مقدمہ مسلم

Sahih Muslim · Chapter 1 · 95 hadiths · Page 4 of 5

61Sahih Muslim

اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔

حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ قَالَ أَيُّوبُ إِنَّ لِي جَارًا ثُمَّ ذَکَرَ مِنْ فَضْلِهِ وَلَوْ شَهِدَ عِنْدِي عَلَی تَمْرَتَيْنِ مَا رَأَيْتُ شَهَادَتَهُ جَائِزَةً

حجاج بن شاعر، سلیمان حرب، حماد بن زید بیان کرتے ہیں کہ ایوب نے کہا کہ میرا ایک ہمسایہ ہے پھر اس کی خوبیوں کا ذکر کیا تاہم وہ دو کھجوروں کے بارے میں بھی شہادت دے تو میں اس کی گواہی کو جائز نہیں سمجھوں گا۔

Hajjāj bin ash-Shā’ir narrated to me, Sulaymān bin Harb narrated to us, Hammād bin Zayd narrated to us, he said, Ayyūb said: ‘Indeed I have a neighbor’ and he mentioned some of his virtues, [and continued] ‘…even if he testified to me about two dates I would not see his testimony as permissible’.

62Sahih Muslim

اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ قَالَ مَعْمَرٌ مَا رَأَيْتُ أَيُّوبَ اغْتَابَ أَحَدًا قَطُّ إِلَّا عَبْدَ الْکَرِيمِ يَعْنِي أَبَا أُمَيَّةَ فَإِنَّهُ ذَکَرَهُ فَقَالَ رَحِمَهُ اللَّهُ کَانَ غَيْرَ ثِقَةٍ لَقَدْ سَأَلَنِي عَنْ حَدِيثٍ لِعِکْرِمَةَ ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ عِکْرِمَةَ

محمد بن رافع، حجاج بن شاعر، عبدالرزاق، حضرت معمر کہتے ہیں کہ میں نے ایوب کو کسی شخص کی غیبت کرتے نہیں دیکھا سوائے ابوامیہ عبدالکریم کے ذکر کیا انہوں نے اس کا کہ وہ غیر ثقہ ہے اس نے مجھ سے حضرت عکرمہ کی ایک حدیث پوچھی پھر کہتا ہے کہ میں نے عکرمہ سے سنا ہے۔

Muhammad bin Rāfi’ and Hajjāj bin ash-Shā’ir narrated to me, they said Abd ur-Razzāq narrated to us, he said Ma’mar said: ‘I did not see Ayyūb speaking ill of anyone, ever, except for Abd al-Karīm- meaning Abū Umayyah’. So he mentioned him and said, may Allah have mercy on him ‘He is not trustworthy- he had asked me about a Ḥadīth of Ikrimah then said ‘I heard from Ikrimah’ [when relating the Ḥadīth].’

63Sahih Muslim

اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔

حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ قَدِمَ عَلَيْنَا أَبُو دَاوُدَ الْأَعْمَی فَجَعَلَ يَقُولُ حَدَّثَنَا الْبَرَائُ قَالَ وَحَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ فَذَکَرْنَا ذَلِکَ لِقَتَادَةَ فَقَالَ کَذَبَ مَا سَمِعَ مِنْهُمْ إِنَّمَا کَانَ ذَلِکَ سَائِلًا يَتَکَفَّفُ النَّاسَ زَمَنَ طَاعُونِ الْجَارِفِ

فضل بن سہل، عفان بن مسلم، حضرت ہمام بیان کرتے ہیں کہ نفع بن حارث ابوداؤد نابینا ہمارے پاس آیا اور بیان کرنا شروع کردیا کہ ہم سے براء بن عازب اور زید بن ارقم نے بیان کیا ہم نے اس کی حضرت قتادہ سے تحقیق کی انہوں نے کہا یہ جھوٹا ہے اس نے ان سے نہیں سنا یہ شخص طاعون جازف کے زمانہ میں لوگوں سے بھیک مانگتا پھرتا تھا۔

Al-Faḍl bin Sahl narrated to me, he said Affān bin Muslim narrated to us, Hammām narrated to us, he said, Abū Dāwud al-A’mā came to us and began saying: ‘Al-Barā’ [bin Āzib, the Companion] narrated to us’; he said: ‘Zayd bin Arqam narrated to us’- and he mentioned that [those chains] to Qatādah. [Qatādah] said ‘He lied; he did not hear from them. He would beg the people asking [about Ḥadīth] at the time of the plague’ [circa 67H].

