عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْأَمَةِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُمْ تَمَارَوْا فِي صَوْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ فَأَرْسَلَتْ أُمُّ الْفَضْلِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَبَنٍ فَشَرِبَ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ عرفہ کے دن صحابہ کرام ؓ کو نبی ﷺ کے روزے کے حوالے سے شک پیدا ہوا تو حضرت ام الفضل ؓ نے نبی ﷺ کی خدمت میں دودھ بھجوا دیا، نبی ﷺ نے اسے نوش فرما لیا ( اور صحابہ کرام ؓ کا شک دور ہوگیا)
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ قَالَ وَكِيعٌ بِالْقَاحُوحَةِ وَهُوَ صَائِمٌ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ نے " قاحہ " نامی جگہ میں سینگی لگوا کر خون نکلوایا، اس وقت آپ ﷺ روزے سے بھی تھے۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ عُمَرَ سَمِعَهُ مِنَ الْحَكَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ قَالَ انْتَهَيْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ رِدَاءَهُ فِي زَمْزَمَ فَقُلْتُ أَخْبِرْنِي عَنْ عَاشُورَاءَ أَيُّ يَوْمٍ أَصُومُهُ فَقَالَ إِذَا رَأَيْتَ هِلَالَ الْمُحَرَّمِ فَاعْدُدْ فَأَصْبِحْ مِنْ التَّاسِعَةِ صَائِمًا قَالَ قُلْتُ أَكَذَاكَ كَانَ يَصُومُهُ مُحَمَّدٌ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ قَالَ نَعَمْ
حکم بن اعرج کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن عباس ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ چاہ زمزم سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے، میں بھی ان کے پاس جا کر بیٹھ گیا، وہ بہترین ہم نشین تھے، میں نے ان سے عرض کیا کہ مجھے یوم عاشورہ کے متعلق کچھ بتائیے، انہوں نے فرمایا کہ تم اس کے متعلق کس حوالے سے پوچھنا چاہ رہے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ روزے کے حوالے سے، یعنی کس دن کا روزہ رکھوں؟ فرمایا جب محرم کا چاند دیکھ لو تو اس کی تاریخ شمار کرتے رہو، جب نویں تاریخ کی صبح ہو تو روزہ رکھ لو، میں نے عرض کیا کہ کیا نبی ﷺ اسی طرح روزہ رکھتے تھے؟ فرمایا ہاں
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ مَوْلًى لِابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَئِنْ بَقِيتُ إِلَى قَابِلٍ لَأَصُومَنَّ الْيَوْمَ التَّاسِعَ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر میں آئندہ سال تک زندہ رہا تو دسویں محرم کے ساتھ نویں محرم کا روزہ بھی رکھوں گا۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَأْكُلُوا الطَّعَامَ مِنْ فَوْقِهِ وَكُلُوا مِنْ جَوَانِبِهِ فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ مِنْ فَوْقِهِ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا پیالے (برتن) کے کناروں سے کھانا کھایا کرو، درمیان سے نہ کھایا کرو، کیونکہ کھانے کے درمیان میں برکت نازل ہوتی ہے ( اور سب طرف پھیلتی ہے)
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَابْنُ جَعْفَرٍ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَتَّخِذُوا شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے کسی ذی روح چیز کو باندھ کر اس پر نشانہ صحیح کرنے سے منع فرمایا ہے۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَتَّخِذُوا شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ نَهَى أَنْ يُتَّخَذَ شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کسی ذی روح چیز کو باندھ کر اس پر نشانہ صحیح مت کرو۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ جَابِرٍ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمَلَهُ وَحَمَلَ أَخَاهُ هَذَا قُدَّامَهُ وَهَذَا خَلْفَهُ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے انہیں اور ان کے بھائی کو اٹھا لیا اور ایک کو اپنے پیچھے بٹھا لیا اور ایک کو اپنے آگے۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ أَهْدَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَجُزَ حِمَارٍ يَقْطُرُ دَمًا وَهُوَ مُحْرِمٌ فَرَدَّهُ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صعب