Musnad Imam Ahmad

All 26,407 hadiths in order · Page 40 of 1,321

781Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا عَنْ حَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ عَنْ عَلِيٍّ أَنَّ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَعْجِيلِ صَدَقَتِهِ قَبْلَ أَنْ تَحِلَّ فَرَخَّصَ لَهُ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ حضرت عباس ؓ نے نبی ﷺ سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر کوئی شخص سال گذرنے سے پہلے ہی زکوٰۃ دینا چاہے تو کیا حکم ہے؟ نبی ﷺ نے انہیں پہلے ادا کرنے کی اجازت عطاء فرما دی۔

782Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ أَرْسَلْتُ الْمِقْدَادَ بْنَ الْأَسْوَدِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ الْمَذْيِ يَخْرُجُ مِنْ الْإِنْسَانِ كَيْفَ يَفْعَلُ بِهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأْ وَانْضَحْ فَرْجَكَ

حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت مقداد بن اسود ؓ کو نبی ﷺ کی خدمت میں یہ پوچھنے کے لئے بھیجا کہ اگر انسان کے جسم سے مذی کا خروج ہو تو وہ کیا کرے؟ نبی ﷺ نے فرمایا وضو کرے اور اپنی شرمگاہ پر پانے کے چھینٹے ڈال لے۔

783Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ الْهَادِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ عَنْ أُمِّهِ أَنَّهَا قَالَتْ بَيْنَمَا نَحْنُ بِمِنًى إِذَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى جَمَلٍ وَهُوَ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ هَذِهِ أَيَّامُ طُعْمٍ وَشُرْبٍ فَلَا يَصُومَنَّ أَحَدٌ فَاتَّبَعَ النَّاسُ

عمرو بن سلیم کی والدہ کہتی ہیں کہ ہم میدان منیٰ میں تھے کہ حضرت علی ؓ کو یہ منادی کرتے ہوئے سنا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ یہ دن کھانے پینے کے ہیں اس لئے ان دنوں میں کوئی شخص روزہ نہ رکھے چناچہ لوگوں نے ان کی اتباع کی۔

784Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ أَنْبَأَنِي غَيْرَ مَرَّةٍ قَالَ سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَوَّلِهِ وَأَوْسَطِهِ وَآخِرِهِ وَانْتَهَى وِتْرُهُ إِلَى آخِرِ اللَّيْلِ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ رات کے ابتدائی، درمیانے اور آخری ہر حصے میں وتر پڑھایا کرتے تھے، تاہم آخر میں آپ ﷺ رات کے آخری حصے میں اس کی پابندی فرمانے لگے تھے۔

785Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ أَنْبَأَنِي قَالَ سَمِعْتُ حُجَيَّةَ بْنَ عَدِيٍّ رَجُلًا مِنْ كِنْدَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا سَأَلَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنِّي اشْتَرَيْتُ هَذِهِ الْبَقَرَةَ لِلْأَضْحَى قَالَ عَنْ سَبْعَةٍ قَالَ الْقَرْنُ قَالَ لَا يَضُرُّكَ قَالَ الْعَرَجُ قَالَ إِذَا بَلَغَتْ الْمَنْسَكَ فَانْحَرْ ثُمَّ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ

حضرت علی ؓ سے ایک آدمی نے کہا کہ میں نے یہ گائے قربانی کے لئے خریدی ہے، انہوں نے فرمایا کہ یہ سات آدمیوں کی طرف سے ہوسکتی ہے، اس نے کہا کہ اس کے سینگ نہیں ہیں؟ انہوں نے فرمایا کوئی حرج نہیں، اس نے کہا کہ اس کے پاؤں میں لنگڑا پن ہے؟ انہوں نے فرمایا اگر قربان گاہ تک خود چل کر جاسکتی ہے تو کوئی حرج نہیں، پھر فرمایا نبی ﷺ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ قربانی کے جانوروں کی آنکھ اور کان اچھی طرح دیکھ لیں کہ کہیں ان میں کوئی عیب تو نہیں۔

786Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ عُبَيْدَةَ قَالَ تَنَازَعَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ وَحِبَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ فَقَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ لِحِبَّانَ قَدْ عَلِمْتُ مَا الَّذِي جَرَّأَ صَاحِبَكَ يَعْنِي عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَمَا هُوَ لَا أَبَا لَكَ قَالَ قَوْلٌ سَمِعْتُهُ مِنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُهُ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالزُّبَيْرَ وَأَبَا مَرْثَدٍ وَكُلُّنَا فَارِسٌ قَالَ انْطَلِقُوا حَتَّى تَبْلُغُوا رَوْضَةَ خَاخٍ فَإِنَّ فِيهَا امْرَأَةً مَعَهَا صَحِيفَةٌ مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى الْمُشْرِكِينَ فَأْتُونِي بِهَا فَانْطَلَقْنَا عَلَى أَفْرَاسِنَا حَتَّى أَدْرَكْنَاهَا حَيْثُ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسِيرُ عَلَى بَعِيرٍ لَهَا قَالَ وَكَانَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ بِمَسِيرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا لَهَا أَيْنَ الْكِتَابُ الَّذِي مَعَكِ قَالَتْ مَا مَعِي كِتَابٌ فَأَنَخْنَا بِهَا بَعِيرَهَا فَابْتَغَيْنَا فِي رَحْلِهَا فَلَمْ نَجِدْ فِيهِ شَيْئًا فَقَالَ صَاحِبَايَ مَا نَرَى مَعَهَا كِتَابًا فَقُلْتُ لَقَدْ عَلِمْتُمَا مَا كَذَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ حَلَفْتُ وَالَّذِي أَحْلِفُ بِهِ لَئِنْ لَمْ تُخْرِجِي الْكِتَابَ لَأُجَرِّدَنَّكِ فَأَهْوَتْ إِلَى حُجْزَتِهَا وَهِيَ مُحْتَجِزَةٌ بِكِسَاءٍ فَأَخْرَجَتْ الصَّحِيفَةَ فَأَتَوْا بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ خَانَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَهُ قَالَ يَا حَاطِبُ مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا بِي أَنْ لَا أَكُونَ مُؤْمِنًا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَلَكِنِّي أَرَدْتُ أَنْ تَكُونَ لِي عِنْدَ الْقَوْمِ يَدٌ يَدْفَعُ اللَّهُ بِهَا عَنْ أَهْلِي وَمَالِي وَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِكَ إِلَّا لَهُ هُنَاكَ مِنْ قَوْمِهِ مَنْ يَدْفَعُ اللَّهُ تَعَالَى بِهِ عَنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ قَالَ صَدَقْتَ فَلَا تَقُولُوا لَهُ إِلَّا خَيْرًا فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ قَدْ خَانَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَهُ قَالَ أَوَلَيْسَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ اطَّلَعَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ وَجَبَتْ لَكُمْ الْجَنَّةُ فَاغْرَوْرَقَتْ عَيْنَا عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے مجھے، حضرت زبیر ؓ اور حضرت ابومرثد ؓ کہ ہم میں سے ہر ایک شہسوار تھا کو ایک جگہ بھیجتے ہوئے فرمایا کہ تم لوگ روانہ ہوجاؤ، جب تم روضہ خاخ میں پہنچو گے تو وہاں تمہیں ایک عورت ملے گی جس کے پاس ایک خط ہوگا جو حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے مشرکین کے نام ہوگا تم اس سے وہ خط لے کر واپس آجانا، چناچہ ہم لوگ روانہ ہوگئے، ہمارے گھوڑے ہمارے ہاتھوں سے نکلے جاتے تھے، یہاں تک کہ ہم روضہ خاخ جا پہنچے، وہاں ہمیں واقعۃ ایک عورت ملی جو اپنے اونٹ پر چلی جا رہی تھی ہم نے اس سے کہا کہ تیرے پاس جو خط ہے وہ نکال دے، اس نے کہا کہ میرے پاس تو کوئی خط نہیں، ہم نے اس کا اونٹ بٹھایا اس کے کجاوے کی تلاشی لی لیکن کچھ نہ ملا میرے دونوں ساتھیوں نے کہا کہ اس کے پاس تو ہمارے خیال میں کوئی خط نہیں ہے، میں نے کہا آپ جانتے ہیں کہ نبی ﷺ نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، پھر میں نے قسم کھا کر کہا کہ یا تو تو خود ہی خط نکال دے ورنہ ہم تجھے برہنہ کردیں گے۔ مجبور ہو کر اس نے اپنے بالوں کی چوٹی میں سے ایک خط نکال کر ہمارے حوالے کردیا، ہم وہ خط لے کر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، لوگ کہنے لگے یا رسول اللہ! اس نے اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں سے خیانت کی ہے، مجھے اس کی گردن مارنے کی اجازت دیجئے۔ نبی ﷺ نے ان سے پوچھا کہ حاطب! یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اللہ کی قسم میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہوں، بات یہ ہے کہ میں قریش سے تعلق نہیں رکھتا، البتہ ان میں شامل ہوگیا ہوں، آپ کے ساتھ جتنے بھی مہاجرین ہیں، ان کے مکہ مکرمہ میں رشتہ دار موجود ہیں جن سے وہ اپنے اہل خانہ کی حفاظت کروا لیتے ہیں، میں نے سوچا کہ میرا وہاں کوئی نسبی رشتہ دار تو موجود نہیں ہے، اس لئے ان پر ایک احسان کردوں تاکہ وہ اس کے عوض میرے رشتہ داروں کی حفاظت کریں، نبی ﷺ نے فرمایا تم نے سچ بیان کیا ان کے متعلق اچھی بات ہی کہنا، حضرت عمر ؓ نے شدت جذبات سے مغلوب ہو کر فرمایا یا رسول اللہ! اس نے اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں سے خیانت کی ہے، مجھے اجازت دیجئے کہ اس کی گردن اڑا دوں؟ نبی ﷺ نے فرمایا یہ غزوہ بدر میں شریک ہوچکے ہیں اور تمہیں کیا خبر کہ اللہ نے آسمان سے اہل بدر کو جھانک کر دیکھا اور فرمایا تم جو کچھ کرتے رہو، میں تمہارے لئے جنت کو واجب کرچکا، اس پر حضرت عمر ؓ کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں اور وہ فرمانے لگے کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔

787Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيُّ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثَلَاثَةٌ يَا عَلِيُّ لَا تُؤَخِّرْهُنَّ الصَّلَاةُ إِذَا أَتَتْ وَالْجَنَازَةُ إِذَا حَضَرَتْ وَالْأَيِّمُ إِذَا وَجَدَتْ كُفُؤًا

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا علی! تین چیزیں ایسی ہیں کہ ان میں کسی قسم کی تاخیر نہ کرو۔ (١) نماز جب اس کا وقت آجائے۔ (٢) جنازہ جب وہ حاضر ہوجائے۔ (٣) عورت جب اس کے جوڑ کا رشتہ مل جائے۔

788Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْمُبَارَكِيُّ سُلَيْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ جَارُ خَلَفٍ الْبَزَّارِ حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ وَعَنْ لُبْسِ الْحُمْرَةِ وَعَنْ الْقِرَاءَةِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مجھے سونے کی انگوٹھی، ریشمی کپڑے پہننے اور رکوع کی حالت میں قرآن کریم کی تلاوت سے منع کیا ہے۔

789Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَحْمِ صَيْدٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَلَمْ يَأْكُلْهُ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کی خدمت میں جبکہ آپ ﷺ حالت احرام میں تھے شکار کا گوشت لایا گیا لیکن آپ ﷺ نے اسے نہیں کھایا۔

790Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَجْلَحِ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لِبَاسِ الْقَسِّيِّ وَالْمَيَاثِرِ وَالْمُعَصْفَرِ وَعَنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَالرَّجُلُ رَاكِعٌ أَوْ سَاجِدٌ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مجھے ریشمی کپڑے سرخ زین پوش اور عصفر سے رنگے ہوئے کپڑے پہننے اور رکوع یا سجدے کی حالت میں قرآن کریم کی تلاوت کرنے سے منع فرمایا ہے۔

791Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرْمِيُّ قَدِمَ عَلَيْنَا مِنْ الْكُوفَةِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ح قَالَ عَبْد اللَّهِ و حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ تَمَارَيْنَا فِي سُورَةٍ مِنْ الْقُرْآنِ فَقُلْنَا خَمْسٌ وَثَلَاثُونَ آيَةً سِتٌّ وَثَلَاثُونَ آيَةً قَالَ فَانْطَلَقْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْنَا عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُنَاجِيهِ فَقُلْنَا إِنَّا اخْتَلَفْنَا فِي الْقِرَاءَةِ فَاحْمَرَّ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَقْرَءُوا كَمَا عُلِّمْتُمْ