64Sahih Muslim

اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔

حَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ قَالَ دَخَلَ أَبُو دَاوُدَ الْأَعْمَی عَلَی قَتَادَةَ فَلَمَّا قَامَ قَالُوا إِنَّ هَذَا يَزْعُمُ أَنَّهُ لَقِيَ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ بَدْرِيًّا فَقَالَ قَتَادَةُ هَذَا کَانَ سَائِلًا قَبْلَ الْجَارِفِ لَا يَعْرِضُ فِي شَيْئٍ مِنْ هَذَا وَلَا يَتَکَلَّمُ فِيهِ فَوَاللَّهِ مَا حَدَّثَنَا الْحَسَنُ عَنْ بَدْرِيٍّ مُشَافَهَةً وَلَا حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ عَنْ بَدْرِيٍّ مُشَافَهَةً إِلَّا عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِکٍ

حسن بن علی حلوانی، یزید بن ہارون، حضرت ہمام نے کہا کہ ابوداؤد اعمی حضرت قتادہ کے پاس آیا جب وہ چلا گیا تو لوگوں نے کہا کہ اس شخص کا دعوی ہے کہ وہ اٹھارہ بدری صحابہ سے ملا ہے حضرت قتادہ نے کہا کہ یہ طاعون جازف سے پہلے بھیک مانگتا تھا اس کا روایت حدیث سے کوئی لگاؤ تھا نہ یہ اس فن میں گفتگو کرتا تھا اللہ کی قسم سعد بن مالک یعنی سعد بن ابی وقاص کے علاوہ کسی بدری صحابی سے حسن بصری اور سعید بن مسیب جیسے لوگوں نے بھی روایت نہیں کی ہے۔

Hasan bin Alī al-Hulwānī narrated to me, he said Yazīd bin Hārūn narrated to us, Hammām informed us, he said ‘Abū Dāwud al-A’mā entered upon Qatādah and when he stood, they said: ‘Indeed this one alleges he has met eighteen of the warriors of the battle of Badr’. Qatādah said: ‘This one was barely asking [about Ḥadīth] before the plague; he did not attend to anything from [seeking Ḥadīth] and he did not speak [to any scholars] regarding it. By Allah, al-Hasan did not narrate to us from a witness of the battle of Badr without an intermediary; and Sa’īd bin al-Musayyib did not narrate to us from a witness of the battle of Badr without an intermediary except from Sa’d bin Mālik’.

65Sahih Muslim

اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ رَقَبَةَ أَنَّ أَبَا جَعْفَرٍ الْهَاشِمِيَّ الْمَدَنِيَّ کَانَ يَضَعُ أَحَادِيثَ کَلَامَ حَقٍّ وَلَيْسَتْ مِنْ أَحَادِيثِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَکَانَ يَرْوِيهَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عثمان بن ابی شیبہ، جریر، حضرت رقبہ بن مستعلہ کوفی سے روایت ہے کہ ابوجعفر ہاشمی حق اور حکمت آمیز کلام کو حدیث بنا کر نقل کرتا تھا حالانکہ وہ نبی کریم ﷺ کی احادیث نہ ہوتیں اور وہ روایت کرتا ان کو نبی کریم ﷺ سے۔

Uthmān bin Abī Shaybah narrated to us, Jarīr narrated to us, on authority of Raqabah that ‘Abū Ja’far al-Hāshimī al-Madanī was fabricating narrations with words of truth, and they were not from the narrations of the Prophet, peace and blessings of Allah upon him, though he was transmitting them on authority of the Prophet, peace and blessings of Allah upon him.’

66Sahih Muslim

اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ قَالَ أَبُو إِسْحَقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُفْيَانَ و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی قَالَ حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ کَانَ عَمْرُو بْنُ عُبَيْدٍ يَکْذِبُ فِي الْحَدِيثِ

حسن حلوانی، نعیم بن حماد، ابواسحاق ابراہیم بن محمد بن سفیان، محمد بن یحیی، نعیم بن حماد، ابوداؤد طیالسی، شعبہ، حضرت یونس بن عبید بیان کرتے ہیں کہ عمرو بن عبید حدیث میں جھوٹ بولتا تھا۔

Al-Hasan al-Hulwānī narrated to us, he said Nu’aym bin Hammād narrated to us, he said Abū Ishāq Ibrāhīm bin Muhammad bin Sufyān said; and Muhammad bin Yahyā narrated to us, he said, Nu’aym bin Hammād narrated to us, Abū Dāwud at-Tayālisī narrated to us, on authority of Shu’bah, on authority of Yūnus bin Ubayd, he said: ‘Amr bin Ubayd would lie regarding Ḥadīth’.

