Musnad Imam Ahmad 3055

عبداللہ بن عباس کی مرویات

3055Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ أُخْتِي نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ وَقَدْ مَاتَتْ قَالَ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَيْهَا دَيْنٌ أَكُنْتَ تَقْضِيهِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَاللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَحَقُّ بِالْوَفَاءِ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک عورت نے حج کی منت مانی، لیکن اسے پورا کرنے سے پہلے ہی فوت ہوگئی، اس کا بھائی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور نبی ﷺ سے یہ مسئلہ دریافت کیا، نبی ﷺ نے فرمایا یہ بتاؤ! اگر تمہاری بہن پر کوئی قرض ہو تو کیا تم اسے ادا کرو گے یا نہیں؟ اس نے اثبات میں جواب دیا، نبی ﷺ نے فرمایا پھر اللہ کا قرض بھی ادا کرو اور وہ پورا کرنے کے زیادہ لائق اور حقدار ہے۔