عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بَلْجٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَوَّلُ مَنْ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ خَدِيجَةَ عَلِيٌّ وَقَالَ مَرَّةً أَسْلَمَ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت خدیجہ ؓ کے بعد بچوں میں سب سے پہلے نماز پڑھنے والے یا اسلام قبول کرنے والے حضرت علی ؓ ہیں۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے وصال کے وقت میری عمر پندرہ سال تھی۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ وَأَبُو بِشْرٍ عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ وَعَنْ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنْ الطَّيْرِ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے کچلی سے شکار کرنے والے ہر درندے اور پنجے سے شکار کرنے والے ہر پرندے سے منع فرمایا ہے۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ أَنْبَأَنَا ثَابِتٌ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا ثَابِتٌ قَالَ حَدَّثَنِي هِلَالٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبِيتُ اللَّيَالِيَ قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ الْمُتَتَابِعَةَ طَاوِيًا وَأَهْلُهُ لَا يَجِدُونَ عَشَاءً وَكَانَ عَامَّةُ خُبْزِهِمْ خُبْزَ الشَّعِيرِ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کئی کئی راتیں مسلسل اس طرح خالی پیٹ گذار دیتے تھے کہ اہل خانہ کو رات کا کھانا نہیں ملتا تھا اور اکثر انہیں کھانے کے لئے جو کی روٹی ملتی تھی وہ جو کی ہوتی تھی۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَحَسَنٌ قَالَا حَدَّثَنَا ثَابِتٌ قَالَ حَسَنٌ أَبُو زَيْدٍ قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنَا هِلَالٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أُسْرِيَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ ثُمَّ جَاءَ مِنْ لَيْلَتِهِ فَحَدَّثَهُمْ بِمَسِيرِهِ وَبِعَلَامَةِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَبِعِيرِهِمْ فَقَالَ نَاسٌ قَالَ حَسَنٌ نَحْنُ نُصَدِّقُ مُحَمَّدًا بِمَا يَقُولُ فَارْتَدُّوا كُفَّارًا فَضَرَبَ اللَّهُ أَعْنَاقَهُمْ مَعَ أَبِي جَهْلٍ وَقَالَ أَبُو جَهْلٍ يُخَوِّفُنَا مُحَمَّدٌ بِشَجَرَةِ الزَّقُّومِ هَاتُوا تَمْرًا وَزُبْدًا فَتَزَقَّمُوا وَرَأَى الدَّجَّالَ فِي صُورَتِهِ رُؤْيَا عَيْنٍ لَيْسَ رُؤْيَا مَنَامٍ وَعِيسَى وَمُوسَى وَإِبْرَاهِيمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدَّجَّالِ فَقَالَ أَقْمَرُ هِجَانًا قَالَ حَسَنٌ قَالَ رَأَيْتُهُ فَيْلَمَانِيًّا أَقْمَرَ هِجَانًا إِحْدَى عَيْنَيْهِ قَائِمَةٌ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ كَأَنَّ شَعْرَ رَأْسِهِ أَغْصَانُ شَجَرَةٍ وَرَأَيْتُ عِيسَى شَابًّا أَبْيَضَ جَعْدَ الرَّأْسِ حَدِيدَ الْبَصَرِ مُبَطَّنَ الْخَلْقِ وَرَأَيْتُ مُوسَى أَسْحَمَ آدَمَ كَثِيرَ الشَّعْرِ قَالَ حَسَنٌ الشَّعَرَةِ شَدِيدَ الْخَلْقِ وَنَظَرْتُ إِلَى إِبْرَاهِيمَ فَلَا أَنْظُرُ إِلَى إِرْبٍ مِنْ آرَابِهِ إِلَّا نَظَرْتُ إِلَيْهِ مِنِّي كَأَنَّهُ صَاحِبُكُمْ فَقَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام سَلِّمْ عَلَى مَالِكٍ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کو شب معراج بیت المقدس کی سیر کرائی گئی، پھر آپ ﷺ ہی اس رات واپس بھی آگئے اور قریش کو اپنے جانے کے متعلق اور بیت المقدس کی علامات اور ان کے ایک قافلے کے متعلق بتایا، کچھ لوگ یہ کہنے لگے کہ کیا محمد کی اس بات کی ہم تصدیق کرسکتے ہیں، یہ کہہ کر وہ دوبارہ کفر کی طرف لوٹ گئے، اللہ تعالیٰ نے ابو جہل کے ساتھ ان کی گردنیں بھی مار دیں۔ ایک مرتبہ ابو جہل نے کہا تھا کہ محمد ﷺ ہمیں تھوہڑ کے درخت سے ڈراتے ہیں، تم میرے پاس کھجور اور جھاگ لے کر آؤ، م ہیں تمہیں تھوہڑ بنا کر دکھاتا ہوں۔ اسی شب معراج میں نبی ﷺ نے دجال کو اپنی آنکھوں سے دیکھا جو خواب میں دیکھنا نہ تھا، نیز حضرت عیسی، موسیٰ اور ابراہیم (علیہم السلام) کی بھی زیارت فرمائی تھی، نبی ﷺ سے کسی نے دجال کے متعلق پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے اسے بڑے ڈیل ڈول کا اور سبزی مائل سفید رنگ والا پایا، اس کی ایک آنکھ قائم تھی اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ وہ کوئی چمکتا ہوا موتی ہو اور اس کے سر کے بال کسی درخت کی ٹہنیوں کی طرح تھے۔ میں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھا تو وہ سفید رنگ کے جوان تھے، ان کے سر کے بال گھنگھریالے تھے، نگاہیں تیز تھیں، جسمانی اعتبار سے پتلے پیٹ والے تھے، میں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھا تو وہ انتہائی گندمی رنگ اور گھنے بالوں والے تھے اور جسمانی اعتبار سے بڑے مضبوط تھے، نیز میں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو دیکھا، ان کے جسم کا کوئی عضو ایسا نہ تھا جو میں نے نہ دیکھا ہو اور اپنے آپ میں وہ عضو اسی طرح نہ دیکھا ہو، گویا وہ ہو بہو تمہارے پیغمبر کی طرح ہیں، پھر حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے عرض کیا مالک کو جو داروغہ جہنم ہے، سلام کیجئے، چناچہ میں نے انہیں سلام کیا۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَحَسَنٌ قَالَا حَدَّثَنَا ثَابِتٌ حَدَّثَنَا هِلَالٌ عَنْ عِكْرِمَةَ سُئِلَ قَالَ حَسَنٌ سَأَلْتُ عِكْرِمَةَ عَنِ الصَّائِمِ أَيَحْتَجِمُ فَقَالَ إِنَّمَا كُرِهَ لِلضَّعْفِ وَحَدَّثَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ حَسَنٌ ثُمَّ حَدَّثَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ مِنْ أَكْلَةٍ أَكَلَهَا مِنْ شَاةٍ مَسْمُومَةٍ سَمَّتْهَا امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِ خَيْبَرَ آخِرُ أَحَادِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حالت احرام میں سینگی لگوائی اور اس کی وجہ زہریلی بکری کا وہ لقمہ تھا جو نبی ﷺ نے کھالیا تھا اور خیبر کی ایک عورت نے اس میں زہر ملا دیا تھا۔ تنبیہ: یہاں آکر حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی مرویات مکمل ہوگئیں، آگے مسند کو عبداللہ بن احمد (رح) سے نقل کرنے والے ابوبکرا لقطیعی (رح) کی کچھ احادیث آرہی ہیں جو جزء ثالث کے آخر میں تھیں حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کی خاطر آپ کے احرام باندھنے سے قبل جانوروں کے گلے میں ڈالنے والے ہاروں کی رسیاں بٹا کرتی تھی۔ حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو فروح و ریحان کی تلاوت کرتے ہوئے سنا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ابوبکر ؓ غار میں میرے ساتھ اور مونس رہے، مسجد میں کھلنے والی ہر کھڑکی کو بند کردو سوائے حضرت ابوبکر ؓ کی کھڑکی کے۔ حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میری امت کا ایک ایک آدمی لوگوں کی ایک بڑی جماعت کی سفارش کرے گا اور وہ سب اس کی سفارش سے جنت میں داخل ہوں گے اور ایسا بھی ہوگا کہ ایک آدمی کسی شخص کے لئے اور اس کے اہل خانہ کے لئے سفارش کرے گا اور وہ سب بھی اس کی سفارش سے جنت میں داخل ہوں گے۔ حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے ہمارے یہاں تشریف لائے تو آپ ﷺ کے صحابہ میں سوائے حضرت ابوبکر ؓ کے کوئی دوسرا کھچڑی بالوں والا نہ تھا، بعد میں وہ مہندی اور وسمہ سے انہیں رنگنے لگے تھے۔ حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ مسح علی الخفین کے متعلق نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ مقیم کے لئے ایک دن اور رات اور مسافر کے لئے تین دن اور راتیں اجازت ہے۔ حضرت جابربن سمرہ ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو کھڑے ہو کر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ہے، لیکن جو شخص تم سے یہ بیان کرے کہ اس نے نبی ﷺ کو ہمیشہ کھڑے ہو کر خطبہ دیتے ہوئے سنا ہے تو وہ غلط بیانی کرتا ہے، کیونکہ بعض اوقات ایسا ہوتا تھا کہ نبی ﷺ باہر نکلتے اور لوگوں کی تعداد کم دیکھتے تو آپ ﷺ بیٹھ جاتے، پھر جب لوگ زیادہ ہوجاتے تو آپ ﷺ کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمانے لگتے۔ حضرت ابوبرزہ اسلمی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔ حضرت ابو موسیٰ ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر کوئی عورت انصار کے دو گھروں کے درمیان یا اپنے والدین کے یہاں مہمان بنے، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ قَالَ رَأَيْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ رَمَى الْجَمْرَةَ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي ثُمَّ قَالَ هَذَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن مسعود ؓ کو بطن وادی سے جمرہ عقبہ کی رمی کرتے ہوئے دیکھا ہے، جس کے بعد انہوں نے فرمایا اس ذات کی قسم! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، یہی وہ جگہ ہے جہاں نبی ﷺ پر سورت بقرہ نازل ہوئی تھی۔
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنْبَأَنَا حُصَيْنٌ عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُدْرِكٍ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ لَبَّى حِينَ أَفَاضَ مِنْ جَمْعٍ فَقِيلَ أَعْرَابِيٌّ هَذَا فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ أَنَسِيَ النَّاسُ أَمْ ضَلُّوا سَمِعْتُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ يَقُولُ فِي هَذَا الْمَكَانِ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ ابن مسعود ؓ مزدلفہ سے واپسی پر تلبیہ پڑھتے رہے، لوگ کہنے لگے کہ کیا یہ کوئی دیہاتی ہے؟ حضرت ابن مسعود ؓ فرمانے لگے لوگ بھول گئے یا بہک گئے؟ جس ذات پر سورت بقرہ کا نزول ہوا میں نے اس ذات کو اس مقام پر تلبیہ پڑھتے ہوئے سنا ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنْبَأَنَا حُصَيْنٌ عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ عَنْ أَبِي حَيَّانَ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لِيَ اقْرَأْ عَلَيَّ مِنْ الْقُرْآنِ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ أَلَيْسَ مِنْكَ تَعَلَّمْتُهُ وَأَنْتَ تُقْرِئُنَا فَقَالَ إِنِّي أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ اقْرَأْ عَلَيَّ مِنْ الْقُرْآنِ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَيْسَ عَلَيْكَ أُنْزِلَ وَمِنْكَ تَعَلَّمْنَاهُ قَالَ بَلَى وَلَكِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي
حضرت ابوحیان اشجعی (رح) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابن مسعود ؓ نے مجھ سے فرمایا مجھے قرآن پڑھ کر سناؤ میں نے عرض کیا کہ میں نے تو آپ ہی سے قرآن سیکھا ہے اور آپ ہی ہمیں قرآن پڑھاتے ہیں (تو میں آپ کو کیا سناؤں؟ ) انہوں نے فرمایا کہ ایک دن میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا مجھے پڑھ کر سناؤ، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ پر تو قرآن نازل ہوا ہے اور آپ ہی سے ہم نے اسے سیکھا ہے؟ فرمایا ایسا ہی ہے، لیکن میں چاہتا ہوں کہ اپنے علاوہ کسی اور سے سنوں۔