67Sahih Muslim

اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔

حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ أَبُو حَفْصٍ قَالَ سَمِعْتُ مُعَاذَ بْنَ مُعَاذٍ يَقُولُا قُلْتُ لِعَوْفِ بْنِ أَبِي جَمِيلَةَ إِنَّ عَمْرَو بْنَ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا عَنْ الْحَسَنِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا قَالَ کَذَبَ وَاللَّهِ عَمْرٌو وَلَکِنَّهُ أَرَادَ أَنْ يَحُوزَهَا إِلَی قَوْلِهِ الْخَبِيثِ

عمرو بن علی ابوحفص، معاذ بن معاذ سے روایت ہے کہ میں نے عوف بن ابی جمیلہ سے پوچھا کہ ہم سے عمرو بن عبید نے حسن بصری سے روایت بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے ہمارے خلاف ہتھیار اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں ہے عوف نے کہا اللہ کی قسم عمر جھوٹا ہے وہ اس حدیث سے اپنے باطل عقائد کی ترویج و اشاعت کرنا چاہتا ہے۔

Amr bin Alī Abū Hafs narrated to me, he said I heard Mu’ādh bin Mu’ādh saying, I said to Awf bin Abī Jamīlah ‘Indeed Amr bin Ubayd narrated to us on authority of al-Hasan that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah upon him, said: ‘Whoever carries arms against us then he is not from us’. [Awf bin Abī Jamīlah] said ‘Amr lied, by Allah. Rather he intended it as a way to permit his filthy opinion.’

68Sahih Muslim

اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ کَانَ رَجُلٌ قَدْ لَزِمَ أَيُّوبَ وَسَمِعَ مِنْهُ فَفَقَدَهُ أَيُّوبُ فَقَالُوا يَا أَبَا بَکْرٍ إِنَّهُ قَدْ لَزِمَ عَمْرَو بْنَ عُبَيدٍ قَالَ حَمَّادٌ فَبَيْنَا أَنَا يَوْمًا مَعَ أَيُّوبَ وَقَدْ بَکَّرْنَا إِلَی السُّوقِ فَاسْتَقْبَلَهُ الرَّجُلُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ أَيُّوبُ وَسَأَلَهُ ثُمَّ قَالَ لَهُ أَيُّوبُ بَلَغَنِي أَنَّکَ لَزِمْتَ ذَاکَ الرَّجُلَ قَالَ حَمَّادٌ سَمَّاهُ يَعْنِي عَمْرًا قَالَ نَعَمْ يَا أَبَا بَکْرٍ إِنَّهُ يَجِيئُنَا بِأَشْيَائَ غَرَائِبَ قَالَ يَقُولُ لَهُ أَيُّوبُ إِنَّمَا نَفِرُّ أَوْ نَفْرَقُ مِنْ تِلْکَ الْغَرَائِبِ

عبیداللہ بن عمر قواریری، حضرت حماد بن زید کہتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنے اوپر ایوب سختیانی کی مجلس اور ان سے حدیث سننے کو لازم کرلیا تھا ایک دن ایوب نے اس کو نہ پایا تو پوچھا تو لوگوں نے کہا کہ اے ابوبکر (کنیت ایوب سختیانی) اس نے عمرو بن عبید کی مجلس کو لازم کرلیا ہے حماد کہتے ہیں کہ ایک دن میں صبح کے وقت ایوب کے ساتھ بازار جارہا تھا اتنے میں وہ شخص سامنے آیا ایوب نے اس کو سلام کیا اور حال پوچھا پھر اس کو کہا کہ مجھے یہ بات پہنچی کہ تو نے فلاں شخص کی مجلس لازم کرلی ہے حماد کہتے ہیں اس کا نام لیا یعنی عمرو۔ اس نے کہا ہاں اے ابوبکر وہ ہم سے عجیب و غریب احادیث بیان کرتا ہے ایوب نے کہا کہ ہم تو ایسے عجائبات سے بھاگتے یا ڈرتے ہیں۔

Ubayd Allah bin Umar al-Qawārīrī narrated to us, Hammād bin Zayd narrated to us, he said: ‘A man kept company with Ayyūb and listened [to Ḥadīth] from him, but then Ayyūb did not find him [one day]. [When Ayyūb asked, the people] said: ‘Oh Abā Bakr, indeed he keeps company with Amr bin Ubayd [now]’. Hammād said: ‘One day we were with Ayyūb, and we went to the market early in the morning. A man came to meet Ayyūb so he gave Salām to him, asked how he was doing, and then Ayyūb said to him: ‘It reached me that you kept company with that man’. Hammād said: ‘[Ayyūb] designated him, that is to say ‘Amr’.’ [The man] said: ‘Yes, Oh Abā Bakr. Indeed he came to us with strange things [i.e. reports]’. Ayyūb said to him: ‘Indeed we flee…’ or ‘…we fear from these strange things [transmissions]’.

69Sahih Muslim

اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔

حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ زَيْدٍ يَعْنِي حَمَّادًا قَالَ قِيلَ لِأَيُّوبَ إِنَّ عَمْرَو بْنَ عُبَيْدٍ رَوَی عَنْ الْحَسَنِ قَالَ لَا يُجْلَدُ السَّکْرَانُ مِنْ النَّبِيذِ فَقَالَ کَذَبَ أَنَا سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُولُ يُجْلَدُ السَّکْرَانُ مِنْ النَّبِيذِ

حجاج بن شاعر، سلیمان، ابن زید، ایوب، عمرو بن عبید، حضرت حماد بیان کرتے ہیں کہ کہ ایوب سے کسی نے کہا کہ عمرو بن عبید حسن بصری سے یہ حدیث روایت کرتا ہے کہ جو شخص نبیذ پی کر مدہوش ہوجائے تو اس پر حد جاری نہ ہوگی ایوب نے کہا کہ یہ جھوٹ کہتا ہے کیونکہ میں نے حضرت حسن بصری سے سنا ہے وہ فرماتے تھے کہ جو شخص نبیذ پی کر مدہوش ہوجائے اسے کوڑے لگائے جائیں گے۔

Hajjāj bin ash-Shā’ir narrated to me, Sulaymān bin Harb narrated to us, Ibn Zayd, rather Hammād, narrated to us, he said, it was said to Ayyūb, ‘Indeed Amr bin Ubayd transmitted on authority of al-Hasan that he said: ‘There is no flogging the one who gets drunk from Nabīdh’.’ [Ayyūb] said: ‘He lied, for I heard al-Hasan saying, ‘Flog the one who gets drunk from Nabīdh’.’

70Sahih Muslim

اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔

حَدَّثَنِي حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ سَمِعْتُ سَلَّامَ بْنَ أَبِي مُطِيعٍ يَقُولُا بَلَغَ أَيُّوبَ أَنِّي آتِي عَمْرًا فَأَقْبَلَ عَلَيَّ يَوْمًا فَقَالَ أَرَأَيْتَ رَجُلًا لَا تَأْمَنُهُ عَلَی دِينِهِ کَيْفَ تَأْمَنُهُ عَلَی الْحَدِيثِ

حجاج، سلیمان بن حرب، حضرت سلام بن ابی مطیع کہتے ہیں کہ ایوب کو یہ خبر پہنچی کہ میں عمرو کے پاس روایت حدیث کے لئے جاتا ہوں ایک دن وہ مجھے ملے اور کہا کہ تو کیا سمجھتا ہے کہ جس شخص کے دین کا اعتبار نہیں ہے وہ حدیث کی روایت میں کیسے محفوظ ومامون ہوسکتا ہے۔

Hajjāj narrated to me, Sulaymān bin Harb narrated to us, he said, I heard Sallām bin Abī Mutī’ saying, it reached Ayyūb that I would go to Amr so he turned to me and said: ‘Have you seen a man whose Dīn you do not trust- how do you trust him regarding Ḥadīth?’

71Sahih Muslim

اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔

حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا مُوسَی يَقُولُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُبَيْدٍ قَبْلَ أَنْ يُحْدِثَ

سلمہ بن شبیب، حمیدی، سفیان، حضرت ابوموسیٰ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے عمرو بن عبید سے سماع حدیث اس وقت کیا تھا جب اس نے احادیث گھڑنا شروع نہیں کی تھیں۔

Salamah bin Shabīb narrated to me, al-Humaydī narrated to us, Sufyān narrated to us, he said I heard Abū Mūsā [Isrā’īl bin Mūsā al-Basrī] saying: ‘Amr bin Ubayd narrated to us before what happened’ [i.e. before he became Mu’tazilī].

72Sahih Muslim

اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ کَتَبْتُ إِلَی شُعْبَةَ أَسْأَلُهُ عَنْ أَبِي شَيْبَةَ قَاضِي وَاسِطٍ فَکَتَبَ إِلَيَّ لَا تَکْتُبْ عَنْهُ شَيْئًا وَمَزِّقْ کِتَابِي

عبیداللہ بن معاذ عنبری بیان کرتے ہیں کہ میں نے شعبہ کو لکھا کہ ابوشیبہ قاضی واسط کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے تو شعبہ نے لکھا کہ ابوشیبہ کی کوئی روایت نہ لکھنا اور میرے اس خط کو پھاڑ دینا۔

Ubayd Allah bin Mu’ādh al-Anbarī narrated to me, my father narrated to us, he said: ‘I wrote to Shu’bah asking him about Abū Shaybah , a judge of Wāsit, so he wrote to me: ‘Do not write anything from him [of Ḥadīth] and tear up my letter [to you about this]’.

73Sahih Muslim

اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا الْحُلْوَانِيُّ قَالَ سَمِعْتُ عَفَّانَ قَالَ حَدَّثْتُ حَمَّادَ بْنَ سَلَمَةَ عَنْ صَالِحٍ الْمُرِّيِّ بِحَدِيثٍ عَنْ ثَابِتٍ فَقَالَ کَذَبَ وَحَدَّثْتُ هَمَّامًا عَنْ صَالِحٍ الْمُرِّيِّ بِحَدِيثٍ فَقَالَ کَذَبَ

حلوانی، حضرت عفان بیان کرتے ہیں کہ میں نے حماد بن سلمہ کے سامنے وہ حدیث بیان کی جس کو صالح مری نے ثابت سے روایت کیا ہے حماد نے کہا صالح مری جھوٹا ہے اور میں نے ہمام کے سامنے صالح مری کی حدیث بیان کی تو ہمام نے بھی کہا کہ صالح مری جھوٹا ہے۔

Al-Hulwānī narrated to us, he said, I heard Affān [bin Muslim] say: ‘I narrated to Hammād bin Salamah [bin Dīnār al-Basrī], on authority of Sālih al-Murrī , a Ḥadīth on authority of Thābit [bin Aslam al-Banānī], then [Hammād] said: ‘[Sālih] lied’. I also narrated to Hammām on authority of Sālih al-Murrī a Ḥadīth then [Hammām] said: ‘[Sālih] lied’.

