Musnad Imam Ahmad

All 26,407 hadiths in order · Page 42 of 1,321

821Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا بُرْدَةَ يُحَدِّثُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُتَخَتَّمَ فِي ذِهِ أَوْ ذِهْ الْوُسْطَى وَالسَّبَّابَةِ و قَالَ جَابِرٌ يَعْنِي الْجُعَفِيَّ هِيَ الْوُسْطَى لَا شَكَّ فِيهَا

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے درمیانی شہادت والی انگلی میں انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا ہے۔

822Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُضَحَّى بِعَضْبَاءِ الْقَرْنِ وَالْأُذُنِ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے سینگ یا کان کٹے ہوئے جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے۔

823Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُخَافِتُ بِصَوْتِهِ إِذَا قَرَأَ وَكَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَجْهَرُ بِقِرَاءَتِهِ وَكَانَ عَمَّارٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا قَرَأَ يَأْخُذُ مِنْ هَذِهِ السُّورَةِ وَهَذِهِ فَذُكِرَ ذَاكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِمَ تُخَافِتُ قَالَ إِنِّي لَأُسْمِعُ مَنْ أُنَاجِي وَقَالَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِمَ تَجْهَرُ بِقِرَاءَتِكَ قَالَ أُفْزِعُ الشَّيْطَانَ وَأُوقِظُ الْوَسْنَانَ وَقَالَ لِعَمَّارٍ وَلِمَ تَأْخُذُ مِنْ هَذِهِ السُّورَةِ وَهَذِهِ قَالَ أَتَسْمَعُنِي أَخْلِطُ بِهِ مَا لَيْسَ مِنْهُ قَالَ لَا قَالَ فَكُلُّهُ طَيِّبٌ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ سیدنا صدیق اکبر ؓ جب قرآن کریم کی تلاوت کرتے تو آواز کو پست رکھتے، جبکہ حضرت عمر فاروق ؓ بلند آواز سے قرآن کریم پڑھتے تھے اور حضرت عمار ؓ کبھی کسی سورت سے تلاوت فرماتے اور کبھی کسی سورت سے، نبی ﷺ کے سامنے جب اس کا تذکرہ ہوا، تو نبی ﷺ نے حضرت صدیق اکبر ؓ سے پوچھا کہ آپ اپنی آواز کو پست کیوں رکھتے ہیں؟ عرض کیا کہ میں جس سے مناجات کرتا ہوں اسی کو سناتا ہوں حضرت عمر ؓ سے بلند آواز کے ساتھ تلاوت کرنے کی وجہ دریافت فرمائی تو انہوں نے عرض کیا کہ میں شیطان کو بھگاتا ہوں اور سونے والوں کو جگاتا ہوں، حضرت عمار ؓ سے پوچھا کہ آپ کبھی کسی سورت سے اور کبھی دوسری سورت سے تلاوت کیوں کرتے ہیں؟ عرض کیا کہ کیا آپ نے مجھے کسی سورت میں دوسری سورت کو خلط ملط کرتے ہوئے سنا ہے؟ فرمایا نہیں، سب ہی اپنی جگہ ٹھیک ہیں۔

824Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرَكَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ نَجِيحٌ الْمَدَنِيُّ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وُضِعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَيْنَ الْمِنْبَرِ وَالْقَبْرِ فَجَاءَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَتَّى قَامَ بَيْنَ يَدَيْ الصُّفُوفِ فَقَالَ هُوَ هَذَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ مَا مِنْ خَلْقِ اللَّهِ تَعَالَى أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَلْقَاهُ بِصَحِيفَتِهِ بَعْدَ صَحِيفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَذَا الْمُسَجَّى عَلَيْهِ ثَوْبُهُ

حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ حضرت عمر فاروق ؓ کا جنازہ منبر اور روضہ مبارکہ کے درمیان لا کر رکھ دیا گیا اس اثناء میں حضرت علی ؓ تشریف لے آئے اور صفوں کے سامنے کھڑے ہو کر کہنے لگے یہ وہی ہیں (یہ جملہ انہوں نے تین مرتبہ کہا) پھر فرمایا اللہ کی رحمتوں کا نزول ہو آپ پر، نبی ﷺ کے نامہ اعمال کے بعد اس کپڑا اوڑھے ہوئے شخص کے علاوہ اللہ کی پوری مخلوق میں کوئی ایسا شخص نہیں ہے جس کے نامہ اعمال کے ساتھ اللہ سے ملاقات کرنا مجھے محبوب ہو۔

825Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَرَوِيُّ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي يَعْفُورٍ عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ مُسَجًّى بِثَوْبِهِ قَدْ قَضَى نَحْبَهُ فَجَاءَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَكَشَفَ الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ ثُمَّ قَالَ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ أَبَا حَفْصٍ فَوَاللَّهِ مَا بَقِيَ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَلْقَى اللَّهَ تَعَالَى بِصَحِيفَتِهِ مِنْكَ

ابو جحیفہ (رح) کہتے ہیں کہ میں حضرت عمر ؓ کے جنازے کے قریب ہی تھا، ان کا چہرہ کپڑے سے ڈھانپ دیا گیا تھا، اسی اثناء میں حضرت علی ؓ تشریف لے آئے اور ان کے چہرے سے کپڑا ہٹا کر فرمایا اے ابو حفص! اللہ کی رحمتوں کا نزول ہو آپ پر، نبی ﷺ کے نامہ اعمال کے بعد آپ کے علاوہ اللہ کی پوری مخلوق میں کوئی ایسا شخص نہیں ہے جس کے نامہ اعمال کے ساتھ اللہ سے ملاقات کرنا مجھے محبوب ہو۔

826Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ التَّيْمِيُّ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنِي رُكَيْنٌ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً فَجَعَلْتُ أَغْتَسِلُ فِي الشِّتَاءِ حَتَّى تَشَقَّقَ ظَهْرِي قَالَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ ذُكِرَ لَهُ قَالَ فَقَالَ لَا تَفْعَلْ إِذَا رَأَيْتَ الْمَذْيَ فَاغْسِلْ ذَكَرَكَ وَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ فَإِذَا فَضَخْتَ الْمَاءَ فَاغْتَسِلْ

حضر علی ؓ فرماتے ہیں کہ میرے جسم سے خروج مذی بکثرت ہوتا تھا، میں سردی میں بھی اس کی وجہ سے اتنا غسل کرتا تھا کہ میری کمر چھل گئی تھی، میں نے نبی ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو فرمایا ایسا نہ کرو، جب مذی دیکھو تو اپنی شرمگاہ کو دھو لیا کرو اور نماز جیسا وضو کرلیا کرو اور اگر منی خارج ہو تو غسل کرلیا کرو۔

827Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ سُئِلَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ فِي الْمَذْيِ الْوُضُوءُ وَفِي الْمَنِيِّ الْغُسْلُ

حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ مجھ خروج مذی کثرت کے ساتھ ہونے کا مرض لاحق تھا، میں نے نبی ﷺ سے اس کا حکم پوچھا تو فرمایا مذی میں صرف وضو واجب ہے اور خروج منی کی صورت میں غسل واجب ہوتا ہے۔

828Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً فَأَمَرْتُ رَجُلًا فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ فَقَالَ فِيهِ الْوُضُوءُ

حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ مجھے خروج مذی کثرت کے ساتھ ہونے کا مرض لاحق تھا، میں نے ایک آدمی سے کہا، اس نے نبی ﷺ سے اس کا حکم پوچھا تو فرمایا مذی میں صرف وضو واجب ہے۔

829Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرٍّ عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ خَطَبَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثُمَّ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا وَبَعْدَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ عُمَرُ

ابوجحیفہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی ؓ نے (دوران خطبہ یہ) فرمایا کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ اس امت میں نبی ﷺ کے بعد سب سے بہترین شخص کون ہے؟ وہ حضرت صدیق اکبر ؓ ہیں اور میں تمہیں بتاؤں کہ حضرت صدیق اکبر ؓ کے بعد اس امت میں سب سے بہترین شخص کون ہے؟ وہ حضرت عمر فاروق ؓ ہیں۔

830Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَائِذُ بْنُ حَبِيبٍ حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ السِّمْطِ عَنْ أَبِي الْغَرِيفِ قَالَ أُتِيَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِوَضُوءٍ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَغَسَلَ يَدَيْهِ وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ ثُمَّ قَرَأَ شَيْئًا مِنْ الْقُرْآنِ ثُمَّ قَالَ هَذَا لِمَنْ لَيْسَ بِجُنُبٍ فَأَمَّا الْجُنُبُ فَلَا وَلَا آيَةَ