بن جثامہ ؓ نے نبی ﷺ کی خدمت میں ایک حمار کی ٹانگ پیش کی، جس میں سے خون ٹپک رہا تھا لیکن نبی ﷺ نے اسے واپس کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم محرم ہیں۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ سَمِعْتُ مِنْهُ قَالَ ذُكِرَ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ الضَّبُّ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ جُلَسَائِهِ أُتِيَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُحِلَّهُ وَلَمْ يُحَرِّمْهُ فَقَالَ بِئْسَ مَا تَقُولُونَ إِنَّمَا بُعِثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحِلًّا وَمُحَرِّمًا جَاءَتْ أُمُّ حُفَيْدٍ بِنْتُ الْحَارِثِ تَزُورُ أُخْتَهَا مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ وَمَعَهَا طَعَامٌ فِيهِ لَحْمُ ضَبٍّ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَمَا اغْتَبَقَ فَقُرِّبَ إِلَيْهِ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ فِيهِ لَحْمَ ضَبٍّ فَكَفَّ يَدَهُ فَأَكَلَهُ مَنْ عِنْدَهُ وَلَوْ كَانَ حَرَامًا نَهَاهُمْ عَنْهُ وَقَالَ لَيْسَ بِأَرْضِنَا وَنَحْنُ نَعَافُهُ
یزید بن اصم کہتے کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس ؓ کے سامنے گوہ کا تذکرہ ہوا تو ان کی مجلس میں شریک ایک آدمی نے کہا کہ نبی ﷺ کی خدمت میں اسے پیش کیا گیا تو آپ ﷺ نے اسے حلال قرار دیا اور نہ ہی حرام، اس پر حضرت ابن عباس ؓ کہنے لگے کہ تم نے غلط کہا، نبی ﷺ کو تو بھیجا ہی اس لئے گیا تھا کہ حلال و حرام کی تعیین کردیں۔ پھر فرمایا دراصل ایک مرتبہ ام المومنین حضرت میمونہ ؓ کے یہاں تھے، وہاں ام حفید ؓ اپنی بہن حضرت میمونہ ؓ سے ملاقات کے لئے آئی ہوئی تھیں، ان کے ساتھ کھانا بھی تھا جس میں گوہ کا گوشت تھا، شام کو نبی ﷺ تشریف لائے تو اسے نبی ﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا، نبی ﷺ نے اپنا ہاتھ روک لیا لیکن وہاں موجود لوگوں نے اسے کھایا، اگر یہ حرام ہوتی تو نبی صلی اللہ انہیں منع فرما دیتے، البتہ نبی ﷺ نے فرمایا تھا یہ ہمارے علاقے میں نہیں ہوتی اس لئے ہم اس سے بچتے ہیں۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ وَهَذِهِ سَوَاءٌ ضَمَّ بَيْنَ إِبْهَامِهِ وَخِنْصَرِهِ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا انگوٹھا اور چھوٹی انگلی دونوں برابر ہیں۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَأَبُو عَامِرٍ قَالَا حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص ہدیہ دینے کے بعد واپس مانگتا ہے اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو قئی کر کے اسے دوبارہ چاٹ لے۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَيِّمُ أَوْلَى بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا قَالَ وَصُمَاتُهَا إِقْرَارُهَا
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا شوہر دیدہ عورت کو اس کے ولی کی نسبت اپنی ذات پر زیادہ اختیار حاصل ہے البتہ کنواری عورت سے اس کی اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی بھی اجازت ہے۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سَلَمَةَ عَنْ عِمْرَانَ أَبِي الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَتْ قُرَيْشٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُصْبِحْ لَنَا الصَّفَا ذَهَبَةً فَإِنْ أَصْبَحَتْ ذَهَبَةً اتَّبَعْنَاكَ وَعَرَفْنَا أَنَّ مَا قُلْتَ كَمَا قُلْتَ فَسَأَلَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ إِنْ شِئْتَ أَصْبَحَتْ لَهُمْ هَذِهِ الصَّفَا ذَهَبَةً فَمَنْ كَفَرَ مِنْهُمْ بَعْدَ ذَلِكَ عَذَّبْتُهُ عَذَابًا لَا أُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنْ الْعَالَمِينَ وَإِنْ شِئْتَ فَتَحْنَا لَهُمْ أَبْوَابَ التَّوْبَةِ قَالَ يَا رَبِّ لَا بَلْ افْتَحْ لَهُمْ أَبْوَابَ التَّوْبَةِ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ قریش نے نبی ﷺ سے یہ مطالبہ کیا کہ اپنے رب سے دعاء کیجئے کہ وہ صفا پہاڑی کو ہمارے لئے سونے کا بنا دے، ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے، نبی ﷺ نے فرمایا کیا واقعی تم ایمان لے آؤ گے؟ انہوں نے کہا جی ہاں! نبی ﷺ نے دعاء فرما دی، حضرت جبرئیل (علیہ السلام) حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ آپ کا رب آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ اگر آپ چاہتے ہیں تو ان کے صفا پہاڑی کو سونے کا بنادیا جائے گا، لیکن اس کے بعد اگر ان میں سے کسی نے کفر کیا تو پھر میں اسے ایسی سزا دوں گا کہ دنیا جہان والوں میں سے کسی کو نہ دی ہوگی اور اگر آپ چاہتے ہیں تو میں ان کے لئے توبہ اور رحمت کا دروازہ کھول دیتا ہوں؟ نبی ﷺ نے فرمایا کہ توبہ اور رحمت کا دروازہ ہی کھول دیا جائے۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ أُخْتِي نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ وَقَدْ مَاتَتْ قَالَ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَيْهَا دَيْنٌ أَكُنْتَ تَقْضِيهِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَاللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَحَقُّ بِالْوَفَاءِ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک عورت نے حج کی منت مانی، لیکن اسے پورا کرنے سے پہلے ہی فوت ہوگئی، اس کا بھائی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور نبی ﷺ سے یہ مسئلہ دریافت کیا، نبی ﷺ نے فرمایا یہ بتاؤ! اگر تمہاری بہن پر کوئی قرض ہو تو کیا تم اسے ادا کرو گے یا نہیں؟ اس نے اثبات میں جواب دیا، نبی ﷺ نے فرمایا پھر اللہ کا قرض بھی ادا کرو اور وہ پورا کرنے کے زیادہ لائق اور حقدار ہے۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَبَدَءُوا بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ
حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ میں عید کے موقع پر نبی ﷺ کے ساتھ، حضرت ابوبکر اور عمر ؓ، کے ساتھ موجود رہا ہوں، یہ سب حضرات خطبہ سے پہلے بغیر اذان وقامت کے نماز پڑھایا کرتے تھے۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَابِسٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عِيدٍ وَلَوْلَا مَكَانِي مِنْهُ مَا شَهِدْتُهُ مِنْ الصِّغَرِ فَأَتَى دَارَ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ قَالَ ثُمَّ خَطَبَ وَأَمَرَ بِالصَّدَقَةِ قَالَ وَلَمْ يَذْكُرْ أَذَانًا وَلَا إِقَامَةً
عبدالرحمن بن عابس (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اگر نبی ﷺ کے ساتھ میرا تعلق نہ ہوتا تو اپنے بچپن کی وجہ سے میں اس موقع پر کبھی موجود نہ ہوتا اور فرمایا کہ نبی ﷺ تشریف لائے اور دار کثیر بن الصلت کے قریب دو رکعت نماز عید پڑھائی، پھر خطبہ ارشاد فرمایا حضرت ابن عباس ؓ نے اس میں اذان یا اقامت کا کچھ ذکر نہیں کیا۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ خَطَبَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ فِي الْعِيدِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ
حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ عید کے موقع پر نبی ﷺ، حضرت ابو بکر، عمر اور عثمان ؓ، یہ سب حضرات خطبہ سے پہلے بغیر اذان و اقامت کے نماز پڑھایا کرتے تھے۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ سُلَيْمَانُ عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ الْأَيَّامِ أَيَّامٌ الْعَمَلُ فِيهِ أَفْضَلُ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ قِيلَ وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَلَمْ يَرْجِعْ بِشَيْءٍ مِنْهُ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا عشرہ ذی الحجہ کے علاوہ کسی دن میں اللہ کو نیک اعمال اتنے محبوب نہیں جتنے ان دس دنوں میں محبوب ہیں، صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں؟ فرمایا ہاں! البتہ وہ آدمی جو اپنی جان مال کو لے کر نکلا اور کچھ بھی واپس نہ لایا۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي عَطَاءٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ وَلَمْ يَسْمَعْهُ قَالَ بَعَثَنِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَحَرٍ مِنْ جَمْعٍ فِي ثَقَلِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے مزدلفہ سے مجھے کچھ سامان کے ساتھ سحری کے وقت ہی بھیج دیا تھا۔