74Sahih Muslim

اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔

حَدَّثَنِي مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ قَالَ لِي شُعْبَةُ ائْتِ جَرِيرَ بْنَ حَازِمٍ فَقُلْ لَهُ لَا يَحِلُّ لَکَ أَنْ تَرْوِيَ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ فَإِنَّهُ يَکْذِبُ قَالَ أَبُو دَاوُدَ قُلْتُ لِشُعْبَةَ وَکَيْفَ ذَاکَ فَقَالَ حَدَّثَنَا عَنْ الْحَکَمِ بِأَشْيَائَ لَمْ أَجِدْ لَهَا أَصْلًا قَالَ قُلْتُ لَهُ بِأَيِّ شَيْئٍ قَالَ قُلْتُ لِلْحَکَمِ أَصَلَّی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی قَتْلَی أُحُدٍ فَقَالَ لَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ فَقَالَ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ عَنْ الْحَکَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی عَلَيْهِمْ وَدَفَنَهُمْ قُلْتُ لِلْحَکَمِ مَا تَقُولُ فِي أَوْلَادِ الزِّنَا قَالَ يُصَلَّی عَلَيْهِمْ قُلْتُ مِنْ حَدِيثِ مَنْ يُرْوَی قَالَ يُرْوَی عَنْ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ فَقَالَ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ حَدَّثَنَا الْحَکَمُ عَنْ يَحْيَی بْنِ الْجَزَّارِ عَنْ عَلِيٍّ

محمود بن غیلان، حضرت ابوداؤد سے روایت ہے کہ مجھ سے شعبہ نے کہا کہ جریر بن حازم کو جا کر کہو کہ تیرے لئے حسن بن عمارہ سے کوئی روایت جائز نہیں ہے کیونکہ وہ جھوٹ بولتا ہے ابوداؤد نے کہا کہ حسن نے حکم سے کچھ ایسی احادیث ہم سے بیان کی ہیں جن کی اصل کچھ نہیں پاتا میں نے شعبہ سے پوچھا وہ کونسی روایت ہے؟ شعبہ نے کہا کہ میں نے حکم سے پوچھا کیا رسول اللہ ﷺ نے شہداء احد پر نماز پڑھی تھی؟ اس نے کہا نہیں پڑھی تھی پھر حسن بن عمارہ نے حکم سے روایت کیا ہے اس نے مقسم سے اس نے ابن عباس ؓ سے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان پر نماز جنازہ پڑھی اور ان کو دفن کیا اس کے علاوہ میں نے حکم سے پوچھا کہ تو ولد الزنا کی نماز جنازہ کے بارے میں کیا کہتا ہے؟ تو اس نے کہا کہ ایسے لوگوں کی جنازہ پڑھی جائے گی میں نے کہا کس سے روای کیا گیا ہے اس نے کہا حسن بصری سے لیکن حسن بن عمارہ نے یہ حدیث حکم سے یحییٰ بن جزار از حضرت علی روایت کی۔ (یعنی اول حدیث میں غلطی فی الالفاظ اور دوسری میں غلطی فی السند ہے )

Mahmūd bin Ghaylān narrated to us, Abū Dāwud narrated to us, he said, Shu’bah said to me: ‘Go to Jarīr bin Hāzim and say to him, ‘It is not allowed for you to transmit from al-Hasan bin Umārah for indeed he lies’.’ Abū Dāwud said, I said to Shu’bah: ‘And how do you know that?’ So [Shu’bah] said: ‘He narrated to us on authority of al-Hakam things that were not found to have any basis’. [Abū Dāwud] said: ‘What things?’ [Shu’bah] said, I said to al-Hakam: ‘Did the Prophet, peace and blessings of Allah upon him, pray over the martyrs of Uhud?’ [al-Hakam] said: ‘He did not pray over them’. Al-Hasan bin Umārah said, on authority of al-Hakam, on authority of Miqsam, on authority of Ibn Abbās: ‘Indeed the Prophet, peace and blessings of Allah upon him, prayed over them and buried them ’. I [Shu’bah] said to al-Hakam: ‘What do you say about the children born from fornication?’ [Al-Hakam] said: ‘Pray over them ’. I [Shu’bah] said: ‘From whose Ḥadīth is it transmitted?’ [Al-Hakam] said: ‘It is transmitted on authority of al-Hasan al-Basrī’.’ Al-Hasan bin Umārah said: ‘Al-Hakam narrated to us, on authority of Yahyā bin al-Jazzār, on authority of Alī.

