَ وَلَا خَرْقَاءَ قَالَ زُهَيْرٌ قُلْتُ لِأَبِي إِسْحَاقَ أَذَكَرَ عَضْبَاءَ قَالَ لَا قُلْتُ مَا الْمُقَابَلَةُ قَالَ يُقْطَعُ طَرَفُ الْأُذُنِ قُلْتُ مَا الْمُدَابَرَةُ قَالَ يُقْطَعُ مُؤَخَّرُ الْأُذُنِ قُلْتُ مَا الشَّرْقَاءُ قَالَ تُشَقُّ الْأُذُنُ قُلْتُ مَا الْخَرْقَاءُ قَالَ تَخْرِقُ أُذُنَهَا السِّمَةُ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا تھا کہ قربانی کے جانور کے کان اور آنکھ اچھی طرح دیکھ لیں، کانے جانور کی قربانی نہ کریں، مقابلہ، مدابرہ، شرقاء یا خرقاء کی قربانی نہ کریں، راوی کہتے ہیں کہ میں نے ابو اسحاق سے پوچھا حضرت علی ؓ نے عضباء کا ذکر بھی کیا تھا یا نہیں؟ انہوں نے کہا نہیں! پھر میں نے پوچھا کہ مقابلہ سے کیا مراد ہے؟ فرمایا وہ جانور جس کے کان کا ایک کنارہ کٹا ہوا ہو، میں نے پوچھا کہ مدابرہ سے کیا مراد ہے؟ فرمایا وہ جانور جس کا کان پیچھے کٹا ہوا ہو، میں نے شرقاء کا معنی پوچھا تو فرمایا جس کا کان چیرا ہوا ہو، میں نے خرقاء کا معنی پوچھا تو انہوں بتایا وہ جانور جس کا کان پھٹ گیا ہو۔

810Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كُنْتُ مُؤَمِّرًا أَحَدًا مِنْ أُمَّتِي عَنْ غَيْرِ مَشُورَةٍ مِنْهُمْ لَأَمَّرْتُ عَلَيْهِمْ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر میں مسلمانوں کے مشورہ کے بغیر کسی کو امیر بناتا تو ابن ام عبد یعنی حضرت ابن مسعود ؓ کو بناتا۔

811Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ وَمُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو قَالَا حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَهَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي خَمِيلٍ وَقِرْبَةٍ وَوِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ قَالَ مُعَاوِيَةُ إِذْخِرٌ قَالَ أَبِي وَالْخَمِيلَةُ الْقَطِيفَةُ الْمُخَمَّلَةُ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت فاطمہ ؓ کے جہیز میں روئیں دار کپڑے، ایک مشکیزہ اور چمڑے کا تکیہ دیا تھا جس میں اذخر نامی گھاس بھری ہوئی تھی۔

812Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْحَسَنُ أَشْبَهُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ الصَّدْرِ إِلَى الرَّأْسِ وَالْحُسَيْنُ أَشْبَهُ مَا أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ

حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت حسن ؓ سینے سے لے کر سر تک نبی ﷺ کے مشابہہ ہیں اور حضرت حسین ؓ نچلے حصے میں نبی ﷺ سے مشابہت رکھتے ہیں۔

813Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ حَيَّانَ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ قُلْنَا لِعَلِيٍّ أَخْبِرْنَا بِشَيْءٍ أَسَرَّهُ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا أَسَرَّ إِلَيَّ شَيْئًا كَتَمَهُ النَّاسَ وَلَكِنْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَيْهِ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ غَيَّرَ تُخُومَ الْأَرْضِ يَعْنِي الْمَنَارَ

ابوالطفیل کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت علی ؓ سے پوچھا کہ ہمیں کوئی ایسی بات بتائیے جو نبی ﷺ نے خصوصیت کے ساتھ آپ سے بیان کی ہو؟ فرمایا نبی ﷺ نے مجھ سے ایسی کوئی خصوصی بات نہیں کی جو دوسرے لوگوں سے چھپائی ہو، البتہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے ضرور سنا ہے کہ اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو غیر اللہ کے نام پر کسی جانور کو ذبح کرے، اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو کسی بدعتی کو ٹھکانہ دے، اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو اپنے والدین پر لعنت کرے اور اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو زمین کے بیج بدل دے۔

814Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً فَإِذَا أَمْذَيْتُ اغْتَسَلْتُ فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكَ وَقَالَ فِيهِ الْوُضُوءُ

حضرت علی ؓ کہتے ہیں کہ میرے جسم سے مذی کا اخراج بکثرت ہوتا تھا، جب ایسا ہوتا تو میں غسل کرلیتا، پھر میں نے حضرت مقداد ؓ سے کہا تو انہوں نے نبی ﷺ سے اس کا حل پوچھا، آپ ﷺ نے ہنس کر فرمایا اس میں صرف وضو ہے۔

815Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ يَعْنِي ابْنَ عَامِرٍ أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعْفَرٌ وَزَيْدٌ قَالَ فَقَالَ لِزَيْدٍ أَنْتَ مَوْلَايَ فَحَجَلَ قَالَ وَقَالَ لِجَعْفَرٍ أَنْتَ أَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي قَالَ فَحَجَلَ وَرَاءَ زَيْدٍ قَالَ وَقَالَ لِي أَنْتَ مِنِّي وَأَنَا مِنْكَ قَالَ فَحَجَلْتُ وَرَاءَ جَعْفَرٍ

حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ میں حضرت جعفر ؓ اور حضرت زید بن حارثہ ؓ نبی ﷺ کے پاس آئے، نبی ﷺ نے اس کا فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا جعفر! آپ تو صورت اور سیرت میں میرے مشابہہ ہیں، علی! آپ مجھ سے ہیں اور میں آپ سے ہوں اور زید! آپ ہمارے مولیٰ (آزاد کردہ غلام) ہیں، اس ترتیب میں نبی صلی اللہ علیہ نے حضرت زید ؓ کے بعد حضرت جعفر ؓ کا تذکرہ کیا اور میرا ذکر حضرت جعفر ؓ کے بعد فرمایا۔

816Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو الشَّعْثَاءِ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ حَيَّانَ قَالَ سَمِعْتُ عَامِرَ بْنَ وَاثِلَةَ قَالَ قِيلَ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبِرْنَا بِشَيْءٍ أَسَرَّ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا أَسَرَّ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا وَكَتَمَهُ النَّاسَ وَلَكِنَّهُ سَمِعْتُهُ يَقُولُ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ سَبَّ وَالِدَيْهِ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ غَيَّرَ تُخُومَ الْأَرْضِ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا

ابوالطفیل عامربن واثلہ ؓ کہتے ہیں کہ کسی نے حضرت علی ؓ سے پوچھا کہ ہمیں کوئی ایسی بات بتائیے جو نبی ﷺ نے خصوصیت کے ساتھ آپ سے بیان کی ہو؟ فرمایا نبی ﷺ نے مجھ سے ایسی کوئی خصوصی بات نہیں کی جو دوسرے لوگوں سے چھپائی ہو، البتہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے ضرور سنا ہے کہ اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو کسی بدعتی کو ٹھکانہ دے، اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو اپنے والدین پر لعنت کرے اور اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو زمین کے بیج بدل دے۔

817Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ يَعْنِي الْفَرَّاءَ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ زَيْدِ بْنِ يُثَيْعٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ يُؤَمَّرُ بَعْدَكَ قَالَ إِنْ تُؤَمِّرُوا أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَجِدُوهُ أَمِينًا زَاهِدًا فِي الدُّنْيَا رَاغِبًا فِي الْآخِرَةِ وَإِنْ تُؤَمِّرُوا عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَجِدُوهُ قَوِيًّا أَمِينًا لَا يَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ وَإِنْ تُؤَمِّرُوا عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَلَا أُرَاكُمْ فَاعِلِينَ تَجِدُوهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا يَأْخُذُ بِكُمْ الطَّرِيقَ الْمُسْتَقِيمَ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ سے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ! آپ کے بعد ہم کسے امیر مقرر کریں؟ فرمایا اگر ابوبکر کو امیر بناؤ گے تو انہیں امین پاؤ گے، دنیا سے بےرغبت اور آخرت کا مشتاق پاؤ گے، اگر عمر کو امیر بناؤ گے تو انہیں طاقتور اور امین پاؤ گے، وہ اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کرتے اور اگر تم علی کو امیر بناؤ گے، لیکن میرا خیال ہے کہ تم ایسا نہیں کرو گے، تو انہیں ہدایت کرنے والا اور ہدایت یافتہ پاؤ گے، جو تمہیں صراط مستقیم پر لے کر چلیں گے۔

818Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ عَنَزَةَ يُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِالْوَتْرِ ثَبَتَ وِتْرُهُ هَذِهِ السَّاعَةَ يَا ابْنَ النَّبَّاحِ أَذِّنْ أَوْ ثَوِّبْ

بنو اسد کے ایک صاحب کہتے ہیں کہ حضرت علی ؓ ہمارے یہاں تشریف لائے، (لوگوں نے ان سے وتر کے متعلق سوالات پوچھے) انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ اس وقت وتر ادا کرلیا کریں، ابن نباح! اٹھ کر اذان دو۔

819Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ عَنَزَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ قَالَ خَرَجَ عَلِيٌّ حِينَ ثَوَّبَ الْمُثَوِّبُ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا بِوِتْرٍ فَثَبَتَ لَهُ هَذِهِ السَّاعَةَ ثُمَّ قَالَ أَقِمْ يَا ابْنَ النَّوَّاحَةِ

بنو اسد کے ایک صاحب کہتے ہیں کہ حضرت علی ؓ باہر تشریف لائے، اس وقت مؤذن نماز فجر کے لئے لوگوں کو مطع کر رہا تھا، انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ اس وقت وتر ادا کرلیا کریں، ابن نواحہ! اٹھ کر اقامت کہو۔

820Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي الْهُذَيْلِ الْعَنَزَيَّ يُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ سُوَيْدِ بْنِ سَعِيدٍ كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ مُسَجًّى فِي ثَوْبِهِ

گذشتہ حدیث ایک اور سند سے بھی مروی ہے جو عبارت میں گذری۔