حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنْبَأَنَا حُصَيْنٌ عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُدْرِكٍ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ لَبَّى حِينَ أَفَاضَ مِنْ جَمْعٍ فَقِيلَ أَعْرَابِيٌّ هَذَا فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ أَنَسِيَ النَّاسُ أَمْ ضَلُّوا سَمِعْتُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ يَقُولُ فِي هَذَا الْمَكَانِ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ ابن مسعود ؓ مزدلفہ سے واپسی پر تلبیہ پڑھتے رہے، لوگ کہنے لگے کہ کیا یہ کوئی دیہاتی ہے؟ حضرت ابن مسعود ؓ فرمانے لگے لوگ بھول گئے یا بہک گئے؟ جس ذات پر سورت بقرہ کا نزول ہوا میں نے اس ذات کو اس مقام پر تلبیہ پڑھتے ہوئے سنا ہے۔