75Sahih Muslim

اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ قَالَ سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ هَارُونَ وَذَکَرَ زِيَادَ بْنَ مَيْمُونٍ فَقَالَ حَلَفْتُ أَلَّا أَرْوِيَ عَنْهُ شَيْئًا وَلَا عَنْ خَالِدِ بْنِ مَحْدُوجٍ وَقَالَ لَقِيتُ زِيَادَ بْنَ مَيْمُونٍ فَسَأَلْتُهُ عَنْ حَدِيثٍ فَحَدَّثَنِي بِهِ عَنْ بَکْرٍ الْمُزَنِيِّ ثُمَّ عُدْتُ إِلَيْهِ فَحَدَّثَنِي بِهِ عَنْ مُوَرِّقٍ ثُمَّ عُدْتُ إِلَيْهِ فَحَدَّثَنِي بِهِ عَنْ الْحَسَنِ وَکَانَ يَنْسُبُهُمَا إِلَی الْکَذِبِ قَالَ الْحُلْوَانِيُّ سَمِعْتُ عَبْدَ الصَّمَدِ وَذَکَرْتُ عِنْدَهُ زِيَادَ بْنَ مَيْمُونٍ فَنَسَبَهُ إِلَی الْکَذِبِ

حسن حلوانی، حضرت یزید بن ہارون نے زیاد بن میمون کا ذکر کیا اور کہا کہ میں نے قسم کھائی ہے کہ اس سے کوئی حدیث روایت نہی کروں گا اور نہ خالد بن مجدوح سے اور کہا کہ میں زیاد بن میمون سے ملا اور اس سے ایک حدیث پوچھی اس نے یہ حدیث بکر بن عبداللہ مزنی کے واسطہ سے بیان کی دوبارہ ملاقات پر اس نے وہی حدیث مجھ سے مورق سے روایت کی تیسری بار وہی حدیث اس نے مجھ سے حسن کی روایت سے بیان کی اور یزید بن ہارون ان دونوں زیاد اور خالد کو جھوٹا کہتے تھے حلوانی نے کہا کہ میں نے عبدالصمد سے سنا اور میں نے ان کے پاس ابن میمون کا ذکر کیا تو انہوں نے بھی اسے جھوٹا قرار دیا۔

Al-Hasan al-Hulwānī narrated to us, he said, I heard Yazīd bin Hārūn mention Ziyād bin Maymūn, and he said: ‘I swore that I would not transmit anything from him or Khālid bin Mahdūj’. [Yazīd] said: ‘I met Ziyād bin Maymūn and asked him about a Ḥadīth, so he narrated it to me on authority of Bakr al-Muzanī, then I returned to him and he narrated [the same Ḥadīth] to me on authority of Muwarriq; then I returned to him and he narrated it to me on authority of al-Hasan.’ [Al-Hulwānī said]: ‘He [Yazīd] would charge both of them with lying [i.e. Ziyād bin Maymūn and Khālid bin Mahdūj].’ Al-Hulwānī said: ‘I heard [Ḥadīth] from Abd as-Samad and I mentioned Ziyād bin Maymūn near him and he charged him with lying’.

76Sahih Muslim

اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي دَاوُدَ الطَّيَالِسِيِّ قَدْ أَکْثَرْتَ عَنْ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ فَمَا لَکَ لَمْ تَسْمَعْ مِنْهُ حَدِيثَ الْعَطَّارَةِ الَّذِي رَوَی لَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ قَالَ لِيَ اسْکُتْ فَأَنَا لَقِيتُ زِيَادَ بْنَ مَيْمُونٍ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَهْدِيٍّ فَسَأَلْنَاهُ فَقُلْنَا لَهُ هَذِهِ الْأَحَادِيثُ الَّتِي تَرْوِيهَا عَنْ أَنَسٍ فَقَالَ أَرَأَيْتُمَا رَجُلًا يُذْنِبُ فَيَتُوبُ أَلَيْسَ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَيْهِ قَالَ قُلْنَا نَعَمْ قَالَ مَا سَمِعْتُ مِنْ أَنَسٍ مِنْ ذَا قَلِيلًا وَلَا کَثِيرًا إِنْ کَانَ لَا يَعْلَمُ النَّاسُ فَأَنْتُمَا لَا تَعْلَمَانِ أَنِّي لَمْ أَلْقَ أَنَسًا قَالَ أَبُو دَاوُدَ فَبَلَغَنَا بَعْدُ أَنَّهُ يَرْوِي فَأَتَيْنَاهُ أَنَا وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَالَ أَتُوبُ ثُمَّ کَانَ بَعْدُ يُحَدِّثُ فَتَرَکْنَاهُ