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہمیں قرآن کریم کی کسی سورت میں شک ہوگیا، بعض اس کی آیات کی تعداد ٣٥ بتاتے تھے اور بعض ٣٦، جب یہ بحث بڑھی تو اس کا فیصلہ کروانے کے لئے ہم نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، وہاں پہنچے تو حضرت علی ؓ کو نبی ﷺ سے سرگوشی کرتا ہوا پایا، ہم نے اپنے آنے کے مقصد کو واضح کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارا ایک سورت کی قرأت کے درمیان اختلاف ہوگیا ہے، یہ سن کر نبی ﷺ کے روئے انور کا رنگ سرخ ہوگیا، حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ نبی ﷺ فرما رہے ہیں کہ جس طرح تمہیں سکھایا گیا ہے، قرآن کریم کی تلاوت اسی طرح کیا کرو۔

792Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التِّرْمِذِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَاصِمٍ ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ الْقَوَارِيرِيُّ فِي حَدِيثِهِ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ عَنْ زِرٍّ يَعْنِي ابْنَ حُبَيْشٍ عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

ابو جحیفہ جنہیں حضرت علی وہب الخیر کہا کرتے تھے سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت علی ؓ کو دوران خطبہ یہ کہتے ہوئے سنا کہ کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ اس امت میں نبی ﷺ کے بعد سب سے بہترین شخص کون ہے؟ ابوجحیفہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کیوں نہیں اور میں یہ سمجھتا تھا کہ خود ان سے افضل کوئی نہیں ہے، وہ حضرت صدیق اکبر ؓ ہیں اور میں تمہیں بتاؤں کہ حضرت صدیق اکبر ؓ کے بعد اس امت میں سب سے بہترین شخص کون ہے؟ وہ حضرت عمر فاروق ؓ ہیں۔

793Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو صَالِحٍ هَدِيَّةُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بِمَكَّةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْبَجَلِيُّ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ وَهْبٍ السُّوَائِيِّ قَالَ خَطَبَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ مَنْ خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا فَقُلْتُ أَنْتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ لَا خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَمَا نُبْعِدُ أَنَّ السَّكِينَةَ تَنْطِقُ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

وہب سودائی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی ؓ نے دوران خطبہ یہ فرمایا اس امت میں نبی ﷺ کے بعد سب سے بہترین شخص کون ہے؟ میں نے کہا امیرالمؤمنین! آپ ہی ہیں، انہوں نے فرمایا نہیں، نبی ﷺ کے بعد اس امت میں سب سے بہترین شخص حضرت صدیق اکبر ؓ ہیں اور حضرت صدیق اکبر ؓ کے بعد سب سے بہترین شخص حضرت عمر فاروق ؓ ہیں اور اس میں کوئی تعجب نہیں کہ حضرت عمر ؓ کی زبان پر سکینہ بولتا تھا

794Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَنْبَأَنَا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي الْغُدَانِيَّ الْأَشَلَّ عَنِ الشَّعْبِيِّ حَدَّثَنِي أَبُو جُحَيْفَةَ الَّذِي كَانَ عَلِيٌّ يُسَمِّيهِ وَهْبَ الْخَيْرِ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا أَبَا جُحَيْفَةَ أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَفْضَلِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا قَالَ قُلْتُ بَلَى قَالَ وَلَمْ أَكُنْ أَرَى أَنَّ أَحَدًا أَفْضَلُ مِنْهُ قَالَ أَفْضَلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ وَبَعْدَ أَبِي بَكْرٍ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَبَعْدَهُمَا آخَرُ ثَالِثٌ وَلَمْ يُسَمِّهِ

ابوجحیفہ جنہیں حضرت علی وہب الخیر کہا کرتے تھے سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت علی ؓ کو دوران خطبہ یہ کہتے ہوئے سنا کہ کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ اس امت میں نبی ﷺ کے بعد سب سے بہترین شخص کون ہے؟ ابوجحیفہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کیوں نہیں اور میں یہ سمجھتا تھا کہ خود ان سے افضل کوئی نہیں ہے وہ حضرت صدیق اکبر ؓ ہیں اور حضرت صدیق اکبر ؓ کے بعد اس امت میں سب سے بہترین شخص حضرت عمر فاروق ؓ ہیں اور ان کے بعد ایک تیسرا آدمی ہے لیکن حضرت علی ؓ نے اس کا نام نہیں لیا۔

795Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ وَبَعْدَ أَبِي بَكْرٍ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَلَوْ شِئْتُ أَخْبَرْتُكُمْ بِالثَّالِثِ لَفَعَلْتُ

ابوجحیفہ سے مروی ہے کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا اس امت میں نبی ﷺ کے بعد سب سے بہترین شخص حضرت صدیق اکبر ؓ ہیں اور حضرت صدیق اکبر ؓ کے بعد حضرت عمر فاروق ؓ ہیں اور اگر میں چاہوں تو تیسرے آدمی کا نام بھی بتاسکتا ہوں۔

796Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الزَّيَّاتُ حَدَّثَنِي عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ كَانَ أَبِي مِنْ شُرَطِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ تَحْتَ الْمِنْبَرِ فَحَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ صَعِدَ الْمِنْبَرَ يَعْنِي عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَحَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَصَلَّى عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ وَالثَّانِي عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَالَ يَجْعَلُ اللَّهُ تَعَالَى الْخَيْرَ حَيْثُ أَحَبَّ

عون بن ابی جحیفہ (رح) کہتے ہیں کہ میرے والد حضرت علی ؓ کے حفاظتی گارڈز میں سے تھے، وہ کہتے ہیں کہ ایک دن حضرت علی ؓ منبر پر رونق افروز ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء اور نبی ﷺ پر درود وسلام پڑھنے کے بعد فرمایا نبی ﷺ کے بعد اس امت میں سب سے بہترین شخص حضرت صدیق اکبر ؓ ہیں، دوسرے نمبر پر حضرت عمر فاروق ؓ ہیں اور اللہ جہاں چاہتا ہے خیر رکھ دیتا ہے۔

797Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَنْبَأَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا زَوَّجَهُ فَاطِمَةَ بَعَثَ مَعَهُ بِخَمِيلَةٍ وَوِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ وَرَحَيَيْنِ وَسِقَاءٍ وَجَرَّتَيْنِ فَقَالَ عَلِيٌّ لِفَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ذَاتَ يَوْمٍ وَاللَّهِ لَقَدْ سَنَوْتُ حَتَّى لَقَدْ اشْتَكَيْتُ صَدْرِي قَالَ وَقَدْ جَاءَ اللَّهُ أَبَاكِ بِسَبْيٍ فَاذْهَبِي فَاسْتَخْدِمِيهِ فَقَالَتْ وَأَنَا وَاللَّهِ قَدْ طَحَنْتُ حَتَّى مَجَلَتْ يَدَايَ فَأَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا جَاءَ بِكِ أَيْ بُنَيَّةُ قَالَتْ جِئْتُ لَأُسَلِّمَ عَلَيْكَ وَاسْتَحْيَا أَنْ تَسْأَلَهُ وَرَجَعَتْ فَقَالَ مَا فَعَلْتِ قَالَتْ اسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَهُ فَأَتَيْنَاهُ جَمِيعًا فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَقَدْ سَنَوْتُ حَتَّى اشْتَكَيْتُ صَدْرِي وَقَالَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَدْ طَحَنْتُ حَتَّى مَجَلَتْ يَدَايَ وَقَدْ جَاءَكَ اللَّهُ بِسَبْيٍ وَسَعَةٍ فَأَخْدِمْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ لَا أُعْطِيكُمَا وَأَدَعُ أَهْلَ الصُّفَّةِ تَطْوَ بُطُونُهُمْ لَا أَجِدُ مَا أُنْفِقُ عَلَيْهِمْ وَلَكِنِّي أَبِيعُهُمْ وَأُنْفِقُ عَلَيْهِمْ أَثْمَانَهُمْ فَرَجَعَا فَأَتَاهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ دَخَلَا فِي قَطِيفَتِهِمَا إِذَا غَطَّتْ رُءُوسَهُمَا تَكَشَّفَتْ أَقْدَامُهُمَا وَإِذَا غَطَّيَا أَقْدَامَهُمَا تَكَشَّفَتْ رُءُوسُهُمَا فَثَارَا فَقَالَ مَكَانَكُمَا ثُمَّ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمَا بِخَيْرٍ مِمَّا سَأَلْتُمَانِي قَالَا بَلَى فَقَالَ كَلِمَاتٌ عَلَّمَنِيهِنَّ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ تُسَبِّحَانِ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا وَتَحْمَدَانِ عَشْرًا وَتُكَبِّرَانِ عَشْرًا وَإِذَا أَوَيْتُمَا إِلَى فِرَاشِكُمَا فَسَبِّحَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَاحْمَدَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَكَبِّرَا أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ قَالَ فَوَاللَّهِ مَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ عَلَّمَنِيهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَالَ لَهُ ابْنُ الْكَوَّاءِ وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ فَقَالَ قَاتَلَكُمْ اللَّهُ يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ نَعَمْ وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے جب اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ ؓ کا نکاح ان سے کیا تو ان کے ساتھ جہیز کے طور پر روئیں دار کپڑے، چمڑے کا تکیہ جس میں گھاس بھری ہوئی تھی، دو چکیاں، مشکیزہ اور دو مٹکے بھی روانہ کئے، ایک دن حضرت علی ؓ نے حضرت فاطمہ ؓ سے کہا کہ اللہ کی قسم! کنوئیں سے پانی کھینچ کھینچ کر میرے تو سینے میں درد شروع ہوگیا ہے، آپ کے والد صاحب کے پاس کچھ قیدی آئے ہوئے ہیں، ان سے جا کر کسی خادم کی درخواست کیجئے، حضرت فاطمہ ؓ کہنے لگیں بخدا! چکی چلا چلا کر میرے ہاتھوں میں بھی گٹے پڑگئے ہیں۔ چناچہ وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں، نبی ﷺ نے آنے کی وجہ دریافت فرمائی، انہوں نے عرض کیا کہ سلام کرنے کے لئے حاضر ہوئی تھی، انہیں نبی ﷺ کے سامنے اپنی درخواست پیش کرتے ہوئے شرم آئی اور وہ واپس لوٹ آئیں، حضرت علی ؓ نے پوچھا کیا ہوا؟ فرمایا مجھے تو ان سے کچھ مانگتے ہوئے شرم آئی اس لئے واپس لوٹ آئی۔ اس کے بعد ہم دونوں اکٹھے ہو کر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، حضرت علی ؓ کہنے لگے یا رسول اللہ! کنوئیں سے پانی کھینچ کھینچ کر میرے سینے میں درد شروع ہوگیا ہے، حضرت فاطمہ ؓ کہنے لگیں کہ چکی چلا چلا کر میرے ہاتھوں میں گٹے پڑگئے ہیں، آپ کے پاس کچھ قیدی آئے ہوئے ہیں، ان میں سے کوئی ایک بطور خادم کے ہمیں بھی عنایت فرمادیں۔ یہ سن کر نبی ﷺ نے فرمایا بخدا! میں اہل صفہ کو چھوڑ کر جن کے پیٹ چپکے پڑے ہوئے ہیں اور ان پر خرچ کرنے کے لئے میرے پاس کچھ نہیں ہے، تمہیں کوئی خادم نہیں دے سکتا، بلکہ میں انہیں بیچ کر ان کی قیمت اہل صفہ پر خرچ کروں گا، اس پر وہ دونوں واپس چلے آئے، رات کے وقت نبی ﷺ ان کے گھر تشریف لے گئے، انہوں نے جو چادر اوڑھ رکھی تھی وہ اتنی چھوٹی تھی کہ اگر سر ڈھکتے تھے تو پاؤں کھل جاتے تھے اور اگر پاؤں ڈھکتے تو سر کھل جاتا تھا، نبی ﷺ کو دیکھ کر دونوں اٹھنے لگے، نبی ﷺ نے منع کردیا اور فرمایا کہ ہر نماز کے بعد دس دس مرتبہ سبحان اللہ، الحمدللہ اور اللہ اکبر کہہ لیا کرو اور جب بستر پر آیا کرو تو ٣٣ مرتبہ سبحان اللہ، ٣٣ مرتبہ الحمدللہ اور ٣٤ مرتبہ اللہ اکبر کہہ لیا کرو۔ (تمہاری ساری تھکاوٹ اور بیماری دور ہوجایا کرے گی)۔

798Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَلَدَ شَرَاحَةَ يَوْمَ الْخَمِيسِ وَرَجَمَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَقَالَ أَجْلِدُهَا بِكِتَابِ اللَّهِ وَأَرْجُمُهَا بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ایک مرتبہ حضرت علی ؓ نے شراحہ کو جمعرات کے دن کوڑے مارے اور جمعہ کے دن اسے سنگسار کردیا اور فرمایا میں نے کوڑے قرآن کریم کی وجہ سے مارے اور سنگسار سنت کی وجہ سے کیا۔

799Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَا وَرَجُلَانِ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِي وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ أَحْسِبُ فَبَعَثَهُمَا وَجْهًا وَقَالَ أَمَا إِنَّكُمَا عِلْجَانِ فَعَالِجَا عَنْ دِينِكُمَا ثُمَّ دَخَلَ الْمَخْرَجَ فَقَضَى حَاجَتَهُ ثُمَّ خَرَجَ فَأَخَذَ حَفْنَةً مِنْ مَاءٍ فَتَمَسَّحَ بِهَا ثُمَّ جَعَلَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ قَالَ فَكَأَنَّهُ رَآنَا أَنْكَرْنَا ذَلِكَ ثُمَّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْضِي حَاجَتَهُ ثُمَّ يَخْرُجُ فَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَأْكُلُ مَعَنَا اللَّحْمَ وَلَمْ يَكُنْ يَحْجُبُهُ عَنْ الْقُرْآنِ شَيْءٌ لَيْسَ الْجَنَابَةَ

عبداللہ بن سلمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اور دودیگر آدی جن میں سے ایک میری قوم کا آدمی تھا اور دوسرا بنو اسد میں سے تھا، حضرت علی ؓ نے ان دونوں کو اپنے سامنے بھیجا اور فرمایا کہ تم دونوں ابھی ناسمجھ ہو اس لئے دین کو سمجھنے کے لئے مشق کرو، پھر وہ بیت الخلاء تشریف لے گئے اور قضاء حاجت کر کے باہر نکلے تو ایک مٹھی بھرپانی لے کر اسے اپنے چہرے پر پھیرلیا اور قرآن پڑھنا شروع کردیا، جب انہوں نے دیکھا کہ ہمیں اس پر تعجب ہو رہا ہے تو فرمایا کہ نبی ﷺ بھی قضاء حاجت کر کے باہر نکلنے کے بعد قرآن کریم پڑھنا شروع کردیتے تھے اور ہمارے ساتھ گوشت بھی کھالیا کرتے تھے، آپ کو جنابت کے علاوہ کوئی چیز قرآن کریم کی تلاوت سے نہیں روک سکتی تھی۔

800Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ شَاكِيًا فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَقُولُ اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ أَجَلِي قَدْ حَضَرَ فَأَرِحْنِي وَإِنْ كَانَ مُتَأَخِّرًا فَارْفَعْنِي وَإِنْ كَانَ بَلَاءً فَصَبِّرْنِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ قُلْتَ فَأَعَادَ عَلَيْهِ مَا قَالَ قَالَ فَضَرَبَهُ بِرِجْلِهِ وَقَالَ اللَّهُمَّ عَافِهِ أَوْ اللَّهُمَّ اشْفِهِ شَكَّ شُعْبَةُ قَالَ فَمَا اشْتَكَيْتُ وَجَعِي ذَاكَ بَعْدُ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کا میرے پاس سے گذر ہوا، میں اس وقت بیمار تھا اور یہ دعاء کر رہا تھا کہ اے اللہ! اگر میری موت کا وقت قریب آگیا ہے تو مجھے اس بیماری سے راحت عطاء فرما اور مجھے اپنے پاس بلا لے، اگر اس میں دیر ہو تو مجھے اٹھالے اور اگر یہ کوئی آزمائش ہو تو مجھے صبرعطاء فرما، نبی ﷺ نے فرمایا تم کیا کہہ رہے ہو؟ میں نے اپنی بات پھر دہرا دی، نبی ﷺ نے مجھے پاؤں سے ٹھوکر ماری یعنی غصہ کا اظہار کیا اور دعاء فرمائی کہ اے اللہ! اسے عافیت اور شفاء عطاء فرما، حضرت علی ؓ کہتے ہیں کہ اس کے بعد مجھے وہ تکلیف کبھی نہیں ہوئی۔