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنْبَأَنَا مُغِيرَةُ عَنْ أَبِي رَزِينٍ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَرَأْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سُورَةِ النِّسَاءِ فَلَمَّا بَلَغْتُ هَذِهِ الْآيَةَ فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا قَالَ فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کے سامنے سورت نساء میں سے تلاوت شروع کی، جب میں اس آیت پر پہنچا کہ " وہ کیسا وقت ہوگا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لے کر آئیں گے اور آپ کو ان سب پر گواہ بنائیں گے " تو آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنْبَأَنَا سَيَّارٌ وَمُغِيرَةُ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ خَصْلَتَانِ يَعْنِي إِحْدَاهُمَا سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْأُخْرَى مِنْ نَفْسِي مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَجْعَلُ لِلَّهِ نِدًّا دَخَلَ النَّارَ وَأَنَا أَقُولُ مَنْ مَاتَ وَهُوَ لَا يَجْعَلُ لِلَّهِ نِدًّا وَلَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ
حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ دو باتیں ہیں جن میں سے ایک میں نے نبی ﷺ سے سنی ہے اور دوسری میں اپنی طرف سے کہتا ہوں، نبی ﷺ نے تو یہ فرمایا تھا کہ جو شخص اس حال میں مرجائے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہو، وہ جہنم میں داخل ہوگا اور میں یہ کہتا ہوں کہ جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، وہ جنت میں داخل ہوگا۔
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ النُّطْفَةَ تَكُونُ فِي الرَّحِمِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا عَلَى حَالِهَا لَا تَغَيَّرُ فَإِذَا مَضَتْ الْأَرْبَعُونَ صَارَتْ عَلَقَةً ثُمَّ مُضْغَةً كَذَلِكَ ثُمَّ عِظَامًا كَذَلِكَ فَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يُسَوِّيَ خَلْقَهُ بَعَثَ إِلَيْهَا مَلَكًا فَيَقُولُ الْمَلَكُ الَّذِي يَلِيهِ أَيْ رَبِّ أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى أَشَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ أَقَصِيرٌ أَمْ طَوِيلٌ أَنَاقِصٌ أَمْ زَائِدٌ قُوتُهُ وَأَجَلُهُ أَصَحِيحٌ أَمْ سَقِيمٌ قَالَ فَيَكْتُبُ ذَلِكَ كُلَّهُ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ فَفِيمَ الْعَمَلُ إِذَنْ وَقَدْ فُرِغَ مِنْ هَذَا كُلِّهِ قَالَ اعْمَلُوا فَكُلٌّ سَيُوَجَّهُ لِمَا خُلِقَ لَهُ
حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ماں کے رحم میں چالیس دن تک تو نطفہ اپنی حالت پر رہتا ہے، اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی، جب چالیس دن گذر جاتے ہیں تو وہ جما ہوا خون بن جاتا ہے، چالیس دن بعد وہ لوتھڑا بن جاتا ہے، اسی طرح چالیس دن بعد اس پر ہڈیاں چڑھائی جاتی ہیں، پھر جب اللہ کا ارادہ ہوتا ہے کہ وہ اس کی شکل و صورت برابر کر دے تو اس کے پاس ایک فرشتہ بھیجتا ہے، چناچہ اس خدمت پر مقرر فرشتہ اللہ سے پوچھتا ہے کہ پروردگار! یہ مذکر ہوگا یا مؤ نث! بدبخت ہوگا یا خوش بخت؟ ٹھگنا ہوگا یا لمبے قد کا؟ ناقص الخلقت ہوگا یا زائد؟ اس کی روزی کیا ہوگی اور اس کی مدت عمر کتنی ہوگی؟ اور یہ تندرست ہوگا یا بیمار؟ یہ سب چیزیں لکھ لی جاتی ہیں، یہ سن کر لوگوں میں سے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ! ﷺ جب یہ ساری چیزیں لکھی جاچکی ہیں تو پھر عمل کا کیا فائدہ؟ فرمایا تم عمل کرتے رہو، کیونکہ ہر شخص کو اسی کام کی طرف متوجہ کیا جائے گا جس کے لئے اس کی پیدائش ہوئی ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنْبَأَنَا الْعَوَّامُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلًى لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ لَهُمَا ثَلَاثَةٌ مِنْ الْوَلَدِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلَّا كَانُوا لَهُ حِصْنًا حَصِينًا مِنْ النَّارِ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنْ كَانَ اثْنَيْنِ قَالَ وَإِنْ كَانَا اثْنَيْنِ فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أُقَدِّمْ إِلَّا اثْنَيْنِ قَالَ وَإِنْ كَانَا اثْنَيْنِ قَالَ فَقَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ أَبُو الْمُنْذِرِ سَيِّدُ الْقُرَّاءِ لَمْ أُقَدِّمْ إِلَّا وَاحِدًا قَالَ فَقِيلَ لَهُ وَإِنْ كَانَ وَاحِدًا فَقَالَ إِنَّمَا ذَاكَ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى
حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جن مسلمان میاں بیوی کے تین بچے بلوغت کو پہنچنے سے پہلے ہی فوت ہوجائیں، وہ ان کے لئے جہنم سے حفاظت کا ایک مضطوط قلعہ بن جائیں گے، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ! اگر کسی کے دو بچے فوت ہوئے ہوں؟ نبی ﷺ نے فرمایا پھر بھی یہی حکم ہے، (حضرت ابوذر غفاری ؓ کہنے لگے یا رسول اللہ! میں نے تو دو بچے آگے بھیجے ہیں؟ فرمایا پھر بھی یہی حکم ہے) حضرت ابی بن کعب ؓ جو سید القراء کے نام سے مشہور ہیں، عرض کرنے لگے کہ میرا صرف ایک بچہ فوت ہوا ہے؟ لوگوں نے نبی ﷺ سے پوچھا یا رسول اللہ! ﷺ اگر کسی کا ایک بچہ فوت ہوا ہو؟ نبی ﷺ نے فرمایا اس چیز کا تعلق تو صدمہ کے ابتدائی لمحات سے ہے (کہ اس وقت کون صبر کرتا ہے اور کون جزع فزع؟ کیونکہ بعد میں تو سب ہی صبر کرلیتے ہیں )
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنْبَأَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ الْمُشْرِكِينَ شَغَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ عَنْ أَرْبَعِ صَلَوَاتٍ حَتَّى ذَهَبَ مِنْ اللَّيْلِ مَا شَاءَ اللَّهُ قَالَ قَالَ فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعِشَاءَ
حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن مشرکین نے نبی ﷺ کو چار نمازوں کے ان کے وقت کے پر ادا کرنے سے مشغول کردیا، یہاں تک کہ رات کا بھی کچھ حصہ گذر گیا، فراغت کے بعد نبی ﷺ نے حضرت بلال ؓ کو حکم دیا، انہوں نے اذان دی، اقامت کہی اور نبی ﷺ نے ظہر کی نماز پڑھائی، پھر اقامت کہہ کر عصر کی نماز پڑھائی، پھر اقامت کے بعد مغرب کی نماز پڑھائی، پھر اقامت کہلوا کر عشاء کی نماز پڑھائی۔
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنْبَأَنَا الْعَوَّامُ عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ عَنْ مُؤْثِرِ بْنِ عَفَازَةَ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَقِيتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى قَالَ فَتَذَاكَرُوا أَمْرَ السَّاعَةِ فَرَدُّوا أَمْرَهُمْ إِلَى إِبْرَاهِيمَ فَقَالَ لَا عِلْمَ لِي بِهَا فَرَدُّوا الْأَمْرَ إِلَى مُوسَى فَقَالَ لَا عِلْمَ لِي بِهَا فَرَدُّوا الْأَمْرَ إِلَى عِيسَى فَقَالَ أَمَّا وَجْبَتُهَا فَلَا يَعْلَمُهَا أَحَدٌ إِلَّا اللَّهُ ذَلِكَ وَفِيمَا عَهِدَ إِلَيَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنَّ الدَّجَّالَ خَارِجٌ قَالَ وَمَعِي قَضِيبَانِ فَإِذَا رَآنِي ذَابَ كَمَا يَذُوبُ الرَّصَاصُ قَالَ فَيُهْلِكُهُ اللَّهُ حَتَّى إِنَّ الْحَجَرَ وَالشَّجَرَ لَيَقُولُ يَا مُسْلِمُ إِنَّ تَحْتِي كَافِرًا فَتَعَالَ فَاقْتُلْهُ قَالَ فَيُهْلِكُهُمْ اللَّهُ ثُمَّ يَرْجِعُ النَّاسُ إِلَى بِلَادِهِمْ وَأَوْطَانِهِمْ قَالَ فَعِنْدَ ذَلِكَ يَخْرُجُ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ فَيَطَئُونَ بِلَادَهُمْ لَا يَأْتُونَ عَلَى شَيْءٍ إِلَّا أَهْلَكُوهُ وَلَا يَمُرُّونَ عَلَى مَاءٍ إِلَّا شَرِبُوهُ ثُمَّ يَرْجِعُ النَّاسُ إِلَيَّ فَيَشْكُونَهُمْ فَأَدْعُو اللَّهَ عَلَيْهِمْ فَيُهْلِكُهُمْ اللَّهُ وَيُمِيتُهُمْ حَتَّى تَجْوَى الْأَرْضُ مِنْ نَتْنِ رِيحِهِمْ قَالَ فَيُنْزِلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمَطَرَ فَتَجْرُفُ أَجْسَادَهُمْ حَتَّى يَقْذِفَهُمْ فِي الْبَحْرِ قَالَ أَبِي ذَهَبَ عَلَيَّ هَاهُنَا شَيْءٌ لَمْ أَفْهَمْهُ كَأَدِيمٍ وَقَالَ يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ ثُمَّ تُنْسَفُ الْجِبَالُ وَتُمَدُّ الْأَرْضُ مَدَّ الْأَدِيمِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى حَدِيثِ هُشَيْمٍ قَالَ فَفِيمَا عَهِدَ إِلَيَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنَّ ذَلِكَ إِذَا كَانَ كَذَلِكَ فَإِنَّ السَّاعَةَ كَالْحَامِلِ الْمُتِمِّ الَّتِي لَا يَدْرِي أَهْلُهَا مَتَى تَفْجَؤُهُمْ بِوِلَادِهَا لَيْلًا أَوْ نَهَارًا
حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا شب معراج میری ملاقات حضرت ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہ السلام) سے ہوئی، انہوں نے قیامت کا تذکرہ چھیڑ دیا اور یہ معاملہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے سامنے پیش کیا، انہوں نے فرمایا کہ مجھے تو اس کا کچھ علم نہیں ہے، پھر انہوں نے یہ معاملہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے پیش کیا، انہوں نے بھی فرمایا کہ مجھے بھی اس کا کچھ علم نہیں ہے، پھر یہ معاملہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے پیش ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ اس کا حقیقی علم تو اللہ کے علاوہ کسی کے پاس نہیں ہے، البتہ میرے پروردگار نے مجھے یہ بتا رکھا ہے کہ قیامت کے قریب دجال کا خروج ہوگا، میرے پاس دو شاخیں ہوں گی، دجال مجھے دیکھتے ہی اس طرح پگھلنا شروع ہوجائے گا جیسے قلعی پگھل جاتی ہے، اس کے بعد اللہ اسے ختم کروا دے گا، یہاں تک کہ شجر و حجر پکار پکار کر کہیں گے کہ اے مسلم! یہ میرے نیچے کافر چھپا ہوا ہے، آکر اسے قتل کر، یوں اللہ ان سب کو بھی ختم کروا دے گا۔ پھر لوگ اپنے شہروں اور وطنوں کو لوٹ جائیں گے، اس وقت یاجوج ماجوج کا خروج ہوگا جو ہر بلندی سے پھسلتے ہوئے محسوس ہوں گے، وہ تمام شہروں کو روند ڈالیں گے، میں اللہ سے ان کے خلاف بد دعاء کروں گا، تو اللہ تعالیٰ ان پر موت کو مسلط کر دے گا یہاں تک کہ ساری زمین ان کی بدبو سے بھر جائے گی، پھر اللہ تعالیٰ بارش برسائیں گے جو ان کے جسموں کو بہا کرلے جائے گی اور سمندر میں پھینک دے گی، (میرے والد صاحب کہتے ہیں کہ یہاں کچھ رہ گیا ہے جو میں سمجھ نہیں سکا، بہرحال دوسرے راوی کہتے ہیں) اس کے بعد پہاڑوں کو گرا دیا جائے گا اور زمین کو چمڑے کی طرح کھینچ دیا جائے گا میرے رب نے مجھ سے وعدہ کر رکھا ہے کہ جب یہ واقعات پیش آجائیں تو قیامت کی مثال اس امید والی اونٹنی کی ہوگی جس کی مدت حمل پوری ہوچکی ہو اور اس کے مالک کو معلوم نہ ہو کہ کب اچانک ہی اس کے یہاں دن یا رات میں بچہ پیدا ہوجائے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ فُلَانًا نَامَ الْبَارِحَةَ عَنْ الصَّلَاةِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ الشَّيْطَانُ بَالَ فِي أُذُنِهِ أَوْ فِي أُذُنَيْهِ
حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ فلاں شخص رات کو نماز سے غافل ہو کر سوتا رہا، نبی ﷺ نے فرمایا اس کے کان میں شیطان نے پیشاب کردیا ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ قَالَ كُنْتُ مَعَ مَسْرُوقٍ فِي بَيْتٍ فِيهِ تِمْثَالُ مَرْيَمَ فَقَالَ مَسْرُوقٌ هَذَا تِمْثَالُ كِسْرَى فَقُلْتُ لَا وَلَكِنْ تِمْثَالُ مَرْيَمَ فَقَالَ مَسْرُوقٌ أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُصَوِّرُونَ
مسلم بن صبیح کہتے ہیں کہ میں مسروق کے ساتھ ایک ایسے گرجے میں گیا جہاں حضرت مریم علیہا السلام کی مورتی رکھی ہوئی تھی، مسروق نے پوچھا کیا یہ کسری کی مورتی ہے؟ میں نے کہا نہیں، بلکہ حضرت مریم (علیہا السلام) کی مورتی ہے، فرمایا میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کو نبی ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب تصویر ساز لوگوں کو ہوگا۔
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ هُوَ الْأَزْرَقُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَتَمَثَّلَ بِمَثَلِي
حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جسے خواب میں میری زیارت نصیب ہوجائے اسے یقین کرلینا چاہئے کہ اس نے میری ہی زیارت کی ہے کیونکہ شیطان میری شکل و صورت اختیار کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً فَلَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا فَإِنَّ ذَلِكَ يَحْزُنُهُ
حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم تین آدمی ہو تو تیسرے کو چھوڑ کردو آدمی سرگوشی نہ کرنے لگا کرو کیونکہ اس سے تیسرے کو غم ہوگا۔
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ خُصَيْفٍ حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ فَقَامُوا صَفَّيْنِ فَقَامَ صَفٌّ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفٌّ مُسْتَقْبِلَ الْعَدُوِّ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّفِّ الَّذِينَ يَلُونَهُ رَكْعَةً ثُمَّ قَامُوا فَذَهَبُوا فَقَامُوا مَقَامَ أُولَئِكَ مُسْتَقْبِلَ الْعَدُوِّ وَجَاءَ أُولَئِكَ فَقَامُوا مَقَامَهُمْ فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ قَامُوا فَصَلَّوْا لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمُوا ثُمَّ ذَهَبُوا فَقَامُوا مَقَامَ أُولَئِكَ مُسْتَقْبِلَ الْعَدُوِّ وَرَجَعَ أُولَئِكَ إِلَى مَقَامِهِمْ فَصَلَّوْا لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمُوا
حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ہمیں نماز خوف پڑھائی، صحابہ کرام ؓ دو صفوں میں کھڑے ہوئے، ایک صف نبی ﷺ کے پچھے اور دوسری صف دشمن کے سامنے، نبی ﷺ نے اپنے پیچھے صف میں کھڑے ہوئے لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ لوگ کھڑے ہو کر چلے گئے اور ان لوگوں کی جگہ جا کر دشمن کے سامنے کھڑے ہوگئے اور دوسری صف والے آگئے اور پہلی صف والوں کی جگہ پر کھڑے ہوگئے، نبی ﷺ نے انہیں بھی ایک رکعت پڑھائی اور خود سلام پھیر دیا، پھر ان لوگوں نے کھڑے ہو کر خود ہی ایک رکعت پڑھی اور سلام پھیر کر پہلی صف والوں کی جگہ جا کر دشمن کے سامنے کھڑے ہوگئے اور پہلی صف والوں نے اپنی جگہ واپس آکر ایک رکعت پڑھی اور سلام پھیر دیا۔