محمود بن غیلان بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابوداؤد طیالسی سے کہا کہ آپ نے عباد بن منصور سے کثیر روایات نقل کی ہیں تو کیا وجہ ہے کہ آپ نے اس سے عطر فروش عورت کی وہ حدیث نہیں سنی جو روایت کی ہے ہمارے لئے نضر بن شمیل نے انہوں نے مجھے کہا خاموش رہو میں اور عبدالرحمن بن مہدی زیاد بن میمون سے ملے اور اس سے پوچھا کہ یہ تمام احادیث وہ ہیں جو تم روایت کرتے تھے حضرت انس ؓ سے یہ کہاں تک صحیح ہیں؟ اس نے کہا تم دونوں اس آدمی کے بارے میں کیا گمان کرتے ہو جو گناہ کرے پھر توبہ کرلے اللہ اس کی توبہ قبول نہ کرے گا؟ ہم نے کہا ہاں معاف کرے گا تو اس نے کہا کہ میں نے حضرت انس ؓ سے کسی قسم کی کوئی حدیث نہیں سنی کم نہ زیادہ اگر عام لوگ اس بات سے ناواقف ہیں تو کیا ملا ابوداؤد (رح) اس کے بعد پھر ہمیں علم ہوا کہ وہ انس سے روایت کرتا ہے ہم پھر اس کے پاس آئے تو اس نے کہا میں توبہ کرتا ہوں پھر وہ اس کے بعد روایت کرنے لگا آخر ہم نے اس کی روایت چھوڑ دی۔

Mahmūd bin Ghaylān narrated to us, he said, I said to Abū Dāwud at-Tayālisī: ‘You transmit a great deal on authority of Abbād bin Mansūr - so how is it that you did not hear the Ḥadīth of ‘the lady perfume seller’ from him which an-Naḍr bin Shumayl transmitted to us?’ [Abū Dāwud] said to me: ‘Be quiet, for Abd ar-Rahma bin Mahdī and I met Ziyād bin Maymūn and asked him, saying to him, ‘Are these Ḥadīth you transmit on authority of Anas?’ [Ziyād] said: ‘Have you seen a man sin and then repent- does Allah not turn to him?’ [Abū Dāwud] said: ‘We said, ‘Yes’.’ [Ziyād] said: ‘I did not hear from Anas whether a little or a lot; if the people did not know, then you two would not know that I did not meet Anas’. Abū Dāwud said: ‘So it reached us afterwards that he was transmitting [from Anas], then Abd ar-Rahman and I went to him and he said: ‘I repented’. Then afterwards he was narrating [again in the same fashion] so we abandoned him ’.

77Sahih Muslim

اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ قَالَ سَمِعْتُ شَبَابَةَ قَالَ کَانَ عَبْدُ الْقُدُّوسِ يُحَدِّثُنَا فَيَقُولُ سُوَيْدُ بْنُ عَقَلَةَ قَالَ شَبَابَةُ وَسَمِعْتُ عَبْدَ الْقُدُّوسِ يَقُولُ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَّخَذَ الرَّوْحُ عَرْضًا قَالَ فَقِيلَ لَهُ أَيُّ شَيْئٍ هَذَا قَالَ يَعْنِي تُتَّخَذُ کُوَّةٌ فِي حَائِطٍ لِيَدْخُلَ عَلَيْهِ الرَّوْحُ و سَمِعْت عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ حَمَّادَ بْنَ زَيْدٍ يَقُولُ لِرَجُلٍ بَعْدَ مَا جَلَسَ مَهْدِيُّ بْنُ هِلَالٍ بِأَيَّامٍ مَا هَذِهِ الْعَيْنُ الْمَالِحَةُ الَّتِي نَبَعَتْ قِبَلَکُمْ قَالَ نَعَمْ يَا أَبَا إِسْمَعِيلَ

حسن، حضرت شبابہ بن سوار مدائنی کہتے ہیں کہ عبدالقدوس ہم سے حدیث بیان کرتا تو کہتا کہ سوید بن غفلہ نے کہا شبابہ نے کہا کہ میں نے عبدالقدوس سے سنا وہ کہتا تھا رسول اللہ ﷺ نے روح یعنی ہوا کو عرض میں لینے سے منع فرمایا ہے ان سے اس حدیث کا مطلب پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ دیوار میں ایک سوارخ کیا جائے تاکہ اس پر ہوا داخل ہو امام مسلم فرماتے ہیں کہ میں نے عبیداللہ بن عمر قواریری سے سنا انہوں نے کہا میں نے حماد بن زید سے سنا کہ انہوں نے مہدی بن ہلال کے پاس بیٹھے ہوئے ایک شخص کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ یہ کیسا کھاری چشمہ ہے جو تمہارے طرف پھوٹا ہے وہ شخص بولا ہاں اے ابواسماعیل۔