ابوالغریف کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی ؓ کے پاس وضو کا پانی لایا گیا، انہوں نے تین مرتبہ کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، تین مرتبہ چہرہ دھویا، ہاتھوں اور کہنیوں کو تین تین مرتبہ دھویا، سر کا مسح کیا اور پاؤں کو دھو کر فرمایا میں نے نبی ﷺ کو بھی اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا، پھر قرآن کریم کے کچھ حصے کی تلاوت کی اور فرمایا یہ اس شخص کے لئے ہے جو جنبی نہ ہو، جنبی کے لئے یہ حکم نہیں ہے اور نہ ہی کسی ایک آیت کی تلاوت کرسکتا ہے۔

831Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ حَدَّثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ عُتْبَةَ الْكِنَانِيُّ عَنْ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ مَسَحَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَأْسَهُ فِي الْوُضُوءِ حَتَّى أَرَادَ أَنْ يَقْطُرَ وَقَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ

زر بن حبیش کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی ؓ نے دوران وضو سر کا مسح کیا اور اتنا پانی ڈالا کہ قریب تھا کہ اس کے قطرے ٹپکنا شروع ہوجاتے اور فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

832Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ بْنِ عِمْرَانَ الْوَاسِطِيُّ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ مُخَارِقٍ عَنْ طَارِقٍ يَعْنِي ابْنَ شِهَابٍ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ مَا عِنْدَنَا كِتَابٌ نَقْرَؤُهُ عَلَيْكُمْ إِلَّا مَا فِي الْقُرْآنِ وَمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ صَحِيفَةٌ كَانَتْ فِي قِرَابِ سَيْفٍ كَانَ عَلَيْهِ حِلْيَتُهُ حَدِيدٌ أَخَذْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا فَرَائِضُ الصَّدَقَةِ

طارق بن شہاب (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی ؓ کو منبر پر یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ بخدا! ہمارے پاس قرآن کریم کے علاوہ کوئی ایسی کتاب نہیں ہے جسے ہم پڑھتے ہوں یا پھر یہ صحیفہ ہے جو تلوار سے لٹکا ہوا ہے، میں نے اسے نبی ﷺ سے حاصل کیا تھا، اس میں زکوٰۃ کے حصص کی تفصیل درج ہے، مذکورہ صحیفہ حضرت علی ؓ کی اس تلوار سے لٹکا رہتا تھا جس کے حلقے لوہے کے تھے۔

833Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَسَدِيُّ لُوَيْنٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ زِيَادِ بْنِ زَيْدٍ السُّوَائِيِّ عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّ مِنْ السُّنَّةِ فِي الصَّلَاةِ وَضْعُ الْأَكُفِّ عَلَى الْأَكُفِّ تَحْتَ السُّرَّةِ

حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ نماز میں سنت یہی ہے کہ ہتھیلیوں کو ہتھیلیوں پر اور ناف کے نیچے رکھا جائے۔

834Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مَرْوَانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ سَلْعٍ الْهَمْدَانِيُّ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ قَالَ عَلَّمَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَبَّ الْغُلَامُ عَلَى يَدَيْهِ حَتَّى أَنْقَاهُمَا ثُمَّ أَدَخَلَ يَدَهُ فِي الرَّكْوَةِ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ثَلَاثًا وَذِرَاعَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الرَّكْوَةِ فَغَمَرَ أَسْفَلَهَا بِيَدِهِ ثُمَّ أَخْرَجَهَا فَمَسَحَ بِهَا الْأُخْرَى ثُمَّ مَسَحَ بِكَفَّيْهِ رَأْسَهُ مَرَّةً ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ اغْتَرَفَ هُنَيَّةً مِنْ مَاءٍ بِكَفِّهِ فَشَرِبَهُ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ

عبد خیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی ؓ نے ہمیں نبی ﷺ کا طریقہ وضو سکھایا، چناچہ سب سے پہلے ایک لڑکے نے ان کے ہاتھوں پر پانی ڈالا، انہوں نے اپنے ہاتھوں کو صاف کیا، پھر انہیں برتن میں ڈالا، کلی کی، ناک میں پانی ڈالا، تین مرتبہ چہرہ دھویا، دونوں بازوؤں کو کہنیوں سمیت تین تین مرتبہ دھویا، پھر دوبارہ اپنے ہاتھوں کو برتن میں ڈالا اور اپنے ہاتھ کو اس کے نیچے ڈبو دیا، پھر اسے باہر نکال کر دوسرے ہاتھ پر مل لیا اور دونوں ہتھیلیوں سے سر کا ایک مرتبہ مسح کیا اور ٹخنوں سمیت دونوں پاؤں تین تین مرتبہ دھوئے، پھر ہتھیلی سے چلو بنا کر تھوڑا سا پانی لیا اور اسے پی گئے اور فرمایا کہ نبی ﷺ اسی طرح وضو کیا کرتے تھے۔

835Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ أَوْتِرُوا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوَتْرَ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اے اہل قرآن وتر پڑھا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ طاق ہے اور طاق عدد کو پسند کرتا ہے۔

836Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيُّ أَنْبَأَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ بَيَانٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثُمَّ عُمَرُ ثُمَّ رَجُلٌ آخَرُ

ابوجحیفہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی ؓ نے فرمایا کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ اس امت میں نبی ﷺ کے بعد سب سے بہترین شخص کون ہے؟ وہ حضرت صدیق اکبر ؓ ہیں، پھر حضرت عمر فاروق ؓ ہیں، پھر ایک اور آدمی ہے۔

837Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ عَلِيٍّ و عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنْ عَلِيٍّ و عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ قَالَ خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَخَيْرُهَا بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَلَوْ شِئْتُ سَمَّيْتُ الثَّالِثَ

ابوجحیفہ سے مروی ہے کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا اس امت میں نبی ﷺ کے بعد سب سے بہترین شخص حضرت صدیق اکبر ؓ ہیں اور حضرت صدیق اکبر ؓ کے بعد حضرت عمر فاروق ؓ ہیں اور اگر میں چاہوں تو تیسرے آدمی کا نام بھی بتاسکتا ہوں۔

838Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَلَوْ شِئْتُ لَحَدَّثْتُكُمْ بِالثَّالِثِ

ابو جحیفہ سے مروی ہے کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا اس امت میں نبی ﷺ کے بعد سب سے بہترین شخص حضرت صدیق اکبر ؓ ہیں اور حضرت صدیق اکبر ؓ کے بعد حضرت عمر فاروق ؓ ہیں اور اگر میں چاہوں تو تیسرے آدمی کا نام بھی بتاسکتا ہوں۔

839Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ الْحَكَمُ أَخْبَرَنِي عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَأَمَرَهُ أَنْ يُسَوِّيَ الْقُبُورَ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے انہیں مدینہ منورہ بھیجا اور انہیں یہ حکم دیا کہ تمام قبروں کو برابر کردیں۔

840Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ حَنَشٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَبْعَثُنِي إِلَى قَوْمٍ أَسَنَّ مِنِّي وَأَنَا حَدِيثٌ لَا أُبْصِرُ الْقَضَاءَ قَالَ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى صَدْرِي وَقَالَ اللَّهُمَّ ثَبِّتْ لِسَانَهُ وَاهْدِ قَلْبَهُ يَا عَلِيُّ إِذَا جَلَسَ إِلَيْكَ الْخَصْمَانِ فَلَا تَقْضِ بَيْنَهُمَا حَتَّى تَسْمَعَ مِنْ الْآخَرِ كَمَا سَمِعْتَ مِنْ الْأَوَّلِ فَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ تَبَيَّنَ لَكَ الْقَضَاءُ قَالَ فَمَا اخْتَلَفَ عَلَيَّ قَضَاءٌ بَعْدُ أَوْ مَا أَشْكَلَ عَلَيَّ قَضَاءٌ بَعْدُ

حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے مجھے یمن کی طرف بھیجنے کا ارادہ کیا تو میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ مجھے ایسی قوم کی طرف بھیج رہے ہیں جو مجھ سے بڑی عمر کی ہے اور میں نوعمر ہوں، صحیح طرح فیصلہ نہیں کرسکتا، نبی ﷺ نے اپنا دست مبارک میرے سینے پر رکھا اور دعاء کی کہ اے اللہ اس کی زبان کو ثابت قدم رکھ اور اس کے دل کو ہدایت بخش، اے علی! جب تمہارے پاس دو فریق آئیں تو صرف کسی ایک کی بات سن کر فیصلہ نہ کرنا بلکہ دونوں کی بات سننا، اس طرح تمہارے لئے فیصلہ کرنا آسان ہوجائے گا، حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد مجھے کبھی کسی فیصلے میں اشکال پیش نہیں آیا۔