Hasan al-Hulwānī narrated to us, he said, I heard Shabābah say: ‘Abd ul-Quddūs was narrating to us saying,‘Suwayd bin Aqalah said…’ [when it should be ‘bin Ghafalah’] Shabābah said: ‘And I heard Abd ul-Quddūs saying, ‘The Messenger of Allah, peace and blessings of Allah upon him, prohibited taking a Rawḥ by accident’. [Shabābah] said: ‘So it was said to him, ‘What does this mean?’ [Abd ul-Quddūs] said: ‘It means to make an opening in a wall [thus letting] a breeze enter [by accident]’.’ [He changed the original Ḥadīth, switching ‘Rūḥ’ meaning ‘soul’ to ‘Rawḥ’ or ‘breeze’, and he switched ‘Gharaḍān’ meaning ‘as a target’ to ‘Arḍān’ or ‘accidentally’. All simply by changing a few letters in the words]

78Sahih Muslim

اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ قَالَ سَمِعْتُ عَفَّانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَوَانَةَ قَالَ مَا بَلَغَنِي عَنْ الْحَسَنِ حَدِيثٌ إِلَّا أَتَيْتُ بِهِ أَبَانَ بْنَ أَبِي عَيَّاشٍ فَقَرَأَهُ عَلَيَّ

حسن حلوانی، عفان، ابوعوانہ نے کہا کہ مجھے حسن سے کوئی روایت نہیں پہنچی مگر میں اس کو لے کر فورا ابان بن عیاش کے پاس گیا ابان نے اس حدیث کو میرے سامنے پڑھا ( یہ ابان کے کذب کی دلیل ہے کہ وہ ہر حدیث حسن سے روایت کرتا تھا )۔

Al-Hasan al-Hulwānī narrated to us, he said, I heard Affān say, I heard Abū Awānah say: ‘A Ḥadīth did not reach me on authority of al-Hasan except I presented it to Abān bin Abī Ayyāsh , then he read it to me ’.

79Sahih Muslim

اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَا وَحَمْزَةُ الزَّيَّاتُ مِنْ أَبَانَ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ نَحْوًا مِنْ أَلْفِ حَدِيثٍ قَالَ عَلِيٌّ فَلَقِيتُ حَمْزَةَ فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ رَأَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَنَامِ فَعَرَضَ عَلَيْهِ مَا سَمِعَ مِنْ أَبَانَ فَمَا عَرَفَ مِنْهَا إِلَّا شَيْئًا يَسِيرًا خَمْسَةً أَوْ سِتَّةً

سوید بن سعید، علی بن مسہر سے روایت ہے کہ میں اور حمزہ زیات نے ابن ابی عیاش سے تقریبا ایک ہزار احادیث کا سماع کیا ہے علی نے کہا کہ میں حمزہ سے ملا تو انہوں نے بتایا کہ اس نے نبی ﷺ کی خواب میں زیارت کی اور آپ ﷺ کے سامنے ابان سے سنی ہوئی احادیث پیش کیں آپ ﷺ نے ان احادیث کو نہیں پہچانا مگر تھوڑی تقریبا پانچ یا چھ احادیث کی تصدیق کی۔

Suwayd bin Sa’īd narrated to us, Alī bin Mus’hir narrated to us, he said: ‘Hamzah az-Zayyāt and I heard from Abān bin Abī Ayyāsh something like one thousand Ḥadīth’. Alī said: ‘So I met Hamzah then he informed me that he saw the Prophet, peace and blessings of Allah upon him, [in a dream], and he produced for him what he heard from Abān. However he [the Prophet] didn’t recognize any except a small amount [like] five or six [Ḥadīth]’.

80Sahih Muslim

اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا زَکَرِيَّائُ بْنُ عَدِيٍّ قَالَ قَالَ لِي أَبُو إِسْحَقَ الْفَزَارِيُّ اکْتُبْ عَنْ بَقِيَّةَ مَا رَوَی عَنْ الْمَعْرُوفِينَ وَلَا تَکْتُبْ عَنْهُ مَا رَوَی عَنْ غَيْرِ الْمَعْرُوفِينَ وَلَا تَکْتُبْ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ مَا رَوَی عَنْ الْمَعْرُوفِينَ وَلَا عَنْ غَيْرِهِمْ

عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، حضرت زکریا بن عدی فرماتے ہیں کہ ابواسحاق فزاری نے مجھ سے کہا لکھو بقیہ سے وہ روایات جو وہ معروف رواہ سے روایت کریں اور جو غیر مشہورا رواہ سے روایت کریں وہ نہ لکھنا اور نہ لکھنا اسماعیل بن عیاش سے وہ روایات بھی جو وہ روایت کریں معروف رواہ سے یا کسی غیر سے۔

Abd Allah bin Abd ar-Rahman ad-Dārimī narrated to us, Zakariyyā’ bin Adī informed us, he said, Abū Ishāq al-Fazarī said to me: ‘Write from Baqiyyah what he transmits on authority of those who are well-known, and do not write from him what he transmits on authority of those who are not; do not write from Ismā’īl bin Ayyāsh what he transmits on authority of those who are well-known or otherwise ’.